تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیعلم و ادبکالم

سرمایہ داری نظام اور ہمارے شاعر، ادیب ——- ڈاکٹر اورنگزیب نیازی

by Editor2 13/07/2019
written by Editor2 13/07/2019
100

سرمایہ داری نظام بہ قول ارون دھتی رائے

ایک طاقت ور، بے رحم اور سر تا پا مسلح بادشاہ ہے۔ اس قسم کا بادشاہ دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

اس وقت عالم تمام اس بادشاہ کے حلقہء دامِ خیال میں ہے یہاں تک کہ روس اور چین جیسے اس کے قدیمی حریف بھی اس کے سامنے پسپائی اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے ابتدائی خدو خال دوسری جنگ عظیم کے بعد اُبھرنا شروع ہو گئے تھے لیکن اس سرمایہ دارانہ معاشی منصوبے کی تکمیل بیسویں صدی کے اواخر اوراکیسویں صدی کے آغاز میں ہوئی۔ یہ نظام سرمایے کی کھپت اور اضافے کو ترجیحی قدر کے طور پر پیش کرتا ہے اور فری مارکیٹ اکانومی، نیو لبرل ازم اور کنزیومر اکانومی جیسے معاشی تصورات کی مدد سے اپنی حیثیت اور حاکمیت کو باور کراتا ہے۔ یہ نظام لا مرکزیت، لاتعلقی، ورائے قومیت اور سرد مہری سے عبارت ہے۔ یہ اپنی غایت میں معاشی نظام ہے مگر اس وقت بین الاقوامی سرحدوں کو توڑ کر دنیا بھر کی ثقافتوں اور سماج کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ یہ انسان اور سماج کے ایک نئے رشتے کی تعبیر کرتا ہے اور یوں اکیسویں صدی میں انسان کا ایک نیا تصور خلق کرتا ہے جس کی رُو سے نہ صرف انسان بل کہ فطری مظاہر، ثقافتی اوضاع، تاریخ، ادب حتیٰ کہ موت، قبریں اور کھیل تک قابلِ صرف اشیا میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کرکٹ کے جاری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں گراؤنڈ سے لے کر کھلاڑیوں کے جوتے تک، کارپوریشنز کی اجارہ داری کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ لیکن اس نظام کا ایک مثبت پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمارہی زندگی کو آسان اور دلچسپ بنانے والی وہ تمام اشیاء جو اب عام آدمی کی رسائی میں ہیں، وہ اسی نظام کی دین ہیں۔ گویا یہ نظام ایک آراستہ کمرہ ہے جس کے فرش پر مخملیں قالین بچھا ہے، دیواروں پر ریشمی پردے لہراتے ہیں، ایئر کنڈیشنر چل رہا ہے، بیٹھنے کو آرام دہ صوفہ اور سونے کو نرم بستر ہے، ٹی۔ وی، موبائل فون اور انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے، اعلیٰ درجے کے مشروبات اور کھانے پینے کا وافر سامان موجود ہے لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کمرے میں کوئی کھڑکی یا دروازہ نہیں ہے۔

ضیائی آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے والے ادیب اور شاعر، روشن خیالی کے نام پر پرویز مشرف کی آمریت کو خوش آمدید کہنے والوں میں پیش پیش تھے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہی اذہان ضیاء الحق کے لگائے ہو پودے یعنی نواز شریف کو اس کے تیس سالہ پرو اسٹبلشمنٹ ماضی کے ساتھ جمہوریت کا استعارہ لکھ رہے ہیں

