تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

گفتار کے غازی اور بے حال مزدور —– خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 16/05/2019
written by دانش ڈیسک 16/05/2019
83

سال کا پانچواں مہینہ ابھی شروع نہیں ہوا ہوتا کہ پورے ملک میں مزدورکے ساتھ ہمدردی کا بخار چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی روز بزور ترقی کی وجہ سے اب ہر طرح کے بخار کے بخارات کی دوسروں کے سامنے نمائش بھی ضروری ہوتی ہے اس لیے سوشل میڈیا کی ہر سائٹ پرمزدور مزدور ہو رہی ہوتی ہے۔ جانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر شاعری سامنے لائی جاتی ہے، کتابوں سے حوالے ہوں کہ ناولوں سے اقتباس یا ڈراموں کے چھوٹے چھوٹے سین۔ ۔ ۔ مزدور کی ہمدردی اور محبت میں کی جانے والی یہ تلاش مجھے بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ نہ جانے مزدور کتنی عظیم ہستی ہے جس کے لیے لوگ اتنی محنت کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں آپ مزدور کے خلاف کچھ کہہ دیں لوگ آپ کو یوں گھورنے لگیں گے جیسے رمضان میں بیچ سڑک کچھ کھاتے ہوئے پکڑے گئے ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ دکھاوا اور منافقت کیا مزدور کے کسی کام آ سکتی ہے؟ کیا ہماری کسی پوسٹ پر چھے سو لائک اور بارہ سو کمنٹس کسی مزدور کا پیٹ بھرسکتے ہیں؟ کیا ہماری مزدور ڈی پی سے کسی مزدور کے تن پر اچھے کپڑے آ سکتے ہیں؟ سوالات کی ایک لمبی فہرست ہے اور افسوس کی بات یہ کہ تمام سوالوں کے جواب زمینی حقائق کے مطابق نفی میں ہیں۔

’’صاحب تم کیا جانو کہ جب ایک مزدور سارا دن مزدوری کرنے کے بعد گھر کی طرف جاتا ہے تو اس کا بدن کس طرح ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور خالی جیب گھر میں کیسے داخل ہو، یہ سوال اس کے ذہن پر ہتھوڑے مار رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں سے آنکھ نہیں ملا پاتا کہ آج بھی ان کے لیے وہ کوئی کھلونا نہیں خرید سکا۔ اس کے بوڑھے جسم میں اتنی جان نہیں ہوتی کہ اب وہ اتنی محنت کے کام کر سکے لیکن بچوں کی بھوک، مالک مکان کے تقاضے، دکانوں کے ادھار اس کو ہر صبح محنت کے بازار میں فروخت کے لیے پیش ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں‘‘۔ یہ اور ایسے بہت سے خوبصورت دکھ بھرے جملے ہیں جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں یوم مزدور کی مناسبت سے سوشل میڈیا پر شئیر کئے گئے اور ریٹنگ میں سب سے اوپر رہے۔ ایڈیٹنگ والوں نے اپنی مہارتوں کے ثبوت دئیے اور ایسی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں کہ دل چاہنے لگا کہ کاش ہم بھی مزدور ہوتے۔

ہمیں گھر کو جاتے جھکے کندھوں اور خالی جیب والے مزدور یاد آتے ہیں لیکن اپنے گھر میں کام کرتے مزدور کو کچھ اضافی پیسے دیتے ہماری جیب پر بیٹھا سانپ ہمیں ایسی کسی بھی حرکت سے منع کرتا ہے

اتنے پر عزم یوم مزدور کے بعد عملی صورت حال کیا رہی۔ کیا کسی نے اپنی موٹر سائیکل کی بلاضرورت ہی ٹیونگ کروائی کہ اس کی وجہ سے کسی کو سو دو سو روپے کی مزدور ی مل جائے گی اور آتے ہوئے ورکشاپ میں موجود چھوٹے کے ہاتھ پر پچاس روپے رکھ کر آیا ہو؟ صاحبِ کار نے اپنی کار کو خود دھوتے ہوئے ٹینکی بھر پانی ضائع کرنے کے بجائے کسی کار واش پر گاڑی روک لی ہو کہ چلو کسی کی مزدوری کا بہانہ ہو جائے گا اور گاڑی الگ صاف ہو جائے گی؟ گھر میں مرمت کے چھوٹے موٹے کام تو نکلتے رہتے ہیں جنہیں ہم اگلی چند ماہ یا سال پر نہیں بلکہ اگلی صدی پر ٹالتے رہتے ہیں، کیا کسی نے اپنے گھر کے ان چھوٹے موٹے کاموں کے لیے کسی مزدور کو بلایا؟ گھر کی تعمیر کے وقت رنگ روغن کروانے کے بعد دوبارہ رنگ و روغن کا خرچہ کسی شادی بیاہ پر ہی نکلتا ہے، کیا اس یوم مزدور پر کسی مزدور کی آنکھوں سے جھانکتی ہوئی مجبوری نے ہمیں ایسے کسی خرچے پر مجبور کیا؟ دس گیارہ بجے تک مزدور بازار میں اپنی دہاڑی کی آس میں کھڑا ہوتا ہے اور ہر گزرتے منٹ کے ساتھ اس کی امید کم ہوتی اور اس دن کے اخراجات کی سوچ بڑھتی جاتی ہے۔ کیا کسی کو اس وقت مزدور کے ساتھ ہمدردی ہوئی اور اس نے گھر کی باہری دیوار کا کوئی کام اسے دے دیا ہو؟ کیا کسی نے اپنے دفتر کام کرنے والے درجہ چہارم کے ملازموں کورمضان اور عید پر کچھ نقدی دینے کا سوچا؟ آپ کے شہر میں غریبوں کی بستیاں بھی ہیں اور مزدوروں کی بھی، لیکن کیا کوئی وہاں کپڑے، کھانا اور پھل وغیرہ لے کر گیا کہ اظہار یک جہتی کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ ایسے ہزار سوال ہیںاور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے جواب بھی نفی میں ہیں۔ ہم بس گفتار کے غازی ہیں، سوشل میڈیا پر بیٹھے ولیوں کی عملی زندگی کس قدر جھوٹی اور منافقت سے بھری پڑی ہے یہ وہ خود اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ہمیں فیس بک پر گھر کو جاتے جھکے کندھوں اور خالی جیب والے مزدور یاد آتے ہیں لیکن اپنے گھر میں کام کرتے مزدور کو کچھ اضافی پیسے دیتے ہماری جیب پر بیٹھا سانپ ہمیں ایسی کسی بھی حرکت سے منع کرتا ہے اور یہی اس معاشرے کی اور ہماری عملی اور حقیقی زندگی کی سچائی ہے۔

