(10) کابینہ مشن اور مولانا ابوالکلام آزاد

1
  • 2
    Shares

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا ساتواں مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔


کابینہ مشن برطانیہ کی طرف سے ہندوستان کو متحد رکھنے کی آخری کوشش تھی۔ اس سے پہلے کرپس مشن ہندو مسلم تصفیہ کرانے میں ناکام ہو چکا تھا۔ اس وقت ہندو اور انگریز یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ مسلم لیگ کی عوام میں وہ حیثیت نہیں جس کا دعویٰ قائدِ اعظم کر رہے ہیں۔ انگریز وائسرائے اور برطانیہ گورنمنٹ بھی یہی سمجھتی تھی کہ کانگریس ہی ہندوستان کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ مگر دسمبر 1945ء کے مرکزی اور 1946ء کے ابتداء میں صوبائی انتخابات کے نتائج نے دونوں کی امیدیں اور اندازے غلط ثابت کر دیے۔ مسلم لیگ نے قائدِ اعظم کی قیادت میں مرکزی اسمبلی کی تمام مسلم نشستیں جیت کر دکھلادیا کہ صرف وہی ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ دوسری طرف جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد برطانیہ اس پوزیشن میں نہیں رہا تھا کہ زیادہ دیر تک ہندوستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے۔ لہٰذا برطانیہ نہیں چاہتا تھا کہ جلد از جلد ہندوستان سے اپنا بوریا گول کرے مگر اس طرح کہ ہندوستان کی متحدہ حیثیت برقرار رہے۔

17فروری 1946 کو برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے مسئلہ پر گفت و شنید کرنے کے لیے ایک کابینہ وفد کا تقرر کیا جائے گا۔ یہ وفد جو کابینہ مشن کہلایا23مارچ 1946ء کو ہندوستان پہنچا جس میں وزیرِ نہر پیتھک لارنس، وزیرِ تجارت سٹیفورڈ کرپس اور وزیرِ بحریہ اے ای الیگزینڈر شامل تھے۔ یہ وفد بھیجنے سے پہلے برطانوی حکومت نے اپنی کابینہ، ارکانِ پارلیمنٹ، حزبِ مخالف کے ارکان، محکمۂ دفاع، ہندوستان کے وائسرائے اور صوبوں کے گورنرز سے طویل صلاح مشورے کیے۔ پھر انہی کی بنیادوں پر ارکانِ وفد کے لیے سفارشات تیار کی گئیں۔ جن کا لبِ لباب یہی تھا کہ جہاں تک ہو سکے ہندوستان کو متحد رکھا جائے۔ قائدِ اعظم کو تقسیم کی صورت میں حاصل ہونے والے پاکستان کی معاشی، اقتصادی اور دفاعی مشکلات سے ڈرا کر اسے مطالبۂِ پاکستان سے باز رکھا جائے۔ یہاں ان لوگوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے جو برِ صغیر کی تقسیم کو انگریز کی سازش سمجھتے ہیں، اگر ان کے دلوں پرمہر نہیں لگی تو تقسیمِ برِصغیر سے متعلق برطانیہ کی طرف سے شائع کردہ “انتقالِ اقتدارپیپرز” کا صفحہ صفحہ اس بات پر گواہ ہے کہ انگریز اپنے سامراجی مفادات کے تحت ہندوستان کو متحد رکھ کر ہی جانا چاہتا تھا مگر ہندو کی تنگ نظری اور تعصب نے ایسا نہ ہونے دیا۔ اس کے باوجود بھی 70سال بعد کچھ کوتاہ بیں ایسا سمجھتے ہیں تو پھر ایسے اندھے، بہرے اور گونگے لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے “آزادیِؑ ہند” میں کابینہ مشن پر بھی تفصیلی تبصرہ کیا ہے۔ مگر اس طرح کہ تاریخ کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ مولانا آزاد نے کابینہ مشن پلان کی ناکامی کا ذمہ دار نہرو کو ٹھہرا کر ایک ایسی غلط فہمی کی بنیاد رکھی جس پر یار لوگوں نے پرشکوہ عمارتیں تک کھڑی کر ڈالیں۔ آج بھی پاک و ہند کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے مؤرخین سے پوچھ لیں وہ ہندوستان کی تقسیم کا بنیادی کردار نہرو ہی کو قرار دیں گے۔ حالانکہ یہ صرف نہرو کی جذباتیت نہ تھی بلکہ گاندھی سمیت کانگریس کی ساری قیادت کا مفافقانہ، تعصبانہ اور غیر ذمہ دارانہ کردار تھا جس نے مسلمانِ ہند کی واضح اکثریت کوعلٰیحدگی پر مجبور کر دیا۔ مولانا آزاد کے کابینہ مشن سے متعلق بیانات بھی اسی طرح تضادات کا نمونہ ہیں جس قسم کے تضادات ہم سابقہ مضامین میں دکھلا چکے ہیں۔ مولانا کے کابینہ مشن کے سامنے دیئے گئے بیانات، ارکانِ کابینہ ووائسرائے ویول کو لکھے گئے خطوط اور کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں کی گئی تقاریر ان کی “آزادیٔ ہند” کی تحریر کی نفی کرتی ہیں۔ مولانا کابینہ مشن کے دوران جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں وہ ان کے “آٓزادیٔ ہند” کے فرمان کے بالکل الٹ ہے۔ معلوم نہیں مولانا نے کابینہ مشن کے گیارہ بارہ سال بعد ایسے متضاد بیانات کیوں لکھ دیئے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ انہیں یاد نہ رہا ہو۔ ان کے حافظے کی تو مثالیں دی جاتی ہیں۔ شاید انہیں یقین تھا کہ پسِ پردہ ان کی کی گئی باتیں کبھی پردے پر نہیں آئیں گی حالانکہ کابینہ مشن سے متعلق تمام شریک رہنماؤں کی خط و کتابت 1946ء میں ہی چھپ کر عام ہو چکی تھی۔

