تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

مخمصہ: سیاسی تمثیل —— عمار یاسر زیدی

by دانش ڈیسک 11/11/2017
written by دانش ڈیسک 11/11/2017
80

کل رات سے عجیب مخمصے کا شکار ہوں۔ اسی کی دہائی میں ہمارے محلے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس زمانے میں شہر اور محلے کے حالات بہت خراب تھے، اس بچے کے پیدا ہونے سے امید ہوئی کہ صورت حال بہتر ہو گی، اور یہ بچہ دنیا میں اپنا، اپنے محلے اور خاندان کا نام روشن کرے گا۔

بچہ بڑا ہونا شروع ہوا تو محلے سے اس کی شکایتیں آنا شروع ہو گئیں، آئے دن اس کا کسی نہ کسی محلے دار سے جھگڑا ہو جاتا اور معاملہ مار پیٹ تک پہنچ جاتا۔خاندان والوں نے بجائے تنبیہ کرنے کے بچے کا خوب ساتھ دیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان کی دھاک تو پورے محلے پر بیٹھ گئی لیکن علاقے کے لوگوں نے خاندان کے افراد سے ملنا جلنا کم کر دیا۔محلے والے بھی موقعہ ملتے ہی خاندان کے کسی فرد یا افراد کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا دیتے، ایسے میں یہ بچہ جو اب لڑکپن میں داخل ہو گیا تھا جوابی کارروائی بھی کرتا۔ صورت حال بگڑنے لگی تو علاقے کے تھانے کی نفری متحرک ہوئی اور بچے کو بلا کر سختی سے سمجھایا۔ بچے نے محلے والوں سے صلح کرنے کی ٹھانی، مگر معاملہ اعتبار کا تھا۔ نہ محلے والے اس پر اعتبار کرنے کو تیار تھے نہ وہ محلے والوں پر۔۔۔ تھانیدار صاحب کی تھوڑی سختی اور سمجھانے بجھانے کا فائدہ یہ ہوا کہ آئے روز کے جھگڑے ختم ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لڑکے کو بھی عقل آنی شروع ہوئی اور اس نے معاملات کو بہتر انداز سے نمٹانے کی کوشش کی، اس تمام عرصے میں ہوا یہ کہ اس لڑکے نے ہوشیاری سے پورے علاقے پر تسلط قائم کر لیا۔ لیکن پھر لڑکے سے غلطی ہوئی، اس نے تھانیدار کے لڑکے کو اغوا کیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا، تھانیدار اپنے بیٹے کے اغوا کی ایف آر کٹوانے گیا تو اسے جواب ملا کہ پہلے لڑکے سے اجازت لے آؤ۔۔۔ تھانیدار نے جیسے تیسے ایف آئی آر تو کٹوائی مگر حالات کی سنگینی کا اندازہ اسے ہو گیا۔

تھانیدار نے خاندان میں نقب لگا کر خاندان کے کچھ افراد کو اپنے ساتھ ملایا اور لڑکے کی چھترول کر دی۔ الزام اس پر یہ لگا کہ وہ دشمن شہر کے لوگوں کی مدد سے اپنے محلے میں صورت حال خراب رکھنا چاہتا ہے کیوں کہ اس سے دشمن کو فائدہ ہے۔۔۔۔ محلے والے اچھے تھے،اس الزام پر یقین نہ کیا اور لڑکے کی زیادتیاں بُھلا کر اس کی بہت مدد کی۔ تھانیدار سے خاندان کے بڑوں نے بات کی۔ معاملات طے ہوئے۔۔۔۔ پھر علاقے میں نیا تھانیدار آیا۔۔۔ اس نے آتے ہی لڑکے کی ہسٹری نکلوائی اور پھر لڑکے کی زندگی مشکل ہو گئی۔۔ اس زمانے میں اس لڑکے کو بہت کچھ سہنا پڑا، خاندان کے کئی افراد صرف اس سے تعلق کی بنا پر مارے گئے، جلا وطن ہوئے اور جیل گئے۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد لڑکے کو مشورہ دیا گیا کہ تمہارے پاس خاندان کی طاقت ہے تم اپنی اس طاقت کو مثبت انداز سے آگے بڑھاؤ، بجائے محلے داروں سے جھگڑنے کے، انہیں اپنے ساتھ ملاؤ، اپنا نام بدلو اور پورے محلے بلکہ پورے شہر تک اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھاؤ۔۔ لڑکے نے اپنا نام بدل لیا، مگر معاملہ پھر بھی نہ سنبھلا، لڑکا کسی بھی طرح محلے پر اپنی اجارہ داری ختم کرنے پر تیار نہ تھا۔ نام بدل گیا مگر عادتیں مزید پختہ ہو گئیں۔

