تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

منصف اعلیٰ تو ہم پر رحم فرما ۔۔۔۔ شکیل احمد ترابی

by دانش ڈیسک 13/02/2018
written by دانش ڈیسک 13/02/2018
66

عاصمہ جہانگیر دونوں جہانوں کے رب کے پاس چلی گئیں۔ بے رحم تبصرہ آرائیوں سے تو لگتاہے ہم نے مرنا ہے نہ ہی ہم کو موت آئی گی۔مگر جلد یا بدیر ہم کو بھی اُدھر ہی جاناہے۔
ایک ایسے مالک کی طرف جانا ہے، جو رحیم بھی ہے اور ستار العیوب بھی۔
جو حیسب بھی اور منصفِ اعلیٰ بھی۔
ایسا منصف جسے کسی ثبوت کی ضرورت نہ تفتیش کار کی۔ دلوں میں پلنے والے ارادوں تک کو جاننے والا منصف۔
بھینگا، (خدانخواستہ کسی کی طرف اشارہ نہیں۔)جانبدار نہ کسی نادیدہ قوت سے ڈرنے والا منصف۔
منصف اعلیٰ عاصمہ اور ہم سب سے رحم کا معاملہ کرے۔ نبی کریم صلعم کی سکھائی گئی دعا کیمطابق ہمارا آسان حساب لے۔

عاصمہ کو کچھ نہ کچھ میں بھی جانتا ہوں، ان کی زندگی میں انکے حق و مخالفت میں، میں نے بھی لکھا۔ انکو کبھی مجاہدہ نہیں کہا مگر جرات، بے باکی اور دنیاِ پاکستان کے ہر ظلِ الہی کو عاصمہ ہی نے للکارا۔ وہ بے مِثل تھی۔کل جن کو ہم مجاہد اور آج دہشت گرد کہتے ہیں۔ عاصمہ کی اپنی سوچ (School of thought) تھی۔ میری معلومات کے مطابق وہ مجاہدین کی کبھی حامی نہیں رہی۔ (برہان وانی کے علاوہ، کشمیر و فسطین کی تحریک کی البتہ انھوں نے حمائت بھی کی اور ان کے ادارے نے قراردادیں بھی پاس کیں۔)
پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کی انھوں نے بھی ہمیشہ مخالفت کی۔ مگر جب آئین پاکستان سے ماورا فوجی عدالتوں کے قیام کا وقت آیا، مسٹر و مُلا سب طاقتور حلقوں کے آگے بکری بن گئے تو وہ اکیلی شیر کی مانند میدان میں رہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے باوجود لوگ اُٹھاکر گُم کر دئیے جاتے رہے تو سیاستدانوں میں تنہا منورحسن تھے جو صدائےاحتجاج بلند کرتے رہے اور ماہرینِ قانون و انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی واحد راہنما عاصمہ تھیں جو نہ صرف تڑپتی رہی بلکہ اسکے خلاف آواز بھی بلند کرتی رہیں۔

کل انکی موت کے فوری بعد اظہار افسوس و مغفرت کے چند جملے لکھنے سے قبل اپنی اہلیہ و بیٹے سے کہا کہ “تنگ نظر” مغفرت کی دُعا پر بھی سیخ پا ہو جائیں گے۔ خود کو بھی ایک خیال آیا کہ کچھ نہ لکھوں، بعد میں تبصروں کے جواب کون دیتا رہے گا؟

مابعد ذہن میں خیال آیا کیا لکھنا وہ چائیے جس پر لوگوں سے ستائش کی توقع ہو؟ یا مذمت کے ڈرسے کچھ نہ لکھا جائے؟
اندر بیٹھے منصف و ضمیر نے کہا لکھنے کا کام بامقصد ہونا چائیے۔ کوئی ستائش کرے یا مذمت ہر دو باتوں کی پرواہ کئیے بغیر۔
چنانچہ چند جملے لکھ دئیے، ردِعمل کے طور پر “مجاہدین اسلام” حملہ آور ہو گے۔

