تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

یہ DSLR کیمرہ جنریشن — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 21/01/2020
written by دانش ڈیسک 21/01/2020
111

ہمارے بچپن میں کیمرہ ہر گھر میں نہ ہوتا تھا۔ ہمارے والد کے پاس کیمرہ تھا مگر ہماری نانی کے گھر کیمرہ نہ تھا۔ اسی طرح ہمارے بہت سے رشتے داروں کے پاس کیمرہ نہ تھا۔ یہ تو تب بس شوقین لوگوں کا چونچلا تھا۔ راقم نے زندگی میں پہلی مرتبہ اُس کیمرے کو استعمال کرنے کی جرات 2000ء میں لاہور، اسلام آباد اور مری وغیرہ میں کی۔ تب کیمرے کی ریل ایک مہنگی شے تھی اور آپ کی کھینچی ہوئی تصاویر میں سے کچھ نہ کچھ ضائع ضرور ہوتی تھیں۔ ایک رول میں غالباً 32 تصاویر کھینچی جا سکتی تھیں۔

راقم کو تصاویر کھینچنے کا کوئی خاص شوق نہ تھا مگر اُس دور میں آپ کی کھینچی ہوئی تصاویر آپ کے البموں کی زینت ہی رہتی تھیں۔ کوئی مہمان آتا تو اسے یہ تصاویر دکھا دی جاتیں۔ لوگ اپنے دوستوں کو خط میں تصاویر ڈال کر بھیجا کرتے۔ جب کمپیوٹر کو 93 کے بعد مقبولیت ملی تو بھی ’اسکینر‘ شاذ ہی کسی کے پاس ہوا کرتا۔ جس کے پاس ہوتا وہ اپنی تصاویر اسکین کر لیتا۔ پھر ڈیجیٹل کیمرہ آنے شروع ہوئے۔ راقم نے ڈیجیٹل کیمرے سے کھینچی پہلی تصویر 1999ء میں دیکھی۔ مگر چند سال بعد تو موبائل فون میں بھی کم ریزولوشن کے کیمرے آنے لگے۔

ابتدائی ڈیجیٹل کیمرے یا موبائل کیمرے بڑی بے کار اور دھندلی تصویر کھینچا کرتے تھے مگر پھر رفتہ رفتہ تصویر صاف اور واضح ہونے لگی اور پھر تو اتنی وضاحت آئی کہ جس کا ریل والے کیمرے میں سوال ہی نہیں تھا۔

ایک جانب کیمرے اور کمپیوٹر کے الحاق سے ڈیجیٹل کیمرہ ایجاد ہو رہا تھا تو دوسری طرف کمپیوٹر اور خاص طور پر انٹرنیٹ ترقی کر رہے تھے۔ اب Chat کی ویب سائٹس کو عروج ملا اور یہاں سے ہی پروفائل پکچر کا تصور اور بعد ازاں تصاویر کے تبادلے اور البم بنانے کے سلسلے شروع ہوئے۔ لوگ msn کے چیٹ کے پروفائل بناتے, اُن میں اپنا تعارف درج کرتے, اپنی تصویر ڈالتے۔ پھر orkut آیا اور پھر فیس بک۔

اب تو سمجھئے کہ تصاویر کا سیلابی ریلا آنے لگا۔ اب چیٹ کچھ نہیں، نیا لفظ ہے ’سماجی میڈیا‘۔ اب البم لفظ بھی غائب سا ہو گیا ہے۔ اب تو بس جو جہاں ہے وہاں سے اپنی تصاویر اپ لوڈ کر رہا ہے۔ وہ ’چیک اِن‘ کر رہا ہے، وہ جہاں ہے دنیا کے نقشے میں دکھا کر ساتھ اسٹیٹس لگا رہا ہے۔

پھر جب ہر لمحہ ہی براڈ کاسٹ ہوتا ہے تو تصویر تو اعلیٰ ہی ہونی چاہئے۔ ہر اعلیٰ تصویر پر ستائش کے ٹوکرے ملیں گے اور اگر نہ بھی ملے تو بھی اپنا امیج بڑا اعلیٰ ہو جائے گا۔ یہاں یاد رکھنے کا لفظ ہے ”امیج“ اسے یاد رکھئے گا۔ آگے کی بات میں یہ بہت اہم حیثیت کا حامل ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ DSLR کیمرے والی نئی نسل کیا واقعی تصویر کھینچنے کے بے حد شوقین لوگ ہیں؟ کیا اِن کو ہر منظر مبہوت کر دیتا ہے؟ کیا یہ کسی نوع کے فنکار ہیں؟

کوئی بھی DSLR کیمرہ کتنی ہی اعلیٰ تصویر کھینچنے کی صلاحیت کیوں نہ رکھتا ہو یہ طے ہے کہ انسانی آنکھ سے زیادہ واضح تصویر تو نہیں کھینچ سکتا۔ تو کیا یہ لوگ اُن مناظر کو دیکھ کر اس طرح ان میں گم ہوتے ہیں؟ مبہوت ہوتے ہیں۔
کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ وہ تو کوئی خاص لمحہ، کوئی خاص پل دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ چلئے بات کچھ سمجھ آتی ہے مگر دنیا کے لئے اب کون سے منظر کی تصویر نیا تجربہ رہ گئی ہے؟ یہ دور کہ جب انسان کے دماغ پر ہر لمحہ تصویروں اور آوازوں کی بارش جاری ہے، ایسے میں کوئی بھی ناظر کب ایک منظر پر لمحہ بھر بھی رکتا ہے؟ خود تصویر کھینچنے والا بھی اپنے کھینچے ہوئے منظر پر کب توجہ دیتا ہے۔

