تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیعلم و ادبکالم

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں —- محمد اظہار الحق

by دانش ڈیسک 17/05/2019
written by دانش ڈیسک 17/05/2019
153

دانش ڈاٹ پی کے پرکچھ عرصہ قبل حضرت شاہد اعوان کا ایک فکر انگیز مضمون شائع ہوا۔ کتب بینی اور سماجی ذرائع ابلاغ مشکل پیرایئہ اظہار میں شاہد صاحب نے موضوع کے اہم پہلوئوں کا احاطہ کیا۔ شامت جو آئی، اس پر ایک کمنٹ لکھا کہ بہت کچھ ہماری شرح خواندگی پر منحصر ہے۔ وہ جو کہتے ہیں جو بولے وہ ہی دروازہ کھولے تو حضرت نے حکم جاری کیا کہ اس موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے کچھ لکھوں۔

اب مقطع میں سخن گسترانہ بات یہ آن پڑی کہ میں بھی اعوان ہوں مگر ان کی اعوانیت اور میری اعوانیت میں فرق ہے۔ ایک صاحب نے کسی سے نام پوچھا تو اس نے جواب دیا عبدالرئووووف یعنی ایک لمبا روئوف۔ اس نے پوچھا کہ تمہارہ نام کیا۔ جواب دیا نام تو میرا بھی یہی ہے مگر اتنا لمبا نہیں۔ سو ہوں تو میں بھی اعوان مگر میں ایک غریب اعوان ہوں اور ساتھ ہی سست، غیر منظم اور آرام طلب۔ میں نے ایک فارمولا وضع کیا ہے کہ اعوان کی دو نشانیاں ہوتی ہیں۔ غریب اور اکڑ والا۔ جسے پنجابی میں آکڑ کہتے ہیں مگر پیراڈاکس یہ ہے کہ یہ فارمولا شاہد اعوان جیسے شرفا پر صادق نہیں آتا۔ چنانچہ اس فارمولے کی ایک ورژن اور بھی نکالنا پڑا جو اعوان اشرافیہ کے لیے خاص ہے یعنی اعوان وہ ہے جو امیر ہو اور عزت نفس کے معاملے میں ازحد حساس۔ غریب ہو تو عزت نفس کی جگہ اکڑ، کہ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ بس saving – face کا فرق ہے۔

کتاب کے حوالے سے گزارش ہے کہ کتاب کا نام آتے ہی کاغذ، جلد، پیپربیک، کمپوزنگ، کتابت وغیرہ کے الفاظ فوراً ذہن میں ںدرآتے ہیں۔ شاہد صاحب نے دو نام استعمال کیے ہیں کاغذی کتاب اور برقی کتاب مجھے دونوں سے اختلاف ہے۔ اس لیے کہ جب سینکڑوں برس پہلے کہا گیا کہ ذالک الکتاب لاریب فیہ، تو اس وقت کتاب کاغذی تھی نہ برقی۔ معلوم ہوا کہ کتاب اصل میں حروف اور الفاظ کا مجموعہ ہے۔ جو کوئی بھی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ دیکھیےکہ فرض کیجیے ایک شخص نے بالِ جبریل، یا برگِ نے یا پہلی بارش پوری یاد کی ہوئی ہے تو اب یہ کتاب اس کے سینے میں محفوظ ہے۔ اسے دوسرا پڑھ نہیں سکتا مگر جس نے حافظے میں محفوظ کی ہوئی ہے وہ سنا سکتا ہے۔ ثابت ہوا کہ انسانی سینہ یا یاداشت بھی کتاب ہو سکتی ہے۔

مجھے اس سے اختلاف ہے کہ اکثریت آج بھی کاغذی کتاب کو ترجیح دیتی ہے اور دوسرا یہ کہ مغر ب میں کاغذی کتاب کی اشاعت میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

موسیٰ علیہ اسلام پر آسمانی کتاب اتری تو تختیوں کی صور ت میں۔ یہاں مجھے کتاب کی مماثلت خود حضرت انسان کے ساتھ بہت بر محل لگتی ہے۔ انسان مختلف شکلیں اور مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔ کبھی قطرہ آب کی صورت، کبھی لوتھڑا، کبھی بچہ، کبھی بوڑھا، کبھی وہ جسم ہی کو چھوڑ دیتا ہے مگر ہستی اسکی پھر بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمیں نظر نہیں آتی۔ کتاب کا بھی یہی سلسلہ ہے۔ کسی کے حافظے میں ہو تو دوسروں کو نظر نہیں آتی۔ کبھی تختیوں کی صورت، کبھی پارچے پر، کبھی چھال پر، کبھی کاغذ پر، کبھی ای بک کی صورت میں۔ اگر ماضی کے حوالے سے کتاب کے مستقبل کی پروجیکشن کی جائے تو یہ نتیجہ آسانی سے نکال سکتے ہیں کہ کاغذی اور برقی دونوں شکلیں پہلی شکلوں کی طرح عارضی ہیں۔ مستقبل میں کتاب کیا صورت اور کیا ظاہری شکل اختیار کرتی ہے۔ لمحہ موجو میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ پریس کی ایجاد سے پہلے جب بادشاہوں اور نوابوں کے کتب خانوں میں کتابیں ہاتھ سے نقل کی جا رہی تھیں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آئی پیڈ پر، لیپ ٹاپ یا ای ریڈر پر برقی کتابیں بھی ہوں گی۔ جیسے بطن ِ مادر میں بچے کو کسی طور نہیں سمجھایا جا سکتا کہ باہر دنیا میں رہائش مکان کیسے ہونگے، جہاز کیسا ہوگا، ٹرین کیسی ہوگی، چاکلیٹ بھی ہو گی اور حمام بھی۔ بعینہ آج ہم ادراک نہیں کر سکتے کہ ای ریڈر کے بعد کتاب کون سا بھیس بدلے گی۔

