تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹتازہ ترینفلمکالمکلچر، آرٹ

ہالی ووڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی تنازعہ : خرم سہیل

by خرم سہیل 26/10/2017
written by خرم سہیل 26/10/2017
477

مغربی شوبز اور صحافت کی دنیا میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے، جس کا تعلق ایک جنسی اسکینڈل سے ہے۔ ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ پر خواتین اداکارائوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کی عصمت دری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ رواں مہینے، 5 اکتوبرکو، نیویارک ٹائمز کی دو خواتین صحافیوں’’جوڈی کینٹور‘‘ اور ’’میگن ٹوہے‘‘ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ شایع ہونے کے بعد کہرام مچ گیا، انہوں نے ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ کی جانب سے مختلف خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی نشاندہی کی، اس سلسلے میں متاثرہ خواتین سے رابطہ کیا، ان کے تاثرات رقم کیے اور خط وکتابت سے بھی استفادہ کیا۔

امریکی شوبز کی تاریخ میں، سب سے بڑے اس جنسی تنازعہ کے متعلق اب تک 50 سے زائد خواتین ان الزامات کی تصدیق کر چکی ہیں، جن میں بہت ساری خواتین نامور اداکارائیں، گلوکارائیں، ماڈلز اور فیشن ڈیزائنرز بھی ہیں۔ الزامات کی بوچھاڑ اور مزید نئی خواتین کا منظر عام آنے کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ اب تک جن خواتین نے ان پر الزامات لگائے، ان میں انجلینا جولی، ایشلے جڈ، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کینڈل، ایمادی کانس، مراسینو، لورین سوین، ٹومی این رابرٹس، ہیدر گراہم، اسیا ارگینٹو، گوینتھ پالٹرو سمیت متعدد اداکارائیں شامل ہیں۔

https://www.theguardian.com/film/2017/oct/11/the-allegations-against-harvey-weinstein-what-we-know-so-far

ہالی ووڈ میں’’ہاروی وائنسٹن‘‘ گزشتہ تین دہائیوں سے، ایک فلم ساز اور شریک ہدایت کار کے طور پر متحرک ہے۔ اس نے 1981 میں، فلم ساز کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کی ابتدا کی۔ بطور فلم ساز اس کی پہلی فلم ’’دی برننگ‘‘ تھی، جبکہ رواں برس ریلیز ہونے والی فلم ’’وائنڈ رور‘‘ اس کی اب تک کی آخری فلم تھی۔ آئندہ برس بھی اس کی دو فلمیں نمائش کے لیے تیار ہیں، مگر اب ان فلموں کے بارے میں کچھ بھی کہنا غیر یقینی ہے، کیونکہ یہ جس فلم ساز ادارے ’’میرامکس فلمز‘‘ سے منسلک تھا، وہ اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا اور خود اس کا شریک بانی بھی تھا، اس ادارے نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اس کے نام پر بنے، دوسرے ادارے’’دی وائنسٹن‘‘ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی اسے برطرف کر دیا ہے۔ یہ بطور بہترین فلم ساز آسکر ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ دنیا کے کئی بہترین ایوارڈز بھی اپنے نام کرچکا ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق آسکر اور بافٹا ایوارڈز کی تنظیموں نے اس کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں اس کے خلاف قانونی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے، اس تنازعے کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

اس 65 سالہ امریکی فلم ساز کے کریڈٹ پر 160 سے زائد فلمیں شامل ہیں، جن میں کئی ایک فلموں کا یہ شریک ہدایت کار بھی رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا، ان تین دہائیوں میں ہالی ووڈ کی تقریباً تمام مقبول اداکارائیں، اس کے فلمی منصوبوں کا حصہ رہیں اور اس کی وجہ سے انہیں شہرت بھی ملی۔ یہی وہ شخص ہے، جو معروف امریکی سیاستدان جان کیری، سابق امریکی صدر بارک اوبامہ، سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے انتخابات کے لیے عطیات دینے میں پیش پیش تھا۔ ہرچند کہ یہ شخص ان دنوں ہالی ووڈ اور مغربی فلمی صنعت میں ہر خاتون کی لعنت ملامت کا شکار ہے، مگر کون سی ایسی خاتون فنکارہ نہ ہوگی، جس نے اس کے گلے میں بانہیں نہ ڈالی ہوں، قہقہے نہ لگائے ہوں، ایوارڈ حاصل کرتے وقت شکریے کے پھول نچھاور نہ کیے ہوں، جام و سرور کی محفلیں نہ سجائی ہوں، خوشی خوشی اس کی فلموں میں عریاں مناظر عکس بند نہ کروائے ہوں، آج یہ شخص ہر اداکارہ کے لیے بدی کا استعارہ بن گیا ہے، مگر نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ شایع ہونے سے قبل، یہ شخص ان خواتین میں سے اکثریت کا محبوب اور دوست تھا۔ ماضی کے دریچوں سے جھانکتی ہوئی تصویریں بہت کچھ کہہ رہیں ہیں ۔

