تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
کالممذہبی

مذہب کی حفاظت اور علم و دانش کا انکار : امام غزالی رح کا نقطہ نظر

by دانش ڈیسک 23/05/2020
written by دانش ڈیسک 23/05/2020
219

تحریر : طیب عثمانی

انسانی تجربات، تفکر و تدبر علوم کی تخلیق و تشکیل نو میں تسلسل سے کارفرما ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ اس صدی میں ارتقائے علوم کی رفتار بہت تیز رہی۔ اس علمی و فکری ارتقاء سے انسانی فکر و تدبر، سماج، کائنات وغیرہ نے پوری زندگی ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ ایسے میں ایک اہم مسئلہ مذہب و علوم جدید کے مابین تعلق کا پیدا ہوا ہے۔ اس بارے میں دو مزاج اہم ہیں :

1۔ مذہبی فکریات خواہ ضعیف کیا ضعیف ترین بنیادوں پر ہوں، ان پر بات کرنا الحاد اور دین مخالفت ہے۔
2۔ علوم جدیدہ کی اساس و بنیاد ہی دین بیزاری پر ہے سو اپنے شواہد میں کتنے ہی قطعی دلائل رکھتے ہوں، ان کو تسلیم نا کرنا مذہب کی حفاظت ہے۔

یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے :

پہلی بات:
علوم کا انسانی فکر کے ذریعے سے پیدا ہونا یہ بھی إلقاء و الہام خداوندی ہے، جناب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح لکھتے ہیں کہ:

"والانسان من بينھا مدني الطبع، لايتعيش الا بتعاون من بني نوعيه۔ ۔ ۔ ۔ ومن حقہ: ان يلھم تدبير المدن مع تدبیرالمنازل وآداب المعاش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وذلك لان خياله كان صنّاعا ھمّاما ففوض لہ علوم تدبير المنازل وتدبیرالمدن الی الرسم وتقليد المؤيدين بنور الملكي فيما يوحى اليهم، والى تجربۃ ورصد تدبير غيبی ورؤيۃ بالاستقراء والقياس والبرهان”
(شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغۃ، مبحث البر والآثام، باب الآثام التی ھی ما بینہ وبین الناس)

ترجمہ : انسان طبعی طور پر تمدن پسند ہے۔ وہ دیگر انسانوں کے تعاون کے بغیر زندگی بسر نہیں کرتا۔ ۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ اسے معاشیات کے اصول، گھریلو زندگی کا نظم و نسق اور مملکت کا نظام قائم کرنے کی تدابیر الہام کی جائیں۔ ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک انسانی خیال انتہائی کارآمد، بلند ارادوں اور عزائم کو پیدا کرتا ہے۔ اس لیے گھروں کا نظم و نسق قائم کرنے اور شہروں کے قومی نظام بنانے کی تدابیر سے متعلق علوم اس کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ گردوپیش کے ماحول اور رسومات سے یا انبیاء علیہ السلام کی تقلید سے سیکھتا ہے یا اپنے غورو فکر، عقلی قیاس و برہان اور غیبی کشف و تجربات سے علوم سیکھ کر اپنا تمدن خود تشکیل دیتا ہے۔

دوسری بات :
انسانی علوم کے قطعی الثبوت ہونے کے باوجود ان کے نتائج کو مذہب کا نام لے کر انکار کرنے کے روئیے کو دین بیزاری کا باعث، اسلام کا جاہل پیرو اور اس مذہبی کے عمل کو جرم قرار دیتے ہوئے، انسانی علوم و مذہب کے مابین اختلاف کے نظریے کو غلط قرار دیتے ہوئے امام غزالی اپنی کتاب "المنقذ من الضلال” میں لکھتے ہیں :

