فکر اِقبال کی عصری معنویت —– محمد حمید شاہد

0
  • 83
    Shares

عین ایسے زمانے کہ جب ہمارے میڈیائی دانشوروں کی زبان پر ’’نئے قومی بیانیے کی تشکیل‘‘ کا غوغہ مسلسل سنائی دینے لگا ہے اور اسی بہانے فکر اقبال کو تج دینے کے مشورے بھی دیے جانے لگے ہیں، ’’فکر اقبال کی عصری معنویت‘‘ کو نشان زد کرنے کے لیے مجھے اقبال کی شاعری کے محاسن اور ان کے فنی کمالات پر کم کم بات کرنی ہے اور اُن فکری نکات کو زیر بحث لانا ہے جو آج کے زمانے میں فکر اقبال کو ریلے ونٹ اور بامعنی بنا رہے ہیں۔

یوں تو فکرِ اقبال، چاہے وہ اُن کی شاعری کی صورت میں ہو یا خطبات اور فرمودات کی صورت میں، ہماری قومی زندگی میں ان گنت حوالوں سے راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے اور دے سکتی ہے مگر میں طوالت سے بچپنے کے لیے اپنی طالب علمانہ گزارشات کو صرف پانچ حوالوں تک محدود رکھوں گا۔

۱۔ پہلا حوالہ خود اقبال کی تخلیقی اور فکری شخصیت ہے، جہاں وہ ہیں اسے سمجھے بغیر اُن کی فکرکی معاصر صورت حال میں معنویت کو ڈھنگ سے نہیں سمجھا جاسکتا۔

۲۔ فکر اقبال کا ایک بڑا حوالہ مذہب ہے۔ مذہب نہیں دین اسلام کہنا ہوگا۔ وہ اس باب میں کون سی راہ سجھاتے ہیں یہ گفتگو کا دوسرا نقطہ ہوگا۔

۳۔ فکرِاقبال کاذکر ہو اور دوقومی نظریے کا ذکر نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ نظریہ پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اس دوقومی نظریے کی آج کیا معنویت ہے ؟میری گفتگو کا تیسرا نقطہ ہوا گا۔

۴۔ چوتھانقطہ ہے ربط و ضبط ملت۔ یہاں ہم دیکھیں گے کہ اتحادعالمِ اسلامی کے لیے فکر اقبال میں کون سی اساس مہیا ہوتی ہے؟

۵۔ معاصر عالمی منظر نامے کو ہم بالکل آخر میں گفتگوکا حصہ بنائیں گے اور اس باب میں فکر اقبال سے کیا راہنمائی اخذ کی جاسکتی ہے، اُسے بھی آنکنے کی کوشش کریں گے۔

ا۔ شاعری اور فکر:

فکر اقبال پر بات کرنا چاہتا ہوں مگر عین آغاز میں ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے۔ یہ واقعہ فیض احمد فیض کی مرتبہ کتاب ’’نثرِ تاثیر‘‘ کے ان مضامین میں سے ایک سے لے رہا ہوں جو ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے اقبال کے حوالے سے لکھے تھے۔ تاثیر بتاتے ہیں کہ:

’’ایک روز حضرت علامہ کا پیغام پہنچا کہ فرصت ہو تو آئو۔ میں اُن دنوں کالج میں پڑھایا کرتا تھا۔ بھولتا نہیں تو انگریزی کے شاعر Keatsکی ایک نظم پر لیکچر دے رہا تھا۔ علامہ اپنے نیاز مندوں کا بہت خیال رکھتے تھے اور اُن کو یوں ہی کاروبار سے ہٹا کر بُلا بھیجنے کے عادی نہ تھے۔ اور پھر اُن دنوں ہم ہر شام اُن کی خدمت میں پہنچ کر اُن سے اسرارِ خودی اور رموز ِبے خودی کا درس لیا کرتے تھے۔ اِس لیے بے وقت دوپہر کو بلا بھیجنا خالی از علت نہ تھا۔ میں فوراً پہنچا۔ وہاں عجب کیفیت تھی۔ علامہ کرسی پر اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے پاس ایک اجنبی بیٹھے تھے۔ بغیر تعارف کرائے علامہ نے مجھے کہا: ’’تاثیر صاحب! ان سے قرآن سنیے، کون سی سورت سنائیں؟‘‘ میں نے ’’الرحمن‘‘ کہا۔ سورت ختم ہوئی تو علامہ نے پھر کہا: ’’اور کون سی سورت سنو گے؟‘‘ میں نے کہا ’’النجم‘‘۔ اُس ظالم نے ’’النجم‘‘ شروع کی اور رقت کی یہ حالت تھی کہ میں بھی بے قابو ہورہا تھا۔ سب کی طبیعت کو قرار آیا تو علامہ نے بتایا کہ قاری عراق کا کوئی پروفیسر ہے جسے انگریزوں نے جلا وطن کر ادیا ہے۔ میں نے حضرت علامہ سے پوچھا کہ کیا بات تھی کہ جو کیفیت ’’النجم‘‘ کے سننے سے ہوئی ویسی کیفیت ’’الرحمن‘‘ سے نہیں ہوئی، حالاں کہ ’’الرحمن‘‘ کے قوافی اور ترجیعات معجزاتی ہیں۔ فرمانے لگے :’’قاری نے اُن قوافی کے تکرار کو قوافی سمجھ کر زیادہ نمایاں کیا اور اس وجہ سے ہم سب کا دھیان ادبی پہلو پر رہا۔ ’’النجم‘‘ پڑھتے ہوئے وہ قرآنی پیغام میں ڈوب گیا اور ہمیں اپنے ساتھ لے گیا۔‘‘
(’’اقبال‘‘ [علامہ اقبال کے خیالات کی نشو ونما] ’’نثر تاثیر‘‘، مرتبہ فیض احمد فیض)

