تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

خوف نے سب کو باندھ لیا ہے —— قاسم یعقوب

by دانش ڈیسک 04/04/2020
written by دانش ڈیسک 04/04/2020
117

کبھی ایسا سوچا کرتے تھے کہ کاش ایسا ہو، خود کوگھر میں بند کر لیں۔ ہم ہوں اور ساتھ صرف فراغت ہو۔ پڑھتے پڑھتے کچھ لکھنے لگیں اور پھر سو جائیں۔ لکھتے لکھتے تھک جائیں تو اٹھ بیٹھیں اور گھر والوں سے باتیں کریں۔ اتنا سوئیں کہ سونے سے اُکتا جائیں۔ کتابوں کے اک ڈھیر میں چھوٹا سا گوشہ پوری دنیا بن جائے۔ جی اب یہ خواب نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کی حقیقت کا ایک بھیانک باب ہے۔ ہم سب اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں اور یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

کچھ دن پہلے اچانک ایک پیغام آیا کہ آپ گھر سے نہیں نکلیں گے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے گھر میں بیٹھ جائیں۔ ایک خوفناک وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ موت کا حملہ اتنا شدید ہے کہ آپ بچ نہیں پائیں گے۔ باہر والے باہر اور گھر میں صرف آپ اور آپ کے گھر والے رہ جائیں گے۔ ایسا خوف کہ سانس روک روک کے دیکھنا پڑ رہا ہے کہ کیا واقعی آپ زندہ بھی ہیں۔ اپنے بچے اور پیارے زندہ چلتے پھرتے دیکھ کے خوشی محسوس ہونے لگی ہے۔ آپ کے ہاتھ، کپڑوں اور جوتوں کے اندر تک موت داخل ہو چکی ہے۔ کیا ہم اب ایسے ہی بند رہیں گے، مگر ان کاموں کا کیا ہوگا جس سے دنیا کا نظام نہیں چلتاتھا، زندگی رُک جاتی تھی۔ بتایا گیا کہ چھوڑیے، خود کو بچائے کیوں کہ آپ بچیں گے تو دو سرا آپ کی وجہ سے بچ پائے گا۔ ان کے پروا کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ خود پوری دنیا رُک چکی ہے۔ دنیا کے ساتھ ہر کام اور نظامِ حیات بھی رُک چکاہے۔ ایک انجانا سا خوف ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکا ہے۔

آپ ذرا سوچیے کہ آپ کے بالکل ارگرد موت موجود ہو اور آپ اسے دیکھ بھی نہ سکتے ہوں، کس طرح کی کیفیت ہوگی۔ غالب نے کچھ اسی قسم کی زندگی کا نقشہ کھینچا تھا کہ ایک دریا ہے جس کی ہر ہر موج میں سو سو مگر مچھوں کے کھلے ہوئے منہ ہیں۔ جہاںایک قطرہ کہیں وجود پاتا ہے، حیات کرنے کا جتن کرتا ہے اور اس نے انھی کھلے منہوں کے درمیان زندہ رہنے کی تگ و دو کرنی ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ان دنوں پوری دنیا پر چھائی ہے۔ آپ نے دنیا بھر سے اپنے آپ کو بالکل کاٹ رکھا ہے، خود کو حقیقت میں الگ کر لیا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس طرح بچ جائیں گے؟آپ کے گھر دودھ والے نے بھی آنا ہے۔ اس کے ہاتھ برتن پر لگنے ہیں؟ کیا باہر کچھ کھانے کو نہیں لینے جانا۔ گاڑی کے اندر کچھ بیگز رکھنے ہیں جس پر دوسرے ہاتھوں کا لمس ہے۔ کیاکرنسی نوٹ بھی نہ پکڑیں۔ کیا پتا جوتی کے ساتھ کوئی وائرس چپک جائے۔ گاڑی کادروازہ کھولنا ہے۔ ہاتھ میں گھر کی چابی ہے، کہاں کہاں خود کو سمیٹ رکھیں۔ ذرا خود کو تصور کیجیے کہ آپ سطحِ سمندر پر تیرتے کسی برتن میں بیٹھے ہیں، جس کے کسی کونے میں ذرا سی چھید ہوئی تو آپ گئے۔ صرف آپ نہیں، آپ کے بچے، بہن بھائی، ماں باپ اور قیمتی رشتے، سب بہہ جائیں گے۔

