تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزدیگرنئے لکھاری

کڑی دھوپ میں گھنی چھاوُں کا تحفظ: عینی نیازی

by Daanish Editor 19/06/2017
written by Daanish Editor 19/06/2017
90

عین الیقین 

 جس طر ح بر گد کا بیج جو خشخاش کے دانے سے چھو ٹا ہو تاہے جب وہ خود کو فنا کر تا ہے تو قدرت اس ایثار کو پسند کر تی ہے ا  ور وہ کچھ عر صے بعد ایک تنا ور درخت بن جا تا ہے اسی طر ح ایک با پ بھی زمانے کی سرد گرم، مشکلات سے گزرنے کے با وجو د طرز ایثار  سے وا بستہ رہتا ہے اپنے بچوں کے لیے سا ئبا ن تحفظ بنتا ہے ا س کی آ بیاری کے لیے دن رات ایک کر تا ہے بنا ء کسی لا لچ کسی غرض کے اسے دنیا کی ہر خو شی فر اہم کر نے میں سار ی زندگی جد وجہد کر تا ہے با پ کے لیے اس سے بڑھ کر کیا خو شی ہو گی کہ وہ اپنی اولا د کی بہتر پر ورش کر کے اسے دنیا میں کا میا ب انسان کے روپ میں دیکھے یہ فریضہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے تفویض ہو تا ہے وہ والدین کے دل میں اولاد کے لیے ایک خا ص محبت و شفقت ڈالتی ہے اسی لئے تو جب حضرت عمر فاروقؓ جیسے عدل وانصاف میں سخت حاکم جن کے سا منے کسی کو دم مارنے کی ہمت نہیں ہو تی تھی جو ایک وسیع و عریض سلطنت کے فا تح بھی تھے اپنے بچے کو پیٹھ پر سوار کر تے، اپنی سینے پر لٹا کر کھلاتے اس کا دل بہلا تے ہو ئے نظر آتے ہیں۔

حضرت لقمان ؑ سے لے کر حضرت ابر ہیم ؑ تک تما م انبیاء ؑنے اپنی اولادوں کو ایثا ر وقربانی،محبت و اطاعت بندگی کے آداب سکھا ئے حدیث نبو یﷺ ہے کہ ”والدین اپنی اولا د کو جو کچھ دیتے ہیں اس میں سب سے بہتر تحفہ اچھی تعلیم و تر بیت ہے“بچوں کی بہتر پرورش کر نا، اس کی تر بیت و کردار سازی کرناانھیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ بر آ ہو نے کی ہر وا لد پو ری سعی کر تا ہے انھیں جہاں پورے خاندان کا کفیل بنا یا وہیں اعزاز بھی عطا فر ما یا دیاکہ اولاد کے لئے کی گئی دعائیں قبو لیت کے درجے پر پہنچتی ہیں۔

