تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

کراچی میں زندگی لوٹ آئی —- ساحر بلوچ

by دانش ڈیسک 06/04/2018
written by دانش ڈیسک 06/04/2018
110

میں نے سندھ کو صدیوں سے دیکھا ہے۔ اس کے مہمان نواز غرباء۔ ۔ رحم دل امیر۔ ۔ ۔ دھرتی کی عظمت پر مر مٹنے والے بیٹے۔ محبت میں تاج ٹھکرانے والی بیٹیاں۔ وادی مہران میں دلہن کی مانگ کے جیسا بہتا دریائے سندھ۔ ۔ ۔ جھومر کی طرح چمکتا کراچی۔ ۔

کراچی ایک الف لیلوی شہر ہے۔ اس کے حسن کی داستانیں زبان زدعام۔ اس کی مہمان نوازی بےمثال۔ غریب پروری میں اپنی مثال آپ۔ یہاں ہرکسی کےلئے جگہ ہے۔ رنگ نسل کی کوئی قید ہے نہ چھوٹے بڑے کی تفریق۔ سیاست نے فضاؤں میں زہر گھول دیا ورنہ یہ شہر محبتوں کی مٹھاس سے بھرا ہوا تھا۔ میں اس شہر میں پیدا نہیں ہوا لیکن عصبیت کی آندھی سے پہلے بسنے والے محبتوں کے جہان کا عینی شاہد ہوں۔

تقریباً یہی دن تھے۔ ۔ اپریل کا مہینہ ابھی شروع ہوا تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ شہر جاگ رہا تھا ( یا شاید سویا ہی نہیں تھا) سڑکوں پر سناٹا بالکل نہیں تھا۔ ہر ایک منٹ میں فراٹے بھرتی گاڑی ٹرک کو کراس کرتی۔ آہستہ آہستہ چھوٹی ہو کر غائب ہو جاتی۔ مساجد سے نمازِ فجر کی منادی جاری تھی۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کسی گھر کا دروازہ کھلتا۔ کوئی نکل کر چل دیتا۔ ہر طرف روشنیاں تھیں۔ سورج کا دور دور تک کوئی نشان نہیں لیکن دودھ کی دکانوں اور بیکریوں پر ناشتہ لینے والے موجود ۔ میں پہلی بار گاؤں سے کراچی آیا تھا اور یہ منظر میرے لیے بالکل نیا تھا۔

میں گھر سے پہلی بار اتنی دور آیا تھا۔ ۔ ۔ پھر بار بار ایک نئے جہان سے آشنائی ہوتی چلی گئی۔ میں چھ سات سال کا بچہ تھا۔ ایک اجنبی شہر تھا لیکن ہر طرف اپنائیت تھی۔

یہ اسی کی دہائی کا آخر تھا۔ سعودآباد موڑ پر ہمارا بھینسوں کا باڑہ تھا۔ مکس آبادی تھی لیکن تفریق کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ رہائشی علاقہ تھا پوری گلی میں ہم ہی بیچلر تھے۔ سب کی نظرکرم بھی ہمی پر تھی۔ کبھی پٹھانوں کے گھر سے کابلی پلاؤ آ جاتا۔ کبھی میانوالی کے پنجابی سفید چاول پر مرغی کا شوربے والا سالن انڈھیل کر بھیج دیتے (اس کو وہ بریانی کہتے تھے)۔ حیدرآباد کی آپا پورے محلے کی ایک طرح سے مانیٹر تھیں۔ ۔ منہ پان سے لال۔ گلے میں دوپٹہ۔ گرج دار آواز۔ گلی میں ٹہلتے کسی وقت بھی حکم صادر کرتیں تو ہرکوئی بجا آوری کےلئے تیار ہوتا۔ دوسری منزل سے گھر کی کھڑکی کھولتیں۔ ۔ کسی کو مخاطب کیے بغیر دھاڑتیں تو تمام گوالے بیک وقت متوجہ ہوجاتے۔ چھلی پھیکتیں۔ دو کلو دودھ اچک لیتیں۔ کوئی پیسے مانگنے کی جرات کرتا نہ کسی کو فکر ہوتی۔ ایک دن دودھ دینے گھر جانا پڑا تو گدی سے پکڑ کر اندر کھینچ لیا۔ میلے کپڑوں پر ڈانٹ ڈپٹ کے بعد کھانا کھلایا اور سر میں کنگھی کرکے چھوڑا۔