تو یوں ہے صاحب، کہ اقبال کا ادبی پہلو اس نشست میں زیر بحث کم کم آئے گا اور اس اقبال پر بھی کم کم بات ہوگی جس کے کلام میں بہ قول فیض احمد فیض ’’فراق نصیب کا سوز و ساز اور حسرت ہے، بادشاہ کا سا غرور، گدا کا سا حلم، صوفی کا سا استغنا، بھائی کی سی محبت اور ندیم کی سی مودت‘‘ ہے۔ جو کیفیت کا شاعر ہے اور جس کے ہاں سوز و ساز، درد و داغ اور جستجو و آرزو کا ایساجادو جاگ اٹھتا ہے کہ قاری کلام کی تاثیر کے جام لنڈھاتا ہے اور اپنی فکریات میں ایک طلاطم بھی بپا دیکھتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

ہمدم دیرینہ کیسا ہے جہانِ رنگ و بو          سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو

فیض احمد فیض نے اس سوز و ساز اور جستجو و آرزو کو اپنے ایک مضمون مشمولہ’’میزان‘‘ میں دوسطحوں پر شناخت کیا تھا ایک ذاتی اور دوسرا نظریاتی یا فکری اور میں سمجھتا ہوں محسوسات اور کیفیات کا یہی ذاتی رُخ ان کے کلام میں تاثیر کا ساماں ہو جاتا ہے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جس فکری حوالے کی طرف فیض نے اشارہ کیا ہے، اس سے وہ اُس انتہائی درجے پر جڑے ہوئے تھے کہ یہ بھی ان کے کلام میں ذاتی حوالہ بن کرکلام کی خوبی ہو رہا تھا۔

۲۔ مذہب

فکر اقبال کا ایک حوالہ مذہب ہے۔ اس باب میں مجھے یہ دھول صاف کرنی ہے جو مذہب کے گالی ہو جانے والے اس زمانے میں، اقبال کو مسلمان شاعر یا مسلمانوں کا شاعر کہہ کر اڑائی گئی ہے اوریہ دھول کچھ یوں اُڑائی گئی ہے کہ اقبال کی شاعری سے محبت رکھنے والے بھی معذرت خواہی پر اترآئے ہیں۔ اقبال پر کسی جانے والی یہ’’ پھبتی‘‘ نئی نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا کہا جاتا رہا ہے مگر اقبال، جس نے مذہب کو ایک انقلابی قوت کے طور پراپنے کلام میں برتا ہے، ہر بار کہیں زیادہ قابل قبول ہوتے رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر ایم ڈی تاثیر کا اقبال پر لکھا ہوا ایک اور مضمون یاد آرہا ہے۔ اسی سے مقتبس کرتا ہوں، وہاں سے جہاں تاثیر اس سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ اسلامی شاعر اقبال کی شاعری عالمگیر کیسے ہوگئی؟۔ تاثیر لکھتے ہیں کہ اقبال کی شاعری بالکل اسی طرح عالمگیر شاعری ہے جس طرح ہومر اور دانتے، کالی داس اور ٹیگور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے شاعر ہیں۔ تاثیراپنے مضمون، جو ۱۹۳۸ء میں لکھا گیا تھا، میں یہ بھی لکھتے ہیں:

’’ہو مر کا کلام پڑھیے۔ بسم اللہ ہی دیوتائوں کے نام سے ہوتی ہے اور قدم قدم پر لوبان کے توہمات اور عقیدوں کا تذکرہ ہے۔ دانتے کٹر عیسائی ہی نہیں بلکہ اس قدر متعصب اور تنگ نظر ہے کہ وہ اپنی کتاب میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو بدترین گالیاں دیتا ہے۔ اگرآج کوئی مصنف ایسی کتاب ہندوستان میں لکھے تو اس کی کتاب ضبط ہو جائے اور نہ ہو تو جابجا بلوے ہو جائیں۔ فرقہ ورانہ فسادات برپا کرا دیے جائیں۔ کالی داس ہندو مذاہب کے دیوتائوں کا داس ہے اور ٹیگور بھی اپنی مذہبی روایات کا ترجمان ہے۔ دیوی دیوتائوں کا نام لیوا ہے۔ اقبال بھی ان سب کی طرح ان روایات کو استعمال کرتاہے۔ جن میں وہ پھولا پھلا پروان چڑھا۔ مگر ایک بات میں اقبال ان سب سے ممتاز ہے اور وہ یہ کہ وہ پرانی روایات کو اس طرح برتتا ہے کہ ان کامفہوم بدل جاتا ہے اور ان میں نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب کبھی اقبال ابراہیم خلیل اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے ایک نبی نہیں ہوتے بلکہ شاعر کا تصور انہیں جنگ آزادی کا مجسمہ بنا دیتا ہے اور آذر کے بت غلامی اور توہمات کی تمثیل بن جاتے ہیں جنہیں توڑ کر انسان صحیح انسانیت کا دعوے دار ہو سکتا ہے۔ ایسیـ’’خلیل‘‘ کو فرقہ واری کا نشان سمجھنا بدترین فرقہ ورانہ ذہنیت کی نشانی ہے۔ یہ تو وہ خلیل ہے جو عشق کا مجسمہ ہے، وطن کا، آزادی کا، عشق کا۔ جس کے متعلق اقبال نے کہا ہے:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی ‘‘
(’’اقبال‘‘، ’’نثر تاثیر‘‘، مرتبہ فیض احمد فیض)

