تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسیاسیکالم

مریم نواز غازی —- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 17/05/2020
written by دانش ڈیسک 17/05/2020
190

2008ء میں نے ایم فل میں داخلہ لیا۔ ایک سال میں کورس ورک مکمل ہوا اور میں نے اپنی سپروائزر کا چناؤ کرکے اُنکی اجازت سے اپنی تحقیق کے موضوع کو جامعہ کراچی کے تحقیقی نگران بورڈ میں جمع کروا دیا۔ گو کہ میں نے دوران تعلیم اپنے اساتذہ کی ہمیشہ بہت عزت کی لیکن کبھی مجھے چمچہ گیری نہیں کرنی پڑی۔ اپنے نظریات یا عقائد کو اپنے اساتذہ کی خوشنودی کیلئے بدلنا یا چھپانا نہیں پڑا۔ مگر اب عجیب ہی معاملہ درپیش تھا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں آپ کو اپنی تحقیق پر بھی محنت کرنی پڑتی ہے اور اپنے سپروائزر کو کسی بھی معاملے میں ناراض نہیں کرسکتے۔ میری استانی تو ماشاء اللہ بہت اچھی خاتون تھیں اور انہیں چاپلوسی کی خواہش نہیں تھی مگر ارد گرد دوسرے طلبہ پر جو بیتتی وہ میں دیکھتا تو روح کانپ جاتی۔

خیر تو تب ہم سارے ہی ایم فل کے پریشان طلبہ اپنے اپنے اساتذہ کے ہر جملے پر ’واہ، واہ، واہ، واہ‘ کے نعرے بلند کیا کرتے۔ ہم انکے بغیر پوچھے ہی انہیں بتاتے اور جتاتے رہتے کہ نفسیات کی دنیا میں انکا کتنا عظیم مقام ہے۔ میرے ایک دوست کی سپروائزر صاحبہ نے اُس سے ایک دن انٹرن شپ کی کلاس میں شکوہ کیا کہ کبھی کسی نے انکو نہیں سراہا حالانکہ وہ پاکستان کی پہلی طبی نفسیات کی پوسٹ ڈاک ہیں۔ انکی صلاحیتوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا، کبھی کوئی کیک نہیں لایا، کبھی کوئی ایک گلدستہ نہیں لایا۔ بس یہ سننا تھا کہ میرے دوست نے فوراً کسی طرح پیسوں کا انتظام کرکے کیک منگوایا اور محترمہ کو سرپرائز ٹریٹ دی۔ مگر میڈم اِس بات پر بھی بگڑ گئیں کہ انکو ڈرامہ بازی نہیں پسند۔

چاپلوسی ایک دودھاری تلوار ہے جو کہ چاپلوس کوبھی تباہ کرتی ہے اور اُسے بھی تباہ کرتی ہے جسکی چاپلوسی کی جاتی ہے۔ مگر اس چوپلوسی کی مجبوریوں کی یاد مجھے حال ہی میں ایک ٹوئیٹ دیکھ کر آئی۔

مسلم لیگ نواز کی ایک رہنما نے ایک مزاحیہ ٹوئیٹ فرمایا۔ محترمہ کا نام ہے حنا پروز بٹ اور آپ نے فرمایا، ”میں آجکل ارطغرل دیکھ رہی ہوں اور میں مریم نواز میں ارطغرل سے کافی مماثل قائدانہ صلاحیتیں ہیں۔ انکا خدا پر غیر متزلزل یقین، کبھی ہمت نہ ہارنا، انکا اصولوں پر کھڑا ہونا، چاہے دنیا انکی مخالفت کرے، اور انکی حق و باطل میں تفریق کی اہلیت (ارطغرل سے مماثل ہے)“

میں خود بھی حنا صاحبہ کی ہی طرح ارطغرل غازی کا فین ہوں اور یہ بھی سمجھتا ہوں کہ عثمان بیگ کے والد محترم یقینا اس ڈرامہ سیریل کے کردار سے بدرجہ بہتر ہونگے۔ ظاہر ہے اس دور ابتلاء میں اتنا بڑا خواب دیکھنا اور اپنی اولاد میں منتقل کرنا بڑی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ارطغرل کا موازنہ مریم نواز سے کیوں؟ محترمہ تو آج کے دور کی ایک جمہوری رہنما ہیں اور ارطغرل غازی ملوکیت کے دور کے ایک بہادر سورما تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میدان حرب میں گزاری اور محترمہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سیاست کی۔ انکے جلسے جلوس اور شاہی جلسوں میں تمبو اور قنات کے علاوہ کچھ مماثل نہیں۔ کہاں جفاکش ترک خانہ بدوشوں اور گھڑسواروں کی مجاہدانہ زندگی اور کہاں ڈرائینگ روم کے نرم گدیلے اور ’پجیرو‘ اور ’لینڈ کروزر‘ کی سواریاں۔