یہ بھی پڑھیئے: کیرانچی کا جوغرافیہ —- لالہ صحرائی

 

ماموں کے ساتھ دودھ کے ٹھیے پر بیٹھتا۔ ایک سفید پوش قدآور شخص روزانہ مجھے ٹافی پکڑا کر جاتے۔ یہ میری پہلی چھٹیاں تھیں پھر پورا سال واپسی کے انتظار میں گذرا۔

اگلے سال بھی اپنائیت کا یہی ماحول تھا لیکن بےچینی کا عالم بھی تھا۔ پہلی بار میں نے کرفیو دیکھا۔ جب پختونوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا تو ہمارے گوالوں کے پاس جتنی سندھ ٹوپیاں تھیں وہ آسپاس کے پختونوں کو دے دی تھیں۔ ایک دن آپا کے دھاڑنے کی آواز آئی۔ پتہ چلا کہ کچھ لڑکے اس کو یہ سمجھانے آئے تھے کہ اپنے گھر کی چھت پر پٹھانوں کو نہ سلایا کریں لیکن آپا کی قوالی سن کر واپسی کا راستہ بھی بھلا بیٹھے۔

انیس سو اٹھاسی وہ دردناک سال تھا جب شہر میں لگنے والی آگ ہمارے گھر تک پہنچ گئی۔ پختون مہاجر فسادات نے سندھی مہاجر فسادات کا روپ دھار لیا۔ ہمارے باڑے میں چھ افراد کا قتل کیا گیا۔ تین لاشیں ہمارے گاؤں میں آئیں۔ ایک میرا ماموں زاد تھا۔ میں اس وقت گاؤں میں تھا اور جب بھی ماموں سے کراچی کے لوگوں کے بارے میں پوچھتا تو ان کی آنکھوں میں سیلاب آ جاتا۔ محبتوں کے شہر کا حسن نفرتوں کے دھویں میں دھندلا گیا تھا۔ خوشیاں عصبیتوں نے نگل لی تھیں۔
کراچی نے ظلمتوں کی طویل رات کو جھیلا ہے۔ اس نے بار بار اپنی گود اجڑنے پر آنسو بہائے ہیں۔ بارود کی بو۔ ۔ ۔ لاشوں کی قطاریں۔ ۔ ۔ بلکتی بیٹیاں۔ سسکتی مائیں۔ نڈھال بوڑھے باپ۔ خوف کے سائے اور جرم کی داستانیں کراچی کا روگ ضرور رہی ہیں لیکن پہچان نہیں۔ ۔ ۔ ۔

جون ایلیا کی شاعری کراچی کی بےباکی کا نشان۔ ساحل پر مچلتی لہریں آزادیوں کی گواہ۔ ۔ روشنیوں کا سمندر ظلمتوں کیخلاف بغاوت۔ کرکٹ کے دیوانوں کی ٹکٹ کےلئے تا حدِ نگاہ قطاریں زندگی کا ثبوت۔ ۔ ۔ کراچی یہ ہے جو صرف جینا جانتا ہے۔ رنگ نسل کی تفریق ڈالی گئی تھی یہ اس مٹی کا خمیر ہرگز نہیں۔ نفرتوں کے سوداگر جب نہیں تھے تو کراچی مہکتا تھا۔ ۔ نفرتوں کے تاجر اب کمزور ہیں تو کراچی چہکتا ہے۔ مسائل کا ہجوم کراچی کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس شہر کا اصل امن ہے اور امن ہی اس شہر کی جیت۔ ۔ ۔ کچھ اور نہیں۔ ۔


کراچی کا نیا سفرنامہ: خوابوں کا شہر —- عابد آفریدی کی کھٹی میٹھی تحریر

Facebook Comments Box
featuredKarachiکراچیکراچی امن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جب جنگ میں سب جائز ہوجائے : عابد آفریدی
next post
دانش کا ایک سال —– محمود فیاض

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.