تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

محبت گناہ کیوں ہے؟ فارینہ الماس

by دانش ڈیسک 07/12/2017
written by دانش ڈیسک 07/12/2017
112

کیسا ریاکار ہے اور ملمّع ساز ہے یہ معاشرہ جہاں حیا کا ڈھونگ اور مکر وفریب تو قابل قبول ہے، جہاں عداوت و نفرت سے آلودہ جذبے اور اعمال بھی قابل تحسین ہیں۔لیکن محبت اور خلوص کو سر چھپانے تک کی کوئی جا میسر نہیں۔ لیکن محبت کرنے والے نڈر اور بے خوف ہوتے ہیں۔ بلکل شیکسپئیر کہ کہانی کے ان دو کرداروں کی طرح، مونتاگ کے سردار کا بیٹا رومیو اور پولت خاندان کی جیولٹ۔ جن کی پاکیزہ محبت کے بیچ دو خاندانوں کی ازلی دشمنی حائل تھی۔ وہ دونوں جانتے تھے کہ ان کا انجام سوائے موت کے کچھ نہیں پھر بھی وہ اپنی محبت کے سحر میں گرفتار تھے۔ شیکسپئیر لکھتا ہے۔۔۔

”عشق وہ ہے جو کم نہ ہو اور جہاں تک ہو اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے“۔ ”محبت میں تلوار کا بھی خوف نہیں رہتا، کیونکہ تلوار بھی عشق کرنے والوں کے سر کا دریغ کرتی ہے“

یہ بات بلکل بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ انسان محبت سے اتنی نفرت اور نفرت سے اتنی محبت کیسے نبھا لیتا ہے؟ ہمارے لئے نفرتیں پھیلانے اور بانٹنے والے اتنے مقدس اور محبت کے نام لیوا ہمیشہ سے اتنے قابل نفرت کیوں رہے ہیں؟ محبت کرنے والوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے تو ہماری روح رتی بھر بھی نہیں کانپتی لیکن عشق و محبت کی داستانیں رقم کر کے مر جانے والے ہیر رانجھا، سسی پنوں، عمر ماروی، سوہنی مہینوال شیریں فرہاد کے قصے سنتے ہوئے، ہماری روح تک سرشار ہو جاتی ہے، ہمارا من عشق کے دل گداز و جاں گداز جذبوں میں لتھڑ جا تا ہے۔لیکن پھر ہمارے ہاتھ محبت کرنے والوں کی گردن زنی کو کیوں ہمہ وقت تیار رہتے ہیں؟۔۔۔۔ شاید اس لئے کہ فطرت نے محبت ہمارے خمیر میں لکھ دی ہے، لیکن ہماری انائیں، ہمارے اہنکاراور رقابتیں ایسے دیو قامت ہو چلے ہیں کہ ان کے آگے محبت کا قد و قامت بہت پست ہو جاتا ہے۔

وہ مناظر ایک خستہ حال، بے سروساماں گھر کے تھے۔ جہاں کچھ دن پہلے ہی تو دو پیار کرنے والوں نے اپنی نئی دنیا بسائی تھی۔ وہ خوش تھے کہ جہاں بھر کی نفرتوں اور حقارتوں سے پرے ان کی محبت کی دنیا آباد تھی جو بے سرو ساماں ہی سہی لیکن ان کے پیار کی دنیا تھی۔ لیکن اب وہاں ان کے لہو کے دھبے باسی ہو چکے ہیں۔ ان کا گناہ محبت کی شادی رچانا تھا۔ مانا کہ محبت کرنا اس سماج میں معتوب ٹھہرتا ہے لیکن پھر اس سماج کے باسیوں کا وہ عقیدہ کیا ہوا کہ، ”جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں“

