تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
کالممذہبی

تہذیبی ارتقااور مذہب : خورشید ندیم

by ویب ڈیسک 06/06/2017
written by ویب ڈیسک 06/06/2017
123

رسالت مآب سیدنا محمد ﷺ کے بعد، کیا تاریخ کی شاہراہ پر کسی ایسی شخصیت کے نقوش ِ پا موجود ہیں جس نے تنہا انسانی تہذیب کا رخ بدل ڈالا ہو؟
چند پڑھے لکھے احباب کی مجلس میں اس سوال پر گفتگوکا آغاز ہوا اور پھر یہ بحث ایک فطری نتیجے کے طور پر، مذہب اور سائنس کے سماجی کردار کی طرف چل نکلی۔ سائنس کی محیر العقول دریافتوں اور ایجادوں کا ذکر ہواتو ایک دوست نے دلچسپ سوال اٹھایا: ’’ اگر آج کی زندگی سے سائنس کو نکال دیا جائے تو کیا زندگی کا عمل جاری رہ سکے گا؟ اگر آج کی زندگی سے مذہب کو نکال دیا جائے تو کیا زندگی کا عمل جاری رہے گا‘‘؟ ان کا نتیجہ ٔ فکر یہ تھا کہ مذہب کے بغیر تو زندگی ممکن ہے لیکن سائنس کے بغیر نہیں۔ آج اگر بجلی نہ ہو تو سماج کی رفتار تھم جائے۔ کمپیوٹر نہ ہوتوتہذیبی ارتقا رک جائے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ مذہب ایک مابعد الطبیعاتی تصور ہے۔ اگر زندگی بعد موت امر واقعہ ہے تو پھر مذہب کی ضرورت ہو گی۔ بصورت دیگر مہد سے لحد تک مذہب کی کچھ ایسی حاجت نہیں۔
سالوں پہلے جنہوں نے اعلان کیا کہ (معاذاﷲ) ’God is dead‘ وہ بھی دراصل یہی کہنا چاہتے تھے۔ ان کے خیال میں اگر اسے درست مان لیا جائے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے تو بھی شواہد یہی ہیں کہ وہ تخلیق کے اس عمل کے بعد اس کائنات سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ یہ کچھ قوانین فطرت ہیں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ عملاً خدا سے انسان اور کائنات کا کوئی تعلق باقی ہے نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔


انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا تمام تر تہذیبی ارتقاء اس کے تصور جمال کی عطا ہے۔ تصور ِجمال کا ماخذ انسان کے مادی وجود میں نہیں، کہیں اور ہے۔


یہ بحث اب نئی نسل میں ہونے لگی ہے۔ اس نسل کو زندگی کے آغاز و انجام سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ اسے پیدائش سے موت تک کی درمیانی مدت کے بارے میں تشویش ہے کہ وہ کیسے گزرے گی۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ یہ زندگی وہ کسی تصورِ خدا کے بغیر بھی گزار سکتا ہے، بلکہ درست تر الفاظ میں،گزار رہا ہے۔ تاہم کمپیوٹر یا موبائل فون کے بغیر،اس کا خیال ہے کہ زندگی کا تصور محال ہے۔

مجھے یہ بحث موضوعی (subjective) دکھائی دیتی ہے۔ میں زندگی سے کیا مراد لیتا ہوں؟ کیایہ مادی وجود کی بقا اور اس کے لیے آسائشیں جمع کرنے کا نام ہے؟ کیا زندگی کی ساری رنگینیاں اسی میں سمٹ آئی ہیں؟ انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا تمام تر تہذیبی ارتقاء اس کے تصور جمال کی عطا ہے۔ تصور ِجمال کا ماخذ انسان کے مادی وجود میں نہیں، کہیں اور ہے۔ آج فنون لطیفہ سے لے کر تعمیرات تک، مجھے جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے، وہ انسان کے جمالیاتی ذوق ہی کا اظہار ہے۔ جمالیات کے ان مظاہر کے بغیر زندگی بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ ہے۔
اگر یہ مقدمہ درست ہے تو مجھے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ زندگی مادی وجود سے سوا بھی ایک مفہوم رکھتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ انسان کی ایک شخصیت جمالیاتی بھی ہے جو مادی وجود کے علاوہ ہے۔ یہ طبیعیاتی نہیں تو لازماً مابعد الطبیعاتی ہے۔ اگر میں زندگی کے تصور میں مابعد الطبیعات کو شامل کررہا ہوں تو پھر لازم ہے کہ اس پہلو سے بھی زندگی کی بقا کا سامان ہو۔ انسان کے پاس کچھ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو اس غیر مادی وجود کی سلامتی کو یقینی بنا سکے۔ مذہب اسی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
اگر کوئی مذہب کو نہیں مانتا تو اسے جمالیاتی وجود کی بقا کے لیے اس کا متبادل تلاش کرنا ہو گا۔ یہ اس کے مابعد الطبیعاتی وجود کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ میں اس بات کو مزید کھول دیتا ہوں۔ اسے اپنے جذبات اور جمالیات کی تہذیب کے لیے ایک نظامِ فکر کی ضرورت ہے جس طرح مادی زندگی کی تہذیب کے لیے اسے سائنس کی ضرورت ہے۔ انسان نے اس سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اس نے مذہب کے متبادل کے طور پر انسان پرستی (Humanism) کا فلسفہ تراشا ہے۔ ہیومن ازم، سائنس سے اضافی ایک شے ہے۔ گویا زبانِ حال سے یہ مان لیا گیا کہ محض سائنس کے سہارے زندگی نہیںگزاری جا سکتی۔