اچھا محض ایسا بھی نہیں ہے کہ اقبال چوں کہ مسلمان تھے اس لیے ان کے ہاں مسلم تہذیبی اور ثقافتی تناظر بنتا چلا گیا بلکہ واقعہ یہ ہے اقبال اسلام کو ایسا نظام سمجھتے تھے جو تمام ابلیسی نظاموں کی بیخ کنی کرکے انسانیت کی فلاح کا موجب ہوسکتا تھا۔ یہیں سید سبط حسن کی کتاب ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘ کے چھٹے باب سے دو چار سطریں مقتبس کر رہا ہوں جو انہوں نے اقبال کی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ ‘‘ کے حوالے سے لکھی ہیں۔

’’اقبال نے اس نظم میں چار معاشروں کا ذکر کیا ہے۔ اول جمہوری معاشرہ یعنی سرمایہ داری نظام، دوم اشتراکی نظام، سوم فاشسٹ نظام اور چہارم اسلامی نظام۔ وہ سرمایہ داری نظام اور فاشزم کو ابلیسی نظام تصور کرتے ہیں اور اشتراکیت اور اسلامی نظام کو ابلیسی نظام کی ضد۔ مگر ان کا خیال ہے مستقبل میں ابلیسی نظام کا خاتمہ ہوگا تو اسلام کے ہاتھوں نہ کہ اشتراکیت کے ہاتھوں۔‘‘
(موسیٰ سے مارکس تک/سبط حسن)

موجودہ عہد تک آتے آتے قضیہ صرف اتنا نہیں رہتا کہ اقبال مذہبی روایات کو جس قرینے سے برت رہے تھے، اس میں اُن کامفہوم جدید زمانے سے نہ صرف ہم آہنگ ہو جاتا ہے اور ان میں نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں، جی آج کے عہد سے متصل معنی؛ بلکہ ’’مسجد فروشوں‘‘، ’’کلیسا دوستوں‘‘ اور ’’فرنگی تخیلات‘‘ کو عزیز تر رکھنے والے سارے گروہوں کی اصل الجھن یہ ہے کہ اقبال انہیں رد کرتے ہیں اور وہ اسلام کی اصل روح کو بحال کرکے، مذہب کو جمادات و نباتات کی سطح پر لے آنے والے مُلا سے چھین کر اسے مردان خدا مست و خود آگاہ کا مذہب بنانا چاہتے ہیں۔ اقبال کا یہ کہا ذہن نشیں رہے:

نہ صوفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
وہ دِل کی موت، یہ اندیشہ و نظر کا فساد

اور اس بگڑے ہوئے ملاکے بپا کئے ہوئے فساد اورنام کے صوفیوں کے تصوف کے نام پر عجیب و غریب حرکات نے مذہب میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے، اس کا علاج اقبال کے پاس یہی ہے کہ الٰہیات کے نام پر ترشے ہوئے سارے لات و منات توڑ دِے جائیں۔ اور یہ لات و منات تورنے کے لیے فکر اقبال کی روشنی میں دین فروش ملا اور نام نہاد صوفی کو ان کے مناصب سے معزول کر دیا جائے جو اندیشہ ونظر کا فساد اور دِل کی موت کا ساماں ہو گئے ہیں اور یہ فریضہ امت کے ان صاحبان حکمت کو سونپ دیا جائے جن کا دامن جوہر ادراک سے تہی نہیں ہے۔ اس باب میں اقبال ’’اسلام کا تصور حرکت‘‘ میں جو فرمایا جب تک ریاست کی سطح پر اس سے راہنمائی حاصل نہیں کی جائے گی مذہب فسادیوں کے ہاتھ کھلونا بنا رہے گا اور ریاست بھی بلیک میل ہوتی رہے گی۔

۳۔ دوقومی نظریہ:

