تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہآرٹتازہ ترینعلم و ادبفلمکلچر، آرٹموسیقی

الوداع! کرشنا سوبتی ——- سلمان آصف

by دانش ڈیسک 27/01/2019
written by دانش ڈیسک 27/01/2019
158

“پلٹ کر ایک بار پھر ڈبڈبائی آنکھوں سے، اپنے کمرے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا’ بہتی ہواؤ، یاد رکھنا ہم یہاں پر رہ چکے ہیں: ہندوستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد” (گجرات پاکستان سے گجرات ہندوستان تک، کرشنا سوبتی خود نوشت)

“اب اجازت لیں، آپ سے اور اپنے سے اور اس جہان سے، جہاں برسہا برس ہم جیا کیئے۔ خدا حافظ”
(ناول: دل و دانش)

کرشنا سوبتی نے ایک بار کہا تھا کہ ایسا ادب جسے تاریخ کی کروٹوں نے سینچا ہو، اور جسے کوچوں گلیاروں، ندیوں، کھیتوں، کھلیانوں، گیتوں، لوک داستانوں، محاوروں اور انسانی رشتوں سے جیون کا گیان مِلا ہو، اور جس کا پالن پوشن سماج نے کیا ہو، اس کا جنم داتا کوئی ایک نہیں ہوتا۔ ایسا ادب ایک اجتماعی تخلیق ہے؛ اور قلمکار، ویدوں کے اساطیری کردار گنپتی جی، سمان ایک حکایت نگار۔

لگ بھگ چورانوے سالہ کرشنا سوبتی عصری ہندی ادب کا ایک ایسا مہا ساگر ہیں جس میں کئی ساگروں کی موجوں کا منتھن ہے، کئی روایتوں، آوازوں، یادوں کا سازینہ بج رہا ہے۔ یہ ادب اپنی تجسیم میں قدیم ترین تخلیقی لہروں کا تسلسل ہونے کے باوجود فرسودہ نہیں۔ یہ اپنے ماضی سے وابستہ وہ ادبی بساط ہے جو لپیٹ کر رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں زندگی کا ہر زاویہ اپنی تمام تر قوّت اور توانائی کے ساتھ اپنی، اپنی چال چل رہا ہے۔ اس کے جھولے میں کوئی دقیق گرنتھ، کوئی مقدس عہد نامہ نہیں۔ فقط انسانی رواداری، درد اور دوستی کا ایک برگ گل ہے، ایک محبت بھری سرگوشی ہے جو ہر نسل، سینہ بہ سینہ، پیڑھی در پیڑھی ایک سے دوسرے کو منتقل کرتی رہی ہے۔ کبھی لوری کی ہُوک میں، کبھی ماہیے کی کُوک میں، کہیں محاوروں، کہاوتوں کی صورت میں، اور کہیں پر تھاوں، گاتھاوں کی شکل میں۔
“دِل و دانش، زندگی نامہ، مِترو مرجانی، سورج مکھی اندھیرے کے، اے لڑکی،” کی لیکھکا کرشنا سوبتی ایک بھرپور تخلیقی زندگی بسر کر کے دو دن قبل ہم سے جُدا ہو گئیں۔ کرشنا سوبتی کی ادبی جولان گاہ بقول انکے “رب دا گھر،” انسان کا دل ہے، اور انسانی رشتے، ان کا دھرتی سے ناتا،اپنی مٹی کی سُگندھ، اس کی فضاوں کی مہک ان کی تحریروں کی بنیاد ہے۔

buttonsnbows lucymochi leaked2010 میں کرشنا سوبتی کو حکومت ہند نے سب سے بڑا اعزاز پدم و بھوشن دینے کا اعلان کیا، تو کرشنا سوبتی نے اس اعزاز کو بہت احترام کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کر دیا، انکار کرنے کا جواز انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا، “میں ایک بہت سادہ اور معمولی سی فنکار ہوں اور میں یقین رکھتی ہوں کہ دانشوروں کے پاس جو سوچنے کی طاقت ہے، اگر وہ اپنے ملک کے لوگوں کو اور حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں، تو وہ اسے صحیح طریقے سے پڑھ بھی سکتے ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ حکومتی اعزاز اور ایسٹیبلشمنٹ سے دور رہیں۔”