پھر علاقے میں اس کا حمایتی تھانیدار آگیا۔ اس نے لڑکے کو کھلی چھوٹ دی، لڑکے نے محلے میں ادھم کر دیا۔ ترقیاتی کام بھی کروائے۔ سڑکیں بن گئیں، پانی کے مسائل کو قابو کرنے کی کوشش ہوئی، کافی اچھے کام بھی ہوئے۔ لیکن لڑکے کو پیسے کی لت لگ گئی۔ تھانیدار بہت مہربان ہو گیا، اس نے لڑکے کو کھلی چھوٹ دی،کہ اسے اپنی تھانیداری قائم رکھنی تھی۔ جب لڑکا کسی بات پر ناراض ہوتا تھانیدار پیسے دے کر اس کی ناراضگی ختم کر دیتا۔ محلے میں لڑکے کی مرضی کے بغیر اب پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔ پیسے کی لت ایسی لگی کہ اب اس نے نہ صرف محلے سے بلکہ خاندان والوں سے بھی بھتہ لینا شروع کر دیا۔ اب محلے والوں کے ساتھ ساتھ خاندان والے بھی تنگ تھے۔ طویل عرصے بعد نیا تھانیدار آیا۔ اس نے آتے ہی معاملات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اُدھر تیزی کے ساتھ ترقی کرتا ایک شہر ہمارے شہر سے ایک سڑک گذارنا چاہتا تھا، اور ہمارے محلے کی صورت حال پر اسے کچھ تحفظات تھے، خاص طور پر لڑکے کے حوالے سے۔ اس صورت حال میں تھانیدار نے لڑکے کو نکیل ڈالنے کی سوچی تحقیق کی تو پتا چلا کہ لڑکے نے دشمن شہر والوں سے باقائدہ تعلقات استوار کر لیے ہیں، اور وہاں سے پیسے لے کر محلے کو شہر سے الگ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ تھانیدار نے بھرپور کارروائی کی، کیوں کہ مجوزہ سڑک میں نہ صرف تھانیدار کو فائدہ تھا بلکہ پورے شہر کو فائدہ تھا۔ تھانیدار کی کارروائی نے محلے کی صورت حال بہتر کی، خاندان کے چند نوجوانوں نے لڑکے سے بغاوت کی، اور محلے اور خاندان کے تحفظ کے دعوے کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ خاندان بٹ گیا، طاقت بٹ گئی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا تھا، مگر اس بار معاملہ مختلف تھا۔

تھانیدار کی کوشش تھی کہ لڑکے کی باغی نوجوانوں سے صلح کروا دی جائے، اور یہ متحد ہو جائیں۔ خاندان کے ایک صاحب دوسرے شہر میں بیٹھے لڑکے کی ولدیت کا دعویٰ کرتے رہتے، لڑکا ان کے اس دعوے کو تسلیم بھی کرتا تھا بلکہ ان کی ہر بات کو ماننا اپنا فرض سمجھتا۔ انہوں نے لڑکے کا خوب استعمال کیا بلکہ کہا جائے کہ انہوں نے ہی استعمال کیا تو غلط نہ ہو گا۔ مگر جب انہوں نے محلے کو شہر سے الگ کر دینے کے نعرے لگائے، تو لڑکے نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔

قطع تعلق کے بعد لڑکے نے اپنا طرز عمل تبدیل کیا، اور اچھا بچہ بننے کی پوری کوشش کی، اور یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی کہ ولدیت کے دعویدار سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ لڑکے کا دعویٰ ہے کہ اس کی اچھا بچہ بننے کی کوشش کو سراہا نہیں جا رہا اور تھانیدار کے مطالبات کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے۔ لڑکے پرخاندان کے دیگر نوجوانوں کے ساتھ اتحاد کا بہت دباؤ تھا، ان نوجوانوں کوپس پردہ تھانیدار کی مکمل حمایت کا تاثر بھی پورے محلے پر قائم ہے، کل رات لڑکے کا فون آیا کہ اتحاد تو کر لیں مگر تھانیدار صاحب ایک بار پھر نام تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ خاندان کے لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے کہ اب لڑکا پکی عمر میں ہے اس وقت نام تبدیل کیا تو شناخت کھو جانے کا خدشہ ہے۔ لڑکے نے اگر نام تبدیل کر لیا تو خاندان میں اس کی حمایت کم ہو جانے کا خدشہ نہ بدلہ تو تھانیدار کے ناراض ہو جانے کا خدشہ۔۔ فی الحال تو لڑکا اپنی جگہ ڈٹ گیا ہے کہ نام اور شناخت نہیں بدلے گا اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredالطاف حسینایم کیو ایمفاروق ستارکراچیکراچی کی سیاستمصطفیٰ کمال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت ۔ خالد بلغاری
next post
فیس بکی دانشور کا طعنہ: اسرار احمد بخاری

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.