ایک کالم نگار نے سوال اُٹھایا ہے کہ ایسے میں ہمارا ادیب کہاں کھڑا ہے؟ یعنی اس نظام زر کے خلاف ادب میں مزاحمت کیوں نہیں ہے؟ اس کا ایک آسان سا جواب تو یہ ہے کہ معاشرے میں ادیب کا کردار اب مؤثر نہیں رہا۔ ادب عام آدمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ ادب کی جگہ نیوز چینلز، انٹر نیٹ اور تفریح کے دوسرے ذرائع لے چکے ہیں۔ اب کسی سنجیدہ فکر نقاد کے بھر پور مضمون سے کہیں زیادہ مؤثر کوکا کولا کا وہ اشتہار ہے جو چند سیکنڈز میں، پوری دنیا میں پھیل کر زبان زد عام ہو جاتا ہے۔ مزاحمت کی جو ذمہ داری کسی زمانے میں ادیب کے کندھوں پر تھی، اس کا بار اب میڈیا اور صحافیوں پر آن پڑا ہے لیکن میڈیا بذات خود اس نظام کا سب سے بڑا ہتھیار اور اس کے مفادات کا دلال ہے اور صحافی اور اینکرز اس نظام کی محافظ سیاسی پارٹیوں کے ترجمان۔ ایسے مین ادیب مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں ہے نہ ہی وہ کوئی ایسا کردار ادا کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا ادیب خود اس نظام زر کا حصہ بن چکا ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ادب پرھانے والے اساتذہ پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ادبی مراکز میں بیٹھے ہوئے، مین سٹریم کے تمام ادیب ادبی اشرافیہ کا روپ دھار چکے ہیں۔ یہ اپنی دولت، پوش علاقوں میں رہائش، مہنگی گاڑیوں، جدید لائف سٹائل، سیاستدانوں اور بیورو کریسی میں اپنے تعلقات کی بنا پر اجارہ داری قائم کر چکے ہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو، سرکاری اعزازات کی بندر بانٹ، بڑا مشاعرہ اور ادبی کانفرنس ان کی Recommendations کے بغیر ممکن نہیں۔ این جی اوز اور کارپوریشنز کی سپانسرڈ کانفرنسوں اور ادبی میلوں کے دعوتی کارڈ ا’ٹھا کر دیکھیے! دس پندرہ ناموں کی تکرار آپ کو شدید مایوس کرے گی۔ سرمایہ داری نظام کی ناقد معروف دانشور ارون دھتی رائے نے اپنے ایک انٹرویو میں پتے کی بات کہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ادبی میلوں میں باغیانہ خیالات پیش کرنے والے ادیب درحقیقت کارپوریٹ اداروں کے آلہء کار ہوتے ہیں، جو ان اداروں سے پیسے لے کر ان ھی کے خلاف بات کرتے ہیں تاکہ عام آدمی کا کتھارسس ہوتا رہے اور وہ اس دھوکے میں رہے کہ اس کی آواز پہنچائی جارہی ہے۔ یوں آتش فشاں پھٹنے سے پہلے ہی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا تشکیلی حقیقتیں پیش کرتا ہے یعنی ایسی حقیقتیں جو حقیقت نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا کی جنگ ذاتی شہرت کے لیے لڑی جاتی ہے۔

جائے حیرت ہے کہ آج ماضی کے سوشلسٹ اور کمیونسٹ اپنی شکستہ ذہنیت کے ساتھ نیو لبرل ازم میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ جی ہاں نیو لبرل ازم میں۔ جو سرمایہ داری نظام کا حیلہ ساز اور محافظ ہے۔ ۔ حیران کن بات ہے کہ ضیائی آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے والے ادیب اور شاعر، روشن خیالی کے نام پر پرویز مشرف کی آمریت کو خوش آمدید کہنے والوں میں پیش پیش تھے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہی اذہان ضیاء الحق کے لگائے ہو پودے یعنی نواز شریف کو اس کے تیس سالہ پرو اسٹبلشمنٹ ماضی کے ساتھ جمہوریت کا استعارہ لکھ رہے ہیں۔

رہی بات سوشل میڈیا پر نظر آنے والے اِکا دُکا مزاحمتی اشعار اور تحاریر کی تو خیال خاطر رہے کہ سوشل میڈیا تشکیلی حقیقتیں پیش کرتا ہے یعنی ایسی حقیقتیں جو حقیقت نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا کی جنگ ذاتی شہرت کے لیے لڑی جاتی ہے۔ جس نے زیادہ فالورز بنا لیے وہ اپنے حلقہء احباب میں اتنا زیادہ مشہور ہو گیا۔ عام افراد کی طرح شاعر ادیب بھی سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید نظام کے بجائے موجودہ یا سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر ہوتی ہے اور ان کے اشعار حُب علی اور بغض معاویہ والے محاورے کی تفسیر ہوتے ہیں۔ جو موقع شناس تھے، وہ بہت آگے نکل گئے ہیں، باقی جو ہیں وہ مفادات کی گنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ہمارے ایک شاعر دوست پی ٹی آئی کے جلسوں میں تقریریں کیا کرتے تھے۔ پی ٹی آئی ۲۰۱۳ء کا الیکشن ہار گئی تو وہ لمبا سفر طے کر کے نائن زیرو پہنچے اور الطاف بھائی کی شان میں نظمیں لکھنے لگے، شومئی قسمت کہ ایم کیو ایم کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ انھوں نے تخت لاہور کی راہ لی مگر یہاں بھی دیر ہو چکی تھی۔ اب وہ ’’بیگم نوازش علی‘‘ کا میک اپ درست کرتے ہیں اور پُر امید ہیں۔

Facebook Comments Box
ادباورنگزیب نیازیمزاحمتی ادب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
منٹو اور ظفر عمران —- داود ظفر ندیم
next post
مذہب: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (8) یوول نوح حریری

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.