تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

حجرہ اور چرسی، ایک دلچسپ کتھا۔ راشد حمزہ

by دانش ڈیسک 18/10/2017
written by دانش ڈیسک 18/10/2017
122

چند ہی سال اُدھر کی بات ہے جب ہمارے ہاں جدید ریاست کی شکل واضح نہیں تھی، ادارے موجود نہیں تھے، طاقت کے مراکز برادریاں تھیں تنازعات کے فیصلے اور مسائل کا حل علاقائی جرگوں کے ذریعے تلاش کئے جاتے تھے، جرگے حجروں میں بیٹھتے تھے،_ روزگار زندگی میں مشینوں کا عمل دخل موجود نہیں تھا تو بہت مشکل انفرادی زندگی اجتماعی شکل میں موجود تھی افراد کا ایک دوسرے پر انحصار زیادہ تھا، معاشرے میں برادریوں کی شکل میں اپنا وجود اور موثر موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اس لئے افراد کے مابین اتحاد و اتفاق کے زبردست مظاہرے دیکھنے میں آتے تھے، پشتون معاشرے میں حجرہ کا مقام جدید معاشرے اور جمہوری ریاست میں پارلے منٹ کے جیسا تھا، یہی حجرہ اقتدار و اختیار کا اصل مرکز ہوتا تھا، مشینوں کے عمل دخل کے بعد اجتماعیت بکھر کر انفرادیت میں بدل گئی، زندگی تیز ہوگئی اور حجرے اپنے پرانے شکل میں محفوظ نہیں رہے۔

ایسا نہیں ہے کہ حجروں کی اہمیت باقی نہیں رہی یا پشتون معاشرہ مکمل طور پر اس سے لاتعلق بن گیا ہے، اب بھی بعض پشتون علاقوں میں اختیار و اقتدار کا مرکز حجرہ ہی ہے لیکن اکثر مقامات پر حجرے ذاتی بیٹھکوں (گیسٹ روم) میں تبدیل ہوگئے ہیں، علامتی طور پر حجرے اب بھی موجود ہے لیکن ان کی موثریت پہلے کی طرح باقی نہیں ہے البتہ بہت سارے معاملات میں اب بھی حجروں کی طرف دیکھا جاتا ہے کہ وہاں سے کیسے فیصلے آتے ہیں، غمی و شادی کی تقریبات اب بھی حجروں میں منعقد کئے جاتی ہیں، اگر گاؤں میں ایسی تقریبات کے لئے کرایے پر کھانے پینے کے برتن، کرسیاں اور قبر کھودنے کے لئے معاوضے پر گورکن دست یاب ہونا شروع ہوجائے تو پھر حجرہ علامت کے طور پر بھی دستیاب نہیں ہوگا__

ہمارے یہ حجرے اب نشہ کرنے والوں کے لئے مختص ہوچکے ہیں، راتوں کو یہ چرسیوں اور چرس کی دھوئیں سے لبریز رہتے ہیں، اور دن کو یہ ویران رہتے ہیں، یہاں نہ تو اب مہمانوں کو بٹھایا جاتا ہے اور نا ہی یہاں افراد اور برادریوں کے مابین تنازعات ختم کئے جاتے ہیں_

ہمارے گاؤں میں ایک کمیونٹی ہال ہے رات کو وہاں گاؤں کے تمام چرس پینے والے اکھٹے ہوجاتے ہیں، مزے مزے کی گپیں ہانکتے ہیں مستقبل کے لئے منصوبے بناتے ہیں اور حالات حاضرہ پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں، گرمیوں کے موسم میں ہال کے برآمدے میں کھلے اسمان تلے یہ مخمور محفلیں سجتی ہیں، زیادہ تر لوگ لڈو کھیلتے ہیں کچھ لوگ تاش بھی کھیلتے ہیں، چائے کا دور بھی چلتا ہے، جیسے ہی سردی کی وجہ سے موسم کی تبدیلی کا اعلان کیا جاتا ہے، ہال کے بلکل درمیان میں آگ جلانا شروع کیا جاتا ہے، آلاو کے گرد چارپائیاں رکھی جاتی ہیں جو بڑوں کے لئے مخصوص ہوتے ہیں، نوجوان اور کم عمر چارپائیوں کے ساتھ بڑوں کے پاؤں میں بیٹھتے ہیں، شام کے وقت بچے اسی طرح گھروں سے خشک لکڑی اکھٹا کرتے ہیں جس طرح مانگنے والے بھیک اکھٹا کرتے ہیں، رات گئے تک یہ محفلیں جاری رہتی ہیں__

ان کمیونٹی ہالوں (حجروں) میں بیٹھنے کی ہمیں سختی سے تاکید کی جاتی ہے، ہمیں باقاعدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ پشتون کے لئے حجرے میں وقت گزارنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا مسلمان کے لئے دن میں پانچ دفعہ مسجد جانا اہم ہوتا ہے، اس لئے میری اب تک کی زندگی کا قابل شمار حصہ حجرے میں گزرا ہے چوں کہ میں نے اس دور میں جنم لی ہے جب حجرہ اپنے اصل مقام سے بہت اگے چلا گیا ہے اس لئے مجھے چرس پینے والوں کی صحبت میں زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا ہے، چرس پینے والوں کی باتوں کا انداز مجھے بھلا لگتا ہے وہ جب چرس پی کر مخمور ہوجاتے ہیں تو ان کے اندر کی ساری سچائیاں ابل کر باہر آجاتی ہیں، ان کا اپنے آپ میں کھویا کھویا سا رہنا، خمار بھری آنکھیں اور دھیمی دھیمی باتیں اتنی دل لبھانے والی ہوتی ہیں کہ خواہش رہتی ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ساری رات انکی باتیں سنتا رہوں۔

