تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ تریندیگرسیاسیعلم و ادبکالم

لیاقت علی خان: ایک وزیر اعظم، نیب کا بوٹا جس کے من میں پھوٹا تھا — فاروق عادل

by دانش ڈیسک 16/10/2018
written by دانش ڈیسک 16/10/2018
89

وزیر اعظم اپنے دفتر سے برآمد ہوئے تو ان کا موڈ خوش گوار تھا۔وہ اپنے کاغذات حتیٰ کہ بیگ بھی خود اٹھایا کرتے۔ اس وقت بھی انکے ہاتھ میں ان کا معروف چرمی بیگ تھا جسکے کونے کی تنی(Handle) دائیں ہاتھ کی پشت پر چڑھائے، اسے جھلاتے ہوئے وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھے۔ سامنے سے آنے والے لوگ وزیر عظم کو دیکھ کر ادب سے انھیں سلام کرتے اور راستہ دینے کیلئے دائیں بائیں ہو جاتے۔ یہ اتفاق تھا یا بدقسمتی کہ نوجوان مرزا جواد بیگ بھی اسی وقت انکے سامنے آگئے، انھیں دیکھ کر وزیر اعظم نے ڈپٹ کر پوچھا: … ’’صداقت کو ٹھیکہ تم نے دلایا ہے؟‘‘

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور اپنے بزرگوں کے دیرینہ و قابل احترام ساتھی کو یوں برہمی کے عالم میں دیکھ کر مرزا صاحب ٹھٹھکے،زبان سے کچھ کہنے کے بجائے اثبات میں سر جھکا دیا اور احترام سے کھڑے ہوگئے۔ ’’اعتراف جرم‘‘ سے وزیر اعظم کی برہمی کم نہ ہوئی، وہ انھیں بازو سے پکڑ کر اپنے دفتر میں لے گئے اور دوبارہ سوال کیا: ’’میں پوچھتا ہوں، تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘

وزیر اعظم جس شخص کے بارے میں سوال کررہے تھے، وہ خود ان کا صاحبزادہ نواب زادہ صداقت علی خان تھا جو قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے اپنے والد کے پاس کراچی منتقل ہونے کے بجائے اپنے اہل و ایال کے ساتھ لاہور میں قیام پذیر تھا اور بالکل بے روز گار تھا۔مرزا جواد بیگ اپنے دیرینہ تعلق خاطر کی وجہ سے کرنال (مشرقی پنجاب) سے تعلق رکھنے والے نوابوں کے اس خاندان کی خاندانی نزاکتوں نیز باپ بیٹے کے درمیان دوری کی وجوہات سے بخوبی آگاہ تھے، اس لیے انھوں نے اپنے والد کے غیر معمولی طور پر ہم شکل صداقت علی خان کو والد سے ملوانے یا ان سے سفارش کرکے اسکے مسائل کے حل سے اجتناب کیا اور اپنے بل بوتے پر اس سے تعاون کی ایک مخلصانہ کوشش کی۔اس واقعے کی خبر وزیر اعظم کو ہوئی تو پریشان ہوکر انھوں نے تفصیلات معلوم کیں اور جیسے ہی اس ’’واردات‘‘ کے ذمہ دارکی انھیں خبر ہوئیِ انھوں نے چھوٹتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لے لیا۔

واقعہ یہ تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اور برصغیر کے مسلمانوں کی نوزائدہ مملکت کے نامزد وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان جب ہجرت کرکے اپنے نئے وطن پہنچے تو انھوں نے اس عہد کی مقبول روایت کی پاس داری کرتے ہوئے کلیم (Claim) بھر کر جائداد جمع کرنے کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ بھارت میں رہ جانے والی کئی اضلاع میں پھیلی ہوئی اراضی کو قصۂ ماضی سمجھ کر اس ملک کی خدمت میں مصروف ہوگئے جس کے قیام کیلئے انھوں نے قائد اعظم کی قیادت میں دن رات ایک کردیے تھے۔ یوں جب پاکستان کے نامزد وزیر اعظم پاکستان منتقل ہوئے تو دیگر مہاجرین کی طرح وہ بھی بے شمار مالی مسائل کا شکار تھے۔ نواب زادہ صداقت علی خان کے مسائل تو اس خاندان کے دیگر لوگوں سے بھی بڑھ کر تھے۔ اس کے دو اسباب تھے۔ پہلا اور غیر معمولی سبب تو یہ تھا کہ صداقت علی خان اپنے خاندان کے دیگر نوجوانوں کے برعکس کم تعلیم یافتہ تھے اور دوسرے بعض خاندانی عوامل کے سبب اپنے جلیل القدر والد سے کسی قدر دوربھی تھے۔انکی لاہور آمد اور بے روزگاری کی اطلاع مرزا جواد بیگ کو ہوئی تو انھوں نے خاموشی کے ساتھ انھیں کراچی بلا کر ایک ٹھیکہ دلا دیا۔

ان کا خیال یہ تھا کہ صداقت کے پاؤں اگر جم گئے تو یہاں کاروبار کے مواقع ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ ہیں لیکن اس سے پہلے کہ یہ امید بر آتی، وزیر اعظم کو اس کا علم ہوگیا۔ انھوں نے مرزا جواد بیگ سے کہا کہ صداقت سے کہو کہ وہ ٹھیکے ویکے چھوڑے اور لاہور واپس جائے۔

