تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

ایک نئے مکالمہ کی ضرورت ——- سلمان عابد

by دانش ڈیسک 28/01/2019
written by دانش ڈیسک 28/01/2019
189

پاکستان عملی طور پر ایک نئے مکالمہ کا تقاضہ کرتا ہے۔ ایک ایسی ریاست اور حکمرانی کانظام جو اپنے اندر کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی تضادات رکھتا ہو اور جہاں علمی اور فکری طور پر ایک بڑا ٹکراو ہو اس میں افہام تفہیم کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں جو اس وقت جو بڑی تقسیم ہے اس نے معاشرہ کو مجموعی طور پر انتشار کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دوسری جانب طاقت کے مراکز کے درمیان جو باہمی ٹکر او ہے اس نے بھی ادارہ جاتی سطح پر کئی طرح کی مشکلات پیدا کر رکھی ہے۔ بنیادی طور پرکسی بھی معاشرے میں حکمرانی کا نظام اپنے سیاسی، سماجی، جمہوری، آئینی اور انتظامی ارتقائی عمل اور عوامی اور ریاستی مفادکو سامنے رکھ کر خود کو زیادہ موثر، شفافیت و جوابدہی کے ماتحت کرتا ہے۔ تاکہ اس کی سیاسی ساکھ ہر سطح پر قائم رکھی جاسکے۔

ہمارا مسئلہ عوام حکومت اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ اس خلیج نے عملی طورپر ریاست, عوام اور حکومت کے درمیان ایک ایسی بداعتمادی کی فضا قائم کی ہوئی ہے کہ تمام فریقین ٹکراو کی سیاست کا شکار ہیں۔ ہر ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ کہ اس کی ناکامی کی وجہ وہ خود نہیں بلکہ دیگر ادارے ہیں جو اپنی سیاسی اور آئینی حدود سے تجاوذ کرکے نظام میں مداخلت کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سوچ اور فکر عملی طور پر ریاستی و حکومتی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ کوئی بھی نظام جامد نہیں ہوتا۔ اس میں نئی نئی تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لیے جب بھی نظام میں بہتری کے لیے کوئی نئی بحث سامنے آتی ہے یا کوئی فرد یا ادارہ نئی تجویز کو مباحثہ کے لیے پیش کرتا ہے تو اس پر فوری طور پر دروازہ بند کرنے کی بجائے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نئی بحث یا نئی فکر پر مکالمہ کی بجائے اس میں سازشی تھیوریوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ عمومی طور پر نظام میں بہتری اور نئی بحثوں کی گنجائش کو محدود کرتا ہے۔ مکالمہ کا بنیادی جز کھلا ذہن ہوتا ہے اور جب تک ہم نئی بحثوں کے لیے اپنے دلوں کو کشادہ نہیں کریں گے تو نیا علم اور نئی طرز کی حکمرانی کے نظام میں تبدیلیوں کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس وقت طاقت کے مراکز میں جو ٹکراو ہے اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ایک نئے مکالمہ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک تجویز نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے موجودہ حالات میں بگاڑ کے تناظر میں پیش کی ہے۔ ان کی تجویز ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ملک میں جمہوریت بھی او رجمہوری حکمرانی بھی۔ پارلیمنٹ کی موجودگی میں اس طرز کی تجویز کو بہت سے لوگ سیاسی حدود قیود سے باہر سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ایک بڑا طبقہ کے بقول جو بات چیف جسٹس نے کی ہے وہ معروضی حالات میں ایک بہتر تجویز ہے اور اس کو آگے بڑھانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے اس طرز کی تجویز پر کون پہل کرے گا یا بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

ہمارا مسئلہ عوام حکومت اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ اس خلیج نے عملی طورپر ریاست, عوام اور حکومت کے درمیان ایک ایسی بداعتمادی کی فضا قائم کی ہوئی ہے کہ تمام فریقین ٹکراو کی سیاست کا شکار ہیں۔

چیف جسٹس کے بقول صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی سربراہی میں پارلیمانی، عدالتی، انتظامی قیادت بشمول فوج اور ایجنسیوں کے درمیان ریاستی و حکومتی امور چلانے کے لیے عملی پالیسی فریم ورک بنانے، باہمی اعتماد کو پیدا کرنے، آئین کی حکمرانی و جمہوریت کی مضبوطی کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے اور فریقین کے درمیان مکالمہ درکار ہے۔ اس تجویز کے پیچھے بنیادی طور پر ہمارے ریاستی اداروں اور حکومتی نظام میں جو ٹکراو کی کیفیت یا بری حکمرانی کی جو شکلیں ہیں اس کی واضح اور صاف عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے قبل یہ تجویز سابق چیرمین سینٹ رضا ربانی بھی دے چکے ہیں، لیکن ان کی تجویز پر کوئی بڑی پذیرائی نہیں دیکھی جاسکی۔

