تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

حضرتِ غالب اور میاں جمہوری — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 03/10/2017
written by دانش ڈیسک 03/10/2017
121

کوئی حضرتِ غالب کو جا بتائے کہ بھئی یہاں خبر گرم بھی ہے اور تماشا بھی روز ہوتا ہے، پرزے بھی اُڑتے ہیں اور پرچیاں بھی۔ آپ تماشا دیکھنے کو تو آتے نہیں پھر کہلوا بھیجتے ہو کہ:کوئی حضرتِ غالب کو جا بتائے کہ بھئی یہاں خبر گرم بھی ہے اور تماشا بھی روز ہوتا ہے، پرزے بھی اُڑتے ہیں اور پرچیاں بھی۔ آپ تماشا دیکھنے کو تو آتے نہیں پھر کہلوا بھیجتے ہو کہ:

دیکھنے ہم بھی گئے پے تماشا نہ ہوا

مہینا بھر پہلے کا قصہ ہے، آپ شاید چند صد روپے کے مقدمہء پنشن کے سلسلہ میں کلکتہ میں دھکے کھا رہے تھے، یہاں ایک دل چسپ تماشا ہوا۔ ہمارے شام پچاسی گھرانے (1985ء) کے سر براہ میاں جمہوری نے ایک راگ ایجاد کیا۔ کچھ دن گلیوں گلیوں الاپتے پھرے۔ دل کی تسکین نہ ہوئی تو بڑے تماشے کی ٹھانی۔ شام کے وقت شاہی لائو لشکر کے جلو میں، اپنے مصاحبوں کے ہمراہ دارالخلافہ سے اپنے دولت کدے کو چلے۔ باجے والے بھی ساتھ تھے، نفیریوں والے بھی، ڈھولچی بھی اور طبلے والے بھی۔ جگہ جگہ، قدم قدم پر گونگے، بہروں کا مجمع لگایا اور راگ سنایا۔ گلے میں سوز تو قدرت نے ودیعت کیا ہی تھا، دل کا دردِ نہاں بھی در آیا تو بات دو آتشہ ہو گئی۔ باجے کی دھن پر وہ تان اُٹھائی کہ شعلے سے لپکتے جاتے تھے۔ اگر اس وقت معجزہء خدا وندی سے میاں تان سین قبر سے اُٹھ آتے تو یہ تان سن کر دوبارہ قبر میں جا گھستے۔ دل پر لگی چوٹ بہت گہری تھی سو ہر تان دیپک بنتی جاتی تھی۔ ابھی پرسوں کی بات تھی، عالی جاہ مسند، شاہی پر متمکن انواع و اقسام کے کھانے تناول فرماتے تھے۔ ’’آب، حیات کے دریائوں میں نہاتے تھے، ہری ہری سبزے کی کیاریوں پر لوٹتے تھے‘‘۔ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اب جو پوچھا تو برا مان گئے۔ قاضی القضاۃ نے ذرا سے الزام پر دھر لیا۔ الزام بھی یہی چند ارب کی منی لانڈرنگ کا۔ کوئی پوچھے کہ بندہ بشر ہے، اقتدار اور حکومت ہمیشہ رہنے والی چیز تو ہے نہیں، کرتوت تو بدلنے نہیں۔ کل کلاں کو پھر سے بھاگنا پڑا تو سمندر پار کوئی ٹھکانہ تو ہو۔ نازوں کے پلے ہیں، دن میں پانچ بار مرغن غذائیں کھانے والے کہاں مارے مارے پھریں گے؟

ہندوستان کا روشن دماغ، اردو کا عظیم شاعر چند ٹکوں کی قمار بازی پر جیل کاٹے اور ملک و قوم کے اربوں کھربوں لوٹنے والے کند ذہن، نہاری خور دندناتے پھریں۔

اب آپ پوچھیں گے کہ یہ منی لانڈرنگ ہوتی کیا ہے؟ بھئی! فرنگیوں کی زبان ہے۔ ذرا سی سیکھ لیتے تو کیا ہرج تھا۔ آپ بھی تو کشتہء خمارِ رسوم و قیود نکلے۔ دوسروں کو بدیسی علم کی قدرو قیمت بتاتے رہے اور خود اپنے اسلاف کی تہذیب سے چمٹے بیٹھے رہے۔ چلو آپ کی آسانی کے لیے سادہ لفظوں میں بتا دیتے ہیں۔ منی لانڈرنگ بھی ایک طرح کی قمار بازی ہے۔ ارے حضرت ! قمار بازی سے یاد آیا آپ بھی تو قمار بازی کے الزام میں جیل گئے تھے؟ ذرا سی وقت گزاری اور دل کے بہلاوے کے لیے گلی کی نکڑ پر چند ٹکوں کی قمار بازی اور۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان کے عظیم شاعر اسداللہ خان غالب کو کوتوالِ شہر ہتھکڑی پہنا کر کوتوالی لے جائے۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم آپ کے وقتوں میں ہوتے تو شہر کے سارے پراپرٹی ڈیلروں اور ان کے ملازموں کو قیمے والے نان اورچکن بریانی کھلا کر کوتوالِ شہر کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے۔۔۔ ہندوستان کا روشن دماغ، اردو کا عظیم شاعر چند ٹکوں کی قمار بازی پر جیل کاٹے اور ملک و قوم کے اربوں کھربوں لوٹنے والے کند ذہن، نہاری خور دندناتے پھریں۔ (شرم ’ان‘ کو مگر نہیں آتی)۔ ابھی پرسوں شہر میں ایک اور تماشا ہوا۔ ایک وزیرِ چنیں ایک قومی ملزم کے ساتھ عدالت جا پہنچا۔ سپاہیوں نے روکا تو سیخ پا ہو گیا، منہ سے جھاگ بہنے لگی، دھمکیوں پر اُتر آیا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ بھئی جمہوریت کاعلم اُٹھا کر آپ وہاں کرنے کیا گئے تھے؟آپ کوتوالوں کے کوتوال ہیں، آپ کا فرض ملزموں کو گھسیٹ کر عدالتوں تک پہنچانا ہے نہ کہ ملزموں کو تحفظ فراہم کرنا۔ لیکن شاہ کے وفاداروں سے پوچھے کون؟

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا                              وگرنہ شہر میں۔۔۔۔۔۔۔ کی آبرو کیا ہے

 بے آبرو تو شاعری بھی بہت ہو گئی۔ شعر کتنا ہی عامیانہ کیوں نہ ہو، اس کی ایسی بے تو قیری برداشت نہیں ہوتی۔ آج ایک اور تماشا ہوا۔ ایک سند یافتہ نا اہل شخص نے بھرے مجمع میں یہ شعر پڑھ کر سب کو حیران کر دیا:

نا اہل، کمینے کی خوشامد سے اگر جنت بھی ملے تو منظور نہ کر

اے حضرتِ غالب!اب آپ ہی بتلائیے یا ہم بتلائیں کیا۔ آپ نے ایک گھٹیا شعر سن کر اپنا تخلص بدل لیا تھا، اگر آج کا تماشا دیکھ لیتے تو شاعری ہی چھوڑ دیتے۔

Facebook Comments Box
featuredسیاستغالبمرزا غالبمیاں نواز شریفنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کہانی یوگنڈا کے سفر کی: خبیب کیانی
next post
اردو جسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ فارینہ الماس 

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.