فکر اقبال کا تیسرا بڑا اور اہم ترین حوالہ دوقومی نظریہ ہے تاہم اس باب میں اقبال سے درست درست رہنمائی کے لیے اسے اپنے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ میںذرا آپ کو کچھ پیچھے، یعنی مسلمانوں کی حکمرانی کے دور میںلے چلوں گا اور مسلمانوں اورہندو سمیت دوسری اقوام کی نفسیات کو نشان زد کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے بعدازاں دوقومی نظریے کو متشکل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک مسلمان یہاں حکمرانی کرتے رہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد مسلمانوں کی حکمرانی زوال کا شکار ہوتی چلی گئی اور پھر لگ بھگ سو برس بعد یہ انجام ہوا کہ کہا جانے لگا، حکومت شاہ عالم، از لال قلعہ تاپالم، یاد رہے پالم دلی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انگر یز ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت یہاں آچکا تھا اور مسلمان کمزور ہو چکے تھے مگر اس سارے عرصے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں غلام نہ تھے، غلامی کا احساس اگر کہیں تھا تو وہ ہندو ئوں اور دوسری اقوام کے ہاں تھا، انہیں اقتدار کے قریب تر ہونے کے لیے بہت کچھ چھوڑنا پڑ رہا تھا اور انہوں نے چھوڑا۔ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ ہندوستان تاج برطانیہ کے تحت تھا۔ اب ہندو اور مسلمان سب غلام تھے۔ ہندو تو پہلے سے غلام تھا، ایک غلامی سے نکلا اور دوسری میں چلا گیا مگر مسلمان کے ہاں شدید نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی۔ کہیں صدمے کی کیفیت، کہیں رنج اور کہیں بغاوت۔ ’’ شہید بن ‘‘ جیسی تحریکیں جو شمالی ہند سے چلیں اور بالاکوٹ پر ختم ہوئی، اسی رد عمل کا شاخسانہ تھیں۔ سندھ میں حروں کاردعمل بھی اسی احساس کا نتیجہ ہے۔

اس نفسیاتی ردعمل کا ایک اور مظاہرہ یوں ہوا کہ ہندو جو پہلے، یعنی مسلمانوں کی حکمرانی کے زمانے میں اپنی زبان چھوڑ کر فارسی زبان سیکھتا تھا کہ وہی دربار سرکار کی زبان تھی، انگریز وں کی آمد کے بعد انگریزی سیکھنے لگا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اس کے ہاں کوئی نفسیاتی رکاوٹ نہ تھی، جب کہ مسلمان کے ہاں انگریزی اور جدید علوم کی طرف متوجہ ہونے میں یہی نفسیاتی دیوار حائل تھی کہ وہ غلامی کے احساس سے دو چار ہوتے تھے۔ مسلمانوں کا یہ رد عمل، انگریزوں کی جانب سے کی جانے والے تہذیبی اور ثقافتی انقلاب کی کوششوں کے مقابل شدید تر ہوتا چلا گیا۔ ہندو اگر لارڈ میکالے کی تعلیمی اصلاحات کا خیر مقدم کر رہا تھا تو مسلمان کہیں تو ٹھٹھک کر الگ کھڑا تھا اور کہیں مزاحم ہو رہا تھا۔ یہ وہ وجوہات تھیں کہ مسلمان معاشی اور معاشرتی طور پر بدحال ہوتا چلا گیا اور ہندو سماجی مرتبے میں توقیر پانے لگا تھا۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو مسلمان یا تو منڈیوں میں مزدور ہوں گے یا سرکاری دفتروں میں چپڑاسی۔

اب آئیے مسلمان علماء اور رہنمائوں کے رد عمل کی طرف۔ تو ایسا ہے کہ یہاں دو طرح سے ردعمل ہو ا ایک وہ تھے جو مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف ردعمل پر ابھارتے ہوئے انہیں انگریزی زبان اور جدید علوم کے سیکھنے سے بھی روک رہے تھے اور دوسری قسم کے رہنمائوں میں سر سید احمد خاں تھے جو ۱۸۵۷ ء کی بغاوت کے اسباب لکھتے ہوئے اگر ایک طرف انگریزوں کو یہ باور کرانے کے جتن کر رہے تھے کہ مسلمان باغی نہیں ہیں، یہ ایک رد عمل تھا جو انگریز کے فیصلوں میں ان کے شریک نہ کیے جانے کی وجہ سے ہوا، تو دوسری طرف وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف آنے پر مائل کر رہے تھے۔ انڈین کانگریس ۱۸۸۵ ء میں جب کہ آل انڈیا مسلم لیگ اکیس سال بعد ۱۹۰۶ میں بنی اور اس سیاسی ڈیوپلمنٹ کے پیچھے، یہی احساس کام کر رہا تھا۔ بعد میں مسلمانوں کے تحفظات بلکہ کئی طرح کے خوف بڑھتے چلے گئے ان میں ایک خوف تو یہ تھا کہ انگریز اور ہندو بہت سارے معاملات میں ایک ہو جایا کرتے تھے۔ ایسے میں اس خوف کا حملہ اوراس خوف کی گرفت شدید تر ہوگئی تھی کہ جب انگریز برصغیر سے چلے جائیں گے تو مسلمانوں اقلیت میں ہو کر ہندوئوں کے رحم وکرم پر ہوں گے اور ہندو اپنی غلامی کے زمانے کا خوب خوب بدلہ لے گا۔

یہ تھی وہ فضا جس میں اقبال جیسے مفکر، فلسفی، شاعر اور دانشور کو اپنا کام کرنا تھا۔ یہ وہی اقبال ہیں جو ایک زمانے میں کہتے تھے:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا

مگر جو بعد میں انگلستان اور جرمنی سے ہو کر آئے تو ’’مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے‘‘ کے مصداق زیادہ مسلمان ہو کر سوچ رہے تھے اور وطنی قومیت کو یکسر رد کر رہے تھے۔

