تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

خان صاحب ’’ایسے نہیں چلے گا‘‘ —— راجہ قاسم محمود

by Editor2 15/02/2018
written by Editor2 15/02/2018
116

عمران خان مجھ سمیت پاکستان کے کئی لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہے اور ان کو اقتدار کے ایوانوں میں دیکھنا بھی میری خواہشات اور دعاؤں میں شامل ہے مگر سیاست میں کامیابی میں فقط دعائوں اور خواہشات سے نہیں بلکہ چند دیگر لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ملتی ہے۔ 2018 انتخابات کا سال ہے اور شاید میرا کپتان یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ وہ مسندا قتدار پر فائز ہو گا۔ مگر خان صاحب مجھے خوف آ رہا ہے کہ آپ نے اگر اپنی حکمت عملی پر غور نہ کیا توشاید یہ انتظار 2023 تک لمبا نہ ہو جائے۔ بطور ایک مداح کہ کچھ گلے خان صاحب آپ سے کرنے ہیں۔

ہمیں آپ کے بعد کوئی اور شخص نظر نہیں آتا جو کہ اس کی قیادت کر سکے۔ اب تک جماعت کے اندر منصفانہ طرز انتخاب کو آپ ممکن نہیں بنا سکے، کم از کم اپنی جماعت کی سطح پر ہی الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کر لیتے تاکہ اس کو ملکی سطح تک لانے کی کوئی نظیر تو ہوتی

خان صاحب سب سے پہلی شکایت آپ سے یہ ہے کہ بد قسمتی سے اب تک آپ اپنی جماعت کو ایک ادارہ نہیں بنا سکے۔ جماعت جس طرح گروہی اختلاف میں مبتلا ہے اور کمزور تنظیم سازی کا گلا تو ہر وقت ہارون الرشید صاحب کرتے رہتے ہیں۔ ہر بڑی جماعت کے اندر گروپس پائے جاتے ہیں لیکن جب فیصلہ کا دن ہوتا ہے تو یہ لوگ اپنا اختلاف بھلا کر اپنی جماعت کی کامیابی کے لیے میدان متحد ہو جاتے ہیں۔ خان صاحب آپ کی جماعت قومی منظر نامے پر نئی جماعت ہے آپ کا مقابلہ انتہائی منظم اور گراس روٹ لیول تک موجود جماعتوں (مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی) سے ہے۔ ان کے مقابلے میں آپ کا جماعت کی تنظیم کی حالت بہت پتلی ہے۔ پھر پارٹی کی قیادت کو دیکھا تو ہمیں آپ کے بعد کوئی اور شخص نظر نہیں آتا جو کہ اس کی قیادت کر سکے۔ اب تک جماعت کے اندر منصفانہ طرز انتخاب کو آپ ممکن نہیں بنا سکے، کم از کم اپنی جماعت کی سطح پر ہی الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کر لیتے تاکہ اس کو ملکی سطح تک لانے کی کوئی نظیر تو ہوتی۔ ابھی لودھراں کا انتخاب ہارنے کی ایک بڑی وجہ تنظیمی عدم تعاون تھا۔ پھر کراچی سے جب متحدہ کا حصار ٹوٹا تو یہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع تھا کہ آپ اہلیان کراچی کو یقین دلاتے کہ ان کے مسائل کو حل کرنے کا لائحہ عمل آپ کے پاس ہے مگر وہاں پر آپ نے میدان خالی رکھا، اب جبکہ متحدہ آپس میں تقسیم ہوچکی ہے تو آپ کو ایک موقع اور ملا ہے وہاں اپنے آپ کو مضبوط کرنے کا مگر آپ نے ابھی تک اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ اس کراچی کی کمزور تنظیم کی وجہ سے ناز بلوچ جیسی متحرک اور مخلص کارکن آپ کو چھوڑ گئیں۔