یقین جانیں مزدور کو آپ کے اسٹیٹس، خوبصورت جملوں اور بہترین تصویروں سے کوئی لگاو نہیں ہے۔ آپ جتنا درد سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں اس سے آدھا درد عملی زندگی میں محسوس کریں تو ڈیڑھ صدی سے منائے جانے والے یوم مزدور کی اگلے سال ضرورت نہ رہے۔ اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں، آپ اور ہم کون سا اپنی ذات میں ولی ہیں۔ بالکل ایسے ہی مزدوروں میں اچھے برے موجود ہیں اور کسی کے برے تجربے کو آپ سبھی پر لاگو نہیں کر سکتے۔ مزدور اور صاحب اس معاشرے کی دو انتہائیں ہیں اور بد قسمتی سے دونوں اس قدر دور ہیں کہ وہاں سے دونوں کو ایک دوسرے کی تصویر صاف اور واضح نظر نہیں آتی۔ اپنی پوری زندگی لاچاری، غربت اور بیماری سے لڑنے والے مزدور کو اگر ہم سے شکوے ہیں تو بجا ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے مزدور سے ہمدردی تو کی ہے لیکن اس کے شکوے کب سنے ہیں؟ اس کی زندگی بدلنے کی کوشش کب کی ہے؟ اس کے بیوی بچوں کا خیال کب کیا ہے؟ کب کسی اچھے سکول نے اپنے ہاں مزدوروں کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کا اعلان کیا ہے؟ کب کسی علاقے کے لوگوں نے سڑک پار مزدوروں کی بستیوں میں جانا گوارا کیا ہے؟ ہمیں دو ڈھائی ہزار کا پیزا کھانا زیادہ پسند ہے لیکن کسی کو پندرہ سو کی مزدوری دیتے ہم سولہ سو بار سوچتے ہیں۔ ہمارے گھر دفتر اوراردگرد ہزاروں چھوٹے موٹے کام ایسے ہوتے ہیں جن کے ہو جانے سے کئی لوگوں کو ایک دو وقت کی عزت کی روٹی نصیب ہو سکتی ہے لیکن ہم ایسے کاموں کو معمولی سمجھ کر ٹالتے رہتے ہیں، دوسرے لفظوں میں بہت سے لوگوں کی ایک دو وقت کی روٹی کے آڑے آئے رہتے ہیں۔ ہم بارات اور ولیمے پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن سینکڑوں لوگوں کی اس تقریب میں چار مزدوروں کو کھانا کھلانا ہمیں پارٹی اور اپنی شان کے خلاف لگتا ہے۔ ۔ ۔ اور پھر سوشل میڈیا پر ہمیں مجبور اور بے بس و بے کس مزدور نہ صرف راتوں کو سونے نہیں دیتا بلکہ اس کی زندگی کے غموں سے ہمارا دل پھٹنے والا ہوتا ہے۔ بھلا گفتار کے غازیوں کی ایسی منافقت سے کسی بے حال مزدور کو کیا حاصل۔ اس لیے سوچئے کہ مزدور کب تک آپ کی وجہ سے یوم مزدور مناتے رہیں گے اور یوم مزدور پر بھی مزدوری کو مجبور رہیں گے۔

اس سلسلہ کے پہلے دو مضامین :

یوم مزدور: کچھ اور تلخ باتیں —– خرم شہزاد

بندہ مزدور بھی سماجی اور قانونی مجرم ہے —- خرم شہزاد

 

Facebook Comments Box
1st mayLabour Dayغریب مزدورمزدورمزدور کی اوقاتیوم مئییوم مزدور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عالمی بساط سیاست: اے صاحب نظراں نشہ قوت ہے خطرناک —- فرحان شبیر
next post
مثالی اردو نصاب کی بنیادیں —— نجیبہ عارف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.