کرونا نامی اس وبا نے پوری انسانیت کو خطرے سے دوچار کر رکھاہے۔ یہ ایسی وبا ہے جسے نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ اس کا کوئی علاج ہے۔ آپ اس سے بچنے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں مگر اس سے بچ نہیں سکتے۔ پاکستان میں اس وبا سے ابھی تک سنگین صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی مگرذرا اندازہ کیجیے اُن ممالک کا جہاں روزانہ ہر محلے سے مُردوں کی یاد میں ہلکی ہلکی رونے کی آوازیں آ رہی ہوں، جہاں ہر روزکسی گلی میں ایک ایمبولینس آتی ہو اورخوف کے دھویں چھوڑتی ہوئی باقی مکانوں کو آلودہ کر جاتی ہو۔

کرونا کی اِس وبا نے سب سے اہم پیغام یہ دیا ہے کہ اگر ہمیں کچھ دیر کے لیے سب کچھ روک کے ٹھہرنا پڑ جائے تو ہم کیا کریں گے؟ میں اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھ رہا ہوں، کسی کے پاس کچھ نہیں ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے رُکنے کے بعد کچھ کر سکیں۔ یقین کیجیے کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا جس کے لیے وہ وہ زندگی کی اتنی سخت تگ و دو کر رہے تھے۔ مجھے بھی ایسے لگا کہ میرے پاس بھی کرنے کے لیے کچھ نہیں مگر مجھے اس طرح رُک کے اپنے اردگرد دیکھنے کی پہلے سے بہت عادت تھی۔ اپنے ساتھ کچھ دیر گزارنے اور بے مصرف وقت ضائع کر دینے کا تجربہ میرے وجود کا حصہ تھا۔ میں نے اس عادت اور تجربے سے بہت کچھ پہلے ہی سیکھ رکھا تھا، جسے اب ایک پوٹلی سے نکال کے آہستہ آہستہ استعمال میں لا رہا ہوں۔

اب دنیا میں کیا ہوگا؟ کیا کرونا سب کو نگل جائے گا؟ کیا پرانی دنیا نئی دنیا بن جائے گی؟کیا ہم بدل جائیں گے؟ کیا ہمیں ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی کچھ نئی ضرورتوں کو ایجاد کرنا ہوگا؟ میرے خیال میں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ وحشت اور بھوک بہت بڑھے گی۔ ایک دوسرے کو مارنے اور مسلط ہونے کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت کا احساس شدت اختیار کر جائے گا۔ ہم کچھ سیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کے لیے مزید خوفناک ہو جائیں گے۔ لوٹ مار کا بٹ مارا آزادی سے گھومنے لگے گا۔ کچھ بھی بہترنہیں ہوگا۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم جس خول کے اندر چلے گئے ہیں، وہاں اپنے ساتھ وہ سب کچھ لے کے گئے ہیں، جسے چھوڑ کے جانے کی ضرورت تھی۔ جب ہم باہر نکلیں گے تو سب کچھ اپنے ساتھ باہرلے آئیں گے۔ وہ سب کچھ کیاہے؟ وہ فتح کرنے کی خواہش ہے۔ ایک دوسرے کو غلبہ پانے کی تمناہے۔ سب کچھ اپنے آپ کو سمجھنے کا دعویٰ ہے۔ جی؛ جب تک ہم اس ہوس سے نجات نہیں پائیں گے۔ کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ہمارے اردگرد پہلے بھی زندگی موت کی وادی میں خیمہ زن ہوتی رہی ہے مگر ہم اس سے نجات کے منصوبے نہیں بناتے بلکہ اس عرصے میں اپنی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ آج بھی ہر آدمی اس خوف سے نکلنے کے فوراً بعدکے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ کسی کو مارنے کا، کسی کو پیچھے دھکیلنے کا، کسی کو لوٹنے کا۔ جب تک ہم ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی وفا شعاری نہیں اپناتے، سب کچھ اسی طرح شروع ہو جائے گا اور اس رُکنے اور پھر چلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

  only fabs

Facebook Comments Box
Coronavirusقاسم یعقوبکرونا وایرسکورونا وایرسوبا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ذوالفقار علی بھٹو: مجموعہ اضداد —– پروفیسر غلام شبیر
next post
ایک اکیلا آدمی ہے اژدہامی آدمی —- عزیز ابن الحسن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.