پھر جب دو بچھڑی ہوئی روحیں ایک ہو جاتی ہیں تو ہم اسے حکم ایزدی جان کر ان کے ملن کو قبولیت کیوں نہیں دیتے۔ ہم کیوں ان کے ارمانوں، خواہشوں، تمناؤں اور جسموں کا لہو کر ڈالتے ہیں۔ جرم کرنے والے کہتے ہیں یہ جرگے کا حکم تھا۔ جرگے کیسے اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانوں کو وحشی بنا ڈالتے ہیں۔ کبھی عصمت زن کو بیچ بازار عریاں کر ڈالتے ہیں تو کبھی کسی غریب ہاری کو کارو کہہ کر معتوب بنا ڈالتے ہیں۔ یہ جرگے ظلم اور ظلم کے نظام کے خلاف تو اپنی طاقت نہیں دکھاتے۔ یہ وڈیروں کے مظالم اور نا انصافی کے تو پردہ پوش رہے ہیں۔ پھر ان کی ایسی عمل داری کا جواز ہی کیا رہ جاتا ہے۔

A couple was murdered barely a week after they had married for love.

لیکن نہیں یہ ان کا حکم تھا اور جو ہوا وہ ان کے حکم کی تعمیل۔۔۔ دو بے گناہوں کا قتل بھی ہوا اور رات کی تاریکی میں ان کی گمنام تدفین بھی۔تد فین کہاں۔۔۔؟ یہاں تو لاشوں کو بوریوں میں بھر کر مٹی میں دبایا گیا تھا۔ وہ مٹی جو ان کی میتوں کا بھرم نہیں بلکہ ان کے مجرموں کے جرم کی پردہ پوشی تھی۔

کراچی میں کچھ ہی ماہ قبل جرگے کے حکم پر ہی ایک محبت کی شادی کی سزا میں جوڑے کو برقی کرنٹ دے کر انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔ گویا یہ کوئی گلیڈیئیٹر کا میدان تھا جہاں تماش بینوں کے دل رجھانے کو موت کا ایک نیا تماشہ ایجاد کیا گیا۔۔۔۔

بھلا ابھی وہ واقعہ بھی ہماری یادداشت سے نکلا کہاں ہے جب ایک ماں نے اپنے پیٹ کی جنی بیٹی کو محض محبت کی شادی کے جرم کی پاداش میں،اپنی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ایک ماں اتنی سفاک کیسے ہو سکتی ہے۔اتنی کٹھور کیسے بن سکتی ہے کہ اپنی ہی بیٹی کی خواہشوں بھری زندگی کی چتا خود اپنے ہاتھوں سے جلادے۔۔ اس کے وجود کو اپنے سینے میں بھڑکتی نفرت سے بھسم کر دے۔۔۔اور پھر اس راکھ پر اک آنسو بھی نہ بہائے۔

ہر سال سینکڑوں محبت کر کے گھر بسانے والوں کو قتل کیا جاتا ہے۔  ان کے قتل کی ایک وجہ خود ہمارے اندر کا وہ احساس محرومی بھی ہے جو ہمیں محبت نہ مل پانے پر لاحق رہتا ہے۔ جو ہمیں محبت سے نفرت کرنا سکھا دیتا ہے۔

گھوٹکی میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو جرگے نے کاری قرار دیتے ہوئے لڑکے کو بارہ لاکھ جرمانہ اور ایک بچی ونی کرنے کا حکم دیا۔ ان میں جرمانہ بھرنے کی سکت نہ تھی سو جرگے نے حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ وہ دونوں راہ فرار اختیار کرتے ہوئے جنگلوں اور ویرانوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ وہ بھٹک رہے ہیں۔۔۔زندگی کو سسک رہے ہیں ترس رہے ہیں۔اور ہم جنگلی گدھ ان کے راستہ بھول کے سڑنے مرنے کے منتظر۔۔۔کہ کب وہ غافل ہوں اور ہم ان کے بدنوں کو بھنبھوڑ سکیں۔ کیسی بات ہے یہ کہ محبت کی تلاش میں انسان نے ویرانے آباد کئے اور اب محبت ہی کے جرم میں ویرانوں سے پناہ کا طلب گار ہے۔

