تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

باجوہ ڈاکٹرائن اور منظور پشتین : محمد اسرار مدنی

by دانش ڈیسک 09/04/2018
written by دانش ڈیسک 09/04/2018
96

منظور پشتین کا جلسہ پشاور میں اختتام پذیرہوا۔ پشتونوں کےحقوق کیلئے گرما گرم نعرے لگے، پاکستان آرمی کو مسائل کی جڑ قرار دیا گیا، منظور پشتین کی تقریر میں”یہ جو گردی ہے اس کے پیچے وردی ہے“ کے نعرے بلند ہوئے۔ بلکہ دلچسپ بات یہ تھی کہ کہ اگر ایک نعرے میں طالبان گردی کا تذکرہ تھا تو تین میں وردی کا، عام آدمی اس تحریک کے بارے میں جاننا چاہتا ہے لہذا اس حوالے سے چند اصولی گزارشات پیش خدمت ہیں۔

۱:  منظور پشتین اور پشتون تحفظ مومنٹ کا آغاز نقیب محسود کے قتل سے شروع ہوا، اس قتل کا الزام پاکستان آرمی پر نہیں بلکہ کراچی کے ایک پولیس آفیسر راو انور پر ہے۔

۲:  جنرل راحیل سے پہلے طالبان کو جرگے کا اختیار آرمی نے نہیں بلکہ مقامی قبائل نے دیا تھا، کیانی دور میں تو آرمی سے زیادہ لیویز اور خاصہ دار تھے، مگر ان قبائلی عمائدین سے درجنوں ملاقاتوں میں یہی سنا کہ مجاہدین (طالبان) ہمارے اصل رہنما ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درجنوں ملکان کے چہرے اب بھی یاد ہیں۔ اس وقت آرمی نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ طالبان کو جج اور حکمران قبول کریں۔ اگر ماضی کا الزام یا افغان وار کی طرف بات کو لیجانا ہے تو پھر صرف وردی نہیں پوری قوم شریک تھی۔

۳:  آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل نے لانچ کیا تھا۔ اس وقت طالبان کی کیا پوزیشن تھی، کے پی کے پشاور کے تاجروں سے انٹرویو کریں، کوئی تاجر نہیں بچا جس نے طالبان کو لاکھوں اور کروڑوں میں بھتہ نہ دیا ہو۔ میرے پاس درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ کتنے تاجر پنجاب اور بیرون ملک بھاگ گئے اور کتنوں کو طالبان نے مار دیا۔ جس سے کے پی اور فاٹا کی معیشت تباہ ہوئی۔

۴:  جنرل راحیل نے عجلت میں آپریشن کا آغاز کیا، اور ان قبائل سے میں نے سنا ہے کہ وہ “مجاہدین” (طالبان) کو مارنا چاہتا ہے، مگر آپریشن کے سال اور اس کے ایک سال بعد خودکش حملوں، بھتہ خوری میں پچانوے فیصد کمی آئی ہے، یہ اعداد و شمار آرمی کے نہیں بلکہ گلوبل ٹیرارزم انڈکس کے ہیں۔ طالبان کے دور میں اظہار آزادی رائے کی پوزیشن یہ تھی کہ ایک بار قاضی حسین احمد نے ٹی وی شو میں طالبان پر معمولی تنقید کی تو قاضی حسین احمد کے قتل کا فتوی جاری کردیا گیا، تو دیگر لبرل اور آزاد خیالوں کی کیا پوزیشن ہوگی یہ خود سوچ لیں؟

۵:  آپریشن میں بسا اوقات غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں، بے گناہ لوگ نشانہ بھی بنتے ہیں، آپریشن کے بعد سول انگیجمنٹ انتہائی اہم ہے تاکہ سوسائٹی کے خوف کو ختم کیا جائے اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا جائے۔ علاقہ کلئیر کرنے کے بعد لوکل انتظامیہ کو حوالے کیا جائے۔ مگر افسوس کہ یہ عمل نہیں کیا گیا اور یہ وہی فرسٹریشن ہے جس نے پشتون تحفظ مومنٹ کا روپ دھار لیا۔ اس میں سول اورملٹری دونوں کی غلطی ہے۔

