تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

دہشت گردی کے خاتمہ میں مذہبیین کا کردار: باسط حلیم

by دانش ڈیسک 14/01/2018
written by دانش ڈیسک 14/01/2018
113

پاکستان کو خارجی اور داخلی طور شدت پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ داخلی طور پر شدت پسندی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب مسلکی نزاع ہے جس کی بنیاد پر ہزاروں افراد طرفین سے قتل کیے گئے۔ داخلی فساد سے نکلا جاسکتا ہے۔ اگر مذہبیین مخلص ہیں تو بلا امتیاز چند ضروری اقدام سب کی طرف سے اٹھائے جانے چاہییں۔

۔ امن عامہ اور اجتماعی مفاد کے لیے مذہبیین کو واضح نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ رواداری کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہے کہ آپ دوسرے کا حقِ آزادی مانتے ہوئے اسے اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے دیں۔ دوسرا معنی ہے کہ آپ امن کے لیے مصنوعی رواداری اوڑھ لیں دوسرے کے مذہب، مسلک اور نظریہ کو سراہیں، صحیح سمجیں، صحیح کہیں اور اپنے مذہب پر چلتے رہیں۔ مصنوعی روادی پاکستان کے مذہبیین نے اوڑھ لی ہے۔ اس مصنوعی رواداری کو بین المذاہب ہم آہنگی اور تقارب ادیان کا نام دیا جارہا ہے۔ ٹی وی پروگرامز سے لے کر سوشل میڈیا تک اسی رواداری کا اظہار ہوتا ہے۔ دل کچھ اور کہتے ہیں زبان کچھ اور۔ نتیجہ دلوں میں منافقت بڑھ رہی ہے جو ایک دن لاوا بن کے پھوٹے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی رواداری کو معاشرتی مصالح کی بنیاد قراردیا جائے۔ اسلام میں آزادی ہے کہ آپ کسی خاص نظریہ حیات کو مانیں۔ آپ علمی انداز میں اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں اور دوسرے کی آزادی کا خیال بھی رکھیں۔ مکالمہ کی فضا بنائیں۔

۔ جو چیزیں بالاتفاق غلط، ناجائز اور حرام ہیں انہیں چھوڑا جائے۔ ہر مسلک اپنے تئیں دیکھے اور اپنے متبعین کو ہدایت کرے کہ فلاں کام درست نہیں اسے چھوڑدیا جائے۔ مفتی منیب الرحمان نے اس موضوع پر کالم بھی لکھا تھا، اہل سنت کو ہدایت کرتے ہو ئے کہا کہ درباروں پر غیرشرعی افعال کا بائیکاٹ کردیں۔ جب ہر مسلک اس نہج پر سوچے گا تو یقیناً اختلافات کم ہوں گے۔ نیز جن احکام میں اتفاق ہے اُن پر عمل کر کے اختلاف کی فضا ختم کی جائے۔

اگر صرف پہلے سے موجود آئین کوصحیح طرح لاگو کر دیا جائے داخلی طور پر دہشت گردی بہت حدتک ختم ہوجائے گی۔

۔ مفادِعامہ کے لیے اپنے اپنے معبد خانوں تک محدود ہو جائیں۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعزیہ تک، جو بھی پروگرام ہو وہ اپنے خاص ماحول میں کریں تاکہ سیکورٹی مسائل بھی پیدا نہ ہوں اور آپ کی آزادی میں بھی دوسرا مُخِل نہ ہو۔ لڑائی شروع ہی تب ہوتی ہے جب آپ اپنے گھر سے نکل کر دوسرے کو گالی دیتے ہیں۔ اس امر کا ایک اور فائدہ بھی ہو گیا کہ جو غیرترقیاتی فنڈ سیکورٹی پر خرچ ہوتا ہے وہ صحت اور تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں ہر خرچ ہوگا جس سے پوری قوم مستفید ہوگی۔

۔ بہت سے اختلافات کی وجہ 1973کے آئین کی اسلامی اور انتظامی دفعات پر عمل نہ ہونا ہے۔ قانون کی بالادستی کو بلا امتیاز بحیثیت قوم مانیے، ایمپلئ فائر ایکٹ پر سب کے سب عمل کریں۔ قانون کو بالائے طاق نہ رکھیں۔ اس سے مسالک کے درمیان نفرت نہیں رہے گی۔ حکومتیں بھی قانون کا اطلاق سب ہر یکساں کریں۔

۔ ماورائے عدالت، ماورائے قانون سزا اور قتل کی حصلہ شکنی کریں۔ لوگوں میں شعور پیدا کریں اگر آپ کو کسی پر اعتراض ہے تو اس کے خلاف عدالت میں جاؤ، قانونی چارہ جوئی کرو، ملزم کو صفائی کے تمام مواقع دو۔ ملزم مجرم ہونے کے باوجود اگر عدالتی نظام سے بچ بھی جائے گا تو آخری عدالت عنقریب اس کا حساب کرلے گی لیکن دنیا میں امن رہے گا۔

۔ تمام لوگوں کی ترجیح سویلیئن بالادستی ہونی چاہیے، پاکستان کے تمام طبقات کا احتساب یکساں ہونا چاہیے، جب انصاف ہو گا تو قوم یکجہت ہوگی، اگر بے انصافی ہوتی رہی، قانون یکساں نہ ہوئے تو ردعمل کی قوتیں امن قائم نہیں ہونے دیں گی نیز مجبور و محروم اور ماتحت لوگ اسلام اور ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنتے رہیں گے۔

۔ ہر قسم کے مناظروں پر پابندی عائد کی جائے، ایمپلی فائر ایکٹ اور سائبر کرام قانون کو فعال کیا جائے، عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیے معتبر علمائے کرام کو چینلائز کیا جائے تاکہ اصلاح و تنقیح کا عمل چلتا رہے اور شدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی رہے۔

۔ جن فقہی معاملات سے متعلق قانون میں صراحت ہے ان معاملات میں علمااور مدارس پر پابندی عائد کردیں کہ وہ فتوی نہ دیں خصوصاً نکاح و طلاق وغیرہ کے معاملات تب میچور ہوں گے جب قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔

قارئین! اگر صرف پہلے سے موجود آئین کوصحیح طرح لاگو کر دیا جائے داخلی طور پر دہشت گردی بہت حدتک ختم ہوجائے گی۔ ہر آدمی اگر مثبت سوچے اور ان تصریحات کے مطابق اپنی سوچ بدل لے تو انشاأللہ مسائل کم ہوں گے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہماری ذمہ داری ۔ ۔ ۔ عبدالوہاب وابی
next post
مظلوم زینب اور معاشرہ کے تین طبقات ۔۔ اظہار احمد باچہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.