تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

مولانا ابوالکلام آزاد، کانگریسی وزارتیں اور مسلمان —— عارف گل

by Editor2 22/02/2019
written by Editor2 22/02/2019
114

۱۹۳۵ کے ایکٹ کے نفاذ کے نتیجے کے طور پر برصغیر میں انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں مسلم لیگ کو بری طرح شکست سے دوچار ہونا ہڑا۔ اگرچہ انتخابات سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ میں ایک طرح کا ورکنگ ریلیشن شپ تھا کہ انتخابات کے بعد مخلوط حکومتیں بنائی جائیں گی مگر جونہی کانگریس کو کامیابی ملی اس پر فتح کا خمار چڑھ گیا۔ انتخابات اور اس میں کامیابی سے پہلے ہندو لیڈروں کا دعوی یہ تھا کہ وہ وزارتوں میں اس لیے جا رہے ہیں تاکہ ۱۹۳۵ کے ایکٹ کو سبوتاژ کرسکیں۔ مگر وزارت اور طاقت کا اپنا نشہ ہے۔ لہذا کانگریس نے وزارتوں سے لطف اندوز ہونا ہی اپنا مطمع نظر ٹھہرا لیا۔ اور مسلم لیگ سے کسی طرح کا الحاق مسترد کردیا۔ قائداعظم نے جب گاندھی سے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کو کہا تو انہوں نے کورا سا جواب دے دیا۔ یہانتک کہ جواہر لال نہرو نے فتح کے نشے میں یہ بھڑک ماری کہ برصغیرمیں دو ہی طاقتیں ہیں ایک برطانیہ اور دوسری کانگریس۔ جس کے جواب میں قائداعظم کو کہنا پڑا کہ نہیں ایک تیسری قوت بھی ہے اور وہ ہیں مسلمان۔

کانگریسی وزارتوں کا دور مسلمانوں کے لیے چشم کشا بھی تھا اور انہیں نئے سرے سے اپنی صفیں درست کرنے کا موقع بھی۔ یہی وجہ ہے باوجود الیکشن میں شکست کے ، بعد میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نے تمام نشستیں جیت کر کامیابی کا سفر شروع کردیا۔ یہانتک کہ ۱۹۴۶ کے انتخابات میں برصغیر کی تمام مسلم نشستیں اپنے نام کرلیں۔ اس کی وجہ کانگریسی وزارتوں کے دوران ہندو لیڈروں کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب، تنگ نظری اور ظلم پر مبنی رویہ تھا۔ کانگریسی وزارتوں کا اقلیتوں کے ساتھ جانبدارانہ، متعصبانہ اور متششددانہ رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ مسلمان طلبا کو بندے ماترم جیسے مشرکانہ اور مسلم دشمن ترانے کو گانے پر مجبور کرنا، سکولوں کالجوں میں گاندھی کی تصویر کی پوجا کرانا، ودیا مندر اور واردھا سکیم کے ذریعے مسلمانوں کی ذہنی شدھی کرنا اور اردو کی جگہ ہندی کا نفاذ ایسے کام ہیں جن سے تاریخ کا کوئی طالب علم انکار نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ آئے روز مسلمانوں پر تشدد، ان کا قتل اور عدالتوں میں جانب دارانہ رویہ کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود مولانا آزاد کا کانگریس اور کانگریسی وزارتوں کو غیر جانبداری اور بے تعصبی کے سرٹیفیکیٹ عطا کرنا اور حقائق پر پردہ پوشی کرنا انتہائی حیران کن اور افسوسناک ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ کہنے اور لکھنے والا ایک مسلمان بھی ہے خود کو مسلمانوں کا خیرخواہ بھی کہلانا چاہتا ہے۔ پڑھیے اور حیرتوں میں اضافہ کیجیے۔ مولانا آزاد ‘‘آزادی ہند’’ میں فرماتے ہیں۔

