تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

وولنر کا مجسمہ اور رضیہ: فاروق بھٹی

by دانش ڈیسک 29/03/2018
written by دانش ڈیسک 29/03/2018
72

مجھے شکل ہی سے لگا کہ یہ فارماسسٹ مقامی نہیں ہے، شستہ لہجے کی اردو اور دیسی انگریزی بھی بتا رہی تھی کہ ساوتھ ایشیاءکا کوئی بھائی ہے۔ کیش وصول کر کے اس نے دوائیوں کا تھیلہ مجھے تھماتے ہوئے کہا، ”سکریہ، سینک یو“۔

جیل روڈ پر موجود یہ ایک معروف میڈیسن چین کا ایک آوٹ لٹ تھا۔۔۔ اور شاید اُس فارماسسٹ کی پہلی جاب تھی۔ پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 1 کے رہائشی سیتا رام کھڈکا نیپال کا باشندہ تھا اور وہ اولڈ کیمپس سے بی فارمیسی مکمل کر کے عارضی طور پر اس میڈیکل سٹور پر خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ وہ انارکلی کے کھابے خصوصاً اسماعیل کی ”توّا مچھّی“ کا دلدادہ اور اندرون شہر گمٹی بازار والے جیدے کی لسی کا عاشق تھا۔ دورانِ تعلیم پانچ سال تک لاہوریوں کا پیار پانے والا کھڈکا پاک ٹی ہاوس کا بھی مستقل وزٹر تھا، اردو ادب اور پنجابی زبان کی بیشمار تراکیب اور سلینگز کا استعمال بھی خوب جانتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک ایک کاریڈور کا بھیدی واپس نیپال جانے کے تصور ہی سے آبدیدہ ہو جاتا تھا۔ کھٹمنڈو کی گلیاں، بازار اور مندر یاد ضرور کرتا اور پھر کہتا۔۔۔۔ لہور لہور اے۔۔۔۔ پھر ایک دن کھڈکا واپس نیپال چلا گیا۔۔۔۔ دس سال ہو گئے۔۔۔۔ اب جب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے بات ہوتی ہے، تو کہتا ہے ”میرا لاہور، میری پنجاب یونیورسٹی، میرے رومانس“۔۔۔۔

دل خون کے آنسو روتا ہے آج جب اپنی مادرِ علمی کو پراپرٹی مافیا کے نرغہ میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔ 1991ءمیں شعبہ ابلاغیات IER کی چوکور عمارت کے دوسرے فلور پر ہوا کرتا تھا۔ اس عمارت کی خوبصورتی یہ ہے کہ چار اطراف کلاس رومز اور بیچ میں ایک کشادہ سبزہ زار، جس کے مرکزے میں شالاماری فوارہ۔۔۔۔ 1989ء میں جامعہ کی طلبہ یونین کے آخری انتخابات ہوئے تھے جن میں PSF کے کھیتران، جمعیت کے جہانگیر خان سے شکست کھا گئے، شمس الزماں سیکرٹری منتخب ہوئے۔۔۔۔ ساری طلبہ سرگرمیوں کا مرکز ملتانی ٹائلوں سے مرصع فیصل آڈیٹوریم اور ہمارا ڈیپارٹمنٹ ہی ہوا کرتے تھے۔۔۔۔ خیر بات ذرا دور نکل گئی۔۔۔۔ واپس آتے ہیں اور اپنی جامعہ کا نوحہ پڑھتے ہیں۔

