اسلامی فقہ اور روایتی علمی نقطہ نظر کے مطابق، مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ (Donate) کرنے کی ممانعت کے پیچھے نہایت گہرے روحانی، ایمانی اور اخلاقی تصورات کارفرما ہیں۔ اگرچہ دورِ حاضر کے بعض جدید علماء انسانی جان بچانے کی ضرورت کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتے ہیں، لیکن روایتی اور اکثریتی مکاتبِ فکر کے ہاں اس عمل کو ناجائز سمجھا جاتا ہے۔ اس ممانعت کی سب سے بنیادی وجہ یہ عقیدہ ہے کہ انسان کا جسم، جان اور تمام اعضاء اس کی اپنی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ایک مقدس امانت ہیں۔ چونکہ انسان اپنے جسم کا حقیقی مالک نہیں ہے، اس لیے شرعی اور روحانی طور پر اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے جسم کے کسی حصے کو کسی دوسرے کے نام وصیت یا عطیہ کرے۔
اس کے ساتھ ہی، اسلام میں انسانی جسم کی تکریم اور حرمت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جو موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ شرعی تعلیمات کے مطابق ایک انسان مرنے کے بعد بھی اسی احترام کا مستحق ہے جو اسے زندگی میں حاصل تھا، اور احادیث میں میت کی ہڈی توڑنے کو زندہ انسان کی ہڈی توڑنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ مرنے کے بعد میت کے جسم کی چیر پھاڑ کرنا، اور اس میں سے آنکھیں، گردے یا دیگر اعضاء نکالنا جسم کی بے حرمتی اور بگاڑ (مثلہ) کے زمرے میں آتا ہے، جس کی شریعت میں سختی سے ممانعت ہے۔
اس ممانعت کا ایک اور اہم روحانی پہلو برزخی شعور سے جڑا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، موت کے بعد بھی روح کا تعلق جسم سے ایک خاص سطح پر قائم رہتا ہے۔ اس عقیدے کے تحت جو چیزیں زندہ انسان کو تکلیف دیتی ہیں، جیسے کہ جسم کا کٹنا یا چیر پھاڑ ہونا، ان سے مردہ انسان کو بھی برزخ کے عالم میں تکلیف اور صدمہ پہنچتا ہے۔ اس لیے میت کے جسم کو ہر ممکن حد تک پرسکون حالت میں رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے۔
اسلامی شریعت اور صوفیانہ روایات میں انسانی وجود کو محض ایک مادی ڈھانچہ یا گوشت پوست کا لوتھڑا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ روحِ ربانی کا مسکن اور کائنات کا خلاصہ ہے۔ مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی ممانعت کا مسئلہ دورِ جدید کی ایجادات اور قدامت پسند فکری اصولوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ روایتی مکاتبِ فکر اور اہل اللہ (صوفیاء) کے نزدیک، اس ممانعت کی بنیادیں ظاہری احکامات سے زیادہ گہرے روحانی حقائق، برزخی نظام اور اللہ اور بندے کے درمیان وفاداری کے عہد پر قائم ہیں۔ اگرچہ جدید دور میں بعض مفتیانِ کرام نے "الضرورات تبیح المحظورات” (ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں) کے تحت جان بچانے کے لیے اس کی گنجائش نکالی ہے، لیکن اب بھی جمہور علماء اور روحانی ائمہ اس کے عدمِ جواز پر سختی سے قائم ہیں۔
یہ ممانعت انسان کو اشرف المخلوقات بنانے اور اس کی روحانی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اگر اعضاء نکالنے کی عام اجازت دے دی جائے، تو یہ شدید اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی اعضاء کو مارکیٹ میں بکنے والی اشیاء یا اسپیئر پارٹس کی طرح سمجھا جانے لگے گا۔ اس طرح انسان کی مادی اور تجارتی تذلیل کا راستہ کھل جائے گا، جو کہ اللہ کی دی ہوئی انسانی عزت اور وقار کے سراسر خلاف ہے۔
خالق کی حقیقی ملکیت اور عبدیت کا تصور روحانیت کا پہلا اصول "عبدیت” (بندہ ہونا) ہے۔ انسان اس کائنات میں کسی چیز کا مستقل مالک نہیں، حتیٰ کہ اپنے وجود کا بھی نہیں۔ تصوف کی رو سے، انسان کا جسم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ایک "امانتِ عظمیٰ” ہے۔ جب انسان یہ کہتا ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون (بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)، تو وہ اپنے پورے وجود پر اپنی ملکیت کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ چونکہ انسان اپنے اعضاء کا مالک ہی نہیں، اس لیے اس کا کسی دوسرے کو اپنے اعضاء "عطیہ” کرنا یا اس کی وصیت کرنا شرعی اور روحانی طور پر باطل قرار پاتا ہے۔ کسی دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا روحانی امانت داری کے اصول کے خلاف ہے۔
مادی آنکھ کو نظر آنے والی موت دراصل فنا نہیں، بلکہ ایک جہان سے دوسرے جہان (عالمِ برزخ) میں منتقلی کا نام ہے۔ اسلامی مابعد الطبیعیات کے مطابق، روح کا تعلق جسم سے موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا، بلکہ ایک باریک اور لطیف تعلق قائم رہتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں، میت اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرتی ہے، غسل دینے والے اور کندھا دینے والے کو پہچانتی ہے۔ جب سرجنز کسی مردے کے جسم کو چیرتے پھاڑتے ہیں اور اس کے دل، گردے یا آنکھیں نکالتے ہیں، تو روح اس صدمے اور درد کو محسوس کرتی ہے۔ یہ عمل میت کے برزخی سفر میں بے سکونی اور روحانی اذیت کا باعث بنتا ہے، جس سے بچنے کی شریعت نے سخت تاکید کی ہے۔
قرآنِ کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کے اعضاء بولیں گے اور گواہی دیں گے (الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم)۔ روحانی نقطہ نظر سے، ہر انسان کے اعضاء اس کے اپنے اعمال کے ریکارڈ ہولڈرز ہیں۔ جب ایک انسان کا عضو کسی دوسرے انسان کے جسم میں منتقل کر دیا جاتا ہے، تو اس عضو کی اپنی روحانی شناخت اور توانائی (Spiritual Energy) کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ وہ عضو کس کی گواہی دے گا؟ جس کے وجود کا وہ حصہ تھا، یا جس کے جسم میں وہ بعد میں دھڑکتا رہا؟ یہ گنجلک صورتحال انسان کی انفرادی اخروی جوابدہی کے روحانی اصول میں خلل ڈالتی ہے۔
شریعتِ اسلامیہ نے انسانی زندگی کی طرح موت کے بعد بھی جسم کے احترام کو برقرار رکھا ہے۔ فقہ کا متفقہ قاعدہ ہے کہ "آدمی محترم ہے، زندہ بھی اور مردہ بھی”۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: "میت کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے اس کی زندگی میں اس کی ہڈی کو توڑنا” (سنن ابی داؤد)۔ اس اصول کے تحت، اعضاء نکالنے کے لیے مردے کے جسم کی چیر پھاڑ کرنا "مثلہ” (جسم بگاڑنے) کے زمرے میں آتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں دشمنوں کی لاشوں کے ناک، کان کاٹے جاتے تھے، جسے اسلام نے سختی سے حرام قرار دیا۔ جدید طبی آپریشن، خواہ وہ کتنے ہی سائنسی طریقے سے کیے جائیں، ظاہری طور پر میت کے جسم کی ساخت کو بگاڑ دیتے ہیں، جو شرعاً ممنوع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم بخشی)۔ انسان کائنات کی سب سے معزز مخلوق ہے، اور اس کا کوئی بھی حصہ یا عضو "مال” (خرید و فروخت یا تبادلے کی شے) نہیں بن سکتا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ انسانی اعضاء سے فائدہ اٹھانا اس کی کرامت اور شرافت کے منافی ہے۔ اگر اعضاء کے عطیہ کی عام اجازت دے دی جائے، تو انسانی جسم ایک مادی شے یا گاڑی کے "اسپیئر پارٹس” کی طرح بن جائے گا۔ اس سے نہ صرف انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت کا عالمی بازار گرم ہوگا (جو کہ آج کل بلیک مارکیٹ کی صورت میں موجود ہے)، بلکہ انسان کی وہ تکریم بھی ختم ہو جائے گی جو خالق نے اسے عطا کی ہے۔
جو علماء اعضاء کی پیوند کاری کی اجازت دیتے ہیں، وہ "سدِ رمق” (جان بچانے) اور "محبت و ایثار” کی دلیل لاتے ہیں۔ تاہم، ممانعت کرنے والے فقہاء اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ "الضرر لا یزال بالضرر” (ایک نقصان کو دوسرے نقصان سے دور نہیں کیا جا سکتا)۔ کسی ایک انسان (مریض) کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوسرے انسان (میت) کی حرمت پامال کرنا اور اسے اذیت دینا شریعت کے عدل کے اصول کے خلاف ہے۔ مزید برآں، شریعت میں ضرورت کی بنا پر حرام کو حلال کرنے کی اجازت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ چیز بذاتِ خود امانت یا کسی دوسرے کا حق نہ ہو، جبکہ انسانی جسم خالصتاً اللہ اور بندے کے حقوق کا مجموعہ ہے۔
دورِ حاضر کے بعض بڑے فقہی اداروں، جیسے جدہ الائنس (OIC اسلامی فقہ اکیڈمی) اور مصر کے دارالافتاء المصریہ نے مخصوص شرائط کے ساتھ مرنے کے بعد اعضاء عطیہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان کے جواز کی بنیادی دلیل قرآنِ کریم کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”۔ ان علماء کے نزدیک انسانی جان کی حفاظت شریعت کے پانچ بنیادی مقاصد (مقاصدِ شریعہ) میں سے ایک اہم ترین مقصد ہے۔ جب ایک انسان کلینکل یا برین ڈیتھ (Brain Death) کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کے اعضاء سے کسی دوسرے مرتے ہوئے انسان کی زندگی بچائی جا سکتی ہو، تو شریعت کا یہ اصول متحرک ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، معاصر علماء فقہ کے مشہور قاعدے "الضرورات تبیح المحظورات” (ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں) سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح شدید بھوک کی حالت میں جان بچانے کے لیے حرام چیز کھانے کی رخصت مل جاتی ہے، اسی طرح کسی انسان کی زندگی بچانے کے لیے میت کے اعضاء کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔ ان علماء کے نزدیک یہ عمل میت کی بے حرمتی یا "مثلہ” نہیں، بلکہ ایک انسانی جان کو دوسرا جیون دینے کا عظیم ترین انسانی اور اخلاقی ایثار ہے۔ تاہم انہوں نے شرط عائد کی ہے کہ اعضاء کی کوئی خرید و فروخت نہ ہو، ورثاء کی رضامندی شامل ہو، اور یہ عمل خالصتاً انسانی ہمدردی کے تحت ہو۔
ممانعت کے روحانی پہلو کو سمجھنے کے لیے صوفیاء اور متکلمین، بالخصوص امام غزالیؒ (مؤلف احیاء علوم الدین) اور علامہ ابن قیمؒ (مؤلف کتاب الروح) کی تحقیقات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک موت روح کا جسم سے کلی انقطاع نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اس مادی دنیا کے تصرف کا خاتمہ ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ روح ایک لطیفِ ربانی ہے جو جسم کے ذرے ذرے میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ موت کے بعد جب جسم کو قبر میں اتارا جاتا ہے، تب بھی روح کا ایک نادیدہ اور مقناطیسی تعلق (برزخی ربط) ہر اس عضو کے ساتھ برقرار رہتا ہے جو کبھی اس کے زیرِ اثر تھا۔
چنانچہ جب کسی مردے کا آپریشن کر کے اس کے اعضاء الگ کیے جاتے ہیں، تو صوفیانہ مابعد الطبیعیات کے مطابق روح اس جغرافیائی دوری اور چیر پھاڑ سے ایک شدید جھٹکا اور حجاب محسوس کرتی ہے۔ علامہ ابن قیمؒ کے مطابق، میت کو اپنے جسم پر ہونے والے ہر عمل کا اسی طرح ادراک اور احساس ہوتا ہے جیسے خواب دیکھنے والے کو نیند کی حالت میں تکلیف یا راحت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء اور روایتی ائمہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ میت کے جسمانی حصوں کو منتشر کرنے کے بجائے انہیں مٹی کی آغوش میں یکجا اور پرسکون حالت میں سپردِ خاک کیا جائے، تاکہ اس کا برزخی سفر بغیر کسی روحانی صدمے کے طے ہو سکے۔
پاکستان کے ممتاز ترین فقیہ اور اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ کے نائب صدر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا مؤقف اس معاملے میں نہایت متوازن، محتاط اور تفصیلی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی فقہی مجالس میں اس مسئلے پر طویل بحثیں کی ہیں اور ان کا حتمی فتویٰ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کے پورے جسم کو چیر پھاڑ کر کے اعضاء نکالنے کی عام اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ انسانی تکریم کے خلاف ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک انتہائی مخصوص اور غیر معمولی صورتِ حال میں استثنا (Exception) کی گنجائش نکالی ہے۔ اگر کسی مریض کی جان بچانے کا دنیا میں کوئی دوسرا طبی طریقہ کار (Alternative) موجود نہ ہو، اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو، تو صرف اس صورت میں کسی میت کا عضو (جیسے دل یا گردہ) نکال کر لگانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مرنے والے نے زندگی میں اس کی وصیت کی ہو یا اس کے قریبی ورثاء رضامند ہوں۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس اجازت کے لیے چار سخت ترین شرائط عائد کی ہیں جن کے بغیر یہ عمل حرام رہے گا: پہلی شرط یہ کہ اعضاء کی خرید و فروخت کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو، یعنی یہ عمل خالصتاً فی سبیل اللہ اور بلا معاوضہ ہو۔ دوسری شرط یہ کہ اعضاء کی منتقلی صرف اسی وقت کی جائے جب ماہر ڈاکٹرز یہ تصدیق کر دیں کہ مریض کی جان بچانے کا اب کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔ تیسری شرط یہ کہ اعضاء نکالنے سے میت کے پورے جسم کا حلیہ نہ بگاڑا جائے، بلکہ صرف مطلوبہ عضو انتہائی احترام سے نکالا جائے۔ چوتھی اور اہم ترین شرط یہ کہ میت کی موت (حقیقی موت، نہ کہ صرف برین ڈیتھ) یقینی طور پر واقع ہو چکی ہو۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ انسانی اعضاء کو تجارتی منڈی بننے سے روکا جا سکے۔
شریعتِ اسلامیہ میں زندہ انسان کی طرف سے عضو عطیہ کرنے اور مرنے کے بعد عضو نکالنے کے احکامات میں واضح فرق ہے۔ جب ایک زندہ انسان (مثلاً کوئی بھائی اپنی بہن کو) اپنے دو گردوں میں سے ایک گردہ عطیہ کرتا ہے، تو شریعت اس کی اجازت مخصوص حدود کے اندر دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندہ انسان کا یہ ایثار اس کی اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر ایک دوسرے انسان کی زندگی بچاتا ہے۔ فقہائے کرام اس عمل کو "الایثار” (دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا) کے باب میں رکھتے ہیں، کیونکہ انسان اپنی زندگی میں اپنے جسم کے ان حصوں کا نفع اٹھانے اور پہنچانے کا مجاز ہے جن کے نکلنے سے اس کی اپنی موت واقع نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی بنیادی کارکردگی کا نظام معطل ہو۔
اس کے برعکس، مرنے کے بعد اعضاء نکالنے کا معاملہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ موت واقع ہوتے ہی انسان کا اپنی ذات اور دنیا پر تصرف کا حق شرعاً ختم ہو جاتا ہے اور اس کا جسم مکمل طور پر اللہ کی امانت کے اس دور میں داخل ہو جاتا ہے جہاں اس کی تدفین اور تکریم کے مخصوص احکامات لاگو ہوتے ہیں۔ مردے کے جسم سے اعضاء نکالنے کے لیے جو چیر پھاڑ کی جاتی ہے، اسے شریعت "مثلہ” (جسم کو بگاڑنا) اور احترامِ میت کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے، جبکہ زندہ انسان کے آپریشن کو علاج اور احسان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے فقہاء جو زندہ انسان کے گردہ دینے کو جائز کہتے ہیں، وہ بھی مرنے کے بعد لاش کی چیر پھاڑ کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔
جدید سرجری اور اعضاء کی منتقلی کے عمل میں برین ڈیتھ (دماغی موت) اور حقیقی موت (Cardio-Respiratory Death) کا فرق سب سے بڑا علمی اور فقہی معرکہ بن چکا ہے۔ طبی سائنس کے مطابق، جب کسی انسان کا دماغ اور اس کا سٹیم (Brainstem) مستقل طور پر کام کرنا بند کر دیں، تو اسے "طبی طور پر مردہ” قرار دے دیا جاتا ہے، خواہ اس کا دل وینٹی لیٹر (مصنوعی تنفس کی مشین) کے سہارے دھڑک رہا ہو اور پھیپھڑے کام کر رہے ہوں۔ سرجنز کے لیے اعضاء نکالنے کا بہترین اور موزوں ترین وقت یہی ہوتا ہے، کیونکہ اس حالت میں خون کی گردش جاری رہنے کی وجہ سے اعضاء (جیسے دل، جگر اور گردے) زندہ اور تروتازہ ہوتے ہیں۔ اگر دل مکمل طور پر بند ہو جائے، تو چند منٹوں کے اندر اعضاء خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ پیوند کاری کے قابل نہیں رہتے۔