۶:  جنرل راحیل کے دور میں کسی کو ہمت نہیں تھی کہ ان امور پر احتجاج کرے، مگر باجوہ ڈاکٹرائن اس سے مختلف رہا، انہوں نے آتے ہی سوسائٹی کے تمام طبقات کو سپیس دی۔ باجوہ پہلے شخص تھے جو پارلیمنٹ میں پیش ہوئے، عوامی نمائندوں کے سامنے اپنا موقف دلائل کیساتھ پیش کیا، مولانا فضل الرحمن کیساتھ فاٹا کے حوالے سے دو بار ملے، فاٹا کے جو مدارس آپریشن میں بند ہوئے ہیں ان کو بحال کرنے کا عندیہ دیا۔ مولانا سمیع الحق کیساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ یہ باجوہ ہی تھے جنہوں نے پیغام پاکستان کے ذریعے پرائیویٹ جہاد کا راستہ روکا۔

یہ باجوہ ہی ہیں جس نے صحافیوں کی عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کیا کہ جمہوریت کو چلنا چاہئے۔

مگر باجوہ ڈاکٹرائن کا ایک منفی اثر یہ سامنے آیا کہ سوسائٹی اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگی۔ ان کے خلاف نعرے لگنا شروع ہوئے۔ کراچی سے اٹھنے والی تحریک ان کے گلے پڑ گئ۔ تمام برائی کی جڑ آرمی کو قرار دیا گیا۔ اور کل جو طالبان کے خوف سے تیز آواز میں بات نہیں کرسکتے تھے آج باجوہ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

۷:  تین سال پہلے پشاور ترناب فارم کے ساتھ پولیس چیک پوسٹ پر کسی کام سے رک گیا۔ راقم نے پولیس والوں کو چھیڑا کہ ان چیک پوسٹوں کا کچھ فائدہ نہیں۔

اس نے کہا ہم بھی آپ کی طرح سوچتے تھے تھے مگر ایک سال میں پانچ خودکش حملہ آور کو ہم نے قابو کیا ہے اگر وہ پشاور شہر پہنچ جاتے تو بڑی تباہی پھیل جاتی۔ متنی چیک پوسٹ پر بم بلاسٹ کی ریشو معلوم کریں تو اندازہ ہوجائیگا۔
اب یہ آرمی اور ایجنسیوں کی مجبوری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو پبلک نہیں کرسکتے۔

۸:  سرچ آپریشن میں بہت سے لوگوں کو اٹھایا گیا مگر اس میں ستر فیصد کو رہا کیا گیا۔ دو مذہبی جماعتوں کے قائدین کی سفارش پر مولانا صوفی محمد تک لوگوں کو رہا کیا گیا۔ بہت سارے اور لوگ بھی۔ اسی طرح اس وقت طالبان کے اثر و نفوذ کی وجہ سے بھت سے نوجوان ان سے متاثر ہوئے۔ کئی لوگ طالبان کی گواہی پر پکڑے گئے مگر والدین کا اصرار تھا کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں۔ اس معمے کو عدالت کے ذریعے حل کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

۹:  فاٹا ریفارمز کا مقصد یہی ہے کہ فاٹا سے “آرمی کی اجارہ داری” ختم ہوکے پشتونوں کو دیا جائے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ریفارمز کے پیچے بھی “وردی” ہے۔ جبکہ پشتوں رہنما اس کو مسلسل لیٹ کرنے پر تلے ہیں۔

۱۰:  میرے خیال سے نفرت کے بجائے محبت سے ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے اور جینون مطالبات کی ایک فہرست تیار کی جائے کور کمانڈر کے پی اور آرمی چیف سے بات کی جائے۔ مجھے باجوہ ڈاکٹرائن سے توقع ہے کہ وہ ضرور مفاہمت کی راہ تلاش کرتے ہوئے ان مسائل کو حل کریں گے۔


ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں۔ دانش کے صفحات اس موضوع پہ کسی بھی نقطہ نظر کے لئے دستیاب ہیں۔

Facebook Comments Box
باجوہباجوہ ڈاکٹرائنجنرل باجوہجہادطالبانمنظور پشتینمولانا سمیع الحق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
افتخار عارف : زندگی، فن اور افکار —– ایک بھرپور انٹرویو (دوسرا/ آخری حصہ)
next post
نابھہ روڈ کا بھولا بسرا خان —– تحریر: عزیز ابن الحسن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.