انسان کی ترقی نے اُسے نت نئے کھلونے تو لا کر دے دیئے مگر اُس سے اظہار کی قدرت بڑی حد تک چھین ہی لی ہے۔

اب تو کسی بھی منظر کی کسی بھی تصویر کی کوئی بھی اہمیت، کوئی بھی وقعت نہیں رہی۔ مگر پھر بھی یہ DSLR جنریشن کیوں کیمرے سے چپکی ہوئی ہے؟ بات یہ ہے کہ انسان کی ترقی نے اُسے نت نئے کھلونے تو لا کر دے دیئے مگر اُس سے اظہار کی قدرت بڑی حد تک چھین ہی لی ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، 1850-60 ء وغیرہ میں دستوفسکی اپنے ناولوں میں ہر منظر میں کمرے کی تمام چیزوں، لوگوں کے لباس سے لے کر اُن کے انداز تک ہر شے کا بیان کر کے منظر شروع کرتا تھا۔ آج کا لکھاری، وہ شخص جس کو زبان پر قدرت ہونی چاہئے کہ اُس کا تو کام ہی لکھنا لکھانا ہے، وہ بھی اس تفصیل سے منظر بیان نہیں کرتا، نہیں کر سکتا۔

شک ہو تو لوگوں سے پوچھئے کہ ’برآمدہ‘ اور ’راہداری‘ میں کیا فرق ہے؟ ’بیضوی‘ اور ’گول‘ میں کیا فرق ہے؟ یہ زبان کی قدرت انسان سے جوں جوں چھنتی جاتی ہے وہ اس کا بدل تصویر سے دینے کی سعی کرتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ زبان کا بدل تو کبھی بھی کوئی اور چیز ہوتی ہی نہیں۔

پھر جو منظر، جو چیزیں ان کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور یہ ان کی تصویر کھینچ رہے ہیں، ان کا چناؤ بھی بڑی حد تک لاشعوری ہے۔ لاشعور میں موجود چیزیں اپنا اظہار کسی شکل میں پا رہی ہیں تو بڑی بات ہے مگر اس تصویر کشی میں موجود علامتوں سے کوئی واقف تو ہوتا نہیں، اس لئے ان کے اندر پوشیدہ پیغامات سے خود تصویر کھینچنے والا بھی نابلد رہتا ہے اور انہیں دیکھنے والا بھی۔

زبان کی قدرت انسان سے جوں جوں چھنتی جاتی ہے وہ اس کا بدل تصویر سے دینے کی سعی کرتا ہے

مگر معاملہ صرف لاشعوری ہے بھی کب؟ دراصل اس DSLR کیمرے سے کئی چیزیں منسلک ہیں، جیسے امارت، یعنی اگر آپ بہت اعلیٰ کیمرے سے تصویر لے کر share کرتے ہیں تو لوگ آپ کے کیمرے کی قیمت سے آپ کی جیب میں موجود پیسے کا اندازہ قائم کر سکتے ہیں۔ پھر آپ کی تصاویر میں اگر ہر وقت پکنک، پارٹی، ہائیکنگ، پہاڑی علاقوں کی سیر وغیرہ جیسی چیزیں نظر آتی ہیں تو خوشیوں کی فراوانی کا اشتہار بھی دنیا کے منہ پر مارا جا سکتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ ٹی وی پر اب ہر لمحہ درجن بھر فلمیں آرہی ہوتی ہیں، انٹرنیٹ پر لاکھوں فلمیں موجود ہیں مگر انسان کو یاد وہی فلم آتی ہے جو اُس نے سینما میں دیکھی تھیں یا اُس دور میں دیکھی تھی جب VCR پر فلمیں دیکھی جاتی تھیں۔ صرف ا سلئے کہ سینما اور VCR دونوں ہی صورتوں میں کوئی دوسرا option آسان نہیں ہوتا تھا اور جب آپ فلم دیکھتے تھے تو پوری توجہ اُس پر ہی رہتی تھی۔ یعنی کثرت کی وجہ سے انسان ایک فلم پر بھی توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ یہی معاملہ تصویر کا بھی ہے، ابھی تک تو خیر پھر بھی DSLR کیمرے میں تھوڑا امارت کا تاثر باقی ہے، چند سال بعد یہ مکمل طور پر ہر فرد کے ہاتھ کا کھلونا ہو گا۔ ریڑھی چلانے والے کے پاس بھی DSLR کیمرہ پڑا ہو گا۔ تب کوئی بھی منظر انسان کو حیران کرنے کی قدرت 100% کھو دے گا۔ تب انسان تصویر کو دیکھ کر محض لاتعلقی اور بوریت محسوس کرے گا اور ممکن ہے کہ اُسے گھن آنے لگے۔ ہر فراوانی کی اگلی سطح یہی ہوتی ہے۔ ہر فراوانی کی Ugly سطح یہی ہوتی ہے۔

Facebook Comments Box
Camera DSLRfeaturedPhotographerPhotographyتصویر کشیفوٹوفوٹو گرافیکیمرہموبائل کیمرہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر حمیرا اشفاق صاحبہ کےافسانوی مجموعہ ’’کتبوں کے درمیان‘‘ ——– محمد تیمور
next post
خان صاحب! اجازت ہو تو گھبرا لیں‎ ——– راجہ قاسم محمود

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.