اس سے پہلے کہ ہم مولانا آزاد کے “آزادیٔ ہند” کے بیانات پر تبصرہ کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کابینہ مشن اور کابینہ مشن پلان کا خلاصہ پیش کر دیں تا کہ بات سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہے۔

کابینہ وفد جب ہندوستان پہنچا تو اس سے پہلے برطانیہ میں حکومت و حزبِ اختلاف کے مرضی سے وفد کے لیے کچھ تجاویز ہمراہ کر دی گئی تھیں جن کی روشنی میں ارکانِ وفد نے یہاں کی سیاسی پارٹیوں سے گفت و شنید کرنی تھی۔ مگر یہاں پہنچ کر ارکانِ وفد نے یہی تاثر دیا کہ وہ کوئی تجاویز پیش نہیں کریں گے بلکہ تمام پارٹیوں کے راہنماء مل کر کوئی متفقہ فارمولہ تیار کر لیں گے۔ وفد نے باری باری تمام پارٹیوں کے سربرآوردہ راہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے مختلف تجاویز پر تبادلہِؑ خیال کیا۔ ان راہنماؤں کی تجاویز کی بنیاد پر وفد نے آئندہ دستور کا ایک خاکہ یوں پیش کیا۔

ایک یونین گورنمنٹ ہو جس کے پاس خارجہ، دفاع اور مواصلات کے تین شعبے ہوں۔ اس کے نیچے مسلم اکثریت اور ہندو اکثریت کے دو وفاق ہوں۔ ان دو وفاق میں موجود صوبے جو اختیارات چاہیں اپنے وفاق کو تفویض کر دیں۔ اور دیسی ریاستیں چاہیں تو اپنا وفاق بنا کر یونین گورنمنٹ میں حصہ دار بن جائیں۔ اس کے علاوہ ایک ایگزیکٹو ہو جو یونین کے امور کی دیکھ بھال کرے۔ یونین گورنمنٹ اور ایگزیکٹو میں برابری کی بنیاد پر ہندو مسلم ارکان لیے جائیں۔ اس خاکے کی بنیاد پرلیگ اور کانگریس کے چار چار نمائندوں پر مشتمل شملہ کانفرنس بلائی گئی مگر وہ بجوہ ناکامی سے دوچار ہوئی۔

