تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

خان صاحب کیا آپ کو آواز آرہی ہے؟ —- سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 12/09/2020
written by دانش ڈیسک 12/09/2020
127

میں چپ ہوں اور مجھ سے کئی بے بس چپ ہے۔۔ خان صاحب کیا آپ کو آواز آرہی ہے؟ کیا آپ کو یہ خاموشی سنائی دے رہی ہے؟

نصاب کی کسی کتاب میں چائنیز وزڈم پڑھی تھی کہ جب شہزادوں کی تربیت مقصود ہوتی تو بادشاہ یا بادشاہ گر اسے جنگلوں میں بھیج دیتے اور تب تک نہ واپس بلاتے جب تک شہزادے نہ سنائی دینے والی آوازیں سننے کے قابل نہ ہوجاتے۔
اس معیار تک نہیں جاتے ہم خان صاحب۔۔ ہم تو ادنی سا ایک معیار اپنائے بیٹھے ہیں ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں آپ کو کرلاتی خاموشیاں سنائی دینے لگیں۔

میں چپ ہوں خان صاحب مجھ سے کئی بے بس چپ ہیں۔ کیا آپ کو بے بسوں کی بے بسی ڈراتی نہیں ہے؟ کیا بے اختیاروں کی بے اختیاری سے خوف نہیں محسوس ہوتا آپ کو؟

ریاست مدینہ کی طرف جاتے کیا رستے میں وہ پڑاؤ نہیں آتا جہاں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے فاروق نے کہا تھا انصاف یہ ہے کہ ایک عورت شام/یمن سے نکلے تمام تر زیورات سے لدی آدھی رات کو اکیلی سفر کرتی اپنا گھوڑا دوڑاتی مدینہ پہنچے اور کوئی راستے میں اس کو نقصان نہ پہنچا سکے تو اسلامی ریاست قائم ہوگی۔

خان صاحب کیا مدینہ کی ریاست کے رستے میں وہ پڑاؤ نہیں آتا جب بھیڑئیے اپنے پنجے اور دانت قابو میں رکھتے تھے۔
خان صاحب کیا مجھے میری جنس کو جینے جیسی عیاشی کا حق ملے گا؟

خان صاحب کیا بھیڑئیے یونہی سر عام نوچتے کھسوٹتے پھریں گے؟ خان صاحب کیا کتوں کو پٹہ نہیں ڈالا جائے گا؟

ہم نے تب آپ کو اون کیا تھا جب آپ کو ٹوٹل بائیس ووٹ ملے تھے خان صاحب۔۔ اور یقین کریں کل سے میرا آپ کو خان صاحب کہنے کو جی نہیں مان رہا۔

میں کھونے کے خوف سے روشناس ہوئی ہوں۔ ماؤں والے ڈر سے لرز رہی ہوں کل سے۔ میں اس سماج میں بیٹی کی ماں والے اضطراب سے روشناس ہوتی جارہی ہوں۔ میری سداؤں میں جانے کون کونسی دعائیں شامل ہوگئی ہیں۔

خوف کے اس سرمئی کو یقین کے سنہری میں جانے کب بدلیں گے آپ اور کیسے۔

میں بے ربط جملے لکھ رہی ہوں میں نے ربط کھو دیا ہے اس سے پہلے کے حواس کھو دوں آپ جاگ جائیں۔ لفظوں کے کتنے کوڑے برساؤں اور کتنے آنسو بہاؤں کہ یہ قفل ٹوٹے؟ درندے پکڑیں جائیں مارے جائیں واپس جنگلوں کی طرف دھکیلے جائیں؟

اور کتنی چینخیں اور کتنی آہیں اور کتنی سسکیاں خان صاحب؟

میرا جی چاہتا ہے میں اتنی زور سے چلاؤں کے آپ کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں آپ بہرے ہوجائیں تاکہ اقتدار کے ایوانوں میں ہماری بات سنی جائے۔ ہماری آواز پہنچ سکے۔

میرا جی چاہتا ہے میں ہر اس شخص کو آگ لگا دوں جو میری ماؤں بہنوں بیٹیوں بچوں کی طرف گندی نگاہ ڈالتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے میں ہر اس شخص کو جسم کے آخری ریشے تک اذیت پہنچاؤں جو مظلوم کو نصیحت کرتا ہے جو مظلوم کو یوں نہ کرتے تو یوں کرتے کہتا ہے۔

میرا جی چاہتا ہے میں ظالموں کے لیے جواز گھڑنے والوں کو ان جوازوں سمیت زمین میں گاڑ دوں۔

لیکن افسوس کے میں یہ نہیں کرسکتی۔ میں صرف چار حرف گھسیٹ سکتی ہوں سو گھسیٹ رہی ہوں۔

اس لیے کہ مجھے معلوم ہے ہر عطا کی جواب دہی ہے میں جواب دہی کے خوف سے لکھ رہی ہوں اور اس لیے کہ ایمان کا آخری درجہ قبول نہیں مجھے۔

میں اس چھوٹی سی عطا جس پر مجھے عبور بھی حاصل نہیں اس کی جواب دہی کے خوف سے لرز جاتی ہوں تو خان صاحب کیا آپ کو اختیار کی جواب دہی ڈراتی نہیں ہے؟