“ایک دن شاہ میاں میر عالم وجد میں بیٹھے تھے، چونک کر اٹھے اور چھجّو بھگت کے چوبارے کی طرف چل دیئے۔
پہنچے تو دیکھا، چھجّو بھگت چوکے میں کھانا پکا رہے ہیں۔ شاہ میاں میر نے چوکے کی دہلیز کے باہر کھڑے ہو کر پوچھا: “اندر آ جاوں”
چھجّو بھگت نے کڑی نگاہ ڈالی، اور سر ہلا کر کہا:”اندر ہی آ جاتے تو کسی کو کیا انکار تھا۔ پر اب آپ باہر ہی رہ جایئے۔ میر صاحب۔”
یہ سن کر میاں میر صاحب بڑے حیران، پریشان۔ معافی مانگی۔
“بھگت جی جو سزا چاہیں دیں، حاضر ہوں”
چھجّو بھگت کا گلا بھر آیا۔ بھرّائی آواز میں کہا: “میاں میر تم نے ایک اور خطا کر ڈالی؛ میرے دوست اندر آ کر میرے گلے کیوں نہ لگ گئے؛ لعنت تو مجھ پر ہے۔ مجھ سے بڑا میرا چوکا سمجھ لیا۔ محبت میں یہ گناہ ہے، گناہ! اس ایک لمحے میں تم نے ہم دونوں کے بیچ سمندر لا بہایا ہے۔ دیکھو اب میں ادھر ہوں اور تم ادھر۔” (زندگی نامہ)

کرشنا سوبتی کی ایک نظم آپ سب کے لیے:

اب ھمیں بچھڑ جانا ہے
اپنی دھرتی سے
اپنی ماں سے
ماں کی ماں سے، اور سب کی ماں سے
اس کی مِٹھڑی اوٹ سے، اس کی چھانہہ سے
اس کی بھری چھاتیوں سے
اب دودھ، نہیں خون ٹپکتا ہے
مت دیکھو پلٹ کے
چھوڑ چلے اس دھرتی کو
جس نے ہر رُت
ہر بہار میں
سورماوں کی پنیری بوئی تھی
جس نے ہاڑ، ماس کے انسانوں میں
محنت کرنے اور زندگی کو
جی بھر، بھر کے
پیار کرنے کی للک جگائی تھی
الوداع!
آب کے آب کو
پنج دریاوں کے پنجاب کو
جہلم اور چناب کو
اپنے پرکھوں کی یاد کو
جن کے خون اور دودھ سے
بنے بچے
اب کبھی اس دھول
اس مٹی میں
کبھی نہیں کھیلیں گے
ان زندہ رُکھوں (پیڑوں) کی چھانہہ میں
دلہنوں کی پالکیاں
اب کبھی نہیں اتریں گی
کبھی نہیں ٹھٹکیں گی
دُلہوں کی
سجی گھوڑیاں
گاوں کی سیماوں پر
گوٹہ لگی
چنریوں کے جھرمٹ سے
اُٹھتے
لاڈلوں کی “گھوڑیوں” کے گیت
اب نہ پکاریں گی
کچے کوٹھوں سے
شوخ پنجاب کی بیٹیاں
ٹپّوں کے بند، جوڑ
کون سمجھے گا؟
کون سمجھائے گا؟
اپنے ماہیوں کو
اپنے دلداروں کو
اپنے وطنوں کو چھوڑنے
کے دردوں کو
جہلم اور چناب
سدا بہیں گے اس دھرتی پر
لہراتے رہیں گے
کُھلی ڈُلی ہواوں کے جھونکے
اسی طرح
اسی دھرتی پر
ہر رُت، ہر موسم میں
بالکل اسی طرح
بس
ہم یہاں نہیں ہوں گے
نہیں ہوں گے

Facebook Comments Box
featuredKrishna SobtiSalman Asifسلمان آصفکرشنا سوبتیکلاسیکل گائیکہگائیکہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ترقی اور لوک ثقافت ——- نجیبہ عارف
next post
ایک نئے مکالمہ کی ضرورت ——- سلمان عابد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.