تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

جماعت اسلامی کا فکری مغالطہ: ’مذھبی سیاست اور دین کا کام‘ — سردار جمیل خان

by دانش ڈیسک 12/01/2018
written by دانش ڈیسک 12/01/2018
122

جماعت اسلامی اپنے راستے کی خود بڑی رکاوٹ ہے۔

جماعت نے ایک سیاسی بیداری کی تحریک بننے کے بجائے زیادہ زور ایک نیا مذہبی فرقہ بننے پر لگا دیا ہے۔۔۔ اپنے پرچم و نشان کو برقرار رکھا جاتا، جہاد کو ریاست کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، لوگوں کے تقوے، ٹوپیاں، پرنے، کرتے اور داڑھیاں ناپنے کے بجاۓ تعلیم/ صحت/ روزگار، تھانہ/ پٹواری/ کورٹ اور پانی/ بجلی/ گیس کے ایشوز کو فوکس کیا جاتا، اوپن عوامی پلیٹ فارم سے جارحانہ سیاست کی جاتی تو دو تین الیکشن میں شکست کے بعد اتخابی فتح کی منزل یقینآ قریب ہوتی۔۔۔ جب اسلام دستور پاکستان کی اساس ہے اور اقتدار میں آ کر آئین نافذ کرنے میں کوئی قدغن بھی نہیں تو پھر طویل عرصہ سے مذھبی سیاست سے کیا حاصل کر لیا؟؟

داخلی جمہوریت، دیانت اور خدمت بہترین اوصاف سہی مگر 70 سالہ سیاسی ناکامی کے بعد بھی جماعت اسلامی سیاسی تجدد اور ریفارمز پر آمادہ نہیں بلکہ آج بھی وھی محدود، مذھبی، مفاہمتی اور بے ڈھنگی اتحادی سیاست۔۔۔
اللہ کے "دین” کے کام کی دعویدار تو سنی تحریک بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جے یو آئی ف، جے یو آئی س، قادری، تبلیغی جماعت، ملی مسلم لیگ، وحدت المسلمین، جمعیت اہلحدیث، نورانی گروپ، نیازی گروپ، ثروتی گروپ، جلالی گروپ، سیالوی گروپ، رضوی گروپ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ پھر لوگ آپ والے "دین” کو ہی کیوں ترجیح دیں؟؟ بہت سے "دیندار” تو آپکو مسلمان ہی نہیں سمجھتے بلکہ ایک دوسرے کو بھی نہیں سمجھتے۔۔ ایسے میں عام آدمی کی اتنی اپروچ کہاں ہے کہ تحقیق کرتا پھرے کہ کس کا "دین” اوریجنل ہے؟ روزی روٹی کا مارا ہوا فرد آپ کے بجاۓ اس شخص کے پیچھے کیوں نہیں جاۓ گا جو اسے روزی/روٹی، بجلی/پانی اور صحت/تعلیم کی امید دلاتا ہے۔۔۔ اسے روٹی کتنی ملتی ہے، کتنے میں ملتی ہے یا سرے سے ملتی ہی نہیں یہ بعد کا مرحلہ ہے۔۔۔

سوال یہ ہے کہ پھر لوگ آپ والے "دین” کو ہی کیوں ترجیح دیں؟ بہت سے "دیندار” تو آپکو مسلمان ہی نہیں سمجھتے بلکہ ایک دوسرے کو بھی نہیں سمجھتے۔

قبیلہ، برادری، علاقہ، زبان و نسل، مسلک و فرقہ کی بنیاد پر تقسیم اور تعصب اتنا گہرا اور شدید تر ہے کہ مذھبی سیاست کی علمبردار کوئی بھی جماعت اس خلیج کو پاٹ نہیں سکتی۔۔۔ سرمایہ دار مافیا، وڈیرہ ازم و پیری فقیری نے قوم کو الگ سے جھکڑ رکھا ہے۔۔

جماعت مذھب کے نام پر جتنا مرضی دوڑ لے آگے گلی بند ہے کیونکہ پاکستان میں فرقوں، مسالک، تکبر اوو خود ساختہ پاپائیت اور پروہیت میں لتھڑی ہوئی 7 سے 12٪ مذھبی سیاست میں جماعت اسلامی کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بنتی۔۔۔

اگر آج بھی جماعت اسلامی کا ون ٹو ون مقابلہ پی ٹی آئی \ ن لیگ سے ہوتا جیسے 70/80 کی دہائی میں جماعت سارے ملک میں پپلزپارٹی اور بنگلہ عوامی لیگ کو چیلنج کر رہی تھی۔۔ جس طرح 93 میں قاضی صاحب ن لیگ اور پی پی پی کو ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے قرار کر تحریک برپا کی تھی۔۔۔۔۔ یا صرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ آپشن کے ساتھ اپنے پرچم، نشان اور انفرادیت کو برقرار رکھا جاتا تو بھلے جماعت کو ایک سیٹ بھی نہ ملتی کارکنان و ہمدرد دل و جان سے جماعت کی کمپیئن کر رہے ہوتے مگر جماعت اسلامی اپنے پرچم و نشان سے دستبردار ہو کر ہر حکومت کے دربارئِ خاص اور کرپشن کے "وکیلِ اعظم” مولانا فضل الرحمن کو پیاری ہو گئی ہے ۔۔ ماضی میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان اتحادوں اور بائیکاٹ کی سیاست نے پہنچایا اب ایک بار پھر "ملا مریم الائنس” کا مطلب خون چوس جونکوں اور مردار خور گِدھوں کو ہی فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔۔۔

"میر” کیا سادہ ہیں، بیمار ہوۓ جس کے سبب
اسی عطًار کے "لونڈے” سے دوا لیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ اپنے پرچم، پلیٹ فارم اور نشان سے کبھی دستبردار نہیں ہوتی بلکہ سیٹ ایڈجسمنٹ آپشن کو بھی آخری آپشن کے طور پر بروۓ کار لاتی ہے۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ (جو مسلمانوں کی جماعت بھی ہو) مسلمانوں کو کھبی مذھبی و سیکولر، دینی و لا دینی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حماقت نہیں کرتی۔۔۔ ایک آئینی، اسلامی، دستوری اور جمہوری ملک اور اکثریتی مسلم سماج میں ایسی تقسیم ہی جرم اور گناہ ہے۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ جس کا خمیر ہی فرقہ واریت کی نفی سے اٹھايا گیا ہو وہ کبھی تنگ نظر، فرقہ پرست درباری مولویوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر فرقہ واریت کی توثیق نہیں کرتی اور خود پر بھی فرقہ نمبر 49 کا لیبل نہیں لگواتی۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
ایم ایم اےجماعت اسلامیسیاستمذہبی سیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
امریکی صدر کا دماغی معائنہ ضروری ہے : ڈاکٹر رئیس صمدانی
next post
زینب ہماری سفارش کردو: سحرش عثمان

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.