عمومی طو رپر اس طرز کی تجویز پر یہ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم بلاوجہ عدلیہ اور فوج کو سیاسی معاملات میں یا تو الجھا رہے ہیں یا ہم ان کو سیاسی نظام میں فریق کے طو رپر شامل کر رہے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ کسی ایک فریق کا دوسرے فریق پر سیاسی برتری کا نہیں بلکہ عملی طور پر ریاستی و حکومتی نظام کو شفافیت کی طرف لانا ہے۔ کیونکہ آج پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر جو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اس کا مقابلہ روائتی طرز سے نہیں بلکہ غیر معمولی اقدامات کی مدد سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس ریاستی نظام میں موجودہ بحران اور مشکلات کی اول تو سنگینی کا احساس کرنا ہوگا اور دوئم اس حکمت عملی سے گریز کرنا ہوگا کہ ہم کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ ڈسپرین کی گولی سے کریں۔

پاکستان عملا جس طرز کے بحران کا شکار ہے اس کے لیے ہمارے تمام ریاستی فریقین، اہل دانش اور پارلیمان کو کھلے ذہن کے ساتھ کچھ نئی سوچ اور فکر کو تقویت دینی ہوگی۔ لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب تمام فریقین ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کریں۔ سیاسی او رجمہوری پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ ایسا فورم ہوتا ہے جو اس طرح کے مباحثہ کو آگے بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ پارلیمانی بحران کی عکاسی کرتا ہے اور اس نے اس نظام کو غیر موثر کردیا ہے۔

اسی طرح کے سیاسی خلا میں بعض اہم باتیں پارلیمنٹ یا سیاسی قوتوں سے نہیں بلکہ غیر سیاسی لوگوں یا دیگر فریقین کی جانب سے آتی ہیں۔ سیاسی فریقین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب وہ اپنی حکمرانی کے نظام کی مدد سے کچھ بہتر بنانے کی بجائے ایک بڑا سیاسی خلا پیدا کرتے ہیں تو پھر ان کی اہمیت پر بھی سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جمہوری استحکام کے لیے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے دونوں جماعتوں نے اس میثاق جمہوریت کو اپنے اقتدار کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ اگر واقعی یہ دونوں بڑی جماعتیں خلوص کے ساتھ میثاق جمہوریت کے اس معاہدہ کو آگے بڑھاتی تو ہماری جمہوری سیاست کافی بہتر ہوتی۔

ایک مسئلہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ملک کو اس وقت ایک بڑے سیاسی، سماجی، معاشی اور قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی جمہوری نظام کی بنیاد پر نظام کو چلانا ہے تو اصلاحات کا عمل تیز بھی کرنا ہوگا اور اسے موثر اور شفاف بھی بنانا ہوگا۔ اس لیے اگر موجودہ نظام میں بگاڑ کے تناظر میں ایک نئے مکالمہ یا نئے مباحثہ کی ضرورت ہے تو اس سے کسی بھی طور پر گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مسئلہ محض بڑے بڑے سیاسی اور آئینی سمیت انتظامی مسائل ہی نہیں بلکہ پورا حکمرانی کا نظام جو عوام کے بنیادی حقوق سے جڑا ہے اس میں بڑا بگاڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حکمرانی کا نظام عام آدمی سے زیادہ ایک طبقاتی نظام یعنی طاقتور افراد کے ماتحت اور ان کے حقوق کو یقینی بنانا جبکہ عام آدمی کے استحصال سے جڑا ہے۔ اس لیے ہمیں ایک باہمی اتفاق رائے درکا ہے اور تمام فریقین کے درمیان حکمرانی کے نظام میں ایک نئی جہت اور نئے فرئم ورک کی ضرورت ہے، یہ ہی قومی مفاد ہوگا اور اسے ہی مقدم ہونا چاہیے۔

Facebook Comments Box
featuredانتظامی قیادتپارلیمانیسلمان عابدعدالتیمکالمہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
الوداع! کرشنا سوبتی ——- سلمان آصف
next post
انسانیت کے لئے تباہ کن نظام: ہم لاعلم کیوں؟ —- جوناتھن کک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.