پھر اگر صرف مزاح کے رخ سے بھی دیکھئے تو داڑھی والے ارطغرل غازی اور محترمہ مریم نواز میں کچھ مماثل نظر نہیں آتا۔ ہاں وہ اگر حلیمہ سلطان سے مماثل قرار دی جاتیں تو کچھ بات جمتی کہ انکے والد واقعی اب ایک جلاوطن شاہزادے ہیں اور وہ اپنے برادران کو بچانے کیلئے کافی کوشش بھی کرچکی ہیں مگر جب مزاح کی رعائت ہٹے گی تو یہ بات بھی اُن عظیم سلجوق شاہان، الپ ارسلان اور سنجر کی عظیم میراث کی توہین معلوم ہوگی۔

خیر اگر سنجیدگی سے بات کی جائے تو ارطغرل غازی کی جفاکشی اور سخت مشکل زندگی تو ایک طرف رہی، اصولوں کو خاطر کچھ بھی چھوڑنا یا اختیار کرنا بھی مریم نواز کیا نون لیگ کے ہی ’ڈی این اے‘ میں نہیں۔ جب محترمہ اور انکے والد اسٹبلشمنٹ کو تڑی لگا رہے تھے تب انکے چچا ’کردوغلو‘ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرچکے تھے۔ چار دن کی جیل نے مریم نواز اور انکے والد صاحب کے اوسان خطا کردئے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے باہر جانے کا راستہ مانگنا شروع کردیا۔ اس سے قبل بھی محترمہ مریم نواز کے والد صاحب مشرف سے ڈیل کرکے پتلی گلی سے ’نکل لئے‘ تھے۔ آج ساری نون لیگ بڑی بری ذہنی حالت میں ہے اسلئے کہ اس جماعت کا کارکنوں کی جمیع اکثریت کو صرف اور صرف اقتدار کی عادت ہے۔ وہ آج تڑپ رہے ہیں کہ انہیں تھوڑا سا ہی اقتدار کسی بھی بہانے سے مل جائے۔ یہ وہ جماعت ہے جو کہ اقتدار اور اختیار کے دائرے سے باہر ہو تو اسکا حجم آدھا بھی نہیں رہ پاتا۔ اور جو رہ جاتے ہیں (جیسے محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ) تو اس امید پر کہ آج نہیں تو کل ہمیں اقتدار میں تو آنا ہے، چاپلوسی کرلی تو کل کو وزیر لگ سکتے ہیں۔ اسی امید پر اپنے سیاسی مالکوں کی مدح میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ کبھی کوئی اکبر اعظم معلوم ہوتا ہے، کوئی شیر شاہ سوری لگتا ہے، کوئی محمود غزنوی معلوم ہوتا ہے اور کوئی ارطغرل۔

ویسے مجھے بھی اپنی تاریخ میں ایک کردار مریم بی بی کے والد محترم سے ملتا ہوا لگتا ہے۔ وہ کردار ہے شاہ عالم ثانی۔ یادش بخیر طوائف الملوکی کے دور کا یہ کمزور مغل، خود کو شاہِ عالم قرار دیتا تھا مگر اسکی اصل حکومت دلّی سے پالم تک تھی۔ انگریزوں کی مدد سے اپنے نام نہاد اقدار کو بحال کرنے والا یہ حاکم اپنی کتاب عجائب القصص میں کے ابتدائیے میں دعا کرتا ہے ’درست کیجئے یارب میرے امور شہی!‘ لیکن امور شہی درست نہیں ہوتے۔ یہ نظم جب لکھی گئی کہ تب غلام قادر روہیلہ شاہ عالم کو نابینا کرچکا تھا۔ یا پھر علامہ اقبال کی اِس حوالے سے نظم پرھ لیجئے۔ اس میں آپکو مریم نواز بھی ایک موزوں تاریخی کردار میں مل جائیں گی اور باقی نون لیگ کی کیفیت بھی واضح ہوجائے گی۔

Facebook Comments Box
ertuguralfeaturedMariam Nawaz Ghaziارطرلارطغرلمریم نواز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پنشن کا نظام: خاندان بھر کی پریشانی ——– نعیم صادق
next post
ارطغرل اور انسومنیا کی وباء — عفان مغل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.