گئے برس کا واقعہ ہے۔ خیر پور کے ایک گھرانے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ جب ایک بوڑھے شخص کے جواں سال بیٹے اور بہو کو محبت کی شادی کی پاداش میں گاؤں کے وڈیروں نے بندوق کی نوک پر زہر پی کر مر جانے پر مجبور کیا۔ نوجوان کامران لاڑک اور اس کی بیوی گھر کے صحن میں زہر پی کر تڑپتے رہے اور ظالم تماش بین ان کی موت کا نظارہ کرتے رہے۔۔۔نوجوان تو مر گیا لیکن اس کی بیوی زندہ رہ گئی، روز جینے اور روز مرنے کے لئے،یا شاید دن رات ایسی محبت کو کوسنے دینے کو جو ایک جیتے جاگتے انسان کو کھا گئی۔۔۔۔۔

Mohammed Tofeeq shows a picture with his wife Muqadas Tofeeq, who was killed by her mother, in Butrawala ، Gujranwala due to love marrige.

شیکسپئیر کے رومیو نے بھی تو زہر پیا تھا لیکن اپنی مرضی سے یا پھر بے خبری میں۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جیولٹ نے زہر پی کر مرنے کا ڈھونگ کیا ہے اور وہ تو قبر کی کھردری زمیں تلے منتظر تھی کہ کب اس کا رومیو آ کر اسے اس قبر سے آذاد کرائے اور پھر وہ دونوں نفرت کے اس استھان سے پرے کہیں اور جا آباد ہوں۔۔۔لیکن رومیو قدرت کا کوئی اشارہ نہ سمجھ سکا وہ اپنے پیار کے ہاتھوں ایسا دیوانہ ہوا کہ رومیو کی جھوٹی موت کو سچ سمجھ کر خود بھی زہر کش بنا اور اس کی قبر میں جا پڑا۔۔

کتنے ہی ایسے بھیانک واقعات ہیں جن کا فرداً فرداً ذکر ممکن نہیں۔ ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں محبت کر کے گھر بسانے والوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ کبھی مذہبی فرقہ پرستی، کبھی انتہا پسندی کبھی ذات برادری اور نسل پرستی کے عناصر تو کبھی جائیدادیں بچانے کا لالچ انہیں کاروکاری کے الزام کا حقدار بنا دیتا ہے۔ ان کے قتل کی ایک وجہ خود ہمارے اندر کا وہ احساس محرومی بھی ہے جو ہمیں محبت نہ مل پانے پر لاحق رہتا ہے۔ جو ہمیں محبت سے نفرت کرنا سکھا دیتا ہے۔

جیولٹ کو جب ہوش آیا تو دیکھا کہ رومیو کا بے جان و بے روح جسم اس کے تابوت کے نیچے پڑا ہے۔ وہ اصل ماجرا جان چکی تھی۔ اپنے عشق کے انجام کو نوشتہءتقدیر سمجھتے ہوئے راضی ہو گئی۔ اس نے رومیو کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے لباس میں چھپے خنجر کو اپنے سینے میں اتار لیا۔ محبت کی یہ قربانی دیکھی تو صدیوں سے نفرت کے آلاؤ میں جلتے خاندانوں کے دل بھی موم ہو گئے۔۔۔پھر مونتاگ نے جیولٹ کا اور پولت نے رومیو کا سونے کا مجسمہ بنواکر اک دوسرے کے قریب نصب کر دیا۔ کہ محبت کی یہ داستان ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے۔۔۔۔ لیکن اگر وہ دونوں جی جاتے تو شاید ان کا انجام بھی موت کی ان کہانیوں جیسا ہی ہوتا جو ابھی آپ کو سنائی گئیں۔ کیونکہ ہم انسانوں کو محبت کرنے والے جیتے جاگتے انسان تو اک آنکھ نہیں بھاتے،لیکن محبت کی داستانیں اور محبت کرنے والوں کے مزار بہت پسند ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredLoveLove marriageپیارشادیعاشقعشققتللو میرجمحبتمحبت کا قتلمحبت کی شادیمعشوقہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وہ جنس نہیں ایماں لے آئیں جسے دکان فلسفہ سے : حبیبہ طلعت
next post
پشاور کی یونیورسٹی میں تہذیب کا رقص —- محمد آصف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.