تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

چھبا مستری اور بارش کا پانی : محمود فیاض

by محمود فیاض 02/07/2017
written by محمود فیاض 02/07/2017
119

دوستو! کچھ سال پہلے میرا گھر گلی کے لیول سے نیچا ہو گیا، اور بارش کا پانی میرے گھر آنا شروع ہو گیا۔ دوستوں کے مشورے سے میں نے چھبے مستری کو بلایا، اور اسکا بندوبست کرنے کا کہا۔ چھبا مستری بڑا کاما بندہ ہے، ہر وقت پورے محلے میں کوئی نہ کوئی کام کرتا رہتا ہے، لوگ اسکی بڑی تعریف کرتے ہیں، اسلئے میں نے بھی اسکی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔

خیر چھبا مستری آیا، پانی سے بھرا میرا صحن دیکھ کر اسکی آواز دکھ سے بھر گئی ۔ بھائی جی، آپ کا کام ہو جائے گا، بڑا افسوس ہو رہا ہے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر۔ اسنے کچھ خرچہ بتایا، میں نے کچھ پیسے دیئے اور وہ چلا گیا۔

اگلے سال پھر بارشیں آ گئیں، میرا صحن پانی سے پھر بھر گیا ۔ بچے کاغز کی کشتیاں کھیلنے لگے تو چھبا مستری میرے دروازے پر نمودار ہوا۔ میری بیوی کو بالٹی سے پانی نکالتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا۔ بھابی کیا کر رہی ہیں۔ اپنے بھائی کے ہوتے آپ یہ کریں گی ۔ اسنے بالٹی میری بیوی کے ہاتھ سے لے کر پانی نکالنا شروع کر دیا۔ ایسا اپنائیت والا بندہ ہے وہ، میرا بھی دل بھر آیا۔ اسنے کچھ خرچہ مانگا اور لے کر چلا گیا۔ جاتے جاتے بولا بس کچھ مٹی کی ٹرالیاں، اینٹیں، اور آپ کا مسئلہ حل ۔ بھائی جی فکر نہ کرنا ۔ میرا دل شاد ہو گیا۔

تیسرے سال بارش کیا ہوئی، پہلے میرا صحن لبا لب ہوا، پھر پانی اندر کمروں میں آنے لگا۔ بچوں کو کشتیاں کھیلنے کی بجائے میں نے پانی نکالنے کا کہا اور برستی بارش میں چھبے مستری کو ڈھونڈنے نکلا ۔ مجھے وہ گلی میں ہی مل گیا۔ بھائی جی میں آپ کی طرف ہی آ رہا تھا۔ پانی تو بہت آیا ہو گا آپکی طرف ۔ میرے بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے بولا، بھائی جی ! میں تو آپ کی ہمت کو سلام کرتا ہوں، اتنی بارش، اتنا پانی، آپ پھر بھی گزار ہی لیتے ہو یہ سب ۔ بس یہ بارشیں رک جائیں انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ مٹی، اینٹیں …. میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکو مزید کچھ رقم دی تو وہ اور آبدیدہ ہو گیا، بھائی جی آپ خیال رکھتے ہیں تو میں بھی غافل نہیں ہوں، یہ لیں بھابی اور بچوں کے لیے میں کھانا لے کر آ رہا تھا ۔ آپ کو اس حالت میں چولہا جلانا مشکل ہو گا۔ کھانا ہاتھ میں لے کر واپسی پر میں سوچ رہا تھا، کتنا بیبا بندہ ہے یہ چھبا مستری، لوگ ٹھیک ہی اسکی تعریف کرتے ہیں۔

چوتھے سال پہلی بارش میں سامنے والا کمرہ بنیادوں میں پانی جانے کی وجہ سے دھڑام سے گر گیا۔ اللہ کا شکر بیوی بچے محفوظ رہے۔ محلے کے لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ سب نے اپنی اپنی سی مدد کی ۔ مگر چھبا مستری سب سے آگے نکل گیا ۔ تین دن تک کھانا لاتا رہا۔ ہر آنے جانے والے کو بھی چائے پانی پلاتا رہا ۔ بار بار میرا کندھا دباتا، بھائی جی فکر نہ کرنا، میں ہوں ناں ۔ سچی بات ہے ان تین دنوں میں مجھے یوں لگا کہ وہ ہمارے خاندان کا ہی ایک فرد ہے۔ جاتے جاتے میں نے اسے تاکید سے رقم دی کیونکہ وہ بار بار حساب بتا رہا تھا، کہ اینٹیں، مٹی، ریت …