اپنے بچوں کے دکھ لکھ لکھ کر میری انگلیاں فگار ہوگئیں خان صاحب اپنے بچوں کے دزدیدہ بدن دیکھ دیکھ کر میری آنکھیں دیکھنا بھولتی جارہی ہیں۔ جانے انصاف کا سورج کب طلوع ہوگا جب اس کی روشنی میں ہماری بینائی واپس لوٹے گی۔ ہم مرجائیں گے تو انصاف کیا جائے گا کیا؟ اگر ایسا ہے تو مجھے یہ بھی قبول ہے آپ جان لیجئے اور میرے بچوں کو اور ان کی ماؤں کو جینے کا حق دلا دیں۔

ہمیں کیا برا ہے مرنا جو ایک بار ہو۔
پر روز روز یوں قسطوں میں موت کی اذیت جسموں میں اتارنے والے بھیڑییے اب برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے نہ ہی نظر انداز کرنے کے۔

مجھے لکھنا اور بتانا نہیں آرہا خان صاحب آپ سمجھ بھی نہیں پائیں گے۔ ماؤں کے دکھ کون سمجھ پایا ہے؟

ماؤں کے دکھ آپ کو نہیں پتا خان صاحب
مائیں رب کا سجدہ کرتی ہیں اور سجدوں میں اولاد کے لیے سراپا دعا ہوجاتی ہیں۔
دس منٹ کی نماز بھی بچے کو ساتھ جائے نماز پہ لٹا کر پڑھتی ہیں۔
رات رات بھر یہ احساس سونے نہیں دیتا کہ بچہ بھوکا ہوا اور میں سوتی رہ گئی تو؟
اونچی آواز میں بولتے شوہر سے لڑ پڑتی ہے۔ میرے بچوں پہ برا اثر پڑے گا۔
ہائے خان صاحب میرے سے کہا بھی نہیں جارہا ہائے وہ بچے۔۔

میرا جی چاہتا ہے میں انہیں اتنی زورو سے بھینچوں کے ان کی یاداشت چلی جائے انہیں کچھ یاد نہ رہے اور وہ ایک نئی زندگی شروع کرلیں۔
لیکن ایسی بے بس ہوں کہ یہ بھی نہیں کرپارہی۔ کر تو کچھ بھی نہیں پارہی۔

میں تو ان ظالموں کے منہ بھی نہیں نوچ پارہی جو مظلوم پر زبانیں دراز کررہے ہیں
میں وہ ہاتھ بھی نہیں کاٹ پا رہی جو زخموں پہ نمک پاشی کررہے۔

خان صاحب یہ جو انٹلیکٹ کے آخری درجے پر “سوار” ہوکر بھیڑوں اور بھیڑیوں والی مثالیں دیتے پھر رہے ہیں اور خود کو سقراط ثانی سے کم سمجھنے پر تیار نہیں۔

ان زبان درازوں کی زباں نہیں کھینچ سکتا کوئی تو کم از کم ان کو یہ تو بتایا جائے کہ عورت اور بھیڑ میں فرق ہوتا ہے۔
خان صاحب ان کو کم از کم یہ تو سمجھا دئے کوئی کہ عورت بھیڑ بکری نہیں ہوتی۔
انہیں بھیڑیوں سے انسان بننا تو سکھا دے کوئی۔
یہ ہی تو مسئلہ ہے کہ ان لوگوں کو بھیڑیوں سے انسان بننا نہیں آیا۔

اور اگر یہ بھیڑیئے انسان بننے پر تیار نہیں ہیں تو کم از کم ان کو جنگلوں کی طرف دھکیلا جائے خان صاحب ان کو پنجروں میں قید کریں۔

اگر یہ سب بھی نہیں کرسکتے تو آئیں میرے ساتھ مل کر ظالموں کو بدعائیں دیں ہر ظالم کو اور اس کے حمایتی کو بدترین عذاب کی بدعا دیں۔

جب کچھ نہ بن پڑے تو لوگ کہتے ہیں روز حشر ہم گریبان پکڑیں گے۔ آپ یقین رکھیں خان صاحب اگر اب کی بار مجرموں کو سزا نہ ہوئی تو روز حشر میں صرف گریباں پکڑوں گی نہیں پھاڑ ڈالوں گی۔ حشر میں حیدر کرار کی تلوار مانگ لاؤں گی ان بھیڑیوں کو ٹکروں میں کاٹنے کو۔ میں فاروق سے کہوں گی دو چادروں کے حساب دینے والے خطاب کے بیٹے آؤ اور چھنی چادر کا حساب لو۔

میں رب سے کہوں گی مجرموں کو تو ظالم معاف کردے شائد ان مجرموں کے حمایتیوں کو ہم معاف نہیں کریں گے ان سب نے جرم کا ساتھ دے کر ہم پر ہمارے بچوں پر خوف کی جو چادر تانی تھی اس کا حساب لے ان سے اے خدا۔ ۔ ان کو ہمیشہ رہنے والے خوف میں مبتلا کردے۔

اور اگر میں یہ سب بھی نہ کرسکی تو مجرموں کی قطار میں جا کھڑی ہوں گی۔ میں اس مجرمانہ خاموشی کے ساتھ خود کو بے قصور نہیں سمجھ پاؤں گی۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر وے واقعہ: سنجیدہ و غیر سنجیدہ تجزیہ کار، چند سوال
Facebook Comments Box
featuredImran KhanMotorway Incidetnسحرش عثمانعمران خانموٹروے سانحہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
موٹر وے واقعہ: سنجیدہ و غیر سنجیدہ تجزیہ کار، چند سوال —– وحید مراد
next post
محبت پورا وجود مانگتی ہے — محمد حمید شاہد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.