تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

قومیں کیسے بنتی ہیں؟ —– محمد نعمان کاکاخیل

by دانش ڈیسک 26/02/2019
written by دانش ڈیسک 26/02/2019
128

پچھلے پانچ دنوں سے کانفرنس کے سلسلے میں کوریا کے سرمائی اولمپکس ۸۱۰۲ (Winter Olympics 2018) کے میزبان شہر پیانگ چنگ (یانگ پیانگ) میں قیام رہا۔ پانچ دن ایک کورین لیب شریک (Lab mate) دوست کے ساتھ رہنے کاتجربہ ہوا۔ اس کی مسلسل محنت اور مطالعے کی عادت قابلِ رشک تھی۔ دس گھنٹے سائنس کی جدید اور زغیم قسم کی کلاسیں لینے کے بعد سستانے اور آرام کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی لیکن یہ دوست کانفرنس ختم ہونے کے بعد کمرے میں آکر پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔

اس کانفرنس کا انعقاد خالصتاً اس مقصد کے لئے کیا گیا تھا کہ دنیا کے اعلٰی تحقیقی مراکز کے اندر چلنے والی تحقیق سے متعلق معلومات اکھٹی کی جا سکیں اور نوجوان محققین دنیا کے بڑے سائنس دانوں سے مل کر سوالات و جوابات کے اور ان سے علمی و تحقیقی حوالوں سے مکالمہ کر سکیں۔ مقامی سائنس دانوں کے ساتھ ساتھ بین القوامی تحقیقی مراکز اکسفورڈ یونیورسٹی، کیلیفورنیا یونیورسٹی، ایم آئی ٹی (MIT) اور کیمبرج یونیورسٹی وغیرہ کے پروفیسرز اور بڑے سائنسدان بھی اس کانفرنس کاحصہ رہے اور انہوں جدید تحقیقی موضاعات پر لیکچرز دئے۔ طلباء اور نوجوان محقیقین میں سائنسی کے علم کی تشنگی کو ابھارنے کے لیے کوریا میں ایسی کانفرنسوں کا انعقاد سال میں کئی مرتبہ کیا جاتا ہے۔

باتوں باتوں میں کوریا کی ترقی بارے بحث کا آغاز ہوا۔ اس نے بتایا کہ ان کی والدہ نے اپنی شادی کے سونے کے زیورات ستر کی دہائی میں ملک کے اوپر آئی ایم ایف کے قرضے ادا کرنے کے لئے دے دئے تھے تا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔ اس نے اپنے شہر میں موجود ایک باغ (پارک) کا ذکر کیا جہاں لوگ اپنی مال و متاع ملک کا قرضہ چکانے کے لئے جمع کرتے تھے۔ اس پارک کا نام یادگار کے طور پر میموریل پارک رکھا گیا تاکہ اگلی نسلوں تک تاریخ کو محفوظ کیا جا سکے اور نوجوان نسل کو لگن کے ساتھ محنت پر عملی مثالوں اور ثبوتوں کی روشنی میں آمادہ کیا جا سکے۔ اور اس نے اپنی محنت کی وجہ بھی یہی بتائی کہ ہمارے پاس محنت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، نا ہی ہمیں کوئی اور راستہ پڑھایا اور سکھایا گیا ہے۔اس کے بقول وہ شارٹ کٹ کلچر پر یقین نہیں رکھتے بلکہ مسلسل محنت اور سائنسی سوچ کو اپنائے ہوئے ہیں۔

ایسے ہی جنوبی کوریا میں توانائی کے بحران کے وقت جب حکومت کی جانب سے اعلان ہواکہ ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے تو لوگوں نے کمروں میں موجود دو بلبوں میں سے ایک بلب نکال کر رکھ دیا تا کہ ملک کے نامساعد حالات میں نقشہ بدلنے کے اندر اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس دور میں ترقی کے لئے مریخ یا مشتری سے کوئی اصولوں کے کتابچے لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان قوموں سے سبق، محنت اور حقیقی حب الوطنی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے نا مساعد حالات کے اندر ملک کی خاطر اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کو سامنے رکھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ان ممالک کی مثالیں اس وقت دی جاتی ہیں جب کسی احتجاج کے دوران پولیس سے مار پڑتی ہے۔ حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان قوموں کی کامیابی اور کم ترین عرصے میں ترقی کے پیچھے چھپے رازوں سے پردے ہٹائیں جائیں۔ ان کی مثالیں محنت کرنے کے واسطے دی جائیں نا کہ اپنا مدعا اور اپنی رائے کو صحیح اور کامل ثابت کرنے کے لئے دی جائیں۔ یہ قومیں سخت حالات میں قومیں ہی رہتی ہیں۔ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کی بجائے اور دوسرے کے دست و بازو بنتے ہیں۔ صرف آپس میں ہی نہیں بلکہ ان کے دشمن سمجھے جانے والے ملک شمالی کوریا کے ساتھ بھی بین القوامی سطح پر اکھٹے اور ایک پیج پر نظر آ رہے ہوتے ہیں اور سرمائی اولپکس ۸۱۰۲ اس کا مظہر ہے۔

ہمارے ہاں بلاشبہ خیرات و عطیات دینے کا جذبہ موجود ہے لیکن قوم کو یہ بات سمجھانا ہوگی کہ حکومت کے ساتھ ٹیکس، بجلی اور گیس کے مد میں خرد برد میں ہم عوام کا اور پورے ملک کا بالعموم نقصان ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جیسے حرام کی کمائی سے حج کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ایسے ہی حکومت سے چوری کر کے خیرات و عطیات دینا بھی ماورائے عقل ہے۔ ملک کی امانت کو اپنی امانت سمجھنے کا شعور عام کرنے کا ماحوم بنانے کی اشدضرورت ہے۔

یہ وطن رہے گا تو ہم بھی رہیں گے اور ملکوں کی شان اس ملک کی عوام خود بناتے، بڑھاتے اور برقرار رکھتے ہیں۔ قوم بن کر رہنے میں ہی بقاء ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹولوں میں تقسیم ہو کر اپنے ٹولے کے مفادات کی خاطر آپس میں لڑنے سے مزید فرقوں میں بٹ جائیں گے اور مبادا اپناوجود خطرات کے منہ میں دھکیل دیں گے۔

گرم کمرے میں ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو القابات سے نوازنے سے کوئی انقلاب برپا نہیں ہوگا بلکہ میدانِ عمل میں اتر کر حالات کا مقابلہ دھرتی کے ہر فرد کو اپنی مکمل ذمہ داری سمجھ کر کرنا ہوگا۔

Facebook Comments Box
قومکوریامحنت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مس فروری ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
next post
انور مقصود صاحب! اب بڑے ہو جائیے —– اظہار الحق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.