کچھ لوگ مرحومہ anwar-hossain-cricketer onlyfعاصمہ کو احمدی بنانے پر تُلے بیٹھے ہیں، مجھے بھی بد دعاؤں اور گالیوں سے نوازا گیا۔ برے انجام اور دوزخی جیسے “ٹائٹلز” دئیے گئے۔ کچھ لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے قاضی صاحب مرحوم و مغفور اور نجم سیٹھی کے واقع کو بھی قلمبند کیا۔ مگر ہم پہلوتہی پر اُتر آئیں تو اللہ رسول صلعم کے فرامین کی کر دیتے ہیں۔قاضی صاحب کی مثال ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہے؟

ہم مثال دیتے ہیں مقننہ کی، اُس نے احمدیوں کو کافر قراردیا۔ اُسی پارلیمان نے توہین رسالت کیخلاف قانون سازی کی تھی۔ جس پارلیمان کی تعریف میں ہم رطب اللسان رہتے ہیں۔

۱۲ فروری ۲۰۱۸ پیر کے روز اُسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے اُس عاصمہ جہانگیر کے لئے متفقہ طور پر تعزیتی قراردادیں بھی پاس کیں اور مغفرت کی دعا بھی کی جسے لوگ احمدی، غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ دونوں ایوانوں میں انسانی حقوق کی علمبردار ممتاز قانون دان سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں خاتون رہنما کے انتقال کو قومی نقصان قراردیا گیا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ ملک میں کسی کو غدار، ملک دشمن قرار دینے کا سلسلہ اب تو بند کر دیں اب تو فتوؤں سے بعض آجائیں۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عاصمہ جہانگیر کے بعد شاید اب مجھے غدار اور ریاست مخالف قرار دیا جانے لگے۔انھوں نے مرحومہ کو جمہوری قوتوں کا ’’جرنیل’’ کا خطاب دیے جانے کا مطالبہ کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پارلییمان کے دونوں ایوانوں میں دینی سیاسی جماعتوں کی قیادت کیساتھ ساتھ مستند علماء کی بڑی تعداد موجود ہے۔ آپ علماء کو پسند نا پسند کر سکتے ہیں۔ اُن کی رائے سے اختلاف بھی مگر قرآن و حدیث کے علوم وہ ہم جیسے “مفتیان” سے ہزار گنا زیادہ جانتے ہیں۔
میری معلومات کی حد تک تعزیتی قرارداد کے موقع پر پارلیمان کے کسی نمائندے نے اختلاف کیا اور نہ ہی وہ اُٹھ کر باہر گیا۔
پارلیمان میں اس اقدام کے بعد بھی کیا رکیک تبصرے روکنا محال ہے؟

بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایسا تھا جہاں اُسکی منفعت ہوتی تھی وہ اللہ کے فرامین کا حوالہ دیتا تھا اور جہاں دوسری صورت حال درپیش ہوتی وہ احکام الہی کو بھلا بیٹھتا تھا۔
سورہ بقرہ میں اٗسی گروہ سے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا کہ

تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔

ہم تو دھتکارے گئے بنی اسرائیل کے لوگ نہیں۔
پارلیمان کی حیثیت نعوذ بااللہ کسی صحیفے کی سی نہیں مگر یہ طٗرفہ تماشہ تو بند ہونا چائیے کہ فائدے کے لئے ہم یہ دلیل لائیں کہ توہین رسالت کا بل عاصمہ جیسے افراد کے لئے تھا۔ اُس معاملے میں یہ پارلیمان اتنی ہی معتبر تھی تو تعزیتی قرار داد و دعا میں علماء کا شامل ہونا کیا کوئی پیغام نہیں چھوڑ رہا؟؟

Facebook Comments Box
عاصمہ جہانگیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جماعت اسلامی کو الحاج ابرار تنولی مبارک: عامر ہزاروی
next post
ویلنٹائن ڈے اور ہمارا معاشرہ: محمد عمیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.