’’یہ پہلا موقع تھا کہ کانگریس ملک کے انتظام کی ذمہ داری سنبھال رہی تھی۔ اس لیے کانگریس کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا اور لوگوں کی نظریں اس طرف لگی تھیں کہ کس طرح کانگریس اپنا قومی کردار قائم رکھتی ہے۔ کانگریس کے خلاف مسلم لیگ کا بڑا پروپیگنڈا یہ رہا کہ کانگریس کی قومی حیثیت برائے نام ہے۔ اس نے کانگریس کو مجموعی حیثیت سے عام انداز ہی میں بدنام نہیں کیا بلکہ اس نے یہ بھی مشہور کیا کہ کانگریسی وزارتیں اقلیتوں کے ساتھ مظالم کر رہی ہیں۔ اس نے ایک کمیٹی مقرر کی جس نے رپورٹ پیش کی جس میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ ہر قسم کے نامناسب اور ناروا سلوک کے الزامات عائد کیے۔ میں ذاتی علم کی بنا پر کہ سکتا ہوں کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد تھے۔ وائسرائے اور مختلف گورنروں کی بھی یہی رائے تھی۔ اس لیے لیگ کی تیار کردہ رپورٹ پر سمجھدار طبقے نے یقین نہیں کیا۔

’’جب کانگریس نے عہدہ سنبھالا تو ایک پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کی گئی تاکہ وزارتوں کے کام کی نگرانی کرے اور ان کی پالیسی کے متعلق تمام ہدایات جاری کرے۔ بورڈ سردار پٹیل، راجندر پرشاد اور مجھ پر مشتمل تھا۔ میں کئی صوبوں میں پارلیمانی امور کا ذمہ دار تھا۔ ہر وہ معاملہ جس کا تعلق فرقہ وارانہ مسائل سے تھا میرے سامنے آتا تھا۔ میں ذاتی علم کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ مسٹر جناح اور مسلم لیگ کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ بے انصافی کے تمام الزامات بالکل جھوٹے تھے۔ اگر ان الزامات میں ذرہ بھر بھی سچائی ہوتی تو میں ان بے انصافیوں کو دور کر کے رہتا، اگر ضرورت ہوتی تو ایسے مسئلے پر میں استعفی دینے کے لیے بھی تیار تھا۔‘‘

حقائق سے چشم پوشی کی اس سے بدتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ وہ بات جسے اس دورکا ہرمسلمان جانتا تھا مولانا نے ان تمام سے آنکھیں بند کرلیں۔ اگرچہ مولانا آزاد نے اپنی کتاب میں کئی جگہ ہندو لیڈروں کی تنگ نظری اور جانبداری کے واقعات لکھے ہیں۔ مسٹر کے ایف نریمان، مسٹر سی آر داس، مسٹر بھالا بھائی اور سید محمود کے ساتھ فرقہ واری کی بنیاد پر مخاصمانہ رویے کے واقعات مولانا نے خود لکھے ہیں جن کے مولانا خاموش تماشائی رہے۔ مگراقلیتوں اور خاص طور مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کی بنیاد ہی سے انکار کردیا تاکہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

کانگریسی وزارتوں کے مظالم وہ حقیقت ہے جس سے انکار روشن سورج کے انکار کے مترادف ہے۔ اس جانکاہ دور کی خونیں روداد ‘‘پیرپور رپورٹ’’، ‘‘شریف رپورٹ’’، ‘‘فضل الحق رپورٹ’’، مولانا عبدالحامد بدایونی کی ‘‘ہندو کی حکمرانی کا ہولناک تجربہ’’، اور اسراراحمد کریوی کی ‘‘سی پی میں کانگریس راج’’ میں درج ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والوں نے جائے وقوع پر جاکر شہادتیں اکٹھی کیں، لوگوں کے بیانات لیے اور انہیں مرتب کیا۔ یہ رپورٹیں آج بھی موجود ہیں۔ مگر مولانا آزاد نے سرے سے ان کا انکار کردیا۔ ہوسکتا ہے مولانا آزاد کے پیروکار بھی یہی رویہ اختیار کریں اور کہیں کہ یہ تو مسلم لیگ کے اپنے لیڈروں اور کارکنوں کی مرتب کردہ رپورٹیں ہیں لہذا ان کا کیا اعتبار۔ ایسے صاحبان کے لیے ذیل میں غیرلیگی ذرائع کی اس دور سے متعلقہ رپورٹوں اور تبصروں کا حوالہ تو بہرحال قابل قبول ہونا چاہیے۔

لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنی ۷ اگست ۱۹۳۷ کی اشاعت میں ’’کانگریس اور اس کا جھنڈا’’ کے عنوان کے تحت لکھا ‘‘کانگریسی وزارتوں کی افتتاحی تقریبات میں بے جا اسراف کو نظرانداز بھی کردیں پھر بھی اس کے اثرات کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ پھر کانگریس کے جھنڈے کو سلامی دینا مسلمانوں کے لیے پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔ مسلمان اس کی شکایت کرنے میں حق بجانب سمجھے جائیں گے۔ اگر کانگریس نے اس پر زور دیا اور پارٹی کے جھنڈے کو ملک کے جھنڈے کے متبادل کے طور پر منوانا چاہا تو مسلمان اسے تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘

بھائی پرمانند نے کانگریس کی رابطہ عوام مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے ۲۹ اپریل ۱۹۳۸ کو اپنے بیان میں کہا ’’جواہر لال نہرو کے طرف سے رابطہ عوام مہم کا مطلب مسلمانوں کے دل میں یہ شکوک پیداکرنا ہے کہ ان کی نظر میں دوسری مسلم تنظیموں کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی لیے محمد علی جناح نے اسے چیلنج کے طور پر لیا اور اسے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔ مسلمانوں میں ایک بات ہے اور وہ ہے ان کا اسلام کے ساتھ تعلق جس کا ہندو اندازہ نھی نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کی اسی خصوصیت پر انحصار کرتے ہوئے محمد علی جناح مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘

یہی بات سچ ثابت ہوئی اور قائداعظم نے مسلمانوں کو لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کرکے وہ طاقت حاصل کی جس نے ۱۹۴۶ کے الیکشن میں تمام مسلم نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ سرالبیون بنرجی نے جولائی ۱۹۳۸ میں اپنے ایک مضمون بعنوان ‘‘ڈکٹیٹرشپ کی قائم مقامی’’ میں کانگریسی وزارتوں میں کی مطلق العنانیت کا ذکر اس طرح کیا۔ ‘‘ہندوستان میں نئی طرح کی اصطلاحات رائج ہوئی ہیں جس کے بعد کانگریس نے زمام اقتدار سنبھالی۔ وزارتوں پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کا کنٹرول ہے اور وزرا کانگریس کے آگے بے بس ہیں۔ اس طرح کا رویہ تو اٹلی اور جرمنی کی فاشسٹ حکومتوں کا طرہ امتیاز تھا۔ مگر افسوس کہ کانگریس نے برطانیہ سے جمہوری روایات اخز کرنے کی بجائے ڈکٹیٹروں والا رویہ اپنا لیا۔

جسٹس پارٹی نے اپنے ۳۰ دسمبر ۱۹۳۸ کے مدراس اجلاس میں درج ذیل قراردادیں پاس کیں۔

  1. ہم سمجھتے ہیں کہ کانگریس وزارت نے مدراس میں اپوزیشن کو جس طرح دبانے کی فرسودہ پالیسی اپنائی ہے وہ پارلیمانی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
  2. ہمارا یہ ماننا ہے کہ واردھا تعلیمی پالیسی عوام کی تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اور حکومت کو آزادانہ تعلیمی پالیسی اپنانی چاہیے۔
  3. ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے اس جنرل آرڈر کو کینسل کرے جس کے تحت اس نے دفاتر میں شاہ برطانیہ کے ساتھ گاندھی کی تصویر لگانے کا حکم دیا تھا۔