پھر تحریک انصاف کی دو اہم شخصیات جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور جنوبی پنجاب میں آپ کی حریف جماعت نواز لیگ مضبوط بھی نہیں مگر افسوس کہ جنوبی پنجاب میں بھی آپ کی جماعت موقع ہونے کے باوجود پذیرائی نہیں حاصل کر پا رہی یہ بد ترین غفلت نہیں؟ پھر بلوچستان میں آپ کی جماعت نظر ہی نہیں آتی ایک سردار یار محمد رند سے شروع ہوتی ہے اور وہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی ابھی تک اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنے آپ کو بطور متبادل منوانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ کیا اس طرح کی حالت میں امید رکھتے ہیں کہ آپ پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لیں گے۔ خان صاحب …………….. ایسے نہیں چلے گا۔

خان صاحب، کڑا احتساب اور کرپشن کے بارے میں Zero Tolerance کے بیانات تو آپ کے ہر چاہنے والے کے سامنے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے خان صاحب آپ نے اپنی پارٹی میں اس کے اندر کوئی حوصلہ افزاء روایت قائم نہیں کی۔ 2013 کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ جس طرح فروخت ہوئے اس کا اعتراف تو آپ بھی کر چکے اور پھر ملتان کے اس ’’باغی‘‘ کو جو کہ مبینہ طور پر اس میں ملوث تھا آپ نے نہ صرف پارٹی میں گوارہ کیا بلکہ اس کو جماعت کا صدر بھی برقرار رکھا وہ تو اگر آپ کو چھوڑ کر نہ جاتا تو شاید آج بھی اس ہی پوزیشن پر ہوتا۔ اب بھی آپ کی جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جن پر ٹکٹ بیچنے کے الزامات ہیں۔ آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے آج سے پانچ سال پہلے ٹکٹ بیچے اور ان کے خلاف کوئی کاروائی بھی نہیں ہوئی وہ اب یہ حرکت نہیں کریں گے تو آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ پھر ٹکٹوں کی غلط تقسیم تو آپ کی پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں بھی کی مگر کوئی سبق تاحال حاصل نہیں ہوا۔ ایسی کمزور اور کھوکھلی حکمت عملی سے تو ایک یونین کونسل کا الیکشن نہیں جیتا جا سکتا آپ قومی انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے ہیں۔ خان صاحب، ایسے نہیں چلے گا۔

اب بھی آپ کی جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جن پر ٹکٹ بیچنے کے الزامات ہیں۔ آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے آج سے پانچ سال پہلے ٹکٹ بیچے اور ان کے خلاف کوئی کاروائی بھی نہیں ہوئی وہ اب یہ حرکت نہیں کریں گے تو آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

پھر پارلیمنٹ جس کے ذریعے آپ نے اقتدار میں آنا ہے وہاں پر آپ کی حالیہ کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ آپ ایک سیٹ رکھنے والے سیاست دان سے کبھی متاثر ہو کر اس پر لعنت بھیجتے ہیں، کبھی سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہیں اور کبھی استعفٰی دے کر واپس لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں خان صاحب آپ کی اپنی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ کا پارلیمان کے بارے میں یہ غیر سنجیدہ طرز عمل کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ آپ اگر پارلیمان میں موثر انداز سے حکومت کو للکارتے اور اس کی کمزوریاں اشکار کرتے تو حکومت بہت جلد بیک فٹ پر چلی جاتی مگر آپ نے ذہن بنا کر رکھا ہوا ہے کہ جب تک آپ کے پاس 172 سے کم ارکان ہیں آپ کے جانے کا فائدہ نہیں۔ پھر آپ کی پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی میں بھی صفر کنٹری بیوشن ہے۔ انتخابی اصلاحات جیسا اہم بل اگر بائیومیٹرک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے بغیر پاس ہوا ہے تو یہ آپ کی پارٹی کی نااہلی ہے۔ پھر پنجاب میں تو آپ کی پارٹی کے پاس اپوزیشن لیڈر کا بھی عہدہ ہے کیا مجھے اور میرے جیسے باقی چاہنے والوں کو آپ بتا سکتے ہیں کہ میاں محمود الرشید اور خورشید شاہ میں کیا فرق ہے۔ بلکہ خورشید شاہ تو پھر دو تین دفعہ بولے پنجاب اسمبلی میں حکومت کو کب ٹف ٹائم ملا؟۔ خان صاحب آپ جب یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ آپ نے اقتدار میں آئینی راستے سے آنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے پارلیمان جس کو آپ نے اہمیت ہی نہیں دی……………. ایسے نہیں چلے گا……………. خان صاحب۔

