تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عدالتی فیصلے پر واشنگٹن پوسٹ کا اداریہ

by مجاہد حسین 01/08/2017
written by مجاہد حسین 01/08/2017
111

دانش کے قارئین کے لئے معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے تازہ اداریہ کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔


پاکستانیوں کے لئے پھر سے ایک افسوسناک روایت کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ اس قوم کی ستر سالہ تاریخ میں ایک بھی وزیراعظم نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کی۔ انہیں یا تو فوجی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار سے باہر کیا گیا یا پھر ججز انہیں نکال باہر کرتے رہے۔ آخری مثال جمعہ کے دن سامنے آئی جب پاکستانی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو اس بنیاد پر نااہل قرار دے کر رخصت کیا کہ انہوں نے اپنے خاندان کی دولت اور مالی معاملات کے بارے میں پوری قوم سے جھوٹ بولا تھا۔

یہ بے دخلی بظاہر ریاستی ناکامی اور انتشار کے ساتھ پاکستان کے غیرمختتم معاشقے کا ایک اور باب ہے۔ تاہم عدالتی عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ بدعنوانی اور من مانی کے سمندر سے اس نے احتساب کے چند جرعے ضرور نکالے ہیں۔

مسٹر شریف، جو کہ فوجی بغاوت کے ذریعے بے دخل ہونے سے پہلے 1990 کی دہائی میں وزیراعظم رہ چکے ہیں، 2013 کے انتخابات میں بہت بڑے مارجن سے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ وہ پاکستان کے معاشی مسائل کو حل کریں لیکن ان کے زوال کا آغاز اپریل 2016 میں پانامہ پیپرز کی اشاعت کے ساتھ ہو گیا جب تحقیقی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم نے 11.5 ملین منکشف فائلوں کو شائع کیا تھا۔ ان پیپرز میں پانامہ کی ایک لا فرم، موزیک فونسیکا، کا چار دہائیوں پر مشتمل مواد شامل تھا اور اس نے پوری دنیا کے بہت سے سیاسی رہنماؤں کے آف شور لین دین کو آشکار کیا۔

ان کاغذات سے انکشاف ہوا کہ مسڑ شریف کے تین بچے یا تو برٹش ورجن آئی لینڈ  کی آف شور کمپنیوں کے مالک تھے یا اپنے دستخط سے کسی کو بھی مختار بنا سکتے تھے۔ اس کی وجہ سے خاندان کی حقیقی دولت کے بارے میں سوالات کھڑے ہوئے۔ مسٹر شریف نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو یہ تو بتایا کہ وہ آف شور کمپنی کے ذریعے خود کسی شیل کمپنی یا جائیداد کے مالک نہیں ہیں لیکن اپنے بچوں کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ پانامہ پیپرز کی وجہ سے احتجاج کا آغاز ہوا اور ان سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس احتجاج اور مطالبے میں اپوزیشن لیڈر عمران خان بھی شامل تھے جو سابقہ کرکٹر سٹار ہیں۔

عدالت نے آگے چل کر تحقیقات کے لئے پانچ رکنی پینل تشکیل دیا جس کی رپورٹ نے شریف خاندان کو غلط بیانی، جعل سازی اور اپنے اثاثے چھپانے کا ملزم قرار دیا۔ دوسری باتوں کے علاوہ، انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مسٹر شریف کی بیٹی مریم نواز نے ملکیت کی ایسی دستاویزات پیش کیں جن پر 2006 کی تاریخ درج تھی لیکن وہ ایسے فونٹ میں لکھی گئیں جو 2007 سے پہلے تجارتی بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا۔ عدالت نے متفقہ طور پر انہیں کرسی اقتدار سے ہٹا دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سیاسی عدم یقینی کے دور سے گزر رہا ہے۔ اگلے انتخابات 2018 میں ہونے ہیں۔ اس دوران مسٹر شریف کی جماعت کو پارلیمنٹ میں مضبوط اکثریت حاصل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنا کوئی وفادار ساتھی اسی ہفتے عبوری وزیراعظم بنا دیں گے جبکہ لمبی مدت کے لئے ان کے بھائی شہباز شریف یہ عہدہ سنبھالیں گے۔ اس کا کوئی بھی سیاسی نتیجہ نکلے، پاکستان چین سے اپنے قریبی تعلقات کی خواہش سےدستبردار نہیں ہو گا جو ایک بڑا تجارتی رستہ تعمیر کرنے کی کوشش میں انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس  پر 50 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اور خفیہ ایجنسیاں بھی ایک ایسے ملک کی طاقتور قوتیں رہیں گی جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور جو ایٹمی اسلحہ رکھنے والی ریاست ہے۔

پاکستان بے یقینی، سزا سے بریت، جبر اور تشدد کا اسقدر شکار رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس عزم کی تعریف کرنی پڑتی ہے  جو انہوں نے اس مقدمے کو مشکل لیکن لازمی نتیجے تک پہنچانے کے لئے دکھایا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستانی قوم کے لئے احتساب اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے امید کی کرن ہے۔

Facebook Comments Box
پانامہ فیصلہنواز شریفوزیر اعظم نااہلی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
وزیر اعظم کی نااہلی پر فکری مباحثہ: سلمان عابد
next post
سوشل میڈیا پر گروہ بند دانشوری: محمود فیاض

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.