تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

راستہ دیجئے —- بشارت حمید

by دانش ڈیسک 20/10/2018
written by دانش ڈیسک 20/10/2018
71

آپ نے کئی بار کسی ایسے چوک میں‌جہاں‌ٹریفک قدرے کم ہوتی ہے اور ٹریفک سگنلز نہیں‌لگے ہوتے وہاں‌ ایک سائن بورڈ دیکھا ہو گا جس پر اردو میں‌ "راستہ دیجئے” یا انگلش میں‌ Give Way لکھا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ذرا رک کر ارد گرد دیکھیں اور تیز رفتار گاڑی کو پہلے گزرنے دیں، کسی بھی چوراہے میں دائیں‌طرف سے آنے والی گاڑی کا حق زیادہ ہے کہ اسے پہلے گزرنے دیا جائے اور پھر بعد میں‌کوئی دوسری گاڑی وہاں سے گزرے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ پرسکون انداز سے جاری رہے اور اس میں‌کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔ اگر اس سائن بورڈ پر لکھے ان دو الفاظ کو ہم اپنی ساری زندگی میں اپنا لیں‌تو سوچئے کہ ہماری زندگی کتنی پرسکون ہو جائے گی۔

ہم دن رات اس تگ و دو میں‌لگے رہتے ہیں‌کہ میں‌فلاں‌رشتہ دار سے زیادہ مال کیسے جمع کرلوں‌ فلاں‌ سے زیادہ جائیداد کیسے بنا لوں‌، فلاں‌سے مقام و مرتبے میں آگے کیسے بڑھ جاؤں، فلاں‌سے زیادہ شہرت کیسے حاصل کروں۔۔۔ غرض‌ ساری زندگی دوسروں‌ سے اپنا موازنہ اور مقابلہ کرتے گزر جاتی ہے لیکن پھر بھی ہم وہی کچھ حاصل کر پاتے ہیں‌جو ہمارا نصیب ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ سوچ کر زندگی گزارنے لگیں‌کہ میرا کسی سے کیا مقابلہ اور کیا موازنہ ہے، کوئی چاہے جو مرضی کرتا رہے مجھے اس سے کیا غرض۔۔ اگر کوئی مال و دولت میں‌آپ سے آگے بڑھنا چاہ رہا ہے تو فوراّ یہ سائن بورڈ ذہن میں‌ لائیے اور اسے راستہ دیجئے اسے گزر جانے دیجئے۔ اگر سڑک پر ڈرائیو کرتے ہوئے کوئی تیز رفتاری سے آگے نکلنا چاہتا ہے تو فوراّ اسے راستہ دیجئے ہو سکتا ہے اسے کوئی ایمرجینسی کا معاملہ درپیش ہو۔ یہ سوچ کر آگے گزر جانے دیجئےکہ اس کی منزل اور حالات اور ہیں جبکہ میری منزل اور حالات اور ہیں میرا اس سے کیا مقابلہ ہے۔

ہماری زندگی میں‌بے سکونی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ مقابلہ بازی کا ماحول ہے۔ خواتین دوسری خواتین سے ہر معاملے میں‌ ممتاز نظر آنا چاہتی ہیں۔ ہر عورت یہ چاہتی ہے کہ کسی محفل میں‌وہ سب کا مرکز نگاہ ہو سب اس کو دیکھ کر اس کے حسن، لباس اور زیورات کی تعریف کریں چاہے وہ تعریف صرف سامنے آ کر زبان سے ہی کر رہے ہوں اور پیٹھ پیچھے اس کی غیبت ہی کر رہے ہوں‌ لیکن نفس کو جھوٹی تعریف سے بھی تسکین ملتی ہے۔ کئی عورتوں‌ کو یہ کریز ہوتا ہے کہ یہ سوٹ ایک فنکشن میں‌ پہن لیا تھا بس اب دوبارہ یہ پہن کر کسی فنکشن میں نہیں‌ جانا لہٰذا اب نیا سوٹ ہی چاہیئے۔۔ بھئی ذرا سوچو تو کہ اس سے کیا فرق پڑجائے گا۔ لیکن یہاں‌ بھی دوسروں‌ کو راستہ دینے کی بجائے مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ زندگی میں‌ بے سکونی اور عدم اطمینان کی صور ت میں‌سامنے آتا ہے۔

دنیا میں‌ پیدا ہونے والا ہر انسان اپنی ذات، اپنی شخصیت اور اپنے کردار میں‌ دوسرے تمام انسانوں سے مختلف ہے۔ کچھ باتیں‌ اور عادات دوسروں‌ کے ساتھ مشترک ہو سکتی ہیں‌ لیکن پرسنیلیٹی کے لحاظ سے کوئی بھی دوسرے کا متبادل نہیں‌ ہو سکتا کہ ہر ایک اپنی ذات میں‌یونیک ہے۔ تو پھر کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم دوسروں‌سے مقابلہ کرنے کی بجائے ان کے ساتھ الجھنے کی بجائے انہیں‌آگے بڑھ جانے دیں۔ اس عاجزانہ طرز عمل سے زندگی میں‌ایک ٹھہراو اور اطمینان کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور جس کو یہ کیفیت میسر ہو گئی وہ بے جا قسم کی پریشانیوں‌ سے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔ آپ نے اکثر پرانے بزرگوں‌کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ ماضی میں‌زندگی پرسکون ہوا کرتی تھی اب تو افراتفری کا دور ہے۔ ذرا سوچیں‌ کہ تب کم آمدنی اور کم وسائل کے باوجود سکون کس وجہ سے تھا۔۔ اس لئے کہ تب زندگی نیچر کے قریب تر تھی اس میں‌ مصنوعی پن اور ایک دوسرے سے مقابلے کی فضاء نہ ہونے کے برابر تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے راستہ چھیننے کی بجائے دوسروں‌ کو احترام کے ساتھ راستہ دے دیا کرتے تھے۔ ”پہلے آپ” کا کلچر عام تھا۔ اب بھی اگر ہم زندگی میں‌ سکون چاہتے ہیں‌ تو یہ بات ہر وقت ذہن میں رہنی چاہیئے کہ دوسروں‌ کو راستہ دیجئے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بھارت کا تاریخی شہر ’الہٰ آباد‘ کا نام ’پریاگ راج‘ —- ڈاکٹر رئیس صمدانی
next post
ایک نماز جو خوف میں ادا کی گئی —— یوسف ابو الخیر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.