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

جس فضا میں دو قومی نظریے کی تشکیل ہوئی، اس نے اس نظریے کو یوں اہم بنا دیا ہے کہ اس نے بغیر نفسیاتی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سماجی سطح پر نڈھال مسلمانوں کو ایک قوم کی صورت متحد کر نا ممکن بنادیا تھا۔ اقبال کے صدارتی خطبہ الٰہ آباد کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہیں سے ایک خوف ایک جذبے میں بدلتا ہے۔ یاد رہے۱۹۳۰ ء تک مسلم لیگ نوابوں اور جاگیرداروں کی جماعت تھی، جو اس کے بعد عوامی جماعت بنی۔ اقبال۱۹۳۲ء کی گول میز کانفرنس کے لیے لندن گئے تو قائد اعظم محمد علی جناح سے ملے جو وہاں مسلمانوں کی حالت اور ہندوستانی سیاست سے مایوس ہو کر اپنی وکالت کے سلسلے میں مقیم ہو گئے تھے۔ اقبال نے انہیں قائل کیا کہ ہندوستان کے مسلمان کو ایک روشن دماغ قائد کی ضرورت ہے۔ قائداعظم ہندوستان آئے اور دو قومی نظریے کے پرچارک بنے یوں مسلمان ایک قوم کی صورت بیدا ر ہوئے۔ جب ۱۹۳۸ میں اقبال کی رحلت ہوئی تو قائداعظم نے کہا تھا کہ وہ اپنے ذاتی دوست، رہنما اور روحانی قوت کے فیضان سے محروم ہوگئے ہیں۔

ہر موومنٹ کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ وہ تحریک جس کے پیچھے دوقومی نظر یہ کام کر رہا تھا، اس کی ایکسپائری ڈیٹ، بہت خوشگوار انجام پر آئی۔ پاکستان بن گیا۔ اور وہ جو اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد کہا تھا کہ:

“The life of Islam, as a cultural force, in this country, very largely depends on its centralization in a specified territory.”

تو یوں ہے کہ اقبال کا بنیادی نظریہ ایک مرکز محسوس کا قیام تھا۔ پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں کو اُس فضا سے نکل جانا چاہیے تھا جس میں قوم بننے کے لیے وطن کی نفی اور مذہب پر اصرار بنیادی عناصر ہو جاتے ہیں۔ اب پاکستانی ایک قوم اسی صورت میں بن سکتے ہیں کہ یہاں وطن ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انہی کی مرضی چلنی ہے کہ جمہوریت کا یہی تقاضا ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہ تھی اور نہ ہے جو مذہبی بنیادوں پر پاکستانیوں کو تقسیم کرکے تعصبات کو ہوا دے رہی ہیں، اور نہ ہی ایسی جماعتوں کی گنجایش ہے جو پاکستان کی مذہبی شناخت ہی کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں جو شدت پسندی اور عدم رواداری ہے اس کی وجہ ایسی جماعتیں ہیں اور ان کے عسکری ونگز ہیں جو خود اپنی مرضی سے تصور پاکستان کی تشریح کرتے اور زور زبردستی لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں فکری انتشاراور آپا دھاپی کی یہی وجوہات ہیں جن پر قابو پانے کے لیے مسئلے کی بنیادوں کو سمجھنا ہوگا۔ ایسے میں قیام پاکستان سے قبل والی دوقومی نظریے والی تشریحات پر اصرار انتہائی خطرناک ہوگا۔ ممکن ہے ماہرین اقبالیات مجھ سے اتفاق نہ کریں مگر میں پورے اخلاص سے سمجھتا ہوں کہ معاصر صورت حال میں دوقومی نظریہ محترم ہو کر بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ اب ہم ایک پاکستانی قوم ہیں۔ میں جو یوں سوچ رہا ہوں تو یہ اقبال کی فکر کی نفی نہیں، انہی کی عطا کی ہوئی فکر سے اخذ کر رہا ہوں۔ یہاں ’’حرف اقبال‘‘ سے وہ عبارت نقل کرنا چاہتا ہوں جو پروفیسر فتح محمد ملک کی کتاب ’’اقبال :فکروعمل‘‘ میں اس موضوع پر بہت اہم بحث میں مقتبس ہوئی ہے :

’’قومیت کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے صرف ان ممالک میں پیدا ہوتا ہے جہاں وہ اقلیت میں ہیں اور جہاں قومیت کے مغربی تصور کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی ہستی کو مٹادیں۔ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں، اسلام قومیت سے ہم آہنگی پیدا کر لیتا ہے کیوں کہ یہاں اسلام اور قومیت عملاً ایک ہی چیز ہیں۔‘‘
(’’اقبال :فکرو عمل‘‘، فتح محمد ملک)

جب تک پاکستان کے ایک ایک فرد کو اپنی قوم کا فرد نہیں سمجھا جائے گا یہاں بسنے والے دوسرے مذاہب کے افراد اقلیت ہو کر کم تر درجے کے شہری ہوجائیں گے۔ کم تر شہری اور غیر۔ اور یہ عمل وطن کو ’’اتحاد انسانی کی اساس‘‘ نہ ماننے کے مترادف ہوگا ظاہر ہے یہ عمل فکر اقبال سے متصادم ہے۔ ایک قوم بننے کے لیے ہمیں اپنے بیانیے میں اس حد تک ترمیم کرنا ہوگی ورنہ ہم اپنے ہی کچھ ہم وطنوں کو حقیر سمجھنے والا گروہ رہیں گے ایک قوم نہ بن پائیں گے۔