نیشنل لبریشن فیڈریشن کے ۳۰ دسمبر ۱۹۳۸ کے بمبئی اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں پی این سپرو نے کہا۔

‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس ایک طاقتور جماعت ہے۔ جس کی آٹھ صوبوں میں حکومت ہے لہذا اسے جمہوری رویہ اپنانا چاہیے نہ کہ ایک مطلق العنان پارٹی کا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کی قانون سازی کا عمل صرف اپوزیشن کو دبانا ہے۔ مدراس میں کریمینل ایکٹ میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس کا مقصد اسے ہندی مخالف احتجاج کرنے والوں کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ اسی طرح ہم ایک جمہوریت کی بات کررہے ہیں نہ کہ ایک نیم فوجی ادارے کی جس میں وزرا کا کنٹرول ہائی کمانڈ کے ہاتھ میں ہے۔ قانون ساز ادارے کے ممبران ہائی کمانڈ کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔’’ پھر اگلے دن یعنی ۳۱ دسمبر کو فیڈریشن نے ایک قرارداد پاس کی جس میں کہا گیا۔ ’’ہم کانگریس ورکنگ کمیٹی کی اس فرسودہ روایت کی مخالفت کرتے ہیں جس کے تحت کمیٹی نے صوبائی وزرا پر اپنی مرضی ٹھونسنا شروع کردی اور ان کے کام میں مداخلت کو معمول بنا لیا۔ اس طرح کی مداخلت جمہوری روایات کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔‘‘

اسی طرح دسمبر ۱۹۳۹ میں سی آر ریڈی نے اپنے ایک مضمون بعنوان ‘‘کانگریس بمقابلہ مسلم لیگ’’ میں کانگریس کے عدم برداشت پر مبنی طرز عمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘‘جب سے کانگریس نے وزارتیں سنبھالی ہیں اس کے بعد ہندو مسلم فرقہ ورانہ نقطہ نظر کے حوالے سے حالات بہتر ہوئے ہیں یا بد تر۔ اس سوال کا جواب ایک ہی ہو سکتا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ان ڈھائی سالوں میں فرقہ وارانہ فسادات پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں کیسے رہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مسلم لیگ نے کانگریس سے اس وقت تک بات کرنے سے انکار کیا جب تک اسے مسلمانون کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم نہیں کرلیا گیا۔ اگرچہ اب کانگریس لیگ کو خوش کرنے کے لیے قانونی مراعات دینے پر آمادہ ہے۔ اس سے پہلے کانگریس مخلوط حکومت بنانے سے کتراتی تھی اور اب یہ بھی کرنے کو تیار ہے۔ یہ لیگ کی کامیابی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ کانگریس اپنی ضد پر اڑی رہی اور اس مسلم لیگ کومسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے کا موقع مل گیا۔’’

یعنی یہ کانگریس کی ہٹ دھرمی تھی جس نے مسلم لیگ کی مقبولیت میں اضافہ کرنے مین بنیادی کردار ادا کیا۔

دی ٹائم کے نمائندہ نے ۲۹ نومبر ۱۹۳۷ کی اشاعت میں ‘‘کانگریسی حکومت اور مسلمان’’ کے تحت لکھا۔

’’مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری ابھی چند دنوں کی بات ہے۔ اور یہ بیداری اپنے حقوق کے تحفظ کے احساس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ٍ یہ کانگریسی وزارتوں کا معاندانہ رویہ ہے جس نے مسلمانوں کے ایک اتحاد کی صورت بنا دی ہے۔ یہانتک کہ پنجاب اور بنگال کے وزرائے اعظم بھی محمد علی جناح سے آن ملے ہیں۔ اور یہ اتحاد کانگریس کے تسلط سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے وجود میں آیا ہے۔‘‘