یہ ایک نہ ختم ہونے والا موضوع ہے۔ اس لیے یہ طے کر لیتے ہیں کہ اب صرف دو نکات اور میں جن پر بات ہوگی۔ پہلا یہ کہ مجھے شاہد صاحب کے اس پوائنٹ سے اختلاف ہے کہ اکثریت آج بھی کاغذی کتاب کو ترجیح دیتی ہے اور دوسرا یہ کہ مغر ب میں کاغذی کتاب کی اشاعت میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اعداد و شمار شاہد صاحب نے پیش کیے نہ اس وقت میرے پاس ہیں۔ تحقیق کی جائے تو اصل بات سامنے آجائے گی۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اکثریت برقی کتابوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی فلائیٹ میں چل پھر کر دیکھ لیجیے کاغذی کتابوں کی نسبت ای ریڈر پر پڑھنے والے تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کاغذی کتاب بذریعہ ڈاک منگوانے میں کئی دن اور بعض ملکوں میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں جب کہ اس کا برقی ورژن چنڈ منٹوں میں خرید کر اپ لوڈکیا جا سکتا ہے۔ سنجیدہ مطالعے کی ایک صورت اخبارات بھی ہیں۔ خاص طور پر OP-ED کے مضامین رواں تاریخ کا قابل ذکر منبع ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل سے لے کر نیو یارک پوسٹ تک۔ روزنامہ ہندو سے لے کر گلف نیوز تک۔ اور ٹری بیون سے لے کر روزنامہ ڈان کے ہفتہ وار Books and Authors تک۔ برقی صورت میں پڑھنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ آپ کو یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ لندن، نیو یارک یا سڈنی سے فلاں کتاب شائع ہوئی ہے مگر یہ کتاب آپ کو اسلام آباد کے سعید بک بینک یا مسٹر بکس یا لاہور کے ریڈنگ میں ملے گی نہیں۔ ہو سکتا ہے مہینوں بعد ملے یا کبھی بھی نظر نہ آئے۔ چنانچہ کاغذی کتابوں پر انحصار آپ کا انتخاب حد درجہ محدود کر دے گا۔ دوسری طرف برقی خواندگی پر انحصار آپ کو تیز رفتار دنیا کے ساتھ ساتھ رکھے گا۔

اب آخرمیں میں اس پہلو کی طرف آتا ہوں جو پاکستان کے لیے خاص ہے۔ ہم مجموعی طور پر ایک ناخواندہ ملک ہیں۔ بہت رعایت ملی تو کم خواندہ ہو جائیں گے۔ شرح خواندگی شرمناک حد تک کم ہے۔ سرکاری دعوے قابل اعتبار نہیں۔ قیاس یہ ہے کہ پچیس تیس فی صد سے زیادہ نہیں۔ لائبریریاں عنقا ہیں۔ یہ سطور میں آسٹریلیا کے ایک چھوٹے سے شہر کی ایک لائبریری میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ جیلانگ کانام بھی بہت سوں نے نہ سنا ہو گا۔ دو لاکھ سے کم آبادی والے اس شہر میں اٹھارہ لائبریریاں ہیں جو مقامی حکومت کے زیر انتظام چل رہی ہیں۔ برطانیہ کے ہر قصبے میں لائبریری موجود ہے۔ اس صورت حال کا موازنہ ہم اپنے ملک سے بآسانی کر سکتے ہیں۔ کتابوں کی دکانیں بتدریج کم ہورہی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ کراچی کی الفنسٹن سٹریٹ پر کئی بک شاپس تھیں۔ سٹریٹ کا نام زیب النسا سٹریٹ پڑا۔ مگر بک شاپس غائب ہو گئیں۔ زینب مارکیٹ کے سامنے ایک بوڑھا پارسی الماس بک ڈپو میں بیٹھا کتابیں بیچا کرتا۔ ایک بار حسب معمول وہاں پہنچا تو دکان تھی نہ کتابیں نہ وہ پارسی۔

اس پر ایک ماتمی مضمون Death of a Book Shop لکھا جو روزنامہ دی نیوز میں چھپا۔ کوئٹہ کی علم دار روڈ پر، جہاں فارسی وبولنے والے ہزارہ بستے ہیں، کتابوں کی کئی دکانیں تھیں جہاں ایران کی چھپی ہوئی دیدہ زیب فارسی ادب کی کتابیں میسر تھیں۔ اب اس شاہراہ پر جانا بھی ممکن نہ ہو کہ قتل و غارت عروج پر ہو تو کتابیں کون فروخت کرے گا اور کون خریدے گا۔

پاکستان میں کتاب کا حال کیا ہے اور مستقبل کیا ہو گا، اس کا اندازہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کروڑوں کی آبادی جو گرد میں لپٹے قصبوں اور خاک اُڑاتے قریوں میں زندگی بسر نہیں کر رہی بلکہ دن پورے کر رہی ہے، کتابیں کیا پڑھے گی۔ انکی دسترس میں تو ایک ڈسپنسری تک نہیں، لائبریری کی باری تو اس کے بعد آتی ہے۔

Facebook Comments Box
BookeBookfeaturedIzharul HaqShahid AwanUrdu Booksاردو کتبای بکبرقی کتابشاہد اعوانکاغذی کتابکتابکتاب پڑھناکتبکتب بینیمحمد اظہار الحقہارڈ بک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۲) ——— محمد وسیم تارڑ
next post
مرزا اطہر ضیاء کی شاعری: ایک جہانِ حیرت کی سَیر ——– محمد فیصل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.