تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

زنداں کا سکوت: شہنیلہ بلگم والا

by دانش ڈیسک 23/09/2017
written by دانش ڈیسک 23/09/2017
159

وہ میرے بچپن کی مبہم یاد ہیں۔ خاندان کی محفلوں میں ہمیشہ اپنی سادگی کے ساتھ نظر آتی تھیں۔ زہرہ خالہ کے گھر قرآن خوانی ہو یا نانی زینب کے قل، شاہینہ آپا کی مہندی ہو یا سہیل بھائی کے بیٹے کا عقیقہ۔ حزیں باجی مجھے ہمیشہ ایک کونے میں اپنی چھوٹی بہن، جسے ہم سب بچے سبین آپی کہتے تھے، کا ہاتھ تھامے نظر آتی تھیں۔ حزیں باجی کی عمر کی سب لڑکیاں شادی بیاہ پہ گیت گاتیں، ہنسی مذاق کرتیں، بہانے بہانے سے اندر آنے والے کزنز کو دیکھ کر کچھ لڑکیوں بالیوں کے چہرے رنگین ہو جاتے تو کچھ اپنی ساتھ والی سکھی سہیلیوں کو کہنی مارتیں۔ سب کو کچھ اندازہ ہو نہ ہو کھلکھلا کر سب ہی ہنس پڑتیں۔

لیکن حزیں باجی سب سے الگ تھلگ ایک کونے میں اپنی چھوٹی بہن کا ہاتھ تھامے، خالی خالی نظروں سے سب کو تکا کرتیں۔ شائد نام کا شخصیت پر بہت اثر ہوتا ہے۔ شائد کچھ عجب اسرار تھا ان کے حزن میں، ان آنکھوں کی ویرانی اماوس کی رات سے بھی گہری گھور تھی۔ چونکہ یہ دونوں بہنیں ہم سے کافی بڑی تھیں اس لئے ہم بچہ پارٹی کو ان کے الگ تھلگ رہنے پر چنداں اعتراض نہ تھا۔ بس میرے حساس دل میں ان کی اداسی کا رنگ بہت دیرپا ہوتا۔ کتنے ہی دن ان کے بارے میں سوچا کرتی تھی۔ اسکول کالج کی مصروف روٹین میں گزرتے وقت کے ساتھ خاندانی محفلیں بھی کم ہوتی گئیں اورحزیں باجی بھی ذہن سے محو ہوتی گئیں۔

ایک دن کالج سے واپسی پہ خالہ آئی ہوئی تھیں۔۔میں سلام کرنے گئی تو سنا امی سے کہہ رہی تھیں” حزیں کی تو زندگی برباد کر ہی دی ہے الیاس نے، اب چھوٹی سبین کو تو وقت پہ گھر کا کردے”۔
امی کہنے لگیں: ” دنیا جانتی ہے کہ کیا ہوتا ان کے گھر میں، کون چڑھے گا ان کی سیڑھی”۔
خالہ کہنے لگیں:” میرے دیور کا سالہ ہے۔ اپنی امریکی بیوی کو طلاق دے چکا ہے۔ ایک ہی بیٹا ہے، جسے سابقہ بیوی اپنے ساتھ لے گئ ہے، یہ خرچہ اٹھاتا ہے۔ سعدیہ سے یہی کوئی بارہ تیرہ سال بڑا ہوگا۔ سوچتی ہوں بات چلاؤں۔ لڑکا ساری زندگی باہر رہا ہے۔ شاید بات بن جائے۔ ایک تو اپنے گھر کی ہو”۔