مذہب نے کبھی خود کو سائنس کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ یہ لوگوں کا ایک خود ساختہ میدانِ جنگ ہے جس میں انہوں نے مذہب اور سائنس کو دومتحارب قوتوں کے طور پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔


مذہب نے کبھی خود کو سائنس کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ یہ لوگوں کا ایک خود ساختہ میدانِ جنگ ہے جس میں انہوں نے مذہب اور سائنس کو دومتحارب قوتوں کے طور پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پھر وہ اپنے تئیں کبھی ایک کی اور کبھی دوسرے کی فتح و شکست کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ مذہب کا اگر کوئی حریف ہے تو وہ سائنس نہیں، ہیومن ازم ہے۔ مذہب غیر مادی زندگی کی تہذیب کرتا ہے اور ہیومن ازم بھی اسی کا دعوے دار ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی زندگی مذہب سے کبھی بے نیاز ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ مذہب سے بے نیازی کی باتیں محض افسانے ہیں۔ جنہوں نے اس کی کوشش کی، انہیں زندگی کو اس کا متبادل دینا پڑا۔ ہیومن ازم کیا مذہبی اقدار سے یک سر بے نیاز تصور ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ تصورِ خدا کے بغیر مذہب کے نظام ِ اخلاق کی عطا، بہت سے باتوں کو قبول کرتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے مذہب مقدم ہے، اس لیے واقعاتی لحاظ سے یہی درست ہو گا۔


 انسانی زندگی مذہب سے کبھی بے نیاز ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ مذہب سے بے نیازی کی باتیں محض افسانے ہیں۔ جنہوں نے اس کی کوشش کی، انہیں زندگی کو اس کا متبادل دینا پڑا۔


تصور ِ خدا کو ماننے کے نتیجے میں تصورِ آخرت کو ماننا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ہیومن ازم اس سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ کیا وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو سکے گا؟ میرا خیال ہے ابھی اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ ایک مذہبی آدمی کے طور پر میرا احساس یہ ہے کہ ما بعد الطبیعیات اصلاً مذہب کا دائرہ ہے۔ مذہب نے آج تک اپنے دائرے میں شکست نہیں کھائی۔
مذہب کا سب سے مستند اور آخری ایڈیشن اسلام ہے۔ وہ اسلام جس کا تنہا ماخذ رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ مذہب کی ناگزیریت کا یہ نتیجہ ہے کہ اب زندگی تا قیامت اسی ذات کی گرفت میں رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی مذہب کی گرفت سے نکل نہیں سکتی اورآج مذہب کی سب سے مستند تعبیر وہی ہے جو رسالت مآب سید نا محمدﷺ سے صادر ہوئی ہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے ابراہیم، موسیٰ اور مسیح علیہم السلام بیان کر چکے اورتاریخ جسے انسانی آمیزش سے محفوظ نہ رکھ سکی۔
میرا خیال ہے کہ یہ بحث یہاں پہنچ کر اُس سوال کا جواب فراہم کر دیتی ہے جو میں نے ابتدا میں اٹھایا ہے۔

Facebook Comments Box
اسلامتہزیبمذہب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کنزیومر رائٹس یعنی صارف کے حقوق ۔۔۔ ریاض خٹک
next post
عامر ذکی: گٹار کا ماسٹر چلا گیا —- خرم سہیل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.