تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

اسٹیفن ہاکنگ پر سب سے شاندار مضمون یہاں ملاحظہ کریں: عبدالغفار چھینہ

by دانش ڈیسک 15/03/2018
written by دانش ڈیسک 15/03/2018
109

اردو کے پرچہ ب میں سب سے زیادہ نمبروں کا حامل مگر مشکل ترین سوال پہلا سوال ہوا کرتا تھا۔ اکثر اوقات کسی شخصیت مثلا قائداعظم، اقبال، مولانا ظفر علی خان، چوہدری رحمت علی یا تحریک آزادی کے دوسرے مشاہیر پر مضمون لکھنا پڑتا۔۔ درجنوں مشاہیر کی زندگیوں کے خاکے رٹنا انتہائی مشکل کام محسوس ہوتا۔۔ کئی دفعہ کسی تاریخی مقام یا عمارت پر مضمون لکھنے کو کہاجاتا۔ ہسٹری خشک مضمون سمجھاجاتا اور سن اور تاریخ یاد رکھنا گورکھ دھندا سا لگتا۔

سو ہر دو قسم کے بکھیڑوں سے بچنے کیلئے کسی لقمانی ٹوٹکے کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی کیونکہ زبیدہ آپا تب تک دریافت نہیں ہوئی تھیں۔ ایسے میں بک ڈپو مالکان ہی ہوا کرتے جو دھڑا دھڑ نصرت کو اتر آتے۔ چند صفحات کا بنڈل فی کس مبلغ دس روپے میں مہیا کردیا جاتا جس میں ہمہ قسمی مضامین کا جامع حل مہیا کر دیا جاتا۔ چار سے پانچ مضامین کی آؤٹ لائنز کی شکل میں دنیا بھر کے موضوعات کو سمیٹ دیا جاتا۔ "تاریخی مقام کی سیر” کے عنوان سے کچھ اس طرز کامضمون لکھا ہوتا:

"یہ مقام انتہائی تاریخی اہمیت کاحامل ہے جس نے اپنی آنکھوں سے تاریخ کا پہیہ گھومتے دیکھا۔ اس کے سینے میں بیش قیمت راز دفن ہیں۔اس کے در و دیوار پہ ثبت نقوش اس کی تاریخی اہمیت کا پتا دیتے ہیں۔”

اب چونکہ ہمارے ہاں اکثر تاریخی مقامات زبوں حالی اور شکست ریخت سے دوچار ہیں سو اختتام کچھ ایسی لائنوں پہ ہوتا ”

حکومتوں کی مسلسل بے توجہی اور وقت و حالات کے تھپیڑوں نے اس کا حسن کافی حد تک گہنا دیا ہے۔ یوں ہمارے تابناک ماضی کا عینی شاہد اور ہماری ثقافتوں کا امین آج اپنی حالت زار پہ نوحہ کناں ہے۔ ارباب اختیار کو ہوش کے ناخن لینے کی اشد ضرورت ہے۔۔ تمت بالخیر "

کچھ پتا ہی نہ چلتا کس تاریخی عمارت یا مقام کی بات ہورہی ہے اور اس کا تاریخی پس منظر دراصل ہے کیا؟
عمارت تو چلو عمارت ہے اس سے بڑا ہاتھ مشہور شخصیات کے ساتھ کیاجاتا۔ ایک ایسا مضمون جو قائد اعظم، اقبال، چوہدری رحمت علی وغیرہ تمام مشاہیر پہ یکساں طور پرفٹ آتا تھا کچھ اس انداز میں شروع ہوتا۔

"موصوف کا شمار تحریک پاکستان کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جن کی انتھک کوششوں، شبانہ روز محنت، خلوص، لگن اور جہد مسلسل کے سبب ہی الگ ریاست جس کا نام پاکستان ہے، کے خواب کی تعبیر ممکن ہو پائی۔ اگر تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کیاجائے تو تحریک پاکستان میں آپ کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔….”

"آپ بچپن سے ہی محنتی، پر عزم اور وقت کے انتہائی پابند تھے اور بحیثیت طالبعلم ہمیشہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوتے رہے۔ جن دنوں آپ پیدا ہوِئے ہندوستان گوروں کے زیرتسلط شدید قسم کے ظلم و جور کاشکارتھا لیکن آپ نے شروع سے ہی ایسی آزاد طبیعت پائی تھی کہ غلامی کو اپنے قریب تک نہ پھٹکنے دیا۔ اوائل جوانی میں ہی حالات کواچھی طرح بھانپ گئے کہ مسلمانوں کو ایک الگ ملک کی اشد ضرورت ہے۔آپ سمجھ چکےتھے کہ صرف انگریز ہی نہیں بلکہ ہندو بھی مسلمانوں سے شدید قسم کا بغض عناد رکھتے ہیں، سو ان سے چھٹکارا بھی لازم تھا۔۔۔۔”

اس کے بعد انگریزاور ہندو کی ایسی تیسی پر مبنی دس بارہ لائنیں شامل کر دی جاتیں اور اختتام کچھ اس انداز میں ہوتا

"موصوف کی عشروں پر محیط خدمات اور تحریک آزادی میں ان کےنمایاں کردار کو تاریخ پاکستان کے سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک الگ وطن کیلئے مسلسل محنت اور بے تحاشا مصروفیات کے سب آخری دنوں میں آپ کی صحت بری طرح گر گئی تھی۔ کچھ عرصہ بیماریوں کامردانہ وار مقابلہ کرنے کے بعد بالاخر ابدی سکون کی خاطر خالق حقیقی سے جا ملے۔

خدا تیری لحد پہ شبنم آفشانی کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔۔۔
عجب آزاد مرد تھا…. وغیرہ

سٹیفن ہاکنگ کی وفات پہ ان کی خدمات پرروشنی ڈالتی درجنوں پوسٹیں پڑھ چکا لیکن جان کر سخت مایوسی ہوئی کہ ان کے مداحوں اور مخالفین کی واضح اکثریت کوسرے سے علم ہی نہیں کہ ان کے کارنامے دراصل تھے کیا؟ اوپر بیان کردہ طرز کے مضامین ہی پڑھنے کو ملے جن کا سر ہے نہ پیر ہی۔

دن بھر کی مصروفیات آڑے رہیں سو اس کمی کو بروقت پورا نہ کرپایا، پہلے تواس کیلئے معذرت۔
فقط چند گھنٹے کا وقت دیجئیے، باکس آفس ارننگز، ایکسپرٹ ریویوز، مکمل کاسٹ اور لوکیشنز کی جامع تفصیلات کے ساتھ ان کی ڈائریکشن میں بننے والی تمام فلموں پر مبنی تفصیلی مضمون بس آیا چاہتا ہے۔

Facebook Comments Box
Stephen hawkingاسٹیفن ہاکنگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسٹیفن ہاکنگ کی کائنات ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطربہ شیخ
next post
سٹیفن ہاکنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا اپنا ایمان بچائیے ! ایم جبران عباسی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.