اسی طرح اپریل ۱۹۳۸ میں ماکیز آف لوتھیاں نے اپنے مضمون بعنوان صوبائی حکومتوں کی کارکردگی میں، جنوری ۱۹۳۹ میں دی ٹائم کے نمائندہ نے اپنے مضمون بعنوان کانگریسحکمرانی کے خلاف مسلمانوں کا ردعمل میں، سر لوئس سٹورٹ نے مئی ۱۹۳۹ کے اپنے مضمون بعنوان کانگریسی حکومتوں کا ہندومسلم تعلاقات پر اثر، اورآئررجنالڈ کوپ لینڈ نے اپنی کتاب ہندوستانی سیاست میں یہی بات دہرائی کہ یہ کانگریسی وزارتوں کے مظالم اور غیر منصفانہ رویہ تھا جس نے مسلمان ہند کو نئے سرے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سوچنا شروع کیا۔ اور اسی احساس نے انہیں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے قائداعظم کی قیادت میں متحد ہونے پر مجبور کردیا۔

حیرت ہے ان تمام حوالاجات کے باوجود مولانا آزاد فرماتے ہیں مسلم لیگ اور جناح کے الزامات جھوٹ تھے۔ اس پر ۱۰ جنوری ۱۹۲۹ کے ہمدرد میں لکھے مولانا محمد علی جوہر کے روداد چمن کے عنوان سے لکھے مضمون کا حوالہ یاد آتا ہے جس میں مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا۔

’’مولانا آزاد کہنے کو تو ابوالکلام آزاد ہیں مگر جب ہندووں کو مقابلے میں مسلمانوں کے مفاد کا معاملہ درپیش ہو تو وہ ‘‘ابوالکلام آزاد’’ سے ‘‘ ابوالسکوت اسیر’’ بن جاتے ہیں۔‘‘

مولانا آزاد کو نہ بندے ماترم کے گیت کا علم تھا، نہ ودیامندراور واردھا تعلیمی سکیم اور نہ گاندھی کی تصویر کے آگے سرجھکانے کا۔ جس کا ذکر نہ صرف اس وقت کے ہندوستانی مسلمان کر رہے تھے بلکہ دوسری اقلیتیں اور یہانتک کہ انگریز مصنف بھی۔ مگر علم نہین تھا تو مولانا آزاد کو۔ اس سے تو ایسے لگتا ہے کہ اگر خدانخواستہ متحدہ ھندوستان میں کانگریس کی حکومت قائم ہوجاتی اور وہ مسلمانوں پر نماز، روزہ وغیرہ کی ادائیگی پر پابندی لگا دیتی تو بھی مولانا یہی کہتے یہ تو کوئی زیادتی نہیں بلکہ مسلم لیگ کا پروپیگنڈا ہے۔ درست کہا تھا داکٹرعاشق حسین بٹالوی نے جب انہوں نے اپنی کتاب ’’اقبال کے آخری دوسال‘‘ میں لکھا۔

 ’’بدرالدین طیب جی سے لے کر تصدق احمد خان شیروانی تک ہندوستان کے بیسیوں مسلمان اکابر وقتاً فوقتاً کانگریس میں شریک رہ چکے ہیں، جن میں محمدعلی ایسے آتش نفس، انصاری ایسے ایثار پیشہ، جناح ایسے آئین پسند، حسن امام ایسے قانون دان اور حسرت موہانی ایسے رئیس المتغزلین سبھی قسم کے لوگ موجود تھے لیکن مسلمانوں کے قومی مفاد کو جس بے حسی بلکہ سنگ دلی سے قربان کرنے کا شرف امام الہند کے حصے میں آیا وہ کسی اور کو نصیب نہ ہو سکا۔۔‘‘

Facebook Comments Box
AzadfeaturedMolana Azadابو الکلام آزادآزادعارف گلکانگریسگاندھیمولانا ابوالکلام آزادمولانا آزاد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
محبت اور نفرت کا غلبہ —– لالہ صحرائی
next post
نظریے اور ترقی کی جنگ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.