۴۔ ربط و ضبط ملت

پاکستان اپنے واضح قومی تصور کے ساتھ ہی مسلم ممالک اور دوسری اقوام عالم سے باہمی تعلقات کو بااعتماد بنا سکتا ہے۔ مسلمان ایک ملت ہیں بجا اور سارے مسلم اکثریت والے ممالک ایک خاص تعلق میں جڑ جانے چاہیئں یہ خواہش بھی فطری ہے مگر جب اقبال یہ فرماتے ہیں کہ:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

تو اس کے قطعاً یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ سب ممالک ایک قومی ریاست کی اکائیاں ہیں۔ یہ سب الگ اور خود مختیار ممالک ہیں اور اپنی اپنی ترجیحات کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک سے اپنے تعلقات استوار کرنے میں حق بہ جانب ہیں تاہم فکری حوالے سے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی یہ وہ صورت ہے جو ملت اسلامیہ کو اقبال نے دکھائی ہے۔ اس باب میں اقبال کے ہاں رنگ و نسل کے امتیازات اور جغرافیائی حدود کے مقابلے میں مذہب ایسی قوت کے طورشناخت ہوتا ہے جو مغرب کی سامراجی قوتوں کے استحصال سے مسلم ممالک کو نہ صرف محفوظ رکھ سکتا ہے، اس رشتے کے حوالے سے باہمی ربط و تعاون کے ادارے قائم کرکے قومی اور سماجی سطح پر ترقی کی رفتار کو بھی تیز ترکیا جاسکتا ہے۔ یہیں مجھے اقبال کی نظم ’’شکوہ‘‘ یاد آتی ہے جو ۱۹۰۹ء میں لکھی گئی اور ’’بانگ درا‘‘ کا حصہ ہے۔ اقبال اس نظم میں ساری دنیا میں موجود مسلمانوں کی حالت زار کی طرف متوجہ ہیں۔ سیاسی ناداری، اقتصادی کمزوری اور معاشرتی سطح پر ذلت اور رسوائی میں پڑا مسلمان اقبال کو بہت رنجیدہ کرتا ہے۔ انہیں اس عالم میں پھینک دیے جانے پر وہ اپنے خدا سے شکوہ کرتے ہیں، یہ شکوہ اس نظم کا اسلوب ہے جو اپنے زمانے میں مسلمانوں کو نہ صرف جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے، خود اقبال سے بھی طرح طرح کے سوالات ہونے لگتے ہیں۔ ایسے سوالات کہ بعد میں اقبال کو جواب شکوہ بھی خود ہی لکھنا پڑا۔ مسلمانوں کی ذہنی، معاشی اور معاشرتی پس ماندگی کا منظر نامہ اب بھی نہیں بدلا۔ مسلمانوں ممالک کے اختلافات، گروہ بندی، اور فکری تنزل ایسا ہے کہ گرتے چلے جانے کا یہ سفر کہیں رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔

فکر اقبال میں اس ذلت سے نکلنے کی راہیں سجھا دی گئی ہیں۔ مثلاً اپنے چوتھے خطبے میں ایک مقام پر وہ فرماتے ہیں:

’’بہر حال اب ہمارے سامنے کوئی راستہ ہے تو یہ ہے کہ علم حاضر کے احترام اور قدر و منزلت کے باوجود ہم اپنی آزادی رائے برقرار رکھتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کر یں کہ اسلامی تعلیمات کی تعبیر علم حاضر کے پیش نظرکس رنگ میں کرنی چاہیے۔ ‘‘

گویا مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں، انہیں علم حاضر کی طرف متوجہ ہونا ہوگا اس کا احترام اور قدرومنزلت کرنا ہوگی تاہم مرعوبیت کی اس فضا سے بھی نکلنا ہوگا جس میں آزادی رائے سے حق دھونا پڑتے ہیں۔ اقبال جو راہ سجھاتے ہیں اس میں اسلامی تعلیمات کو جدید علوم سے متصادم جان کر تحصیل علم سے بے نیاز ہونے والے طبقے کو پس ماندگی سے نکالنے کا حل موجود ہے اور اپنے مذہب کو پس ماندگی کی علامت سمجھتے ہوئے جھٹک کر اسے محض نجی معاملہ قرار دیتے ہوئے اپنی مذہبی شناخت اور احساس ذات کھو بیٹھنے والوں کے لیے ہدایت بھی۔

احساس ذات اور انا، اقبال کے ہاں خودی کی صورت ظاہر ہو کر انسانی شعور کی وحدت کی علامت ہو جاتی ہے۔ چوتھے خطبے میں اقبال کا یہ بھی کہنا ہے کہ:

’’ہمارے داخلی محسوسات و مدرکات کا مطلب ہی یہ ہے کہ خودی کا عمل دخل جاری و ساری رہے۔ جب ہم کسی شے کا ادراک کرتے ہیں یا اس پر حکم لگاتے ہیں یا کوئی ارداہ باندھتے ہیں تو ایسا کرنے میں خودی ہی سے آشنا ہو رہے ہوتے ہیں۔ ‘‘

