تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

دہشت گرد ریاضی دان: عاطف حسین

by عاطف حسین 11/07/2017
written by عاطف حسین 11/07/2017
210

بیشتر بڑے ریاضی دان شاید کچھ نہ کچھ سنکی ہی ہوتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی کسی دہشت گردریاضی دان کے بارے میں بھی سنا ہے؟ ٹید کیزنسکی ایک ایسا ہی ریاضی دان ہے۔

1978ء سے 1995ء تک کیزنسکی ایف بی آئی کیلئے مستقل دردِ سر بنا رہا۔ اس دوران میں اس نے 16 مختلف دھماکے کیے جس میں تین لوگ جان بحق اور 23 زخمی ہوئے۔ وہ زیادہ تر ڈاک کے ذریعے بم بھیجتا اور سترہ سال میں اس کے بھیجے گئے بم زیادہ طاقتور اور ہلاکت خیز ہوتے گئے تاہم ایف بی آئی اپنی تاریخ کی مہنگی ترین مہمات میں سے ایک چلانے کے باوجود اس کو گرفتار یا شناخت کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے حملوں کے ٹارگٹ زیادہ یونیورسٹیاں اور ایئر لائنز ہوتیں اسی لیے میڈیا نے اسے Unabomber کہنا شروع کردیا۔ اس کی اصل شناخت کا عقدہ اس کے بھائی کی مخبری پر 1996ء میں اس کی گرفتاری پر ہی حل ہوسکا۔

کیزنسکی 1942ء میں پیدا ہوا اور کم عمری میں ہی ایک ایسی الرجی کا شکار ہوگیا جسکی وجہ سے اسے کچھ عرصہ کیلئے ہسپتال میں مکمل علیحدگی میں رکھنا پڑا۔ وہ صحت یاب تو ہوگیا لیکن اس کی ماں کے مطابق اس کے بعد وہ تبدیل ہوگیا۔ اسکول میں بھی وہ انتہائی شرمیلا اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لیکن غیرمعمولی طور پر ذہین بچہ ثابت ہوا۔ خاص طور پر ریاضی میں اسکی قابلیت حیران کن تھی۔

غیر معمولی کارکردگی کی بنیاد پر صرف 16 سال کی عمر میں اسے ہاورڈ میں داخلہ ملا جہاں سے اس نے اپنی گریجویشن کی۔ ہارورڈ میں بھی اپنے آپ میں مگن رہا اور اس نے کسی قسم کی سیاسی و سماجی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم ہاورڈ میں وہ  ایک ایسی متنازعہ نفسیاتی تحقیق کا حصہ رہا جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس نے اس کی شخصیت کو مجروح کیا۔

ہاورڈ سے گریجویشن کے بعد کیزنسکی نے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں یونیورسٹی آف مشی گن سے حاصل کیں۔ اس کا پی ایچ کا ڈی کا مقالہ اتنا مشکل تھا کہ اس کے مقالے کوجانچنے والے ایک پروفیسر نے تبصرہ کیا کہ پورے میں مشکل سے شاید دس بارہ لوگ ہی ہوں گے جو کیزنسکی کے کام کو ٹھیک سے سمجھ سکتے ہیں۔اس کے مقالے کو  اس سال کے یونیورسٹی کے بہترین مقالے کا  انعام بھی ملا۔

 شاند ار تعلیمی ریکارڈ اور غیر معمولی ذہانت  کی بنیاد  پر اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے  کے کم عمر ترین پروفیسر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا جہاں اس نے دو سال تک پڑھایا لیکن پھر 1969ء میں اس نے محض 27 سال کی عمر میں اچانک استعفیٰ دے دیا  اور  بھائی کی مدد سے ایک ویرانے میں جگہ خرید کر اپنے لیے ایک کیبن بنایا اور اس میں رہنا شروع کردیا۔ اس میں بجلی اور پانی نہیں تھا ۔

کچھ عرصے کیلئے وہ واپس شہر آیا اور اپنے بھائی کی فیکٹری میں کام شروع کیا لیکن جب اسے ایک خاتون ساتھی کو ہراساں کرنے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا تو وہ دوبارہ  ویرانے میں چلا گیا۔

جب ویرانے میں اس نے فطری حسن کی بربادی دیکھی تو اسے یقین ہوگیا کہ صنعتی تہذیب کے دور میں کسی اکیلے انسان کیلئے بھی سکون سے فطرت میں رہنا ممکن نہیں رہا۔ اسے خاص طور پر غصہ تب آیا جب اس کی  ایک پسندیدہ جگہ سے سڑک گزاردی گئی۔  اسے یقین ہوگیا کہ اس نظام کی کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی لہذا اب ایک ہی حل ہے کہ  ٹیکنالوجی پر استوار اس نظام کو انقلاب کے ذریعے ختم کردیا جائے۔

