تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزنئے لکھاری

Say Something Nice ——- مریم رزینہ

by دانش ڈیسک 08/06/2018
written by دانش ڈیسک 08/06/2018
134

ہماری روزمرہ کی زندگی میں حوصلہ افزائی اور تحسین ایک نظر انداز کی گئی شے ہے۔ شاید ہی سچی پرخلوص تعریف اور حوصلہ افزائی ہم کر پاتے ہیں۔ بلاوجہ دوسروں کے رویے جانے بغیر ہم ان پر نکتہ چینی تو ضرور کرتے ہیں،دوسروں کو غلطی پر ہونے کا احساس بھی دلاتے ہیں، لیکن ہم اپنے اردگرد کے رویوں کو ٹھیک سے سمجھے بغیر ہی ان پر نکتہ چینی کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔یا شاید ہمیں ان پر اپنی برتری کے احساس کو نمایاں کرنے کے لیے ان کی بات سنے سمجھے بغیر،ان کا زاویہء نگاہ جانے بغیر اپنی (درست) بات کہے دیتے ہیں۔۔۔ ہمارے ایسے برتاؤ اور رویے ہی ہمارے رشتوں سے ہمیں دور کرتے ہیں، پھر قریب رہتے ہویے بھی دوری کا احساس ہوتا ہے۔ ویسے تو ’کہیں کچھ اچھا‘ دن کے طور پر ۲۰۰۶ میں یکم جون کو پہلی بار مقرر کیا گیا۔ جس کا مقصدہماری زندگیوں میں موجود ان خاص لوگوں کے لیے جیسے کہ ہمارے بچے، یہ دن ان لوگوں کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کا بھی دن ہے جو ہمیں مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں، بس ڈرائیور، صحت کی دیکھ بھال کے کارکن اور اساتذہ وغیرہ۔

یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے ان لوگوں سے معافی مانگنے کا جنہیں ہم نے تکلیف دی ہو یا اپنے رویے سے چوٹ پہنچائی ہو۔ اس دن کا خاص مقصد نامہربانی، غنڈہ گردی، ادب اور مروّت کی کمی جو آج پورے معاشرے پر حاوی ہے، کے خلاف لڑنا ہے۔

اس دن کے تجویزکاروں نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک د ن خوشی و مسرّت یقینا پھیلے گی۔ لوگ جب تک رہیں گے، اپنی روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہوں گے۔ ایک مثال قائم کریں گے۔ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور انھیں ایک دوسرے سے اچھا بننے کی ترغیب دیں گے۔

انسان گوناگوں صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے، ان میں سے بیشتر کا اسے ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اور جن سے عادتا کام کم لیتا ہے۔ لوگوں کی تعریف و توصیف اور ان کو اپنی خفیہ قابلیتوں کا احساس دلانے کی صلاحیت ہے۔

شیکسپیئر کا قول ہے: ’’کوئی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی، اسے ہماری سوچ اچھا یا برا بنا دیتی ہے۔‘‘

اگر کسی بچے یا ملازم سے کہہ دیں کہ وہ فلاں معاملے میں بالکل کورا ہے اور نالائق ہے۔اور اس میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ بالکل غلطی پر ہے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اس کی اصلاح اور اس کے آگے بڑھنے کا ہر امکان ختم کر دیا ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس رویہ اختیار کریں، اس کی دل کھول کر تعریف کریں،حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے کہیں ’یہ کام تمہارے لیے زیادہ مشکل نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تم میں جوہر موجود ہے اور تم میں اس کا م کا صحیح ذوق پایا جاتا ہے، صرف نشونما کی ضرورت ہے۔‘ تو یقین جانیے وہ اپنی اصلاح کی سر توڑ کوشش میں لگ جائے گا۔ اگر آپ دوسروں کی بہتری میں مدد کرنا چاہتے ہیں، تو ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ ان کی غلطی کو قا بل اصلا ح باور کرائیے۔ تنقید کرنا مقصود بھی ہو تو ایک مثبت تنقید کیجیے تاکہ دوسرے کو بے جا نکتہ چینی کا احساس نہ ہو، اور وہ اپنے کام کا جایزہ لے کر اسے بہتر انداز میں کرنے کی سعی کرے۔ ہمارے مذہب نے بھی دوسروں سے اچھے برتاؤ، اور ایک دوسرے کو کمتر نہ سمجھنے کا درس دیا ہے۔

