تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینلسانیات

ہراک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے : یگانہ نجمی

by دانش ڈیسک 04/01/2018
written by دانش ڈیسک 04/01/2018
84

 

عربی میں ’’لسان‘‘ اس پارہ یا گوشت کو کہتے ہیں جو ہمارے بتیس دانتوں کے درمیان رہتا اور غذا کے مختلف ذائقوں میں تمیز کرتا ہے فارسی میں اسے’’زبان’ انگریزی میں ‘tongue‘ اور اردو میں’جیپ‘ کہتے ہیں لیکن عربی، فارسی اور انگریزی کے ان ہی الفاظ سے وہ آوازیں بھی مراد لی جاتیں ہیں، جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو اس کی سماجی زندگی کو مستحکم اور پائیدار بناتی ہیں۔ انسان ایک سماجی جاندار ہے جو مہد سے لحد تک اپنے اپنائے جنس کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتا ہے۔ اسی سماجی زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے وہ اپنی آوازوں سے کام لیتا ہے۔ دوسروں سے اپنے دل کی بات کہنے، حکم دینے سمجھنے اور سمجھانے، ان سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرنے اور ان سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اسے زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے اور چونکہ زبان کی تاریخ انسانی سماجی تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے چنانچہ اس کے اتار چڑھاو بھی سماجی انقلابات اور سماجی روایات سے وابستہ ہیں۔

صورتِ حال سب کے سامنے ہے کہ اس بدزبانی سے حالات نے کیا شکل اختیار کی ہے، عوامی جلسوں سے لے کر ایوانوں تک جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔

زبان کی ارادی تشکیل عموماََجن زریعوں سے عمل میں آتی ہے۔ ان میں عوام ،حکمران، علماء اور انشاء پرداز شامل ہیں۔ ان چاروں ذرائع میں، عوام زبان کی تشکیل میں ارادی طور پر حصہ نہیں لیتے۔ ماہر لسانیات کا کہنا ہے کہ کسی ملک میں اگر دو زبانیں رائج ہوں، یعنی سرکار زبان عوامی زبان سے زیادہ علمی قابلیت رکھتی ہو تو اس کے اثرات عوام پر ضرور پڑتے ہیں۔ حکمران طبقہ اگر تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہذب ہوں اور ویسی ہی مہذب زبان استعمال کرتے ہوں تب لازما اس کا اثر عوام کی زبان پر بھی پڑتا ہے۔

قمر علی عباسی اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ”میں نے لکھنئو کے متعلق سنا تھاکہ یہاں کے عام لوگ بھی نہایت شائستہ گفتگو کرتے ہیں ۔اس بات کا تجربہ مجھے تب ہوا، جب میں ایک تانگے میں بیٹھا۔ تانگے کی رفتار سست تھی تو میں نے تانگے والے سے کہا کہ گھوڑا بہت آہستہ چل رہا ہے۔”تانگے والے نے جواب دیا "جناب! انھوں نے صبح سے کچھ کھایا نہیں ہے۔”

زبان سے متعلق اس ساری تمہید کا مقصد اس صورتِ حال سے ہے۔ جس کا ہم سب کو سامنا ہے اور وہ یہ ہے کہ حکمرانوں سے لے کر علماء تک (یہاں حکمرانوں سے مراد سیاست دان اور علماء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دین کے علمبردار کہلواتے ہیں، جس طرح کی زبان کو استعمال کررہے ہیں۔ وہ ایک ایسے کلچر کے فروغ کا ذریعہ بن رہی ہے کہ جس میں نہ تو کوئی ادب و آداب باقی رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی تہذیب حبِ رسول ﷺ میں اپنی اور دوسرے کی جان ایک کرنے کا دعوی کرنے والے رسول ص کے اس اسوہ حسنہ کو بھول گئے ہیں۔ جس نبی کی تعلیمات میں یہ تلقین کی گئی کہ "مسلمان وہ ہے جس کی زبان ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔” جس نبی ص کی اسوہ میں ہمیشہ اپنے پرائے کے لیے گفتار کی نرمی ہی رہی، ان کی چاہت کے دعویدار لوگوں کی گفتگو گالم گلوچ سے شروع ہو کر گالم گلوچ پر ختم ہوتی ہے۔