فرد اور ریاست دونوں کی ایک ذات ہوتی ہے، اس کا احساس انفردی سطح پر اور اجتماعی سطح پر انسانی شعور کی وحدت کی علامت اسی خودی کی صورت میں بن سکتا ہے۔ اقبال یہیں نہیں رُک جاتے، آگے بڑھتے ہیں اور اپنے پانچویں خطبے میں، اسلامی ثقافت کی تشکیل پر زور دیتے ہیں جو مقامی ثقافتوں کے احترام کے ساتھ ایک ایسا ماحول بنا دیتی ہے جو ربط و ضبط ملت کی اساس کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اقبال اس باب میں مذہبی پیشوائیت کو رد کرتے ہیں اور موروثی بادشاہت کو بھی جائز نہیں سمجھتے۔ چھٹے خطبے میں انہوں نے صاف صاف کہا ہے کہ ایک اسلامی ریاست ملوک و سلاطین کی مطیع نہیں ہوتی رب واحد کی مطیع ہوتی ہے۔ مسلم ریاستیں جہاں کہیں حقیقت مطلقہ کے اس تصور سے وابستہ ہو جاتی ہیں وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغیر دونوں خصائص کا خیال رکھنے لگتی ہیں، ان کے پاس ایسے دوامی اصول ہوتے ہیں جو ہیت اجتماعیہ میں نظم و ضبط قائم کریں اور ایسی دنیا میں، کہ جہاں قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں اور دنیا مسلسل بدل رہی ہے اپنے قدم مضبوطی سے جما سکیں۔ اقبال سیاسی زوال و انحطاط کے اس دور میں قدامت پسند مفکرین کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ مسلمانوں کو ہر صورت میں قوانین شریعت کی تعبیر میںفقہائے متقدمین ہی کی پیروی کو لازم کر لینا چاہیے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قوانین اسلامی کی تفہیم و تعبیر میں نشو و نما اور ارتقا کی گنجائش رہتی ہے اس تعبیر کو نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے ہی مسلم معاشرے میں تحرک کو ممکن بنایا جاسکتا ہے اوراس معاشرے میں زندگی کا التزام رکھا جاسکتا ہے۔ اجتہاد کا یہ اہم فریضہ وہ کسی ایک فرد یاکم علم ملا کو سونپنے کی بہ جائے کسی منتخب ادارے یا شوری کو سونپنا چاہتے ہیں۔

اقبال نے فرد اور ریاست کی سطح پر ملت اسلامیہ کی جو رہنمائی فرمائی ہے وہ آج نصب العین ہو جائے تو نہ صرف اسلامی ریاستیں مستحکم ہوں گی، مسلمان بھی ذلت و رسوائی سے نکل آئے گا اور مسلمان ممالک کے باہمی ربط و ضبط کی اساس بھی بہم ہو جائے گی۔ جی ایسی اساس جس میں وطنی قومیت کے احترام کے ساتھ ملت کی سطح پر ایک ہو جانے اور اقوام عالم میں ایک قوت کی علامت ہوکر رہنا ممکن ہو جائے گا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اقبال کا وہ شعر یہاں پڑھ دو ں، جو اوپر عرض کر آیا ہوں۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

۵۔ معاصر عالمی منظرنامہ

معاصر عالمی منظر نامے میں بھی فکر اِقبال کی ایک معنویت بنتی ہے، وہ راہنما معنویت کیا ہے، اس پر بات کرنے لگا ہوں تو مجھے یہاں مجھے ایڈورڈ سعید کا معروف مضمون “Clash of Definations”یاد آگیا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جس میں ایڈورڈ سعید نے سموئیل پی ہن ٹنگٹن کے بدنام زمانہ مضمون Clash of Civilazationsپر بھر پور گفتگو کی ہے۔ ہن ٹنگٹن کی رائے یہ تھی کہ دیگر تہذیبیں اور بطور خاص اسلامی دنیا لازمی طور پر مغرب سے متصادم ہے۔ اس مضمون میں، اس کے نفرت پر مبنی یہ خیالات بہت اصرار آمیز تھے اور بہ قول ایڈورڈ سعید، ہن ٹنگٹن کا یہ مضمون آخر میں مغرب کو جارحیت پر اکساتا ہے اور تہذیبوں کے تصادم کو یقینی بنا دیتا ہے۔ یاد رہے ہن ٹنگٹن کا مضمون’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ ۱۹۹۳ء میں ’’فارن افیئرز ‘‘ نامی شمارے میں شائع ہوا تھا جو ۱۹۹۵ میں ان کی کتاب کا حصہ ہوا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنے مضمون میں یہ بتاتے ہوئے کہ امریکی رسالے ’’فارن افیئر‘‘ کے اولین مخاطب واشنگٹن کے پالیسی ساز اوراوپینین میکر ہوتے ہیں۔ یہ بھی سجھا دیا ہے کہ تب امریکہ اور مغربی دنیا کے تیور کیاتھے۔ خیر تب سے اب تک دنیا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کی نظر میںہے ہم اس دردناک احساس سے دوچار رہے ہیں اور ہیںکہ سرد جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی متکبر امریکہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے ایک نئی جارحیت کا آغاز ہو گیا تھا اوراسی تصادم، تفریق، منافرت، انتشار اور تشدد سے معاصر عالمی منظر نامہ بن رہا ہے۔ اس منظر نامے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ایک نظر گلوبلائزیشن کے تصور پر بھی ڈال لیجئے۔