مرزا صاحب نے اس بار ہمت سے کام لیا اور کہا کہ اس طرح تو وہ بھوکوں مرے گا، ساتھ اسکے اہل خانہ بھی۔وزیر اعظم یہ سن کر سوچ میں پڑ گئے، کچھ دیر خاموش رہے پھر کہا کہ تم نے اسے کراچی بلا کر میری عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہاں وہ کاروبار کریگا تو لوگ کہیں گے کہ باپ کے زور پر مال بنا رہا ہے، تم سے تو مجھے اس کی امید ہرگزنہ تھی۔ وزیر اعظم اتنا کہہ کر کچھ دیر خاموش رہے پھر مرزا صاحب کو حکم دیا کہ کل اسی وقت میرے پا س آنا۔دوسرے روز مرزا صاحب نواب زادہ صاحب سے ملنے انکے دفتر پہنچے تو وہ گزشتہ روز کی نسبت پرسکون تھے۔انھوں سے اپنے مشہور زمانہ بیگ کی زپ کھولی اور اس میں روپوں کی ایک گڈی نکال کر انکے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دس ہزار روپے ہیں۔ یہ رقم صداقت کے سپرد کردو اور اس سے کہو کہ وہ واپس لاہور جاکر کچھ کاروبار کرے۔

یہ بھی پڑھیے: جو صورت نظر آئی (قائد اعظم) —- فاروق عادل

مرزا صاحب نے خاموشی سے رقم لی اور جانے کیلئے اجازت طلب کی۔وہ دروازے کی طرف بڑھے تو انھیں پیچھے سے وزیر اعظم کی آواز سنائی دی: ’’ٹھہرو!‘‘ مرزاصاحب نے رک کر پیچھے دیکھا تو وزیر اعظم اپنی نشست سے نکل کر میز تک پہنچ چکے تھے۔انھوں نے آگے بڑھ کر مرزا صاحب کو گلے سے لگا لیا اور رندھی ہوئی آواز میں کہا: ’’مجھے تمھاری نیت پر کوئی شبہ نہیں اور تم نے صداقت کیلئے جو کچھ کیا، اس کیلئے بھی میں تمھارا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے پھر بتایا کہ یہ رقم میں نے کسی سے بطور قرض لی ہے، اس کی ادائیگی کس طرح ہوگی؟ یہ میں ہی جانتا ہوں۔ مرزا جواد بیگ نے یہ واقعہ سنایا اور کسی قدر آزردگی کے ساتھ کہا: ’’آہ، ہم کن لوگوں کے جانشین تھے اور کن حالوں کو جا پہنچے‘‘۔

چائے پڑی پڑی ٹھنڈی ہو چکی تھی اور یاس کی خاموشی نے ماحول کو سوگوار بنا دیا تھا۔میں نے ہمت کر کے مرزا صاحب سے درخواست کی کہ قائد ملت کے طرز زندگی کے بارے میں کچھ اور بتائیے۔ ’’یہ قائد اعظم کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں بعد کی بات ہے‘‘۔

مرزا صاحب نے ایک طویل سسکی نما سانس لیتے ہوئے کہا۔ کراچی میں ملیر کے علاقے کھوکھرا پار میں جلسہ تھا۔وقت مقررہ پر وزیر اعظم پہنچے اور جوتے اتار کر اسٹیج پر بچھی دری پر بیٹھ گئے۔ میں چوں کہ انکے پاس ہی بیٹھا تھا،اس لیے میری نگاہ ان کے پاؤں پر پڑی تو میں سن ہوکررہ گیا۔ انکے موزے پھٹے ہوئے تھے اور موزے کے سوراخوں میں سے ان کے پاؤں کی سفیدی جھلک رہی تھی۔ موقع پاکر میں نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو پاؤں سمیٹ کر گھٹنے کے نیچے کرتے ہوئے کہا کہ نئے موزے کہاں سے خریدوں؟ پھر مسکرائے اور کہا کہ تم تو میرے حالات سے واقف ہی ہو۔

مرزا صاحب سے میری یاد اللہ پرانی تھی لیکن یہ واقعات انھوں نے مجھے ان دنوں سنائے جب جنرل پرویز مشرف کی ایما پر جنرل تنویر نقوی ایک نئے بلدیاتی نظام کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ یہی نشست تھی جس میں مرزا صاحب اس موضوع پر گفت گو کرتے کرتے شہید ملت کی یادوں میں کھو گئے پھر اس مناسبت سے بدعنوانی کے چلن پر دکھ کا اظہار کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ اب نیب بن چکی، حکمراں بدعنوانی کی بیخ کنی پر کمر بستہ ہیں، فکر کس بات کی؟ مرزا صاحب دکھ کے ساتھ مسکرائے اور کہا کہ نیب کا بیج جب تک من میں سے نہ پھوٹے کچھ تبدیل نہیں ہوتا۔ لوگ آتے اور جاتے رہیں گے اور اس طرح کے حیلے ان کی راہیں آسان کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments Box
شہید ملتفاروق عادللیاقت علی خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
’’شور کے انسانی صحت پر مضر اثرات‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عزیر خالد برکاتی
next post
سچے رشتوں کی جھوٹی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.