شملہ میں ناکامی کے بعد کابینہ مشن نے اعلان کیا کہ ابھی مشن کا کام مکمل نہیں ہوا۔ مشن چند روز میں ایک بیان شائع کرے گا جس میں اگلے اقدام سے متعلق آرا ہوں گی۔ مشن کا یہ بیان 16مئی کو شائع ہوا اور یہی بیان برطانیہ میں وزیر اعظم ایٹلی نے اسی دن اسمبلی میں بھی پیش کیا۔ اسی بیان کو”کابینہ مشن پلان”کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پلان کے اہم نکات یہ تھے۔

1- کل ہند کا ایک یونین یا مرکز ہو جس میں برطانوی ہند اور دیسی ریاستیں شریک ہوں۔ جن کے پاس خارجہ،دفاع اور مواصلات کے شعبے ہوں۔

2- مرکز کی ایک مجلس قانون ساز اور ایک ایگزیکٹو ہوجس کے نمائندے برطانوی ہند اور دیسی ریاستوں سے ان کی اسمبلیاں منتخب کر سکیں گی۔ فرقوں سے متعلق کوئی مسئلہ اس فرقہ کی حاضر اکثریت کی بنیاد پر طے ہو گا۔

3- مرکز کے علاوہ باقی تمام شعبے اور اختیارات صوبوں کے پاس ہوں گے۔

4- تمام صوبے مل کر اپنا اپنا گروپ تشکیل دیں گے جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی اور ایگزیکٹو ہو گی۔ ہر گروپ صوبائی شعبہ جات میں سے ان شعبوں کا تعین کر سکیں گے جو ان میں مشترک ہوں گے۔

5- صوبوں کے گروپ اس طرح تھے۔

الف) مدراس، بمبئی، یو پی، سی پی، بہار اور اڑیسہ

ب) پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان

(ج) بنگال اور آسام  ( یعنی دو مسلم اکثریتی اور ایک ہندو اکثریتی

6- مرکز اور گروپ کے دستور میں یہ شق ہو گی کہ ابتدائی دس سال بعد اور پھر ہر دس سال بعد کو ئی بھی صوبہ اپنی اسمبلی کی کثرتِ رائے سے آئین میں نظر ثانی کا مطالبہ کر سکے گا۔

7- ہر صوبے کے لیے اس کی دس لاکھ آبادی کے برابر مرکز میں ایک نشست ہو گی۔ ہر صوبے کی کل نشستیں فرقوں میں ان کی آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوں گی اور ہر فرقہ کی مخصوص نشستیں اس صوبے کی اسمبلی میں موجود اس فرقے کے ارکان کے ووٹ سے منتخب کی جائیں گی۔

8- نئے مرکزی اور گروپ کے آئین بن جانے کے بعد ہر صوبے کو اپنے گروپ سے نکلنے کا اختیار ہو گا۔ یہ اختیار نیا آئین بن جانے کے بعد نئے انتخابات سے منتخب اسمبلی ہی استعمال کر سکے گی۔