"نشات من صديق الإسلام جاہل، ظن ان الدين ينبغي ان ينصر بانکار کل علم منسوب الیھم۔ فانکر جمیع علومھم وادعی جھلھم فيھا۔ حتى انکر قولھم في الكسوف والخسوف وزعم ان ما قالوا على خلاف الشرع فلما قرع ذالك سمع من عرف ذالك بالبرھان القاطع لم یشک فی برھانہ، لكن اعتقد ان الاسلام مبني على الجھل وانکار البرھان القاطع، فازداد هذا لفلسفۃ حيا وللاسلام بغضا۔ وقد عظم على الدين جنايۃ من ظن ان الاسلام ينصر بانكار ھذہ العلوم۔ وليس في الشرع تعرض لھذه العلوم بالنفی و الاثبات۔ ولا فی ھذہ العلوم تعرض الامور الدينيۃ۔ وقولہ عليه السلام "ان الشمس والقمر آيتان من ايات الله، لاینخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فافزعوا الى ذكر الله” ليس في ھذہ ما يوجب انکار علم لحساب المعروف بمسير الشمس والقمر واجتماعھا او مقابلتھا على وجه مخصوص”

ترجمہ : دوسری آفت اس شخص کی پیدا کردہ ہے جو اسلام کا نادان پیرو ہے، وہ سمجھتا ہے کہ مذہب کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر علم و دانش کا انکار کیا جائے اور ان علوم کو جاھل قرار دیا جائے۔ اس معاملے میں اس شخص کا غلو اس درجے کا ہوتا ہے کہ وہ چاند گرہن اور سورج گرہن کے نظریے کا انکارکرتا ہے اور اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ ان گرہنوں کے متعلق جو کچھ اہل علم و دانش نے کہا ہے وہ شریعت کے خلاف ہے۔ اس کی باتیں جب کوئی ایسا آدمی سنتا ہے، جو ان علوم سے قطعی دلائل کی بنا پر واقف ہوتا ہے، تو چونکہ وہ اپنی دلیلوں پر شبہ نہیں کر سکتا، اس لئے سمجھتا ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی جہالت اور قطعی دلائل سے انکار پر ہے۔ اس طرح وہ خود اسلام کی متنفر ہو جاتاہے۔ ایسا مذہبی شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ مذہب کو ان علوم کے انکار سے تقویت پہنچتی ہے، دراصل مذہب کے حق میں ایک زبردست جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ حالانکہ شرع میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان علوم کے مقابل منفی یا مثبت طور پر ہو۔ اس طرح ان علوم میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں جو مذہب کے خلاف ہو چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انہیں نہ تو کسی کے مرنے پر گرہن لگتا ہے اور نہ کسی جینے پر، جب تم ان مظاہر قدرت کو دیکھو تو خدا کو یاد کرو” اس حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں جو ان علوم سے انکار کرنا سکھائے۔

ایسے تمام شبھات جو کہ کبھی مذہبی اساس بشرطیکہ قطعی الثبوت و قطعی الدلالہ نہ ہوں کی ازسرنو تحقیق و تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ اور ایسا عمل الحاد اور مذہب مخالف نا ہو گا۔ اس گفتگو کے بعد مجھے یقین ہے کہ فورا سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ:

عقل و شرع میں مخالفت میں ترجیح کسے ہو گی، عقل یا شرع؟
اس بارے میں "احیاء علوم الدین” سے امام غزالی کے ایک پیراگراف کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:

"نوربصیرت یعنی عقل جس کے ذریعے اللہ تعالی کو پہچانا جاتا ہے اور اس کے رسول کی تصدیق کی جاتی ہے، بھلا اس کی مذمت کیسے متصور ہو سکتی ہے۔ اس کی تعریف تو خود خدا تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ اور اگر اسی کی مذمت کی جائے تو پھر تعریف کس چیز کی ہوگی؟ کیونکہ اگر شریعت قابل تعریف ہے تو اس کی درستی کا علم کس چیز سے حاصل ہوتا ہے؟ اگر یہ علم اسی بری شے یعنی عقل سے ہے کہ جس کا اعتبار نہیں تو پھر شریعت بھی بری ٹھہرتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ شریعت کی صحت کا علم عین الیقین اور نورِ ایمان سے حاصل ہوتا ہے تو اس قول پر لحاظ نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ ہماری مراد جو کچھ عقل سے ہے وہی عین الیقین اور نورِ ایمان سے ہے، یعنی وہ صفت باطنی کہ جس سے انسان حیوان سے ممتاز ہوتا ہے، یہاں تک کہ اسی کے باعث امور کی حقیقتیں معلوم کرتا ہے۔”

 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پائلٹس کے چند آخری جملے — لالہ صحرائی
next post
"ذکر” کیا ہے؟ اہمیت و افادیت —— ماریہ مہوش

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.