تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

کرکٹ میچ اور دعا کا کردار: مجاہد حسین

by مجاہد حسین 19/06/2017
written by مجاہد حسین 19/06/2017
103

دعا کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے میچ سے پہلے ہی بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں, آج سے دو سال پہلے مجھے چند ماہ اسلام آباد رہنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شام فٹ پاتھ پر واک کرتے ہوئے ایک رینگنے والے کیڑے کو دیکھا جو آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے رستے میں کچھ اینٹیں پڑی تھیں جن کے پیچھے ایک چھپکلی بیٹھی کیڑے مکوڑوں کو اپنی غذا بنا رہی تھی۔ اب وہ حقیر سا کیڑا یہ جانے بغیر اپنے سفر پر گامزن تھا کہ آگے موت اس کا انتظار کر رہی ہے۔ مجھے خیال آیا کہ یہ مخلوق اپنے مستقبل سے لاعلم ہے جبکہ میں اس کے آنے والے وقت کے تمام امکانات دیکھ سکتا ہوں۔ اس خیال نے سوچوں کے ایک طویل سلسلے کو جنم دیا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ اللہ کی ایک مخلوق اس کی دوسری مخلوق کے فوری مستقبل سے آگاہ تھی۔
اب تصور کریں کہ جس خدا نے یہ پوری کائنات تخلیق کی ہے اس کا علم اوراس کے اختیارات کسقدر لامحدود ہوں گے۔ دعا کا معاملہ بھی درحقیقت اس کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ آپ کسی بھی پہلو سے اس پر غور کریں، بات اس کے اختیارات پر جا پہنچے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جو طبقہ خدا کو نہیں مانتا، وہ دعا کی اس بحث سے خودبخود خارج ہو جاتا ہے۔ اگر ایک شخص یہ تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اس کائنات کو تخلیق کرنے اور اسے چلانے والی کوئی ہستی موجود ہے تو پھراس کے لئے دعا ایک غیرمنطقی سا تہذیبی مظہر رہ جاتا ہے۔ چنانچہ اس پوسٹ کے مخاطب وہ دوست ہیں جو خدا کو اس کے تمام اختیارات سمیت مانتے ہیں۔ البتہ دعا کے معاملے پر شاید ابہام کا شکار ہیں۔
بنیادی بحث اس نکتے پر تھی کہ جیتنے کے لئے محنت ضروری ہے یا دعا۔ بظاہر اس سوال کا مرکز انسان کو بنایا گیا ہے تاہم غور کرنے پر اس کا حقیقی تعلق خدا کے اختیارات سے ہے۔ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک گروہ کی محنت اس لئے رد کر دے کہ دوسرے گروہ کے کسی فرد کی دعا اسے پسند آ گئی تھی؟ بطور مسلمان اگر ہم اس کا یہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو اللہ پر ایمان لانا یا نہ لانا برابر ہو جاتا ہے۔ اگر اس کائنات کو اس کے فطرتی اور عمرانی اصولوں سمیت تخلیق کر کے خدا اس سے یکسر لاتعلق ہو جاتا ہے تو پھرانسانی زندگی میں مذہب کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اس سے جڑا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ اللہ کا قانون یہی ہے کہ محنت کرنے والوں کو کامیابی ملتی ہے تاہم وہ اپنے قوانین کا پابند نہیں ہے۔ وہ جب چاہے تمام قوانین رد کر کے اپنی مرضی کا فیصلہ صادر کر دے۔ یہ بات بھی ایک مسلمان کے لئے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اسے مانے بغیر مذہب رسومات کا بے معنی انبار رہ جاتا ہے۔
ایک اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر کل کا میچ پاکستان دعاؤں کی وجہ سے جیتا ہے تو پچھلے میچ میں یہ گریہ و زاری کس لئے کام نہ کر سکی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ ہماری دعائیں قبول کرنے کا پابند نہیں ہے۔ ہم ہر وقت دعائیں مانگتے رہتے ہیں لیکن یہ اختیار تو خدا کے پاس ہے کہ کس دعا کو قبول کرتا ہے اور کسے رد کرتا ہے۔ اگر خالق دعائیں قبول کرنے کا پابند ہو جائے تو پھر دعائیں احکامات کا درجہ اختیار کر لیں گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو حکم دینے لگے۔
آپ دعا اور محنت کے معاملے پر جسقدر بھی غور کریں بات خدا کے اختیارات پر جا ٹھہرے گی۔ یا آپ خدا کو اس کے لامحدود اختیارات سمیت مان لیں یا پھر اسے سرے سے تسلیم ہی نہ کریں۔ ایک ایسے بے اختیار خدا کو ماننا جو اس کائنات کو بنا تو بیٹھا ہے لیکن اب اس پر اختیار نہیں رکھتا، کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
خالق کائنات کے اختیارات کی اس بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کی ہی دعائیں قبول کرتا ہے تو یہ بھی اس کے اختیارات پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ اگر اسے کسی ہندو، کسی یہودی، کسی عیسائی کی دعا پسند آ جائے تو وہ اسے قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

Facebook Comments Box
دعاکرکٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
باپ: کڑی دھوپ کا گھنیرا سایا — زارا مظہر
next post
پاکستانی مسیحی: جج، صحافی اور شہید بھی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.