میری پنجاب یونیورسٹی۔۔۔۔ بیچاری ایسی رضیہ بن چکی ہے جو ہر دم رُوسیاہ غنڈوں میں گِھری رہتی ہے اور عصمت دری کرنے والوں، دوپٹہ نوچنے والوں سے یہ شکوہ بھی نہیں کرتی، ”انہی لوگوں نے لے لیا دوپٹہ میرا“۔ اس مادرِ علمی سے فیضیاب ہونے والے لاکھوں بیٹے اور بیٹیاں آج دنیا بھر میں اہم عہدوں پر متمکن ہیں، سیاست اور ریاست کے اہم ترین اداروں کی اہم ترین پوسٹوں پر تعینات اور بڑے بڑے کاروباروں کے مالک۔۔۔۔ صحافی اور سفیر، اساتذہ اور ادیب، کیمیکل انجینئرز اور خطیب، انگریزی ادب اور فائن آرٹس کے نقیب، ہر براعظم میں نام اور پیسہ کما رہے ہیں۔ ہزاروں غیر ملکی طالب علم اس دانش گاہ سے اسناد فضیلت لے کر اپنے اپنے ملکوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت بھی 45000 سے زائد طلبہ و طالبات اس 136 سالہ قدیم درس گاہ میں زیر تعلیم ہیں اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ اس کی محبتوں کے حصار میں ہیں۔ قریباً ہزار اساتذہ اور دو ہزار ملازمین اس 1800 ایکڑ پر محیط جامعہ سے وابستہ ہیں۔ کچھ روز پہلے ٹھنڈی سڑک سے گزر ہوا تو اولڈ کیمپس کے سامنے رُک گیا۔ 2 نوبیل جیتنے والی جامعہ کے اولڈ کیمپس کے باہر میوزیم کے عین سامنے 1928ءسے 1936ء تک وائس چانسلر رہنے والے Woolner A۔C۔ کا مجسمہ حیرت سے مڑ مڑ کر اپنی جامعہ کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے کہنے لگا، ”جب اس مقدس دانش گاہ کے سینے سے سڑک گزاری گئی تو وائس چانسلر سو رہا تھا یا چوروں سے مل گیا تھا؟“۔ پھر کہنے لگا، ”میری جامعہ کی گراونڈز میں جب اورنج ٹرین کے عمارتی سامان کا ڈھیر لگایا گیا، جب نیو کیمپس کی کشادہ گراونڈز میں جشنی مارکیاں تعمیر ہوئیں تو طلبہ و طالبات سو رہے تھے کیا؟“۔ وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ 80 کنال اراضی گرڈ اسٹیشن کے نام پر کیسے ہتھیا لی گئی ہے۔۔۔۔ کیا کوئی ڈاکٹر عمر حیات ملک، کوئی پروفیسر علاوالدین صدیقی، کوئی خیرات ابن رسائی، کوئی ڈاکٹر رفیق احمد یا منیر الدین چغتائی موجود نہیں؟ طلبہ تنظیموں کا کوئی وجہ قائم ہے؟ کیا کوئی سٹوڈنٹ یونین بھی موجود نہیں؟ اساتذہ یا ملازمین چھٹی پر ہیں؟

میں نے ایڑیاں اُٹھا کر ڈاکٹر ایلفرڈ وولنر کے کان کی طرف منہ کر کے باآواز بلند عرض کیا، ”ڈاکٹر صاحب، 2008ء میں اک رُوسیاہ نے اس جامعہ کی عصمت بیچنے کا رواج شروع کیا، اس نے حکمرانوں کی کاسہ لیسی کو خدمتِ جامعہ قرار دیا، اِس مقدس جامعہ پر ڈائن کی طرح آٹھ سال حکومت کرنے والا محققین کا سہولت کار نہیں تھا، حکمرانوں کا ایجنٹ تھا۔ اِس رُوسیاہ نے حیاءکے کلچر کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی۔ استاد طلبہ و طالبات کے روحانی باپ ہوتے ہیں لیکن اُس نے اس تقدس کی پامالی کی ترغیب کو رواج دیا۔ پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن میں بھی بے ضابطگیاں کیں اور میرٹ کا بھی قتل عام کیا۔ عدالتوں نے میری جامعہ کو اُس سے نجات دلوائی۔ اُس کے بعد ایک نیک نام استاد ڈاکٹر ظفر معین ناصر آئے لیکن انہوں نے جذباتی ہو کر استعفیٰ دے دیا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ چوبرجی میں جامعہ کی گراونڈ سے ایک قطعہ ہتھیانے والوں نے اُن کو بے بس کر دیا تھا۔ اب بھی اچھی شہرت کے حامل وائس چانسلر آئے ہیں لیکن بیورو کریسی نے گہرے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

ڈاکٹر ایلفرڈ وولنر کے ماتھے پر پسینہ صاف نظر آ رہا تھا، وہ نیچے جھکے اور میرے کان کے پاس اپنا منہ لا کر بولے، ”کیا اس جامعہ کے سابقہ اور موجودہ طلبہ و طالبات سب مر چکے ہیں؟“

Facebook Comments Box
PUPunjab Universityپنجاب یونیورسٹی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آپ کیا کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں؟ محمد زبیر
next post
تقسیم ہند پر ہونے والی ہجرت کا ریکارڈ : تحقیق محمد عبدہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.