جونہی کابینہ مشن پلان سامنے آیا تمام ہندو پریس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نہر و کے اخبار “نیشنل ہیرلڈ”نے لکھا۔” جناح نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا اسے کابینہ مشن پلان میں سرکاری طور پر دفن کر دیا گیا ہے۔ مشن نے جناح کے پاکستان کو جو موت کی سزا دی ہے برطانوی حکومت نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے اور اس کے زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں رہا۔” دوسری طرف قائدِ اعظم نے اس پر مثبت ردِ عمل کا مظاہرہ کیا اور بعد میں 3جون کو مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ نے اور 6جون کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے قرارداد کے ذریعے کابینہ مشن پلان کو منظور کر لیااور کسی توضیح کے بغیر۔ مگر شادیانے بجانے والی جماعت نے پلان کی مختلف توضیحات اور تشریحات شروع کر دیں اور بہت دیر بعد اسے منظور بھی کیا تو شرائط کے ساتھ۔۔

مولانا آزاد نے کابینہ مشن کے ہندوستان آمد، مشن پلان کے جانے اور اس کے ناکام ہونے کا احوال “آزادیٔ ہند” میں تفصیل سے پیش کیا ہے۔ اپنی پوری کتاب میں قائدِ اعظم کی ہر جگہ مخالفت کے باوجود انہوں نے کابینہ مشن پلان کے حوالے سے قائدِ اعظم کے نقطۂِ نظر کو درست قرار دیا ہے۔ خود مولانا آزاد بھی اس پلان کے نہ صرف حامی تھے بلکہ وہ تو خود کو اس پلان کا تجویز کنندہ بھی قرار دیتے ہیں۔ مگر جس وقت کابینہ وفد ہندوستان میں موجود تھا اس وقت مولانا آزاد کا کردار تضادات کا شاہکار نظر آتا ہے۔ بذاتِ خود وہ پلان کے اور پلان کے تجاویز کے حامی تھے مگر بحیثیت صدر کانگریس اور کانگریس ورکنگ کمیٹی میں وہ ہندو لیڈروں کی ہی زبان بولتے نظر آتے ہیں۔ کابینہ وفد کی آمد بلکہ الیکشن سے بھی پہلے کا ایک واقعہ یہاں درج کرنا ضروری ہے اس کے بعد”آزادی ہند” کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہیں۔

اگست1946ء میں مولانا آزاد نے بطور صدر کانگریس نہیں بلکہ ذاتی حیثیت سے گاندھی کو ایک یادداشت پیش کی جس میں انہوں نے فرمایا “فرقہ وارانہ مسئلہ کو تسلیم کرنا چاہئے۔ حقیقت میں مسلمان خائف ہیں اور ان کے خدشات کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے میں تجویز کرتا ہوں کہ مستقبل کے ہندوستان کا آئین وفاقی ہو اور باقی صوبے خود مختار ہوں۔ وفاق کے پاس صرف چند شعبے ہوں۔ صوبوں کو علٰیحدگی کا اختیار ہو۔ مرکزی اسمبلی اور ایگزیکٹو میں ہندؤں اور مسلمانوں کی تعداد برابر ہو۔ ایک ایسی روایت ہو کہ وفاق کا صدر باری باری ہندؤں اور مسلمانوں سے لیا جائے۔ اور یادداشت میں یہ بھی کہا گیا کہ ہندوستان کو متحد رکھنے کے لیے مضبوط مرکز ضروری نہیں۔” یاد رہے مولانا نے یہ یادداشت ذاتی حیثیت سے پیش کی تھی جسے نہ گاندھی نے اہمیت دی اور نہ کانگریس نے۔ مگر 14ستمبر کو ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بطور صدرِ کانگریس انہوں نے فرمایا۔ “ہم صوبوں کے حقِ ارادیت کو تسلیم کرتے ہیں مگر علٰیحدگی کی مذمت کرتے ہیں۔”

پھر 22ستمبر کو بمبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بطور صدرِ کانگریس فرمایا۔ “کانگریس کے پاس ایک مثبت منصوبہ ہے جس کے مطابق وہ متحدہ ہندوستان میں وفاقی حکومت کی حامی ہے۔ اس کے صوبے خود مختار ہوں مگر بچے کھچے اختیارات کے مالک ہوں۔” یعنی بحیثیت ایک مسلمان کے مولانا آزاد مسلمانوں کے کچھ حقوق کے حامی تھے مگر کانگریس کے پلیٹ فارم سے انہیں مسلمانوں کا کیس پیش کرنے کی اجازت یا جراؑت نہ تھی۔