چرس پینے کے بعد سارے چرسی خالص اور قدرتی اور بچوں کی طرح من کے سچے بن جاتے ہیں، ان کی باتوں میں ملاوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی منافقت، ان کی سوچ و فکر میں ریا کاری ہوتی اور نہ ہی اداکاری تصنع سے پاک یہ لوگ دوران نشہ ہر موضوع پر بات کرتے ہیں، ان کی گفت گو کانٹ چھانٹ اور تول پرکھ کی نذر نہیں ہوتی بے ساختہ رہتی ہے فحش گوئی ان کا من پسندیدہ ٹیون ہوتا ہے گالیاں بھی ٹاپ کلاس شاعری کی طرح پرمعنی ہوتی ہیں__

چرس پینے کے بعد سارے چرسی خالص اور قدرتی اور بچوں کی طرح من کے سچے بن جاتے ہیں، ان کی باتوں میں ملاوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی منافقت، ان کی سوچ و فکر میں ریا کاری ہوتی اور نہ ہی اداکاری.

یہ گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ایسے ہی اپنے حجرے میں رات کو چرسیوں کی محفل میں بیٹھا تھا، سگریٹ کا دور چل رہا تھا، تین چرسی ایک طرف بیٹھے چرس بھرے سگریٹ تیار کر رہے تھے اور باقی پی رہے تھے_ چرسیوں کی ایک نمایاں خوبی جس نے مجھے متاثر کیا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی چیزیں شریک کرنا اور تعاون کرنا ہے_ محفل پرجوش اور مخمور تھی موضوع بحث دنیا کی سیاست تھی، امریکہ کی تباہی ہم مسلمانوں کو بہت مطلوب ہوتی ہے اس لئے امریکہ کی بربادی کا موضوع قریب قریب ہماری ہر محفل میں جگہ پالیتا ہے، بلکہ اکثر تو یہ ہی موضوع بحث رہتا ہے_ ایک چرسی نے کہا امریکہ تباہ و برباد نہیں ہوگا، کیون کہ وہاں کے ادارے مضبوط ہے دوسرے نے کہا، تباہ ہوگا، کیوں کہ اس نے افغانستان پر ہاتھ ڈالا ہے، تیسرے نے کہا "ہمیں خواہ مخواہ بین الاقوامی سیاست پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے، ہمارا موضوع قومی سیاست ہونا چاہئے، کہ اس سے ہمیں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچے گا، مسلم لیگ شریف خاندان سمیت ڈوب گئی ہے، ملک اب تک ترقی کی شاہراہ پر کئی سو میٹر بھاگ چکا ہوتا اگر نواز شریف گزشتہ چند عشروں سے رکاؤٹ نہ بنے ہوتے، ایک اور چرسی نے کہا "معذرت کے ساتھ، میں اپ تینوں سے اتفاق نہیں کرتا، میری نظر میں بین الاقوامی سیاست کا موضوع اتنا پیچیدہ ہے کہ ہم اسے سمجھ ہی نہیں سکتے، قومی سیاست کا موضوع اتنا گندہ ہے کہ ہمیں اس سے اپنے دماغ گندے نہیں کرنے چاہئے، ہم اگر چاہتے ہین کہ حکومتیں ہماری اسی طرح خدمت کریں جس طرح ہماری مرضی ہوتی ہے تو پھر آج اور ابھی سے ہی شروع کرتے ہیں عملی سیاست میں قدم رکھتے ہیں حکومت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہیں، ہمیں اس سے کیا کہ اورنج ٹرین کب تک بن جائیگی اور اس منصوبے مین کرپشن کتنی ہوئی، ہمیں عملی سیاست میں اس طرح قدم رکھنا چاہئے کہ ہمیں اپنے گھر سے اصلاح کا آغاز کرنا چاہئے، جیسے ہمارا یہ حجرہ ہے ایک مہینے سے زیادہ عرصہ ہوچکا یے کہ یہاں کا انرجی سیور ناکارہ ہوگیا ہے، ہم ایک مہینے سے تاریکی میں بیٹھتے رہے ہیں لیکن کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ یہاں بلب کی ضرورت ہے، ایک چرسی نے اٹھ کر کہا "میں عملی سیاست میں قدم رکھ رہا ہوں، اج ہی اس حجرے میں انرجی سیور لگادوں گا اس کے ساتھ وہ عملی سیاست میں حصہ لینے کے لئے محفل سے باہر چلے گئے_ چوتھے نے ایک بار پھر محفل میں سوال پھینکا کہ عدد ۸ میں کتنے ۹ ہوتے ہیں اس پر سارے چرسیوں کے سر گھوم گئے یہاں تک کہ میں بھی کنفیوز ہوگیا، اس کے ساتھ ہی یہ محفل ختم ہوگئی اور حجرہ باقی رہا….

Facebook Comments Box
پختون کلچرچرسچرسیحجرہمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (پہلا حصہ)
next post
رائے ونڈ کی عمدہ سڑک: بہترین زچہ خانہ — زارا مظہر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.