ہم کسی کی امنگوں کو ختم کرنے کے لیے اس کے طرز عمل پر نقطہ چینی تو کر سکتے ہیں، اس پر تنقید تو کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کی اچھائیوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ ہم اس قدر خود غرض ہیں کہ کسی کو ذرا بھی خوش نہیں کر سکتے، اور تو اور، نہ ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اگلے آدمی سے معاوضے کی تمنا رکھے بغیر، اسکی حو صلہ افزائی نہیں کر سکتے۔ اگر ہماری روحیں واقعی میں اتنی ٹوٹی ہیں، ہم اندر سے اتنے عجیب ہیں، تو ہمیں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

ایک پرانی کہاوت ہے: ’’ برے کو برا کہیے اور خواہ اسے پھانسی پر لٹکا دیجییے، اس کی اصلاح نہ ہو گی لیکن برے کو اچھا کہیے اور دیکھیے کیا ہوتا ہے۔‘‘

انسانی تعلقات کا ایک قانون سب سے اہم ہے۔ اگر ہم اس کی پابندی کریں تو ہمیں کبھی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس قا نون کی پابندی ہمارے لیے بے شمار دوستیوں اور مسرّتوں کا سر چشمہ ہوتی ہے۔ لیکن جونہی ہم اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو فورا مشکلات میں الجھ جاتے ہیں۔ وہ قانون یہ ہے ’’دوسرے شخص میں احساس اہمیت پیدا کیجیے‘‘۔

انسانی فطرت کی سب سے بڑی خواہش اپنی ذات کو اہمیت دینا ہے۔ انسانی فطرت کا سب سے گہرا اصول تحسین اور تعریف کی خواہش ہے۔ یہی خواہش ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اور یہی خواہش تہذیب و تمدن کی ترقی کا باعث ہے۔دنیا کا سب سے زیادہ اہم اصول صرف ایک فقرے میں سمویا ہوا ہے۔ ’’دوسروں کے ساتھ ایسے سلوک کرو جیسے سلوک کی تم ان سے توقع کرتے ہو۔‘‘

ٓاس د ن کا پیغام مثبت پسندی، خوشی اور خوشی کو پھیلانے میں ایک طویل راستہ جاتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے ساتھ تعلقات میں مہربانی اور نرم دلی سے پیش آ تے ہیں۔ تو ہم واپس اسی مہربان اور مثبت انداز کو پاتے ہیں۔ یہ ہماری زندگی بہتر بناتی ہے، ہمیں خوش کرتی ہے۔ اور ہمیں صحت مند رکھتی ہے۔ تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ خوش رہنے والے افراد صحت مند اور لمبے عرصے تک جیتے ہیں۔

ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آئیں گے جو کچھ اچھا سننے کے متمنی ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آپ کسی سے کچھ اچھا نہیں کہہ سکتے، تو کچھ بھی مت کہیے، انہیں کچھ بھی مت کہیے۔ اگرآپ کسی کی اچھائیوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔۔۔ تو پھران کی عیب جوئی سے پرہیز کریں، ان پر نکتہ چینی کرنے سے اجتناب کریں۔

لوگوں کے ساتھ آپ کی چھوٹی چھوٹی جو رنجشیں ہیں ایک طرف ڈال دینے کی کوشش کیجیے۔ اور جنہیں آپ عام طور پر پسند نہیں کرتے ان میں کچھ مثبت دیکھنے کی کوشش کریں۔ کوئی اچھی بات نوٹ کیجیے۔ زیادہ نہیں تو صرف ایک جملہ ہی اچھے سے کہہ دیجیے، لیکن پرخلوص نیت سے کہیے۔ کچھ اچھا کہنے کی مشق نہ صرف آپ کو اچھا بنائے گی۔ بلکہ آپ اپنے بارے میں بھی بہتر محسوس کریں گے۔خدا آپ کو خوش رکھے!

Facebook Comments Box
اچھی بات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خیبر پختونخواہ : محکمہ آبپاشی کے تیار کردہ ڈیمز —- ظہیر تاج
next post
پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کرلیا؟ — قسط 1 —- محمد ندیم سرور

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.