اب آتے ہیں “آٓزادیِؑ ہند” میں دیئے گئے مولانا آزاد کے بیانات کی طرف۔ مولانا فرماتے ہیں۔ “کابینہ مشن 23مارچ کو دہلی پہنچا۔ میں 2اپریل کو دہلی پہنچا۔ مجھے اس مرحلے پر لگا کہ اس اہم بات برطانیہ اور ہندوستان کے مابین مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ فرقہ وارانہ صورتِ حال ہے۔ شملہ کانفرنس نے مجھے باور کرا دیا تھا کہ فرقہ وارانہ اختلاف حل طلب ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں کہ مسلمان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ ہندوستان میں ان کی حیثیت بہر حال اقلیت کی تھی اور انہیں ڈر تھا کہ آزاد ہندوستان میں ان کا رتبہ محفوظ نہیں رہے گا۔

“میں اس مسئلے پر سوچتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندوستان کا آئین وفاقی ہو۔ صوبوں کو زیادہ امور میں خودمختاری دی جائے۔ میرے نزدیک یہ بات صاف تھی کہ دفاع، مواصلات اور خارجہ امور وفاق کے پاس ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ صوبے کوئی اور امور اپنی طرف سے مرکز کو دینا چاہیں تو اور بات ہے۔ مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستانی مسئلہ کسی اور طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یہ اطمینان تھا کہ فرقہ وارانہ مصلحتوں سے قطع نظر ہندوستان جیسے ملک کے لیے یہ بہترین سیاسی حل تھا۔ کابینہ مشن کے افراد سے بھی میں نے یہی باتیں کیں اور وہ میرے نقطۂِ نظر سے مطمئن نظر دکھائی دیئے۔ 12اپریل کو کانگریس ورکنگ کمیٹی میں بھی میں نے یہی دہرایا۔

“واقعہ یہ ہے کہ گاندھی جی نے یہ کہتے ہوئے مجھے مبارکباد دی کہ میں نے ایک ایسے مسئلے کا حل دریافت کر لیا ہے جس نے ہر ایک کو اس وقت چکرا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا میرا حل متعصب ترین مسلم لیگی کے بھی وسوسوں کو دور کردے گا۔ سردارپٹیل نے پوچھا کیا مرکز کے پاس صرف یہی تین شعبے رہیں گے۔ بعض اور امور مثلاً کرنسی اور مالیات بھی مرکز کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔ اس کا جواب بھی گاندھی نے دیا اور کہا صوبے شاید انکار نہ کریں لہٰذا یہ اصرار ضروری نہیں۔

“کابینہ مشن نے اپنا پلان 16 مئی شائع کیا۔ بنیادی طور پر ویسا ہی تھی جیسا خاکہ میں نے 15اپریل کو پیش کیا تھا۔سوائے ایک عنصر کے اضافے کے کہ کل ہند کے تین گروپ بنا دیے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ہمیں اس تجویز کو قبول کر لینا چاہئے۔

“پہلے پہل مسٹر جناح اس سکیم کے خلاف تھے۔ مسلم لیگ کونسل تین روز تک اجلاس کرتی رہی۔ آخری دن مسٹر جناح کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ اقلیتی مسئلے کا حل اس سے بہتر نہیں ہو سکتا اور وہ اس سے بہتر شرطین نہیں منوا سکتے۔ آخر کونسل نے اسے اتفاق سے منظور کر لیا۔

“کانگریس ورکنگ کمیٹی میں انہی بحثوں کے دوران میں نے اس امر کی نشاندھی کی کہ کابینہ مشن پلان اساسی طور پر میری سکیم کے مطابق تھا۔ اس طرح ورکنگ کمیٹی کو پلان قبول کرنے میں وقت نہیں ہوئی۔ “