یہ بھی پڑھئے: اقبال اور پاکستان: درست تناظر —— عامر منیر

 

گلابلائزیشن اور گلوبل ولیج جیسی اصطلاحیں پہلی نظر میں کتنی اچھی لگتی ہیں۔ یوں لگتا جیسے ساری دنیا ایک گائوں میں سمٹ آئی ہو، ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے والا گائوں، کوئی سرحد نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں۔ سب کے وسائل سانجھے، سب کی ترقی اور آگے بڑھنے کے امکانات ایک جیسے مگر یہ سب ایک سراب نکلتا ہے۔ اور ہوتا یہ ہے بڑے بڑے سرمایہ داروں، تاجروںاور صنعت کاروں کو سرمائے کے ارتکاز کے لیے بلاروک ٹوک راہیں مل جاتی ہیں۔ وہ دنیا میں جہاں چاہتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اپنی دکان کھولتے، اپنا سودا بیچتے اور سرمایہ سمیٹ لے جاتے ہیں۔ اس عالمی منظرنامے میں کہ جس میں ہم صرف صارف ہیں کٹھ پتلی ہو کر رہ گئے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ قومی سطح پر اس صورت حال کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ ہمارے دانش وروں کو وہی سچ نظر آتا ہے جو میڈیاان کو دکھاتا اور سجھاتا ہے۔ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ یہ وہ عہد ہے جس میں دانش وروں کی دانش چوری ہو گئی ہے اور ستم یہ کہ اس چوری کا انہیں احساس تک نہیں، ایک کڑوا سچ ہو گیا ہے۔ احساسِ زیاں کے مر جانے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ملت مسلمہ نے اپنے ہاں افکار تازہ کے دروازوں پر زنجیریں چڑھا دی گئی ہے۔

اقبال نے کہا تھا :

جہان ِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

فکر اقبال کو رد کرنے والے جب اقبال کے ہاں ایسے مقامات دیکھتے جہاں مادی زندگی پر روحانی زندگی کو ترجیح دی جارہی ہوتی ہے یا عقل عیار کے مقابلے میں عشق اہم ہو جاتا ہے تو وہاں وہ فوراً یہ فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ اقبال عہد جدید کی مغربی ترقیات، جو سائنسی علوم کے حصول اور مادیت پسند حکمت و دانائی کے سبب ان کا مقدر ہوئی ہیں، رد کرتے ہوئے اس کی برکات سے امت مسلمہ کو محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تصور اورفکرِ اقبال کی یہ تشریح سراسر گمراہ کن ہے۔ ـاقبال، اسلام کے جس حرکی تعبیر کے ساتھ آگے بڑھنے کے متمنی ہیں اس میں مادہ جسم کی صورت ہے اوراس میں جان اس کی روحانی زندگی ؛ وہ انہی دونوں کے توازن سے زندگی کو تعبیر دیتے ہیں۔ مثلاً جب اقبال یہ کہہ رہے ہوتے ہیںکہ:

تیرے سینے میں دَم ہے دِل نہیں ہے
تیرا دَم گرمی ِ محفل نہیں ہے
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اقبال عقل کی نفی کر رہے ہیں۔ ذرا غور فرمائے اقبال نے تو عقل کو نور کہا ہے، اسے ایسا چراغ کہا ہے جومنزل کی سمت جانے والا راستہ روشن کر رہا ہے۔ یہیں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا صرف مادی ترقی سے ہی انسان مسرت حاصل کر سکتا ہے ؛ یقینا نہیں، یہ اس جانب جانے والا راستہ تو ہو سکتا ہے منزل نہیں۔

خیر، گفتگو کا یہ رُخ ضمناً ادھر مڑگیا ورنہ یہاںکہنا یہ تھا کہ اقبال مسلم اُمہ کی مصیبتوں کا سبب اسے سمجھتے ہیں کہ یہ الحاد مادی کی طرف لپک تو رہی ہے مگر ہو یہ رہا ہے کہ خداا سے چاہیے نہیں اور وصال صنم سے یہ مسلسل محروم ہے۔ یاد رہے دہریت کا فلسفہ مغرب کی جس سرمایہ دارانہ تہذیب کی دین ہے اس نے دوسری تہذیبوں کو دشمن کے طور پر دیکھا، محکوم کے طور پر برتا، اور صارف بنا کر استحصال کی تیز کٹار سے کاٹا ہے۔ عالمی امن کی طرف پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی میراث سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوں اور کتابِ ملت ِبیضا کی شیرازہ بندی کرکے، اس خواب کی تعبیر ممکن بنا دیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا کہ یہی راستہ ’’رازِ کُن‘‘ ہے اور فکرِ اقبال کی عطا کی ہوئی اِسی حکمت سے مسلمان اور اسلامی ممالک اقوام عالم میں محترم اور معتبر ہو سکتے ہیں اور یہی وہ راہ ہے جو بالآخر مادیت اور ہوس کے ہاتھوں ٹکڑوں میں بٹی انسانیت کو اخوت کا بیان اور محبت کی زبان بنا کر امن عالم کی منزل سے ہمکنار کر سکتی ہے:

تو راز ِکُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس کے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: