تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترین

میری تعلیم — عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 23/07/2021
written by دانش ڈیسک 23/07/2021
133

میرے گھر میں کوئی بڑا پڑھا لکھا نہ تھا، اس لیے مجھے پڑھائی میں مدد دینے والا کوئی نہ تھا۔ ہمارا گھر نیوکلاتھ مارکیٹ کی چڑھائی پر مرکزی گلی میں تھا، اس لیے ہر وقت یہاں آنا جانا رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے ہمیرانی خاندان ایک بڑی سی حویلی میں آباد تھا، ہم ان کی سیڑھی پر بیٹھ کر کھیلا کرتے، اکثر میں کتاب لے کر سیڑھیوں پر بیٹھ جاتا اور آتے جاتے کسی پڑھے لکھے کو دیکھ کر لفظوں کے معنی یا کوئی چیز پوچھ لیتا۔ ہمارے ایک عزیز اسلام الدین ماسٹر شاہی بازار کے نزدیک بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے۔ جہاں ہمارے کئی عزیز رشتہ داروں کے بچے پڑھتے تھے، ماسٹر اسلام الدین بعد میں بہت عرصے الفاروق ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہے۔ بابو نے مجھے یہاں پڑھنے بھیج دیا، اسلام الدین ماسٹر سخت گیر استاد تھے، اکثر پٹائی کردیتے تھے۔ لیکن اپنے شاگردوں کو پڑھانے کے لیے بہت محنت کرتے تھے، انگریزی اور حساب میں انھوں نے بہت محنت کرکے ہمیں پڑھایا۔ ابھی حیات ہیں۔ انکے صاحبزادے اکرام شیخ بھی ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ وہ تعلیم کے شعبے سے منسلک ہوئے اور پروفیسر ہوکر رٹائر ہوئے۔ بابو جی رینجرز کے کیپٹن ظہیر الدین کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کے بچے سینٹ بوناوینچر اسکول میں پڑھتے تھے۔ بیٹا شیرازی اور بیٹی عالیہ وہ شائد میٹرک میں تھے۔ عالیہ بی بی نے بھی مجھے پڑھایا۔ وہ مجھے انگریزی پڑھاتی اور اسپیلنگ یاد نہ ہونے پر کھڑا رکھتی۔ اسکول میں حساب اور الجبرا بہت مشکل لگتا تھا۔ ایک استاد زیدی صاحب نے مجھے گھر پر آکر شام کو پڑھنے کے لیے کہا۔ وہ ہمارے نزدیکی محلے چھوٹکی گٹی کے قریب رہتے تھے، ان کی رہائش تیسری منزل پر تھی۔ میں ان کے گھر جاتا، وہ مجھے حساب میں مدد دیتے۔ ان کی اولاد نہ تھی۔ ان کی اہلیہ بہت محبت سے پیش آتی۔ اکثر مجھے ان کے گھر کا پانی بھرنا پڑتا اور میں تیسری منزل تک پانی کی بالٹیاں اٹھا کر لے جاتا۔ پڑھائی اور سیکھنے کی جستجو نے مجھے مسز سیلمان جان کا شاگرد بنا دیا۔ مسز جان سینٹ میری اسکول میں تاریخ کی پروفیسر تھیں، وہ رسالہ روڈ پر رہائش پذیر تھیں، بعد میں وہ سرسید کالج کراچی کی پرنسپل ہوکر رٹائر ہوئیں۔ اس گھرانے نے میری تعلیم و تربیت میں بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ مسز جان نے مجھے آرٹ آف ٹرانسلیشن سے جو ترجمہ کرنے کی مشق کرائی وہ ہمیشہ میرے کام آئی، وہ تعلیم کے میدان میں بہت سرگرم تھیں، ان کے گھر پر اکثر بڑے لوگ اور خاندان چائے اور کھانے پر آتے تھے، کھانا باقاعدہ ٹیبل پر لگایا جاتا تھا، انیتا غلام علی کئی بار ان کے گھر آئیں، نواب محمد سلیمان جان مسلم لیگی تھے۔ انھوں نے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ ان کے بیٹے شاہد سلیمان جان اور خالد سلیمان جان انجینئر اور بیٹی فوزیہ سلیمان جان انگریزی کی پروفیسر ہیں۔ وہ بہت خلیق مہربان تھیں۔