“ہندوستان کی تاریخ میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کی طرف سے کابینہ مشن پلان قبول کر لیا جانا ایک شاندار واقعہ تھا۔ اس کا مطلب تھا ہندوستان کی آزادی کا مشکل مسئلہ مذاکرات اور مصالحت سے طے کر دیا گیا تھا۔ ہم خوش تھے مگر نہیں جانتے تھے یہی خوشی قبل از وقت تھی۔

“مسلم لیگ کونسل نے کابینہ مشن پلان قبول کر لیا تھا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی یہی کیا تھا۔ تا ہم آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی منظوری درکار تھی۔ چنانچہ 7جولائی کو اس کی میٹنگ بمبئی میں طلب کی گئی۔ اے آئی سی سی کی میٹنگ میں کانگریس کے بائیں بازو نے شدید مخالفت کی اورسوشلسٹوں نے بھی اس مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جواب میں میں نے کہا کہ پلان دراصل کانگریس کی عظیم فتح تھی۔ یہ ایک پرامن حل تھا۔ میں نے مزید کہا کابینہ مشن پلان نے کانگریس کا نقطۂِ نظر قبول کر لیا تھا۔ سامعین پر میری تقریر کا فیصلہ کن اثر ہوا۔ جب ووٹ لیے گئے تو قرارداد زبردست اکثریت سے منظور کر لی گئی۔ اس طرح اے آئی سی سی نے ورکنگ کمیٹی کی قرارداد پر مہرِ قبولیت ثبت کر دی۔

“اب تاریخ کا رخ بدل دینے والے بدنصیب واقعات میں سے ایک واقع پیش آیا۔ 10جولائی کو جواہر لال نے بمبئی میں ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں انہوں نے ایک حیران کن بیان دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کانگریس نے پلان بشمول عبوری حکومت من و عن قبول کر لیا ہے۔ جواب میں انہوں نے کہا کانگریس دستور ساز اسمبلی میں یوں داخل ہو گی کہ وہ سمجھوتوں سے یکسرآزاد ہو گی اور پیش آمدہ تمام حالات کا سامنا اپنی مرضی سے کرے گی۔ دوسرے سوال کے جواب میں جواہر لال نے کہا کانگریس صرف آئین ساز اسمبلی میں شمولیت کے لیے راضی ہوئی تھی۔ وہ اس کے لیے آزاد ہے کہ پیش آمدہ حالات میں کابینہ مشن پلان میں تبدیلی یا ترمیم کر سکے۔

“مسلم لیگ نے دباؤ میں آکر کابینہ مشن قبول کیا تھا۔ ظاہر ہے مسٹر جناح اس سے بہت خوش نہیں تھے۔ ایک کونسل میں انہوں نے کہا تھا اس سے بہتر کچھ نہیں مل سکتا تھا۔ سو مسٹر جناح کابینہ مشن سے گفت و شنید کے نتائج سے بالکل خوش نہیں تھے۔ جواہر لال کا بیان ان کے سر پر بم کی طرح گرا۔ انہوں نے فوراً بیان دیا کہ صدر کانگریس کا اعلان پوری صورتِ حال پر نظر ثانی کا متقاضی ہے اور لیاقت علی خان سے کہا کہ وہ لیگ کونسل کی میٹنگ طلب کر یں۔

“لیگ کونسل کا اجلاس 27جولائی کو بمئی میں ہوا۔ اپنی افتتاحی تقریر میں مسٹر جناح نے پاکستان کا مطالبہ دہرایا اور کہا مسلم لیگ کے پاس اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے۔ تین روز کی بحث کے بعد کونسل نے کابینہ مشن پلان مسترد کر دیا۔”

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چھٹا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا ساتواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا آٹھواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر نواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: