تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹتازہ ترینکالمکلچر، آرٹموسیقی

ساز سے سوز تک: استاد نذر حسین — خرم سہیل

by خرم سہیل 23/01/2018
written by خرم سہیل 23/01/2018
186

پاکستانی نیم کلاسیکی موسیقی میں ایسے کئی موسیقار بھی گزرے ہیں، جنہوں نے اپنا کام انتہائی خاموشی سے کیا اور پھر ان کی شہرت بھی بے انتہا ہوئی۔ ان کے کام کا پیمانہ صرف مقبولیت ہی نہ تھی، بلکہ وہ معیار بھی تھا، جس کو فن کی معراج کہا جاتا ہے۔ اُن کی وہ جادوئی دُھنیں تھیں، جن کو سننے کے بعد، سماعتوں میں جلترنگ چھڑ جاتی ہے، جن کی ہر تان دیپک تھی، جن کا ہر سُر سچا تھا۔ جن کے ترتیب دیے ہوئے گیتوں کو سن لینے کے بعد، کہیں اپنے آپ سے سامنا ہو جائے، تو کہیں ہجوم میں تنہائی آن گھیرے۔ اپنے فن میں پہنچا ہوا فنکار، ایک عظیم موسیقار، گزشتہ دنوں ہماری محفل سے رخصت ہوا، انہیں ہم’’استاد نذر حسین ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔

استاد نذر حسین کا تعلق پاکستان کے شہر حیدرآباد سے تھا، وہیں ریڈیو پاکستان سے وابستگی ہوئی۔ وہ بنیادی طور پر سرود نواز تھے۔ اس ساز کو بجانے میں ان کو ملکہ حاصل تھا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سے جڑنے کے بعد، ساز سے سوز تک کا فاصلہ طے کر لیا۔ وہ اردو زبان کے معروف شعرائے کرام کی غزلوں کا شاندار انتخاب کرنے کے بعد، ان کی دُھنیں مرتب کرنے لگے، منتشر جذبات کو غزل کی دُھن میں باندھنا صرف انہی کا خاصا تھا، جس کی مشق، وہ زندگی بھر مسلسل کرتے رہے۔ حیدرآباد سے کراچی اور پھر لاہور، ان کی آخری منزل ٹھہری۔ اس سفرمیں ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی گیت، غزلوں اور ترانوں کی دُھنیں کمپوز کرتے رہے۔ وہ واحد موسیقار تھے، جنہوں نے فلمی دنیا کے بغیر اس قدر مقبولیت حاصل کی اور اپنا جداگانہ معیار بھی برقرار رکھا۔

اس عرصے میں وہ زندگی کے مختلف مراحل سے ہو کر گزرے۔ سُرود چھوڑا اور حروف اپنا لیے، ان میں جذبات کو انڈیلنے لگے، سازوں کو مرتب کر کے جذبات کو منتشر کرنے کے لطیف کام پر عبوراحاصل کیا۔ اپنے انداز کی لے اور تال کے ساتھ لکھے ہوئے حروف کو گوایا۔ ایک موڑ زندگی میں ایسا بھی آیا، جب خود سے مکالمہ کرنے کی ضرورت آن پڑی، تو پھر خود بھی گانے لگے۔ 2008 میں سچل اسٹوڈیو، لاہور کے لیے ایک البم ’’رچنا‘‘ کمپوز کی، جس میں جدید غزل کے معروف شاعر، مجید امجد کی غزل’’جو دن کبھی نہیں بیتا‘‘ سے لے کرداغ دہلوی کی زمین پر لکھی ہوئی غزل’’نہ جائو صورت حالات دیکھتے جائو ‘‘ تک، کبھی فراموش نہ کی جانے والی دُھنیں تخلیق کیں۔ اس خوبصورت البم میں استاد نذر حسین نے اپنے فن میں بام عروج کو پا لیا۔ یہ دُھنیں ہمیشہ سماعتوں میں رس گھولتی رہیں گی۔

اپنے پورے کیرئیر میں ان کی تخلیق کی ہوئی دُھنوں کی پسندیدگی کا عالم یہ تھا، ملکہ ترنم نور جہاں چاہتی تھیں، صرف وہ ہی ان کے لیے اپنی آواز کا جادو جگائیں، مگر استاد جانتا تھا، کس آواز میںکون سے دُھن کو گوانا ہے۔ ان کے تخلیق کیے ہوئے گیتوں، غزلوں، ترانوں کو میڈم نور جہاں کے علاوہ بھی، جنہوں نے گایا، ان میں مہدی حسن، ناہید اختر، مہناز، ترنم ناز، حمیرہ چنا اور دیگر شامل ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں بھی ان کی مرتب کردہ دھنیں گانے والوں میں ہری ہرن سمیت کئی فنکار شامل ہیں، جن کے لیے استاد کی کوئی دُھن گاناایک اعزاز تھا۔

