تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینسماجیعلم و ادبکالم

الطاف حسین اور ہمارا پیلا اسکول — سید مظفر الحق

by دانش ڈیسک 22/03/2018
written by دانش ڈیسک 22/03/2018
97

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین اپنی اکثر تقاریر اور ماضی کی یادوں کے حوالے سے "پیلے اسکول” کا تذکرہ کرتے ہیں تو یادوں کے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی چہرے ماضی کے دھندلے افق سے طلوع ہو کر پوری تابناکی سےنظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہ پیلے اسکول "سرکاری اسکول” کہلاتے تھے تب نجی اسکولوں میں صرف وہ لوگ جاتے تھے جنہیں میرٹ پہ پورا نہ اترنے کی وجہ سے ان اسکولز میں داخلہ نہیں ملتا تھا اور گورنر سردار عبد الرب نشتر کے صاحبزادہ جمیل نشتر سے لے کر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے بیٹے تک ان ہی اسکولوں میں پڑھتے تھے وہ لمبی لمبی کاروں میں نہیں بلکہ بائی سائکل پر اسکول آتے تھے۔

کراچی میں سبیل مسجد سے شروع ہونے والی سڑک جہاں تین ہٹی کے پل پہ ختم ہوتی ہے وہیں سے ایک سڑک داہنے جانب مڑ کر کراچی سنٹرل جیل کی دیوار تک جاتی ہے۔ سڑک کے اختتام سے ذرا ہی پہلے جہاں بایئں طرف پیرالہی بخش کالونی اور اس کے مقابل سڑک کی دوسری جانب پیلے رنگ کے سرکاری کوارٹرز ہیں ان ہی کے درمیان وہ پیلا اسکول تھا جو شاید اب بھی ہوگا، جسے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈ کہا جاتا ہے۔ جس کا نام ذہن میں آتے ہی کتنے ہی روشن چہروں سے جیسے ذہن چکا چوند ہونے لگتا ہے۔ اسی اسکول میں PIA کے سابق اسٹیشن منیجر سبطین اور سابق پاکستانی سفیر کرامت الله خان غوری پڑھتے تھے۔

Class 1975 Badshahi Masjid Thatta Visit …Teacher Sir Moazziz

یہ ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں کی بات ہے تب اس اسکول میں جہاں حبیب بنک کےجنرل منیجر انور سعید، ثناء الله وولن مل کے مالکان جنید نواب اور طارق نواب زیر تعلیم تھے تو جامعہ کراچی کے پروفیسرز جناب غلام سرور کے صاحبزادے سعید ،ڈاکٹر امام کے بیٹے اور ہمارے یار ڈاکٹر مسرور امام، ڈاکٹر افضال قادری کے بیٹے جمال قادری اور جیو ٹیلیویزن کے مرزا ناصربیگ بھی تھے ایک کہکشاں بکھری ہوئی تھی روشن چہروں کی۔

میں، انورسعید، مسرور امام، مرزا ناصر بیگ، جنید نواب، سید رفعت علی اور عمران الحق وغیرہ اسکول کی بزم ادب اور مقررین کی انجمن کا رکن ہونے کے ناطے طلبہ میں خاصے سرگرم اور جانے پہچانے تھے۔ اسی زمانے میں ہم سے دو سال جونئیر ایک سانولے رنگ اور اکہرے بدن کا سوچ میں ڈوبا لڑکا بھی یاد آتا ہے جو بعد میں مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا بانی اور آج کی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے نام سے ملک گیر سطح پہ جانا جاتا ہے اور طاقت وار سیاسی لیڈر ہے۔ جب اسکول میں وقفہ ہوتا اور طلبا باہر نکلتے تو خرّم جاہ مراد کے بھائی اسامہ اسماعیل مراد اسلامی جمعیت طلبہ کے کتابچے لئے گھیرنے کے لئے مستعد نظر آتے۔

یہ بھی پڑھیئے:  غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔۔۔۔ کراچی کا علمی بحران 1۔ رعایت اللہ فاروقی

 

اسکول چاروں طرف سے سرکاری کواٹروں میں گھرا ہوا تھا اور ان ہی پیلے پیلے گھروں میں، سلیم احمد، قاضی واجد مقبول علی، وحیدہ نسیم، نسیم اعجاز اور سڑک کے اس پار پیر الہی بخش کالونی میں پروفیسر امام، سعید رضوی، ایف سلطانہ مہر ، پروفیسر غلام سرور، ابراہیم جلیس، ابراہیم نفیس، اور مولا عبد الحامد بدایونی جیسے روشن اور سنہرے چہرے جلوہ گر تھے۔

سڑک پار کرتے ہی جو پہلا گھر تھا وہ میری زندگی اور یادوں میں شاید اہم ترین ہے لیکن اب وہاں ایک آئیل پمپ ہے۔ یادش بخیر کبھی اس مکان کے مکینوں میں MQM کی ممبر قومی اسمبلی کشور زہرہ اور عابدہ باجی بھی تھیں کہ جن کا بھائی غلام السیدین کل بھی میرا یار تھا اور آج بھی ہے۔ تب کشور باجی ہماری ذہنی اور فکری تربیت کی کاوش کرتیں، ادبی اور سماجی محفلوں میں سااتھ لے جاتی تھیں، تہماری طالب علمانہ تنگ دستی کا خیال کرتے ہوئے مختلف حیلوں بہانوں سے ہماری جیب بھی گرم کرتی رہتی تھیں۔میرا جتنا وقت اس گھر میں گزرا اور ان کی والدہ مرحومہ کے ہاتھ کا پکا جتنا کھانا میں نے کھایا اس کا ذائقہ آج بھی نوک زبان پہ اور ان کی محبت دل کی گہرائیوں میں آج بھی اسی طرح تازہ ہے ۔ ہم انہیں آپا کہتے تھے اور پچھلے سال اپنے انتقال سے پہلے وہ جب دبئی آی تھیں بے پناہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاص طور پہ مجھ سے ملنے گھر آئ تھیں۔ تب پتہ نہ تھا کہ اب کے بچھڑے تو مل نہ پائیں گے۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم – تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

بات نکلی تھی الطاف بھائی اور پیلے اسکول سے اور پہنچ گئی کہیں سے کہیں، وہ جو کہتے ہیں نا،

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تیری جوانی تک

شاید یہ وہ ہی کیفیت ہے جسے ناسٹلجیا سے تعبیر کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کیرانچی کا جوغرافیہ —- لالہ صحرائی

Facebook Comments Box
featuredالطاف حسینانورسعیدپیلے اسکولجنید نوابسید رفعت علیقاضی واجد مقبول علیکراچیگورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈمرزا ناصر بیگمسرور امامنسیم اعجازوحیدہ نسیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آبِ حیات — آبیناز جان علی کا افسانہ
next post
گوگل، فیس بک، اور ایمیزون کا ڈیجیٹل معیشت پر غلبہ: لگام دینے کا اہتمام ____کیوں اور کیسے؟

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.