پانچویں سال برسات سے پہلے میرا چھوٹا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امریکا سے سیدھا میرے گھر آ ٹھہرا۔ سالوں سے امریکا رہنے سے سب کے سب مغربی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ پاکستان کی ہر بات میں ان کو خرابی ہی نظر آتی تھی۔ اب رشتہ چھوٹے بھائی کا تھا، مروت کچھ کہنے نہ دیتی تھی۔
خیروہی ہوا، بارش کے ساتھ پانی صحن اور کمروں میں آنے لگا۔ میں نے بیوی نے بالٹیاں سنبھالی ہی تھیں کہ باہر چھبے مستری کی آواز آئی ۔ بھائی جی، خیر سے گھر ہی ہیں ناں ؟ یہ کھانا لے لیں، تھوڑا زیادہ لایا ہوں، آپ کے مہمان بھی تو آئے ہوئے ہیں ناں ۔ اور پانی کی فکر نہ کرنا، اللہ سب خیر کرے گا۔ چھبا مستری جی دار بندہ تھا ۔ کھانے کے ساتھ میٹھا حلوہ بھی لایا تھا۔ اور چائے کا تھرماس بھی ۔ کھانا دے کر چھبا جاتے ہوئے بولا، بھائی جی کل آتا ہوں، وہ مٹی کی ٹرالیوں کا خرچہ وغیرہ لینے، ابھی اچھا نہیں لگتا مہمان بھی بیٹھے ہیں۔ عجیب خیال رکھنے والا بندہ تھا ۔

دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو چھوٹے بھائی کو گھورتے پایا ۔ یہ وہی مستری ہے، جس کو آپ پچھلے کئی سال سے پانی روکنے کے لیے پیسے دیتے آ رہے ہیں ؟ اور اس نے آج تک آپ کے صحن کے پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا ؟، چھوٹے بھائی کو بچوں نے شائد بتا دیا تھا ۔

ہاں، بہت اچھا بندہ ہے یہ چھبا مستری، ہر اوکھے سوکھے ویلے ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، میں نے کہا تو چھوٹا بھائی سر پیٹتے ہوئے بولا، بھائی جی، کس دنیا میں جی رہے ہیں آپ ؟ وہ ہر سال آپ سے ہزاروں روپے مرمت کے نام پہ لے جاتا ہے ۔ سال پورا کچھ نہیں کرتا، اور پھر بارش پہ کچھ روپوں کا کھانا آپکو دے کر پھر ہزاروں کا حساب آپکے کھاتے میں بنا لیتا ہے۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ اچھا بندہ ہے۔ وہی تو اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔

بس چھوٹے بس، اپنی امریکی عقل اپنے پاس ہی رکھو۔ مجھے مت سکھاؤ کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے ؟ تم چھوٹے ہو چھوٹے ہی رہو ۔ ہر بات پر پیسہ پیسہ، کیا پیسہ ہی ہر چیز ہوتا ہے ؟ مروت لحاظ کچھ نہیں ؟ وہ شریف آدمی ہر بارش میں ہمارے گھر کے صحن میں کھڑا ہوتا ہے۔ کیا یہ کم ہے ؟ کھانا لاتا ہے اور بچوں کے ساتھ تصویریں بنواتا ہے۔ کون ہے امریکا میں جو یہ کرتا ہے؟

بھائی جی! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو ایسے ہی آپ کو کہہ دیا، آپ کا گھر ہے، جیسے چاہے کریں ۔ چھوٹا اب آہستہ سے بولا ۔ پچھلے سال امریکا میں ہمارے گھر کی چھت ٹپکنے لگی ۔ بلدیہ کے دفتر میں فون کر کے بولا تو اگلے دن دو بندے آ کر چھت ٹھیک کر گئے ۔ پھر چھت کا مسئلہ کبھی نہیں ہوا ۔ خیر چھوڑیں ان باتوں کو بھائی صاب، آپ اس بندے کو چھبا کیوں کہتے ہیں، اسکا نام کیا ہے؟ چھوٹے نے پوچھا ۔ ارے چھبا تو اسکا نام محلے والوں نے پیار سے رکھا ہوا ہے ۔ اسکا صحیح نام تو ہے .. شہباز … شریف آدمی ہے بیچارہ … میں یہ کہہ کر بیوی کے ہاتھ سے بالٹی پکڑ کر صحن سے پانی نکا لنے لگا ۔

نوٹ: دوستوں کہانی تو سالوں پرانی ہے مگر سیلاب آنے والے ہیں، چھبا پھر آپکے درمیان بریانی کی دیگیں، لمبے بوٹ پہنے، فوٹو شوٹ کرنے آ رہا ہے۔ تیار رہیے۔

Facebook Comments Box
بارشبرسات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
ہم کس گلی جا رہے ہیں: سحرش عثمان
next post
اضداد کی ہم آغوشی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.