تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

by دانش ڈیسک 28/04/2018
written by دانش ڈیسک 28/04/2018
92

ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروے وینسٹن کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے انکشاف کے بعد، ہالی وڈ فلم ایکٹریس علیسا میلانو نے سوشل میڈیا پہ اکتوبر 2017 میں ایک کمپین شروع کی جس کو ’’می ٹو‘‘ کے ساتھ پھیلایا گیا جس کا مقصد ہے کہ جس خاتون کو بھی اس قسم کی کوفت کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے نمایاں کر دے۔

سمیع کالیا

یہ کمپین بہت تیزی کے ساتھ بھارت، پاکستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور اس کے بعد سے فیس بک، ٹیوٹر، انسٹا گرام اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز پہ بہت سی خواتین نے اپنے آپ کو اس کمپین میں ٹیگ کیا، جن میں بڑی بڑی نامور خواتین بھی شامل ہیں جیسا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ایکس گرل فرینڈ مونیکا لیونسکی نے بھی اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے ٹیگ کیا ہے۔

ہمارے ہاں عورت کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہمیشہ مرد پر لگتا ہے۔ آپ نے اکثر دفاتر میں یہ لکھا دیکھا ہوگا کہ اگر کسی ملازم نے کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اُسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی حرکت اگر کسی خاتون کی طرف سے ہو تو اُس کے لیے کیا سزا ہے؟؟؟

آپ نے بے شمار ایسی خواتین بھی دیکھی ہوں گی جو دوسرے کے لئے چلتی پھرتی آزمائش ہوتی ہیں، مرد اگر اِن کی طرف نہ بھی دیکھنا چاہے تو ان کے پاس مرد کو متوجہ کرنے کے لاجواب حربے ہوتے ہیں۔ لباس سے لے کر گفتگو تک اِن کا ہر انداز مردوں کو گھیرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اِن کے اُٹھنے بیٹھنے کا انداز گھر میں کچھ اور ہوتا ہے اور دفتر میں کچھ اور، یہ بلاتکلف کسی بھی مرد کولیگ سے بات کرلیتی ہیں، ہاتھ بھی ملا لیتی ہیں، کھانے کی فرمائش بھی کرلیتی ہیں لیکن کسی مرد کو ہمت نہیں ہوتی کہ اِن کی شکایت لگا سکے، اور اگر ہمت کر بھی لے تو آگے سے ڈانٹ یا قہقہہ سننے کو ملتا ہے (تم تو خوش قسمت ہو جسے الفاظ بھی طبیعت صاف کردیتے ہیں)۔

وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کے پاس مردوں کی طرف سے خواتین کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ بے شمار خواتین بھی مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں لیکن اِس بات کا کوئی کیس نہیں بنتا، کیس بننے کے لیے مرد کا عورت کو ہراساں کرنا ضروری ہے۔ بیچارے وہ مرد کہاں جائیں جنہیں ایسی خواتین اپنی ہوشربا ادائیں یا پیش دستیاں اس حد تک مجبور کر دیتی ہیں کہ بلآخر وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت کر ہی بیٹھتے ہیں۔ یہ حرکت اگر خاتون کے مفاد میں ہو تو پیار کہلاتی ہے ورنہ بدتمیزی یا ہراسمنٹ۔

خیر میں اپنے ادارے کے ایک معروف کالم نگار (اویس احمد) کی طرح کچھ زیادہ خوش شکل نہیں ہوں مگر ان کے کالم کے کچھ واقعات آپ سے شیئر کرتا ہوں امید ہے وہ مجھے معاف کر دیں گے۔

"کسی لڑکے کا اچھی شکل و صورت کا حامل ہونا بھی اس کے لیے بعض اوقات عذاب کا باعث بن جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہم محلے کے بچے رات کو مل کر چھپن چھپائی کھیلا کرتے تھے۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کی لڑکی ہمیشہ وہیں آ کر چھپتی تھی جہاں میں چھپا ہوا ہوتا تھا۔ میں باجی باجی کہتا ہوا پسینے میں شرابور ہو جاتا تھا مگر وہ باجی اپنا شوق پورا کر کے رہتی تھی۔ میرے لڑکپن میں ہی ایک اور باجی نے ایک دن موقع پا کر جب وہ اپنے گھر میں اکیلی تھی اور مجھے والدہ نے کسی کام سے ان کے گھر بھیجا تو اس نے مجھے باقاعدہ عملی مظاہرہ  کر کے عمل تولید سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ میری عمر چھوٹی تھی ورنہ پریکٹیکل کامیاب ہو ہی گیا ہوتا۔

ایک اور باجی اپنے گھر کی تنہائی میں مجھ سے اپنے غسل خانے کا سختی سے بند نلکا کھلوانے کی خواہشمند تھی۔ یہ بتانا تو ضروری نہیں کہ ہمارے معاشرے میں غسل کا لباس کیسا ہوتا ہے۔ وہ تو عقل آ گئی اور خشک حلق لیے وہاں سے نکل آیا ورنہ معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔ کراچی کی ان باجیوں سے تب جان چھوٹی جب ہم لوگوں نے کراچی چھوڑا۔ اس وقت تک عمر سولہ برس اور تجربہ بتیس برس کا ہو چکا تھا۔

پھر راولپنڈی میں ایک آنٹی سے پالا پڑا جو مطلقہ اور محلے کی جان تھیں۔ اکثر محلے کے نوجوانوں سے رات گئے سودا سلف منگوانے میں شہرت رکھتی تھیں۔ محلے میں ان کے چاک گریبان کی شہرت ان کے نسوانی والٹ کے نام سے تھی۔ ان سے ایک بار گلی میں سامنا ہوا تو انہوں نے ہنس کر ایک ایسی پیشکش کی تھی کہ مجھے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جذبات کو معمول پر لانے کے لیے گلی میں کچھ دیر رکنا پڑا تھا۔”

مردوں کو ہراساں کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی "می ٹو” جیسا کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں مرد حضرات بھی اپنی شکایات درج کروا سکیں۔

ہم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرد عورت کو ہراساں کرتا ہے مگر عورت ایسا کچھ نہیں کرتی۔ میں قانون کے طالب علم کے طور پر پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں مرد عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں وہاں عورتیں بھی مردوں کو ہراساں کرتی ہیں مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ جن پیغامات پر مرد زیادہ تر مسکراتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں خواتین کو ان کی سماجی اور معاشرتی حیثیت کی وجہ سے قیمت چکانی پڑتی ہے۔

ابھی اس حوالے سے بنائی گئی وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کے پاس مردوں کی طرف سے خواتین کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں میری اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جائے کہ تمام خواتین بدکردار ہوتی ہیں مگر اتنی ضرور درخواست کروں گا کہ تمام خواتین کو معصوم عن الخطا بھی نہ سمجھا جائے اور مردوں کو ہراساں کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی "می ٹو” جیسا کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں مرد حضرات بھی اپنی شکایات درج کروا سکیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی ہراسانی،جامعہ کراچی کے اساتذہ اور شکاری میڈیا : نبیلہ کامرانی

 

Facebook Comments Box
featuredجنسی آزادیجنسی استحصالجنسی ہراسگیجنسی ہراسمنٹمرد ہراساںمرد ہراسگی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تاج محل : مظہر عبرت و الفت — شفیق زادہ
next post
ایران : اسلامی انقلاب جاری ہے؟ احمد الیاس

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.