تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

میرے لیے مٹی کا حرم اور بنادو! قیصر شہزاد

by ویب ڈیسک 05/06/2017
written by ویب ڈیسک 05/06/2017
128

ایک نوجوان چرواہے کو عبادت اور دعا کا بہت شوق تھا لیکن مذہبی تعلیم حاصل نہ کرپانے کے باعث وہ روایتی عبرانی دعائیں پڑھنے سے قاصر تھا۔ چنانچہ وہ خدا سے یوں مخاطب ہوا کرتا: ” میرے خدا میں تیری عبادت کرنا چاہتا ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے کروں۔ میں بس تیری یہی خدمت بجا لاسکتا ہوں کہ تو اگر اپنی بھیڑ بکریاں میرے سپردکرے تو میں انہیں بلا معاوضہ چرادوں گا۔” ایک روز اتفاقا پاس سے گزرنے والے کسی عالم کے کانوں میں چرواہے کی یہ مناجات پڑ گئی۔ اسے یہ عجیب و غریب دعا سن کر غصہ آیا اور اس نے چرواہے سے کہا: "تم کفر بک رہے ہو ان گستاخانہ کلمات کی بجائے تمہیں دعاوں کی کتاب میں موجود عبرانی دعائیں پڑھنا چاہیے” چرواہے نے اپنی جہالت کا اعتراف کیا تو وہ عالم اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گیا اور اسے روایتی عبرانی دعائیں سکھادیں۔ ایک ہفتے بعد چرواہا واپس پہنچا اور سب لوگوں کی طرح عبرانی میں دعائیں مانگنا اپنا معمول بنا لیا۔ اس عالم کو ایک شب خواب میں بتایا گیا کہ خدا کو اس چرواہے کی سادہ لوح لیکن بے ساختہ دعا اس قدر پسند تھی کہ جب سے اس نے وہ کلمات کہنا چھوڑے ہیں خدا ناخوش ہے اور عالمِ بالا میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اسے حکم دیا گیا کہ اس چرواہے کو پھر سے اپنے پرانے انداز میں دعا کیا کرنے کا کہہ دے۔
یہودیوں کی معروف روحانی روایت ‘حسیدیت’ کی ایک کتاب میں پائی جانے والی یہ حکایت فورا ہمیں مولانا روم کی بیان کردہ مشہورحکایت کی یاد دلاتی ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام کا ایک چرواہے کے ساتھ یہی قصہ نہایت تفصیل، فنی خوبصورتی اور عمیق روحانی تشریح کے ساتھ بیا ن کیا گیا ہے۔ (دفتر دوم ، جز ۳۵-۳۷) یہ مشابہت اتفاقیہ نہیں کیونکہ مسلم صوفیاء خصوصا مولانا روم کا اثر حسیدی روحانیت پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مولانا کی بیان کردہ بعض حکایتیں معروف یہودی فلسفی مارٹن بیوبیر کے مطابق مسیح ہونے کے یہودی دعویدار شبتای زوی کے واسطے سے حسیدیت میں داخل ہوئی ہیں کیونکہ زوی بھی روم (موجودہ ترکی) میں رہا جہاں بالآخر اس نے اسلام قبول کیا تھا۔
خیر حسیدی روایت میں مذکورہ حکایت یہ واضح کرنے کے لیے بیان کی جاتی ہے کہ عبادات اور دعا میں الفاظ اور تعبیرات نہیں بلکہ نیت ، جذبہ اور روح کی حیثیت اصل ہوتی ہے۔ یہ معنی مثنوی میں بھی بیان کیا گیا ہے :(البتہ مولانا رومی نے اس قصے کی معنویت کی دو اور سطحوں سے بھی پردہ کشائی فرمائی ہے۔اس تفصیل میں ہم فی الحا ل نہیں جائیں گے)
ما زبان را ننگریم و قال را
ما روان رابنگریم وحال را
ناظرِ قلب ایم اگر خاشع بود
گرچہ گفتِ لفظ ناخاضع بود
زانکہ دل جوہر بود گفتن عرض
پس طفیل آمد عرض جوہر اصل
یعنی ہم زبان و بیان کو نہیں بلکہ روح اور حال کو دیکھتےہیں ۔ ہماری نظر انسان کے دل پر ہوتی ہے کہ آیا اس میں خشوع پایا جاتا ہے یا نہیں ، الفاظ اگر ہمارے شایانِ شان نہ بھی ہوں توہم پروا نہیں کرتے۔ بات یہ ہے کہ جوہر، اور اصل دل ہے جبکہ زبان سے اظہار ایک ثانوی شے ہے جس کادارو مدار اول الذکر پر ہے۔
یہاں یہ بات کہہ دینا ضروری ہے کہ "جنہاں گھڑیا ں سانبھ کے رکھیاں” کے عنوان سے ہم نے جو حکایت چند روز قبل نقل کی تھی وہ باطن کے لیے ظاہر کی اہمیت واضح کرتی تھی جبکہ کہ مولانا روم کی بیان کردہ یہ حکایت باطن کی مرکزی اور بنیادی حیثیت سامنے لاتی ہے۔ ان دونوں حکایات میں کوئی تناقض نہیں بلکہ دونوں کا مجموعی معنی ٰظاہر و باطن کی ایک دوسرے کے لیے اہمیت و ضرورت ہے۔ہاں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر مقصد اور وسیلے کی اصطلاح میں بات کی جائے تو اہمیت کے پیمانے پر بہرحال باطن کی حیثیت مقصد کی ہوگی اور ظاہر کی وسیلے کی سی۔ اگر باطن درست ہونے کے انتظار میں ظاہر سے غافل ہوجانے والے اپنی خراب گھڑیوں سے غافل ہوجانےوالوں جیسے ہیں تو روح کی اہمیت کے احساس تک سے غافل ظاہری قواعد و ضوابط کے پابند لوگوں کی مثال جاپانی کہانی کے اس اندھے کی سی ہے جو بجھی لالٹین اٹھائے اندھیرے میں چلتا جارہا ہوںاور لوگوں سے ٹکرانے پر غصے سے کہتا ہے کہ اندھو، کیا تمہیں میرے ہاتھ میں پکڑی روشنی دکھائی نہیں دیتی!

Facebook Comments Box
اسلامدعاروحانیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
(9) تحریکِ خلافت و ترکِ موالات اور مولانا آزاد
next post
میری مفلسی میرا جرم ہے – کوئی اور میری خطا نہیں

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.