تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

ہائے شادی ہائے شادی: معلمہ ریاضی

by Daanish Editor 14/07/2017
written by Daanish Editor 14/07/2017
90

پچھلے دنوں کنوارے نوجوانوں اور انکے والدین کو مخاطب کر کے شادی جلد کرنے کی تحریک دینے کے لئے ایک تحریر لکھی تھی ۔ اس پر جو تبصرے آئے اس میں دو مجبوریاں عروج پہ تھیں.  نمبر ایک اپنی شادی کی بات خود کیسے کریں، شرم آتی ہے.  نمبر  دو امی ابو  کہتے ہیں ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟
ـ
نمبر ایک والوں کو تو دل چاہتا ہے مرغا بنا کر جوتا ماریں. اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں زیادہ سے زیادہ لڑکیوں سے دوستی کریں گے تب  کوئی شرم نہیں. گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر بیہودہ فلمیں دیکھیں گے کچھ شرم نہیں آنی. جب خوب نمک مرچ لگا کر اپنے جعلی و اصلی معاشقے بہنوں کو سنائیں گے تب بھی شرم کا نام و نشان نہیں ہوگا. چاند رات کو خاص طور پہ شاپنگ مال جائیں گے، آنکھوں کی گرم سینکائی کے لئے تو بھی کونسی شرم ؟ نہیں معلوم.

گلی کے نکڑ پہ بیٹھ کر آتی جاتی لڑکیوں کا جینا حرام کریں گے تو شرم تیل لینے چلی جائے گی. اسٹاپ پہ کھڑی اکیلی لڑکی کو ڈراپ کرنے کی آفر کریں گے زرا بھی  شرم قریب نہیں آئے گی.  آفس میں ساتھی کولیگز سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہے گے اور ذو معنی جملوں کا تبادلہ کریں گے وہ بغیر کسی شرم کے.

لیکن جیسے ہی سنت پہ عمل کرنے کے لئے، شادی کا تقاضہ کرنے کی بات آئے گی تو شرم و حیا کا جن چھلانگ مار کر ہو ہا ہو ہا کرتا باہر آجائے گا۔  انگلیاں مروڑی جائیں گی، ناخن چبائے جائیں گے. مگر منہ سے نہیں نکلے گا کہ ’اماں! تھوڑی سی تو لفٹ کرادو، اب تو میری شادی کرادو‘.

نمبر دو والوں کا کیا کریں! سمجھ نہیں آتا یہ والدین اپنی قبر میں آگ کیوں بھرنے پہ تلے بیٹھے ہیں. زرا آس پاس نظر تو ڈالیں۔۔۔۔ آج کل مائیں، دو سال کے بچے کو ٹی وی کے سامنے کارٹون دیکھنے بٹھا دیتی ہیں کہ مصروف رہے گا اور تنگ نہیں کرے گا. تین سال کی عمر میں اسے خود سے جدا کرکے اسکول بھیج دیتی ہیں کہ کہیں عمر زیادہ ہوگئی تو اچھے اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا.

چھ سال کے بچے کو آج کل موبائل دیا جاتا ہے. یہ سوچے بغیر کہ مسلسل گیم کھیلنے سے اسکی انکھوں کی بینائی اور جسمانی نشوونما پہ کتنا برا اثر پڑے گا۔ پندرہ سال کی عمر میں بچے کی فرمائش پہ اسے بائیک دلادی جاتی ہے اور اٹھارہ انیس سال کی عمر میں بیٹا اگر پڑھائی کے ساتھ جاب کرے تو ماں بلائیں لیتے نہیں تھکتی اور بائیس تئیس سال کی عمر میں باقاعدہ جاب کر کے گھر کے خرچے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے،  تب بھی کسی ایک لمحے میں بھی والدین خاص کر ماؤں کو خیال نہیں آتا کہ ’بچے کی ابھی عمر ہی کیا ہے؟
‘
لیکن جیسے ہی بیچارہ شادی کے لئے منہ کھولتا ہے، ماؤں کو کھٹ سے یاد آجاتا ہے کہ ؟’ ہائے اللہ! میرا ببلو تو ننھا کاکا ہے۔ ابھی ہفتے بھر پہلے تو پیدا ہوا ہے۔  پانچ دن پہلے تو پنگوڑے سے اٹھا ہے۔  تین دن پہلے تو اسکے دودھ کے دانت ٹوٹے ہیں۔ ابھی سے کہاں اس کے نازک کندھوں پہ بوجھ ڈال دوں.  ابھی تو میرے بچے کو شلوار میں ناڑا ڈالنا بھی نہیں آیا۔  بیٹا بیچارہ کلس کے رہ جاتا ہے کہ ’اماں! میں شلوار میں الاسٹک ڈال لوں گا، شادی تو کرائیں۔۔۔۔’
ـ
ایک بیٹے نے ماں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ماں نے بڑے پیار سے چمکار کے کہا، ’ بیٹے!   اتنی جلدی بھی کیا ہے؟  ابھی تو تیرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں میرے لعل! عیش کر ابھی‘ بیٹے صاحب  بھی پکے تھے ، ترنت بولے ، ’ٹھیک ہے اماں! میں کل سے جاب چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا ہوں.‘
اماں جی بلبلا اٹھیں، ’ارے اتنی مشکل سے تو اتنی اچھی تنخواہ والی جاب لگی ہے‘ کیوں چھوڑے گا جاب تو؟ صاحبزادے نے گنگنا کر جواب دیا، ’ارے کھیلوں گا، کودوں گا، عیش کروں گا۔۔۔ اور کیا؟ اماں کی بلبلاہٹ چیخ میں ڈھل گئی، ’پاگل تو نہیں ہوگیا ہے! اتنی مہنگائی ہے، ایک تیرے ابا کیا کیا کریں؟ ‘اماں! یہی تو کہہ رہا ہوں، ابا ماشاءاللہ پانچ آئیٹم مارکیٹ میں لے آئے، اب بیٹے کو بھی تو موقع دیں‘ بیٹے نے جواب دیا اور۔۔۔۔۔

آگے کیا ہوا۔۔۔۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں. اہمیت اس مسئلے کی ہے جسکا سامنا یہ نوجوان کر رہے ہیں کہ ’مرد‘ ہوتے ہوئے بھی اپنے گھر والوں کے سامنے اپنے شرعی حق کے لئے ڈٹ نہیں سکتے۔

وجہ ؟ والدین کا احترام؟ بڑی بہنوں کی شادی؟ خاندان والوں کی باتیں؟ نہیں جناب! معلمہ کی نظر میں یہ سب لولے لنگڑے بہانے ہیں. ہماری نظر میں صرف دووجوہات ہیں. ۔
ایک تو یہ کہ نوجوانوں کی قوتِ فیصلہ کی کمی اور خود پہ بھروسہ نہ ہونا. (جن نوجوانوں میں یہ دو باتیں ہوتی ہیں وہ بصد احترام اپنی بات منوا بھی لیتے ہیں اور نبھا بھی لیتے ہیں.  جن میں نہیں ہوتی وہ بس سوشل میڈیا پہ بیانیہ لگا لگا کر روتے ہیں، ’ہائے شادی ہائے شادی‘

Facebook Comments Box
پسند کی شادیجلد شادیدلہا دلہنشادی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
 مارشل لاء کیسے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ محمودفیاض
next post
بولو کہ صبح حشر کی تمہید کچھ تو ہو: ظفراللہ خان

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.