خان صاحب آپ کو کے پی کے میں اقتدار ملا بے شک آپ نے پولیس، پٹوار ی، تعلیم و صحت کے میدان میں کچھ بہتری بھی لائی مگرخان صاحب یہ آپ کی تبدیلی آپ کی صلاحیتوں کا پچاس فیصد بھی نہیں۔ آپ کا ووٹر آپ سے اس سے بہت زیادہ کی امید رکھتا ہے۔ آپ سے ایک شکایت اور بھی ہے کہ آپ نے انفراسٹرکچر کی بابت لوگوں کو اتنا بدظن کر دیا کہ کچھ لوگ سڑک کی اہمیت کو ہی نہیں سمجھ رہے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میٹرو جیسا منصوبہ فی الحال پاکستان میں پیسے کا ضیاع ہے اور آپ بلکل ٹھیک کہا کرتے تھے مگر آپ کو پشاور میں یہ منصوبہ بنانے کی ابھی سے ضرورت کیوں پیش آگئی؟ اچھا..! چلیں آپ نے یہ منصوبہ شروع کر دیا تھا تو آپ کے پاس موقع تھا کہ آپ پنجاب حکومت کی میٹرو پر کک بیکس کو سامنے لانے کے لیے اس سے کم از کم پچاس گنا سستا منصوبہ بناتے مگر آپ یہ بھی نہ کر سکے۔ صحت آپ کی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل تھی اور پہلے سے موجود ہسپتالوں میں بہتری بھی آئی مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے ان ساڑھے چار سالوں میں کتنے نئے ہسپتال بنائے؟ بالخصوص کارڈیالوجی ہسپتال کتنے بنائے؟ میں نے کیونکہ راولپنڈی کے کارڈیالوجی ہسپتال میں کے پی کے سے آئے بہت سے مریضوں کو دیکھا ہے۔

عائشہ گلالئی نے جب آپ پر الزام لگایا تو کہا گیا کہ موصوفہ کرپشن میں ملوث تھی اور کئی ترقیاتی فنڈز میں اس نے ہیر پھیر کیا۔ خان صاحب یہ آپ کے احتساب کمیشن کی نااہلی تھی جو اس خردبرد کو نہ پکڑ سکی۔

پھر2012 اور 2013 میں آپ کہا کرتے تھے کہ بجلی کی پیداوار زرداری کی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی، سوال یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کے خیبر پختونخواہ میں کتنے منصوبے لگے؟ اور کتنوں کی تکمیل ہوئی؟ عائشہ گلالئی نے جب آپ پر الزام لگایا تو کہا گیا کہ موصوفہ کرپشن میں ملوث تھی اور کئی ترقیاتی فنڈز میں اس نے ہیر پھیر کیا۔ خان صاحب یہ آپ کے احتساب کمیشن کی نااہلی تھی جو اس خردبرد کو نہ پکڑ سکی۔ باقی آپ کا ماحولیات پر توجہ دینا جس کی وجہ سے نئے درخت لگے ایک عمدہ پراجیکٹ تھا آپ کو اس کو مزید آگے بڑھانے چاہیے لیکن تمام مخالفین کو اس کی آڈٹ کی بھی پیشکش کرنی چاہیے تاکہ کوئی ابہام میں نہ رہے۔ چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا سوال ہم ابھی ادھورا چھوڑتے ہیں۔ لیکن خان صاحب ایسے تو نہیں چلے گا…………………!!!!

خان صاحب ہم نے سے آپ سے امید لگائی ہے اس دو جماعتی نظام کے ساتھ۔ آپ ہماری امیدیں تو مت توڑیں۔
آخر میں آپ کے لیے ایک مشہور شعر

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر
مجھے بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں
تیر ی راہبری کا سوال ہے

Facebook Comments Box
featuredالیکٹرانک ووٹنگپارٹی الیکشنپارلیمانپارلیمنٹپیپلز پارٹیتحریک انصافجماعت اسلامیعمران خانمسلم لیگ نملکی الیکشنملکی سیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
خواتین کا معاشی مقام اور عزت ِ نفس : عینی خان
next post
مولانا! تیری سیاست کو سلام؟ سمیع اللہ ملک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.