اس تنازعہ کے بعد، مغربی دنیا کا سوفٹ امیج بھی متاثرہوا ہے، یعنی تین دہائیوں سے وہاں خواتین کی عزت تار تار ہو رہی ہے، نہ میڈیا کو خیال آیا اور نہ ہی ان خواتین کو، جو اس طرح کے کسی شخص سے بالواسطہ یا بالواسطہ متاثر تھیں، عینی شاہد تھیں یا اس منفی پہلو کے بارے میں جانتی تھیں۔ اس سے بھی بڑھ کر اب ایک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ مغربی معاشرہ، جہاں جنسی تعلقات استوار کرنے کی کھلی چھوٹ ہے، کیاوہاں خواتین کا اس طرح جنسی تعلق سے نفرت کا اظہار اس معاشرے کے دکھائی نہ دینے والے مثبت پہلوئوں کو بھی بیان کر رہا ہے یا پھر یہ لڑائی انتخاب، پسند اور مرضی کی ہے، کیونکہ الزامات لگانے والی عورتوں اور ان اداکارائوں کے ماضی میں جھانکیں تو اکثریت کی زندگی میں، خواب گاہ سے ہوکر گزرنے والے مردوں کی تعداد کافی ہے۔

امریکا ہو یا چاہے یورپ، ہندوستان ہو یا پھر پاکستان، کون نہیں جانتا، فلمی صنعت میںکامیابیاں سمیٹنے کے لیے جنس کا تعلق کتنا اہم رہا ہے، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ جنسی طور پر خواتین کو ہراساں کرنے والا کوئی پہلا شخص ہے ۔ نہ ہی یہ وہ خواتین ہیں، جن کو کسی مرد نے چھویا تک نہ ہوگا۔ ’’می ٹو ہیش ٹیگ‘‘ کرنے والیوں نے کبھی سوچا اگر ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ نے’’یو ٹو بروٹس ہیش ٹیگ‘‘ کرکے مزید نام لکھنے شروع کیے، تو اور کتنے چہروں سے نقاب اترے گا۔ یہ شخص یقینی طورپر قابل سزا ہے مگر کیا صرف یہی مجرم ہے ؟ خواتین کی طرف سے مردوں کواپنے مفادات کے لیے، جنس کو بطور آلہ استعمال کیے جانے کے رویے پر کوئی بات کرنا چاہے گا؟ ایسے بہت سارے سوالات نے بھی اس تنازعہ سے جنم لیا ہے۔ جہاں ایک طرف مغرب میں ہوس پرستی کی بدنما تصویر سامنے آئی ہے، وہیں مغربی معاشرے کے منافقانہ چہرے کے خدوخال بھی مزید واضح ہوئے ہیں۔ فاکس نیوز کے مطابق، ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ’’لنڈسے لوہان‘‘ نے کہا’’ان کے ساتھ سابق منگیترنے بدسلوکی کا مظاہرہ کیا، جس پر میں نے احتجاج کیا، تو اس وقت کسی امریکی خاتون نے میری آواز میں اپنی آواز نہ ملائی۔ ‘‘

http://www.foxnews.com/entertainment/2017/10/19/lindsay-lohan-says-most-women-in-america-didnt-care-about-her-abuse-claims.html

ہالی ووڈ کی تاریخ ایسے تنازعات سے بھری پڑی ہے۔ 1921 میں پہلا جنسی اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، جب ایک کامیڈین’’روسیو آربکل‘‘ نے ساتھی اداکارہ ’’اسٹارلٹ ورجینیا‘‘ کی عصمت دری کی تھی۔ ہالی ووڈ کی معروف فلم ’’قلوپطرہ‘‘ میں اس مرکزی کردار کو نبھانے سے انکار کرنے والی اداکارہ ’’جون کالنز‘‘ کا موقف یہ ہے کہ ’’مجھے اس کردار کو کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کردار کی پیشکش میں اسٹوڈیو کے مالک کے ساتھ ہم بستری کی شرط تھی۔‘‘ یہ کردار پھر معروف اداکارہ ’’الزبتھ ٹیلر‘‘ نے ادا کیا تھا۔ ماضی کی بے باک اداکارہ ’’مارلن منرو‘‘ نے بھی اپنی یادداشتوں میں جنسی تعلقات کا اعتراف کیا، مگر اس نے منافقانہ روش اپنانے کی بجائے کھل کر اس معاملے پر بات کی۔ ہالی ووڈ میں اس مسئلے پر متعدد فلمیں بھی بن چکی ہیں، حتیٰ کہ بالی ووڈ میں بھی اس موضوع پر کئی فلمیں بنا چکا ہے، جن میں’’پیج تھری‘‘ اور ’’فیشن‘‘ جیسی فلمیں اس معاملے کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔

http://www.imdb.com/list/ls063231875/

’’ہاروی وائنسٹن‘‘ کی دو مشہور زمانہ فلمیں’’شیکسپیئراِ ن لوّ‘‘ اور ’’ملینا‘‘ کس کو یاد نہیں ہوں گی، ان فلموں سے’’گوینتھ پالٹرو‘‘ اور’’مونیکا بیلوسی‘‘ جیسی اداکارائوں کو فلمی دنیا میں شناخت ملی۔ لارڈ آف رنگز اور ڈریکولا جیسی فلموں کی سیریز میں بھی اس فلم ساز کا حصہ ہے۔ ’’لیونارڈو ڈی کیپریو‘‘ جیسے اداکارکی ایک شاندار فلم ’’ایووتار‘‘ کے فلم سازوں میں سے بھی یہ ایک ہے۔ ’’نیلسن منڈیلا پر بننے والی فلم ہو یا ’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ کی یاد رکھی جانے والی فلم ’’دی ریڈر‘‘ ہو، ان سب فلموں کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر کے طورپر بھی اس کا نام نمایاں ہے۔ ٹالسٹائی کے مشہور زمانہ ناول ’’وار اینڈ پیس‘‘ پر بننے والی فلم کا پروڈیوسر بھی یہی شخص ہے۔

http://www.imdb.com/name/nm0005544/

لنک: 4
اب یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہو رہا، ہرگزرتے دن کے ساتھ جہاں ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ کی مخالفت میں خواتین سامنے آرہی ہیں، وہیں دیگر تنازعات بھی جنم لے رہے ہیں ۔ لاس اینجلس کی رپورٹ کے مطابق ایک اور بڑا جنسی اسکینڈل، 72 سالہ امریکی ہدایت کار اور اسکرین رائٹر’’جیمز ٹوبیک‘‘ کا سامنے آیا ہے، اس پر بھی جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات لگ رہے ہیں اور اب تک تقریباً 40 خواتین اس تناظر میں بھی منظرعام پر آچکی ہیں۔ حال ہی میں ایک اداکارہ ’’ہیتھر لنڈ‘‘ نے سابق امریکی صدر سینئر جارج بش پر بھی جنسی حملے کا الزام لگایا ہے، اس کے مطابق، جب وہ اپنی ایک فلم کی تشہیر کے لیے ان سے ملنے گئی، تووہاں گروپ فوٹو بنواتے وقت، انہوں نے نازیبا عمل کیا، ثبوت کے طور پر اس نے وہ گروپ فوٹو دکھائی ہے، جس میں اس حرکت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

http://www.dailymail.co.uk/news/article-5014447/Actress-alleges-George-H-W-Bush-sexually-assaulted-her.html?ito=social-facebook

پوری دنیا میں بشمول پاکستان اس وقت سوشل میڈیا پر’’می ٹوہیش ٹیگ‘‘ نامی مہم زوروں پر ہے، جس میں خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے پردہ اٹھا رہی ہیں، جو کہ خوش آئند بات ہے، اس طرح منفی رویوں اور بالخصوص خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ایسے منفی واقعات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ پاکستان میں عام خواتین تو اس بارے میں بات کر رہی ہیں، مگر ہمارے شوبز کے حلقوں میں، جہاں مغرب کی ہربات کی تقلید کی جاتی ہے، اس تنازعے پر سناٹا طاری ہے۔ ۔ ۔
نوٹ: اس تحریر کے لیے متعدد انگریزی اخبارات اور ویب سائٹس سے استفادہ کیا گیا۔

Facebook Comments Box
featuredHollywoodSex Scandalسیکسسیکس اسکینڈلہالی وڈ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
ہم سب بھی ان کے کوے ، گھوڑے اور چوہے ہیں۔ محمد خان قلندر
next post
عیسائی صیہونیت: منیر احمد خلیلی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.