تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسائنسعلمیکالم

ابعادی حدود (Dimensional Limits) اور جنت کا دروازہ —– نعمان کاکاخیل

by دانش ڈیسک 29/12/2018
written by دانش ڈیسک 29/12/2018
147

ایک سفید کاغذ لیں اور اس کے اوپر سیاہی سے ایک نقطہ لگائیں۔ اس نقطہ کو ریاضی اور طبیعات میں زیرو ابعادی جسم (Zero dimensional object) کہا جاتا ہے۔ کاغذ کے اوپر تھوڑے فاصلے پر دوسرا نقطہ لگائیں اور دونوں نقطوں کو ملانے سے ایک لکیر (لائن) بن جاتی ہے۔ اس کو یک ابعادی یا یک جہتی (One dimensional) جسم سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح دو عمودی (vertical) اور دو افقی (horizontal) لائنوں کے سروں کو آپس میں ملانے سے مربع (square) بن جاتا ہے اور یہ مربع دو جہتی جسم کہلایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو آگے بڑھاتے ہوئے اگر چھ مربعوں کو باہم ملایا جائے تو ایک ڈبہ (box) وجود میں آتا ہے۔ یہ باکس وہ سہ جہتی (3D) جسم ہے جو انسانی آنکھ اور سوچ کی آخری حدود ہے۔ اس آگے انسانی آنکھ مزید چار، پانچ یا چھ جہتی اجسام کو نا تو دیکھ سکتی ہے اور نا ہی تصور کر سکتی ہے کیوں کہ یہ انسانی تصورات اور خیالات سے ماؤرا ہو جاتی ہے۔

فرض کریں آپ ایک کمرے کے اندر بیٹھے ہیں۔ اگر آپ اپنے ارد گردنظر دوڑائیں تو آپ زیادہ سے زیادہ اوپر، نیچھے، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور ان اطراف کے مابین ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس کو سہ جہتی منظر (3D view)کہا جاتا ہے اس سے زیادہ زاویوں سے انسانی آنکھ کے لئے اور حتٰی کہ کیمرے کے لئے دیکھنا یا دکھانا ناممکن ہے۔

کائنات کے اندر انسانی جسم، کمرے، زمین مریخ اور تمام اجرام فلکی اور کہکشائیں زیادہ سی زیادہ سہ جہتی شکل میں موجود ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شائد مزید تین سے زیادہ ابعادی اجسام بھی موجود ہیں لیکن ہماری دیکھنے یا تصور کرنے کے حدود سے باہر ہیں۔ کیا ان اضافی جہتوں (Dimensions) کو انسانی آنکھ کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ ٹیکنالوجی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی کہ ہم ان کو دیکھ سکیں۔ لیکن ان اجسام کےوجود سے بہر حال انکار بھی ممکن نہیں کیوں کہ طبیعات اور ریاضی کے اندر اس کی مساواتیں (equations) موجود ہیں۔

کائنات کے اندر چار بنیادی قوتوں میں سے تین قوتیں یا تو کشش والی ہیں یا پھر دھکیلنے (repulsive) ہوتی ہیں جب کہ دوسری قوتوں کے برعکس ثقلی قوت (Gravitational force) انتہائی کمزور قوت ہے اور صرف کشش کی قوت (attractive force) ہے جو اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ سائنسی مفکرین اور محققین کا خیال ہے کہ اگر مزید جہتوں کو دیکھنے میں کامیابی حاصل ہو سکی تو عین ممکن ہے کہ یہ وجہ بھی ہم جان سکیں کہ ثقلی قوت صرف کشش والی اور اتنی کمزور کیوں ہے جب کہ پھر بھی تمام اجسام کی حرکت کے اندر مستعمل ہے۔ جب کہ اس سے مزید لئے جانے والے کاموں کا بھی اندازہ لگانا سہل ہو جائے گا۔

طبیعات دانوں کا خیال ہے کہ اگر چار، پانچ اور چھ ابعادی اجسام کو دریافت کیا جا سکا تو ایک نئی دنیا انسانوں کو دیکھنے میں مل سکتی ہے لیکن اس تک رسائی اوراس کا تصور فی الوقت انسان کی اہلیتوں سے باہر ہے (البتہ اشارے ضرور ملے ہیں)۔ یہ حقیقت ہے کہ کمرے کے دروازے سے اونٹ کو داخل نہیں کیا سکتا کیوں کہ اونٹ کی جسامت دروازے کی جسامت سے گئی گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس) کو خوردبین کے بغیر دیکھنا نا ممکن ہے۔ایسے ہی ان بڑے اجسام اور بلیک ہولز وغیرہ کا عملی مشاہدہ نا ممکن تھا کیوں کہ ان کو دیکھنے والے آلات موجود نہیں تھے۔ انسانی آنکھ سے اوجھل دوسرے اجسام کی طرح ان کے وجود بھی کو ماضی قریب میں تجربات کی بنیاد پر ممکن بنایا جا چکا ہے اور مزید کام ابھی جاری ہے۔ تحقیقی مراکز کو امید ہے کہ بلیک ہولز اور ثقلی موجوں کے کامیاب تجربات کے ذریعے چار اور مزید ابعادی اجسام کو دیکھنا ممکن بنایا جا سکتا ہے جو کہ ابھی تک ایک خیال ہی ہے۔

کیا جنت اور دوزخ چوتھی یا اس سے آگے کی جہتوں کے اندر موجود ہے؟ اگر چھٹی جہت میں کوئی انسان چلا جائے تو کیا اس کا اس دنیا سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے؟ کیا وہاں پر وقت کی رفتار مختلف ہے؟ کیا ایسی کوئی جہت ہے جہاں پر انسان اپنا وجود بھی کھو دیتا ہے؟

بہت سارے سوالات اس موضوع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جن کے جوابات ابھی نا ممکن ہیں۔ امید ہے مستقبل قریب میں ان کو دیکھنا شائد ممکن ہو۔

Facebook Comments Box
equationsGravitational forceOne dimensionalZero dimensional objectجنتجنت اور دوزخجنت کا دروازہسہ جہتی منظرطبیعات دانوںفزکس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وحید مراد اور ہمارا عہد: مواخات —- قسط 8 — خرم علی شفیق
next post
دوسری شادی: ضرورت یا کچھ اور؟ —– رقیہ اکبر  

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.