اس زمانے میں ٹیلی ویژن نیا نیا آیا تھا۔ میں رات گئے تک ان کے گھر جب تک ٹی وی کی نشریات ختم نہ ہوجاتی رہتا۔ میڑک تک اس گھرانے میں میرا آنا جانا رہا۔ یہاں میں نے کتابیں پڑھنا اور اخبار پڑھنا شروع کیا۔ فوزیہ بی بی سندھ یونیورسٹی میں انگریزی میں ایم اے کر رہی تھیں۔ وہ اکثر مجھے نیشنل سینٹر بھیجتی اور وہاں سے انگریزی کی کتابیں ایشو کراکر لاتا، سنڈیریلا کا نام اور کتاب پہلی بار ان سے سنا اور ان کے لیے یہ کتاب میں نے انھیں لائبریری سے لاکر دی۔ نیشنل سینٹر میں مجھے رسالے اور کتابیں دیکھنے کا موقع ملا۔ بیسویں صدی شمع دہلی جیسے رسالوں میں کہانی افسانے پڑھنا یہیں سے شروع ہوا۔ نیشنل سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر کرار حسین کے صاحبزادے جوہر حسین تھے۔ نیشنل سینٹر میں بہت اچھے پروگرام ہوتے تھے۔ ایک پروگرام میں زیڈ اے بخاری بھی آئے۔ یہاں میں نے دو سفید سر والے الیاس عشقی اور بخاری صاحب کو ایک ساتھ دیکھا اور سنا۔ یہاں بچوں کے سیکشن میں اردو کے ناول پڑھنے کا موقع ملا اور میں نے یہاں کی ممبر شپ لے لی، میرا نام منگو ہے، عالی پر کیا گذری، سندر بن کا جنگل، یہاں کے ایک لائبریرین بہت مہربان تھے، وہ مجھے اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیتے اور مجھے کتابوں کے انتخاب میں مدد دیتے۔ نیشنل سینٹر میں میرے ہاتھ مسعود مفتی کی علی پور کا ایلی لگ گئی۔ یہ بہت بھاری ناول تھا۔ ضخامت کے لحاظ اور موضوع کے اعتبار سے میری اس میں دلچسپی بہت بڑھ گئی۔ میں روزانہ دوپہر میں دوگھنٹے روزانہ یہ ناول پڑھتا۔ اور اسے ختم کیا۔ برسوں بعد قراة العین عینی کا معرکة الارا ناول آگ کا دریا بھی میں نے تپتی دوپہر میں کراچی یونیورسٹ کی لائبریری میں روزانہ تھوڑا تھوڑا پڑھ کر ختم کیا۔

تعلیم کے میدان میں ہمیں بدلتی ہوئی تعلیمی پالیسی سے بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چھٹی کلاس میں عربی اور فارسی پڑھائی جاتی تھی۔ ایک سال بعد یہ ختم کردی گئی۔ الجبرا کا مضمون بھی اچانک شروع ہوا۔ اور نویں دسویں میں فزکس کیمسٹری انگریزی میں مسلط کردی گئی۔ ہمارے اساتذہ بہت اچھے تھے۔ مولانا رٶف ہمیں انگریزی پڑھاتے ورتھ ورس کی ڈیفوڈل وہ لہک لہک کر پڑھاتے۔ ان کے لمبے کرتے کی جیب ٹافیوں سے بھری ہوتی۔ پڑھاتے جاتے اور شاگردوں سے سوال جواب کرتے اور چپکے سے مٹھی میں ٹافی دے دیتے۔ خدا بخش صاحب سائنس پڑھاتے تھے۔ ایک بار پوری کلاس کی سخت پٹائی کی۔ پوری کلاس رونے لگی۔ پھر خود بھی رونے لگے۔ پھر چپراسی کو بلا کر ہوٹل سے پوری کلاس کے لیے چائے منگوا کر پلائی۔

اس زمانے میں بڑی کلاسوں کے طلبہ شام کو طالب علموں کو مفت پڑھاتے تھے۔ اکثر محلوں میں شام کو دری بچھائی جاتی گیس کے ہنڈولے جلائے جاتے۔ چھڑکاٶ ہوتا۔ اور کلاس ہوتی۔ عموما انگریزی اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے۔

جاری ہے—-

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیے

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تانیثیت کے بنیادی مباحث: اقبال کا نقطۂ نظر (1) — نجیبہ عارف
next post
جبار مرزا کی کتاب “جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں”: ہمارے سماج اور تہذیب کی کتھا — ڈاکٹر خاور چودھری

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.