مجھے یک دم جوش سا چڑھ گیا اور حزیں باجی کے چہرے پر سہاگ کی خوشیوں کے رنگ نظر آنے لگے لیکن کچھ سمجھ نہیں آئی کہ خالہ کیوں سعدیہ آپی کے لئے ایک دو ہاجو، بچے والے کا رشتہ لے کر جا رہی ہیں؟
خالہ کے سامنے استفسار کا مطلب امی سے بعد میں صلواتیں سننا تھا۔ اس لئے چپکی ہو رہی۔
خالہ کے جانے کے بعد امی سے ڈرتے درتے پوچھ ہی لیا کہ "ہم لوگ کیوں کٹے کٹے رہتے ہیں حزیں باجی کی فیملی سے۔ اور کیوں نہیں ہوتی ان بہنوں کی شادی۔ خالہ اپنی بیٹی کی شادی کردیں طلاق یافتہ سے جو سبین آپی کے لئے بھیج رہی ہیں رشتہ”۔
امی نے مجھے غضبناک نگاہوں سے دیکھا اور بولیں ” تم کب سے کن سوئیاں لینے لگیں بڑوں کی۔۔۔ خبردار جو بڑوں میں بولیں، سب کے گھر کے مسئلے ہوتے ہیں۔ تم اپنے کام سے کام رکھو۔”
ظاہر ہے اتنی عزت افزائی کے بعد میں چپکی ہو رہی۔ بات آئی گئی ہو گی۔ سبین آپی کی شادی امریکہ میں ہوگئی۔ امی مجھے شادی میں بھی لےکر نہیں گئیں۔ جس کا میں نے دل ہی دل میں خوب برا منایا مگر حسب معمول امی کے سامنے چوں کرنے کی بھی مجال نہیں ہوئی۔

سبین آپی بھی پردیس سدھار گئیں اس کے کچھ عرصے بعد میری بھی شادی ہوگئی، بال بچوں دار ہوگئی۔ امی نے اب گھرکنا کم کردیا تھا کیونکہ یہ ڈیوٹی اب میاں صاحب نے سنبھال لی تھی۔ ایک دن اطلاع آئی کہ حزیں باجی کے والد صاحب انتقال کر گئے۔ اس دن پہلی بار امی مجھے ان کے گھر لے کر گئیں۔ میں نے میت والا ایسا گھر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جہاں سب پتھر کے بت تھے۔ کسی کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں تھا۔حزیں باجی ایک کونے میں ہمیشہ کی طرح بیٹھی تھیں۔ سب کو خالی خالی آنکھوں سے تکتی ہوئی۔ میت کا چہرہ دیکھنے بھی نہیں اٹھیں۔ جب مرد دفنا کر واپس آئے تو میں نے دیکھا کچن میں اپنی چھوٹی پھپھو سے لپٹ کر بلک رہی تھیں۔ امی نے دونوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے ہاتھ سے کھینچتی ہوئی باہر نکل آئیں۔

گھر جا کر میں نے امی سے پوچھا” مجھے آج آپ کو بتانا ہی پڑے گا کہ یہ کیا اسرار ہے۔ ہم سب کیوں حزیں باجی لوگوں سے کٹے کٹے رہتے ہیں۔ ان کا گھرانہ نارمل کیوں نہیں لگتا مجھے”۔
امی نے میری پیشانی چومی اور کہا: ” تم لوگوں سے ساری زندگی سب کچھ چھپایا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ تم لوگوں کے دل سے رشتوں کا احترام نکل جائے۔ مجھے لگا کہ اگر تم بچیوں پہ یہ حقیقت کھلی تو تم اپنے سائے سے بھی ڈرو گی۔ تحفظ کا وہ احساس کھو دو گی جو تمہارا حق ہے۔۔”
مگر امی خاندان والے بھی کچھ نہ کرسکے۔
امی بولیں: ” خاندان والے کیا کر لیتے؟ کون خرچہ اٹھاتا؟ بیٹا حزیں جیسی کتنی ہیں جو اس آگ میں جل رہی ہیں۔ جب نگہبان ہی لٹیرا بن جائے تو کس سے شکایت کی جائے؟۔ ”
میں امی کے کندھے سے لگ کر سسکنے لگی۔ میری نظروں کے سامنے حزیں باجی آگئیں۔ اسی ستے ہوئے زرد چہرے اور ویران آنکھوں کے ساتھ لب مہر سکوت ثبت کئے۔ پر اپنی چھوٹی بہن کا ہاتھ تھامے ہوئے۔ سنا ہے اپنی دونوں بھتیجیوں سے بہت پیار کرتی ہیں۔ اپنے کمرے میں سلاتی ہیں۔ ہر وقت ان کے ساتھ سائے کی طرح لگی رہی ہیں۔ پتا نہیں کیوں؟؟؟

Facebook Comments Box
افسانہخاتونطلاقعورتکہانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان کے مفاداتی دانش ور: کچھ مشہور اقسام ۔۔۔ اورنگ زیب نیازی
next post
انٹری ٹیسٹ، بے ضابطگیوں کا سدباب ناگزیر : مظہر چوہدری

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.