تاہم، روایتی اسلامی فقہ اور بہت سے معاصر مسلم محققین کے نزدیک صرف دماغ کا مر جانا شرعی موت نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق موت اس وقت واقع ہوتی ہے جب روح کا جسم سے تعلق مکمل طور پر منقطع ہو جائے، جس کی ظاہری علامت دل کا مستقل دھڑکنا بند ہونا، نبض کا ڈوب جانا اور سانس کا ہمیشہ کے لیے رک جانا ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اور دیگر جمہور فقہاء کے مطابق، جب تک کسی انسان کا دل دھڑک رہا ہے اور اس کا جسم گرم ہے، اسے شرعاً "زندہ” ہی شمار کیا جائے گا۔ چنانچہ، برین ڈیتھ کے شکار مریض کے جسم سے دھڑکتا ہوا دل یا دیگر اعضاء نکالنا شرعی نقطہ نظر سے ایک زندہ انسان کو قتل کرنے یا اس کی موت کو تیز کرنے کے مترادف قرار پاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ روایتی مفتیانِ کرام برین ڈیتھ کی حالت میں اعضاء نکالنے کو قطعاً حرام کہتے ہیں۔
اس فقہی تنازعے میں دونوں گروہ (جواز اور عدمِ جواز کے قائلین) قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں گہرے دلائل پیش کرتے ہیں。 جواز کے قائلین علماء سب سے بڑی دلیل سورہ المائدہ کی آیت 32 سے لیتے ہیں، جہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا” (اور جس نے کسی ایک جان کو زندگی بخشی، گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی)۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ایک مرتے ہوئے مریض کو اپنا عضو دے کر اس کی زندگی بچانا اس آیت کے حکمِ احسان کے تحت آتا ہے۔ مزید برآں، وہ سنن ابی داؤد کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے عرفجہ بن اسعدؓ کو جنگ میں ناک کٹ جانے پر سونے کی مصنوعی ناک لگانے کی اجازت دی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں طبی ضرورت کے تحت تبدیلی یا پیوند کاری کی اصل موجود ہے۔
اس کے برعکس، ممانعت اور عدمِ جواز کے قائلین جمہور فقہاء قرآن و حدیث سے بالکل مختلف اصول پیش کرتے ہیں۔ ان کی سب سے بنیادی قرآنی دلیل سورہ بنی اسرائیل کی آیت 70 ہے: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” (اور ہم نے بنی آدم کو معزز اور مکرم بنایا ہے)۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان کی یہ تکریم اسے اس بات سے روکتی ہے کہ اس کے جسم کو مادی اشیاء کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے۔ حدیثِ مبارکہ کے باب میں وہ سنن ابی داؤد کی مشہور روایت پیش کرتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا” (مردے کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا)۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی لاش کو مادی درد اور بے حرمتی سے بچانا شریعت کا مستقل حکم ہے، اس لیے کسی دوسرے کی جان بچانے کے نام پر بھی میت کے جسم پر جراحی (Surgery) کرنا شریعت کے ان ابدی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ محض ایک ظاہری طبی یا جراحی عمل نہیں، بلکہ یہ اسلامی نظامِ زندگی کے گہرے ایمانی، مابعد الطبیعیاتی اور فقہی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ روایتی اور صوفیانہ نقطہ نظر جہاں انسانی جسم کو اللہ کی مقدس امانت، برزخی سفر کا ساتھی اور اخروی جوابدہی کا گواہ قرار دے کر اس کی مطلق تکریم اور پرسکون تدفین پر زور دیتا ہے، وہاں معاصر فقہاء انسانی جان بچانے کی شدید ضرورت کے تحت اعتدال اور سخت شرائط کے ساتھ گنجائش تلاش کرتے ہیں۔ اس تمام علمی بحث کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جدید سائنسی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی اشرف المخلوقات یعنی انسان کی اس روحانی عظمت، وقار اور حرمت کو برقرار رکھا جائے جو اسے خالقِ کائنات نے عطا کی ہے۔