ہمارے سیاستدان اکبر جیسی بادشاہت تو چاہتے ہیں، مگر اس دور کی تہذیب وتمدن کو اپنانا نہیں چاہتے۔ اکبر نے اپنے دربار میں نورتن اس لیے رکھے تھے کہ ایک شائستہ گفتگو اور ماحول بنا سکیں. جب کہ آج کے نورتن بد تہذیبی اور بدخوئی پر تلے رہتے ہیں۔

زبان کے اس استعمال نے ان سب کے کردار کو بے نقاب کردیا ہے۔ جس سے سماج میں اعتبار اور بھروسہ ختم ہو رہے ہیں، لوگ بے یقینی کا شکار ہیں۔

اور روزانہ الزام تراشیاں اور ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیں، جس کی ایک پڑھے لکھے انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایک لیڈر دوسرے لیڈر کو پکارتا ہے کہ "ابے او فلانے، تیری اینٹ سے اینٹ سے بجادیں گے”۔ اب تو یہ ابے تبے والی زبان سے بھی بات آگے بڑھ چکی ہے۔ اب باقاعدہ گالیوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ یہ انداز ان لوگوں کا ہے جنھیں دنیا کی ہر آسائش حاصل ہے۔ جب حکمرانوں کی برداشت کا یہ عالم ہے تو باقی معاشرے کو اس سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زبان پر منفی اثرات الگ پڑرہے ہیں۔ ان الفاظ کا استعمال جنھیں لغت نویسوں نے لغت مدون کرتے وقت خیال رکھا کہ ان میں شامل نہ ہوں، تاکہ زبان کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔ اسی قدر معیار سے گرے ہوئے الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی  میڈیا میں بھی ہر سطح پر بولے  اور پیش کۓ جانے لگے ہیں۔ پروگرام چاہے کتنی ہی سنجیدہ نوعیت کا کیوں نہ ہو، ایسے ہی غیر معیاری زبان ہی نظر آتی ہے۔

قوتِ گویائی انسان کی وہ واحد ملکیت ہے جس میں کوئی دوسرا ذی روح شریک نہیں ہے۔ جب کہ گفتگو ایک جسمانی عادت اورایک اجتماعی تقلیدی عمل ہے۔ یہ ایک انسان کا نہیں بلکہ دو انسانوں کا باہمی معاملہ ہے، چنانچہ زبان انسانی آوازوں کا وہ با معنی نظام ہے، جس کے ذریعے افراد اور جماعت میں رابط استوار ہوتا ہے۔ انسان اپنے ساتھیوں کو متاثر کرنے کے لیے بولتا ہے, اور زبان کے وسیلے سے ہی ان کی امداد طلب کرتا ہے۔ تاکہ سب کے ساتھ مل جل کر ماحول پر قابو پاسکے۔ صورتِ حال سب کے سامنے ہے کہ اس بدزبانی سے حالات نے کیا شکل اختیار کی ہے، عوامی جلسوں سے لے کر ایوانوں تک جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ اب ببول بونے سے لازما کانٹے ہی نکلیں گے.

ہر بات پہ تم کہتے پو، کہ تو کیا ہے
تم ہی کہو کہ، یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

 

 

 

Facebook Comments Box
featuredزبان کا معیارزبان کی ساختسیاست دانوں کا انداز گفتگوعالم دین کی گفتگوگالم گلوچ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کراچی میں بڑھتا ہوا اسٹریٹ کرائم : عادل خان
next post
تحریک خالصتان اور پاکستان (آخری حصہ) : چوہدری بابر عباس

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.