اس نے اپنی بم مہم میں شدت پیدا کی اور  1995ء میں اس نے خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اس کا 35000 الفاظ کا منشور بڑے اخباروں میں شائع کیا جائے ورنہ وہ اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں جاری رکھے گا۔ خاصے بحث مباحثے اور سوچ و بچار کے بالآخر  نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے ستمبر 1995ء میں اس کا منشور شائع کردیا جس کا نام اس نے "صنعتی معاشرہ اور اس کا مستقبل” رکھا۔

آپ کو شاید لگے کہ نفسیاتی الجھنوں کے شکار کسی دہشت  گرد کا منشور کوئی بے ربط  اور بے کار تحریر ہوگی مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ منشور ایک سوچ سمجھ کر لکھی ہوئی، مربوط اور رواں تحریر ہے جو ایک مبصر کے الفاظ میں ‘پریشان کن حد تک قائل کرنے والی’ ہے۔ پروفیسر جیمس کیو ولسن نے لکھا کہ "اگر یہ کسی دیوانے کی تحریر ہے تو پھر تو پھر روسو، پین اور مارکس جیسے مفکروں کی تحریروں میں بھی کچھ خاص فرزانگی نہیں”۔

اپنے منشور میں وہ  بتاتا ہے کہ  ہے کہ کس طرح  ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی آزادی  دن بدن محدود ہوتی جارہی ہے اور اس سے کیا  کیا مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے نزدیک زمین پر اپنے وجود کے آغاز سے لے کر ہزاروں لاکھوں سال تک انسان جس فطری نہج پر زندگی گزارتا رہا اور "پاور پراسیس” سے گزرتا رہا ، ٹیکنالوجی نے اس کو بدل ڈالا ہے اور انسان کو اپنے فطری داعیات کے خلاف زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے جس سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے۔ "پاور پراسیس” کا تصور اس کے منشور میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق انسان فطری طور پر زندگی میں حقیقی اہداف، حقیقی کوشش اور کچھ نہ کچھ کامیابی کے عمل سے آزادنہ طور پر گزرنا چاہتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی نظام نے سے اس عمل میں رکاوٹ ڈال دی ہے اور اسکی جگہ فرد پر سسٹم کی جانب سے تھوپے ہوئے افعال نے لے لی ہے۔   مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں خصوصا ‘لیفٹ’  کے نفسیاتی تجزیے سے وہ بتاتا ہے کہ اس عمل کے کیا تباہ کن نتائج مرتب ہوئے ہیں۔ یہ تجزیہ نہایت دلچسپ اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

وہ ان سوالات پر بحث کرتا ہے کہ  اگر یہ یوں ہی چلتا رہا تو  نوعِ انسانی  کے لیے اس کے ممکنہ نتائج کیا  ہوسکتے ہیں، اس نظام کی اصلاح  ہوسکتی ہے یا اسے انقلاب کے ذریعے ختم کردینے کی ضرورت ہے،  انقلاب کیسے آئے گا، کیا ٹیکنالوجی کو ختم کیا جاسکتا ہے، کیا  تاریخ میں ٹیکنالوجی میں معکوس ترقی کی مثال موجود ہے، کونسی ٹیکنالوجی کو ختم کیا جانا چاہیے اور کس کو نہیں۔

اس منشور کی اشاعت کے بعد  اس میں پیش کیے گئے خیالات کی بنیاد پر اس کے بھائی کو شک ہوا کہ  ٹیڈ کیزنسکی اس کا مصنف ہوسکتا ہے۔ اس کی ٹپ پر ایف بی آئی نے اس کے کیبن پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا جہاں سے اس کے Unabomber  ہونے کے ناقابل تردید ثبوت بھی میسر آئے۔ عدالت میں کیزنسکی نے دیوانگی کا عذر پیش کرنے سے انکار کردیا اور اپنے جرم کا اقرار کیا جس پر اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔ وہ اب بھی جیل میں ہے اور جیل سے ہی اپنے خیالات پر مبنی پر مزید دو کتابیں بھی شائع کی ہیں جس میں اپنے نظریے کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔

کیزنسکی کے متعلق ڈاکیومنٹری دیکھنے کیلئے یہاں، اس کا منشور پڑھنے کیلئے یہاں اور اسکی کتاب "ٹیکنالوجی کی غلامی” پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

Facebook Comments Box
ٹیکنالوجیجدید انسانروسوریاضی دانصنعتی تہذیب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
عاطف حسین

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

previous post
جے آئی ٹی رپورٹ اور پاکستانی سیاست کا المیہ: مجاھد حسین
next post
فونٹ کا جھگڑا: کیلبری کے خالق لوکس ڈی گروٹ کیا کہتے ہیں؟

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.