کچھ غزلوں اور گیتوںکی دُھنیں تو ایسی تھیں، جن کو استاد کی انگلیوں نے چھویا، تو وہ پتھر سے پارس ہوگئیں، اس کی سب سے درخشاں مثال ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں گایا ہوا گیت ’’رات پھیلی ہے ترے سرمئی آنچل کی طرح‘‘ ہے۔ اس کے گیت نگار کلیم عثمانی ہیں اور استاد نذرحسین نے اس کو بطور موسیقار بے مثال کر دیا۔ میں نے ’’تنہائی کا تاج محل‘‘کے عنوان سے اس گیت کا جمالیاتی تجزیہ لکھا، جس میں گیت نگار کا کمال تو تھا ہی لیکن موسیقار بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا، یہی وجہ ہے، یہ دُھن سن کر آپ کہیں کے نہیں رہتے، ایک اداسی اور تنہائی کا تاج محل ہوتا ہے، جس کی راہدریوں میں آپ بھٹکتے رہتے ہیں۔ (اس مضمون کا لنک http://daanish-pk.stackstaging.com/5407)

استاد نذر حسین کی زندگی میں موسیقی مزید گہری ہوگئی، جب انہیں ریاضت کا ثمر ملا۔ ان کی شادی اپنے وقت کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ عارفہ صدیقی سے ہوئی۔ یہ شادی عقل اور حسن کا اعلیٰ امتزاج تھی، سماج نے اس کوبھی سطحی رنگ میں رنگا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی، ان کا ملاپ کیا ہوا، دونوں تنہائی کے تاج محل میںگوشہ نشین ہوگئے۔ ایک دوسرے سے مل کر، ایک دوسرے کی نفی ہوگئے۔ خاموشی، برد باری، سنجیدگی، وفاداری، عشق کی علامت اور استعاروں میں بدل گئے۔ ان کا رشتہ ازدواج دو فنکاروں کے ملاپ کا حقیقی اور عملی مظاہرہ ہے کہ جب دو بڑے فنکار ایک نکتے پر یکجا ہو جائیں تو پھروہ نکتہ ہی حیات ہو جاتا ہے، ان دونوں کی زندگی میں وہ نکتہ خاموشی تھا، گہری خاموشی، اب جو استاد نذر حسین کی رحلت سے عارفہ صدیقی کے لیے مزید گہری ہوگئی ہے۔

ایک ایسا معاشرہ، جہاں درندگی اور جہالت کی مثالیں بکھری پڑی ہوں، جہاں نمود و نمائش اور بناوٹ کا دور دورہ ہو، وہاں استاد نذر حسین جیسے فنکار گوشہ نشین ہی ہوا کرتے ہیں۔ اتنا بڑا فنکار ہماری محفل سے رخصت ہوگیا، جہاںمیڈیا کو واویلا مچانا چاہیے تھا، یہاں وہ خاموش رہا، کیونکہ اب آدھے سے زیادہ میڈیا کو تو پتہ ہی نہیں کہ کون چلا گیا، جن کو نقصان کی خبرہے، ان میں اکثریت بے قدروں کی ہے۔ ایسا درویش صفت فنکار، جس کی ابتدا سُرودتھی، جس کی زندگی کا نصف مقام، غزل اور گیت تھے، جس کی انتہا عشق اور بامعنی خاموشی تھی، وہ ایسے ہی جایا کرتا ہے، مگر سچے سُرکے قدر دان ہر عہد اور نسل میں ہوتے ہیں، اس لیے اتنے عظیم فنکار کے فن کی چمک برقرار رہے گی۔

(لنک: https://tune.pk/video/3694582/ustad-nazar-hussain-pakistani-music-director-in-ptv-programme-apni-dhun-main)

کچھ برس پہلے میں جب لاہور گیا تھا، تب سے استاد نذر حسین کی قیام گاہ کے وہ در و دیوار نہیں بھول سکتا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس گزارے۔ میں نے وہ گھر دیکھا، اس صحن میں گزرے ہوئے دنوں کی روداد گویا تھی۔ ایک طویل عرصے تک، ان کی دُھنیں اور ان کی آواز میں کمپوز گیت، روزانہ ان کی یاد واپس لاتے رہیں گے، جب بھی خود سے مکالمہ کرنے کی خواہش جاگے گی، استاد نذر حسین کی دُھنیں معاونت کریں گی۔ مجید امجد کی جس غزل کو انہوں نے گایا تھا، وہی ان کے رخصت ہونے کو، اب بھی بیان کر سکتی ہے کہ

جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
انہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا
میں روز اِدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب اِدھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا
مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

Facebook Comments Box
featuredاستاد نذر حسینپاکستانی موسیقیجدید غزلسُرغزلفن موسیقیکلاسیکی موسیقیموسیقار
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
وقت کی قید سے آزاد نثر لکھنے والا ایک آزاد ـــ عزیز ابن الحسن
next post
آج کے کنسنٹریشن کیمپس: سحرش عثمان

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.