تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

جون ایلیا ـ ہمارے دوسرے فلسفی شاعر!‎ خالد بلغاری

by خالد ولی اللہ بلغاری 12/11/2017
written by خالد ولی اللہ بلغاری 12/11/2017
143

افتخار عارف صاحب کے مجموعہ “جہانِ معلوم” کے تعارفی نوٹ/ دیباچے میں جون صاحب نے لکھا ہے کہ انکا بنیادی تعلق فلسفے سے ہے۔

اس مختصر سی تحریر کو جب پہلی دفعہ پڑھا تھا تو کسی قدر تعجب کیساتھ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ جون صاحب جیسا بے نیاز اور اسی قدر شدید جذباتی شاعر جو نوجوانوں میں روز بروز مقبول ہوتے جاتے ہیں، ان کا خود کو بنیادی طور پر فلسفی کہنے کا کیا مطلب ہوگا۔
یہ بھی سوچا کہ ممکن ہے ایک شاعرانہ ترنگ میں کہہ دیا ہو۔جیسے وہ مشاعروں میں علی الاعلان “اعترافات” کرتے تھے کہ بھائی ہم تو بھنگ پیتے ہیں، وغیرہ۔مگر یہ تو سنجیدگی سے لکھی ہوئی بات ہے، دیباچہ ہے۔ اور وہ اعترافات بھی صرف ترنگ میں آ کر کئے نہیں جاتے تھے، سبھی جانتے ہیں کہ وہ پیتے بھی تھے۔عبارت پڑھ کر بھی ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ “زیراثر” ہیں یا انکی مراد وہ نہیں ہے جو سمجھ میں آرہا ہے۔

اس کے بعد انکے اس دعوی کے پس منظر کو جان کر جب انکے اشعار کو دیکھنا شروع کیا تو یہ کھلا کہ جون صاحب تو واقعی فلسفی ہیں اور شدت سے ہیں۔ اور اگر یہ بات انہوں نے ترنگ میں آکر بھی لکھی تھی تو یہ بات انکے اعترافات ہی کی طرح بالکل درست ہے۔

جون ایلیا جدید فلاسفہ کے اُس دبستان سے تعلق رکھتے ہیں جنکو ہم موجودیاتی یا ایگزسٹینشیلسٹ کہتے ہیں۔
فیوڈور دوستیوسکی، فریڈرک نٹشے، البرٹ کامیو اور ژاں پال سارتر جیسے عظیم فلاسفہ کے گروہ سے انکا تعلق ہے، جن میں سے ہر ایک کا بنیادی تعارف فلسفی ہونے کیساتھ ساتھ ادیب اور نفسیات دان ہونے کا بھی ہے۔
دوستیوسکی کے نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ کے اُس کردار کی تہہ دار پیچیدگی اور خود اذیتی سے لذت کشید کرنے کی نفسیات کا تقابل اگر جون صاحب کی شخصیت، انکی تحریروں اور کلام سے کیا جائے تو کئی باتیں خود بخود واضح ہوجاتی ہیں۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

ایک مشاعرے میں یہ آخری شعر پڑھنے سے پہلے اسکا تعارف کرتے ہوئے جون صاحب کہتے ہیں کہ “یہ مسئلہ پوری انسانی تاریخ کا مسئلہ ہے، نینڈرتھل سے لیکر آج کے انسان تک یہ مسئلہ محیط ہے”۔اس تعارف سے بھی ایک واضح اشارہ ملتا ہے کہ جون اپنے قارئین کو بتانا چاہتے تھے کہ انکے کلام کے دائرہ کار کی کیا فلسفیانہ وسعت ہے۔انکو عام شاعر نہ سمجھا جائے۔
یہ ‘بات کا نہ کہا جانا اور نہ سنا جانا’ ــــ فلسفیانہ نقطہِ نظر سے مارٹن ھائیڈگر کے اس وجودی مسئلہ سے لفظی مماثلت تک بھی رکھتا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ وجود کی اصل پر اب تک سوال کیا ہی نہیں گیا۔کسی نے اس پر بات ہی نہیں کی، اور یہ بھی کہ یہ بات کا نہ کیا جانا ایک مسئلہ نہیں ایک تاریخی حادثہ (event) ہے۔

جدید فلسفہ میں ان یورپی فلاسفہ کی فکر سے پیدا ہونا والا یہ موجودیاتی دبستان ایک کثیر الجہتی دبستان ہے اور اس دبستان کے اعضا اور پہلووں کی تفصیل میں فلاسفہ کی طرف سے کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک معروف نام والٹر کافمین کا ہے جنکی کتاب “ایگزسٹینشیلزم فرام دوستیوسکی ٹو سارتر” اس موضوع پر دلچسپی رکھنے والوں کیلئے خاصے کی چیز ہے۔اسی مصنف کی ایک ضخیم کتاب نٹشے پر “نٹشےـــــ فلاسفر، سائیکولوجسٹ، اینٹی کرائسٹ” کے نام سے بھی ہے.

جون کا افتخار عارف صاحب کے مجموعے کے تعارف میں لکھا گیا یہ مختصر تعارفی نوٹ اُنکے اپنے کلام میں جا بجا بکھرے ہوئے گہرے فلسفیانہ نکات کی مکمل تائید کرتا ہے۔ یہ فلسفیانہ نکات جدید ایگزسٹنشلسٹ فلاسفہ کی فکر سے ایسی مماثلتیں رکھتے ہیں جن سے صرف نظر کرنا ہمارے اس انوکھے فلسفی شاعر کیساتھ انصاف ہرگز نہیں.

جون یہ جو وجود ہے، یہ وجود
کیا بنے گی اگر عدم نکلے؟

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟

ہمارے پہلے فلسفی شاعر سے تو سبھی واقف ہیں.

آپ سب کو پاکستان کا دوسرا فلسفی شاعر مبارک ہو.!!!

Facebook Comments Box
اردو شاعریافتخار عارفجون ایلیافلسفہوجودیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خالد ولی اللہ بلغاری

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

previous post
اقبال اور ترکی: ڈاکٹر خلیل طوق ار سے ایک گفتگو ۔۔۔ اعجازالحق اعجاز
next post
پشاور یاترا اور تبدیلی : ایک تاثر —— عابد آفریدی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.