تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

قاضی صاحب کو سلام : جے سالک… سابق وزیر اقلیتی امور

by دانش ڈیسک 06/01/2018
written by دانش ڈیسک 06/01/2018
130

جب قاضی حسین احمد صاحب جماعت اسلامی کے امیر بنے، جمہوریت اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خیالات اخبارات کے ذریعے باہر آنے لگے تو اس سے میں یہ سمجھا کہ ہمیں قاضی صاحب سے ملنا چاہیے، ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔ سو میں نے قاضی صاحب سے بات چیت کا آغاز کیا اور پھر مختلف مجالس میں ہماری ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ جماعت اسلامی اب پہلے سے بہت مختلف ہے۔

قاضی صاحب بہت تحمل سے بات سننے والے تھے۔ انہوں نے میری بات کو بڑے تحمل سے سنا، جب میں نے کہا اگر پاکستان صرف ایک طبقے کے لیے بنا ہے تو پھر ہمارا پہلا وزیر قانون ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈیل کیوں تھا؟ جس اجلاس میں محمدعلی جناح کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل نامزد کیا گیا تھا تو اس مجلس کی صدارت بھی ایک شودر کر رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان صر ف ایک طبقے کے لیے نہیں بنا تھا۔ اس نسلی تعصب اور نفرت کو ختم کرنے میں اسلام کا اہم کردار ہے۔ قاضی صاحب نے اس بات کو اپنے عمل سے ثابت کیا اور دنیا کے سامنے دکھادیا۔ میں نے قاضی صاحب کے سامنے میثاقِ مدینہ کا ذکر کیا کہ اس میں بھی اقلیتوں کے حقوق کی بات تھی اور قیامت تک کوئی بھی آپ ﷺ کا ماننے والا اس سے انحراف نہیں کرسکتا۔

قاضی صاحب کے دور اور پہلی کی جماعت اسلامی میں بڑا فرق معلوم ہوتا ہے۔ قاضی صاحب تو کرسمس کا کیک بھی کاٹا کرتے تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاضی صاحب وسیع ذہن کے مالک تھے اور اقلیتوں سے محبت کرتے تھے۔ میں ذاتی طور پر ان کی تحمل مزاجی اور ان کے ہر طبقے کے لوگوں کے ساتھ محبت کا شاہد ہوں۔ جیسا میں نے عرض کیا کہ پاکستان کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بنا، بلکہ پاکستان ان تمام لوگوں کا ہے، جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور پاکستان کے ساتھ مل گئے اور پاکستان کو قبول کیا، ورنہ بھارت میں تو پاکستان سے زیادہ مسلمان رہ گئے تھے۔

جب میں وفاقی وزیر آبادی تھا تو مجھے پتا چلا کہ قاضی صاحب کا کوئی مظاہرہ ہے، جس میں راولپنڈی یااسلام آباد کے ایک پولیس افسر نے قاضی صاحب کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ قاضی صاحب کی ڈاڑھی نوچی ہے اور ان کا کیپ بھی زمین پر گرگیا تھا۔ اس پر میں نے فوراً بیان جاری کیا اور پولیس افسر کی اس بدتمیزی کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت اس قسم کے حرکت کی اجازت نہیں دے سکتی۔ جب خبر اخبار میں چھپی تو صبح بابر اعوان صاحب کا… وہ اس وقت بی بی کے ٹیم میں تھے… فون آیا۔ وہ کہنے لگے سالک صاحب! یہ آپ نے کیا بیان دیا ہے؟ میں نے کہاکہ میں نے بڑا زبردست بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان تو حکومت کے خلاف ہے۔

قاضی صاحب تو کرسمس کا کیک بھی کاٹا کرتے تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاضی صاحب وسیع ذہن کے مالک تھے اور اقلیتوں سے محبت کرتے تھے۔ میں ذاتی طور پر ان کی تحمل مزاجی اور ان کے ہر طبقے کے لوگوں کے ساتھ محبت کا شاہد ہوں۔

میں نے اس پر کہا کہ حکومت لوگوں کی پگڑیاں اُچھالتی رہے، میں اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ بی بی آپ سے بڑی ناراض ہیں۔ میں نے کہا میں ان سے مل لوں گا اور معلوم کرلوں گا کہ اس بیان میں کیا خرابی ہے؟ ایک ہوٹل میں بی بی صاحبہ کا ایک پروگرام تھا۔ اس کے اختتام پر میں بی بی صاحبہ کے پاس گیا۔ بی بی نے خود مجھے سلام کیا اور خیریت دریافت کی۔ پھر بی بی نے اس بیان کے حوالے سے پوچھا کہ یہ آپ نے کیا بیان دیا؟ اس وقت میڈیا والے اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ میں نے کہا: بی بی! وہ عوامی بیان تھا، کیا آپ نے پڑھا نہیں؟ بی بی نے کہا: ’’اچھا کیا آپ نے۔‘‘ میں یہ بیان دے کر آج بھی فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نے قاضی صاحب کے حق میں بیان دیا۔

پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا اور یہ صرف چند وڈیروں اور سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بنا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاضی صاحب نے اسلام اور پاکستان کی اصل روح کو بیدار کیا۔ قاضی صاحب کی عاجزی اور انکساری بے مثل تھی۔ ویسے تو لوگوں نے پیغمبروں کو بھی نہیں بخشا۔ آج قاضی صاحب کی شخصیت دنیا میں موجود نہیں ہے۔

میں نے قاضی صاحب سے کبھی غیر سنجیدہ گفتگو نہیں سنی۔ وہ بڑے پاکیزہ انداز میں گفتگو کرتے تھے۔ وہ کسی کو براہِ راست نشانہ نہیں بناتے تھے۔ جب نیٹو نے عراق اور افغانستان میں بمباری کی تو میںنے بطورِ احتجاج خود کو پنجرے میں بند کیا۔ اس دوران میں قاضی صاحب میرے پاس پنجرے میں تشریف لائے اور کہا: سالک! آج میری بیٹی نے کہا کہ یا تو آپ سالک صاحب کے ساتھ چلے جائیں یا سالک صاحب کو باہر لے کر آئیں، کیو نکہ اس وقت مجھے پنجرے میں سات ماہ ہوگئے تھے۔ پھر فضل الرحمن صاحب بھی آئے اور لیاقت بلوچ صاحب بھی آئے۔ میاں اسلم صاحب بھی آئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قاضی صاحب کے وہ الفاظ بڑے دردناک تھے جو قاضی صاحب نے میرے لیے کہے تھے۔ وہ آج تک مجھے یاد ہیں۔ پاکستان زندہ باد، قاضی صاحب کو سلام۔ (گفتگو سے ماخوذ)

Facebook Comments Box
جماعت اسلامیجے سالکقاضی حسین احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میں قاضی حسین احمد کو دوست سمجھتا تھا: عمران خان کی یادیں
next post
قدرت کا حسین تحفہ، سرزمین مانسہرہ : سید ثاقب شاہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.