حکیم بو علی سینا کا قول ہے کہ”محبت کے لحا ظ سے ہر با پ حضرت یعقوب علیہ سلا م ہے“  بلکل اس کے لئے کسی قوم،مذہب و ملت اور خطے کی کو ئی تفر یق نہیں پدری محبت کی ایک سچی کہانی19 صدی کے اوئل کی ہے جب امر یکی شہروا شنگٹن کے ایک قصبے سپو کن میں ہنری جیکسن اسما رٹ نا می شخص رہتا تھا ہنری جیکسن کے پا نچ بچے تھے اس کی بیوی چھٹے بچے کی ولا دت کے دوران انتقال کر گئی ہنری جیکسن کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی یہ سانحہ اس کے لیے قیا مت سے کم نہ تھا اس نے شادی نہ کر نے کا عزم کیا اوربیوی کے بغیر زندگی کی گا ڑی کو کھنچنے کا فیصلہ کیا جو کہ مشکل تھا وہ بچوں کی پرورش کی ذمہ داری خود نبھا نے لگا بیک وقت ان بچوں کا با پ بھی تھا اور ماں بھی۔غم روز گا ر کے ساتھ ساتھ گھر میں کھا نا پکا نے سے لے کر بچوں کے اسکول ہوم ورک تک تما م کا م کی دیکھ بھا ل خو دکر تا تھا ہم سب جا نتے ہیں کہ ہما رے ہا ں تو ایسی بہت سی مثالیں ہیں لیکن مغربی معا شرے میں ایسی مثالیں ایک عورت کے لیے مشکل کام ہے ا ور کہا ں! ایک مرد ان تما م کا موں کا بیڑہ اٹھا ئے ایک اچھنبے کی با ت سمجھی جا تی ہے لو گ اسے بے وقوف اور پا گل کا خطا ب دینے لگے لیکن مسٹر ہنری جیکسن ان سب با توں سے بے پروا اپنے کاموں میں لگے رہے ان کے بچے بھی وا لد کی اس محبت کو قدر و منزلت کی نگا ہ سے دیکھتے تھے۔ ہنری کی بڑی بیٹی سنورا اسما رٹ ڈوڈ نے مدرز ڈے کے موقع پر جب لو گو ں کو مدر ز ڈے جو ش عقیدت سے منا تے دیکھا تو اسکے ذہن میں یہ خیال جا گزین ہو ا کہ جس طرح ایک ما ں دنیا کی تما م مشکلوں، مصیبتوں  اور جھمیلوں سے بچا کر اپنے بچوں کی پرورش کر تی ہے بلکل اسی طرح ان کے والد نے بھی ان تمام بہن بھا ئیوں کی تعلیم تر بیت کی دوہری ذمہ داری نبھا ئی تھی سنورا ڈوڈ نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنے والد کی ان خدمات،محبت و شفقت کے احترا م میں ہر سال فا درز ڈے کا اہتمام کر ئے گی ۔سنورا ڈوڈ نے 1909 ء میں دنیا کا پہلا فا درز ڈے منا یا جس میں اس کے تما م بہن بھا ئیوں، عز یز و اقار ب اور قصبے کے تما م لو گو ں نے ایک ساتھ جمع ہو کر مسٹر ہنری کی خدما ت کو خراج تحسین پیش کیا اس سے اگلے سال اسپو کن کے تما م گھروں میں یہ تہوار منا یا گیا۔ ڈوڈ کے اس اقدام کو مذ ہبی جماعتو ں کی حما یت بھی حا صل ہو ئی او ر یہ جشن یو نا ئیٹیڈ میتھو ڈسٹ میں بھی ادا کی جا نے لگی ہو تے ہو تے جب یہ خبر اامریکی اخبا روں کی زینت بنی تو اس اقدام کو تما م امر یکہ میں سراہا جا نے لگا 1924ء میں حکو مت وقت نے جو ن کے تیسرے اتوار کو فا درز ڈے منا نے کا با ضا بطہ اعلا ن کر دیا اور1966ء میں صدر لندن بی جا نسن نے سر کا ری طور پر ایک چھٹی کا اعلا ن کیا۔1972ء میں اس کو قانونی حیثیت دی گئی گلا ب کے پھول کو اس دن کو کا خاص تحفہ قرار دیا گیا اس دن کی منا سبت سے ایک سال سے اسی سال کے تما م بچے اپنے والد کو گلا ب کا پھول پیش کرتے ہیں جن کے والد حیات نہیں وہ ان کی یا د میں اپنے کالر میں سفید گلا ب کا پھو ل لگا تے ہیں۔ 

 یہ تو صرف ایک خا ندان کی کہا نی تھی لیکن اللہ تعا لیٰ نے ما ں با پ کے دلو ں میں اولاد کے لیے جو بے غرض محبت رکھ دی ہے وہ کسی ملک،قصبہ  شہر کی محتاج نہیں۔ میرے خیا ل میں جھنوں نے اپنی ساری زندگی ہما رے نا م کر دی ہو ان کے لیے ایک دن ا ور خا ص کر والد کے لیے صر ف ایک دن مختص کر نا زیادتی کی با ت ہے لیکن آج کے اس مصروف زندگی میں ایک دن صرف ایک 19جون کو ہم خو د تھوڑی دیر کو اکیلے بیٹھ کریہ سوچ سکتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کو کیا وہ محبت، عزت اور مقا م دے رہے ہیں جس کے وہ حق دار ہیں ان کا اس طرح خیا ل رکھ  رہیں ہیں جس طرح انھوں نے ہمیں اپنا وقت اپنا سر ما یہ اپنی زندگی سب کچھ دیا۔ہما رے ملک میں ہنری جیکسن جیسے سینکڑوں والد ہو ں گے جن کی محبتوں، شفقتوں اور قر با نیوں کا حساب نہیں لگا یا جا سکتا لیکن کیا اولا د بھی والدین کی عنا یتوں کا جواب ان کو بڑھا پے میں اسی انداز سے دے سکی ہے افسوس تو اس با ت کا ہے کہ یہ مسئلہ وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ گھمبیر ہو تا جا رہا ہے خا ندان کے اندورونی رشتوں کو ان کے مطا بق حیثیت دینا ان سب کو ساتھ لے کر چلنا سب سے مشکل ہو تا ہے اس لیے یہ کہنا آسان نہیں کہ پہلے کی نسبت اتنی آسانی سے پے در پے رشتے کیو ں ٹو ٹتے جا رہے ہیں گھر سے شروع ہو نے والی ایک چھوٹی سی غلطی سے معاشرے میں دیگر بر ائیا ں بھی بڑ ھتی جا رہی ہیں قرا ن کر یم ہمیں ہر معاملہ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اگر آج کے دن ہم اپنی غلطیوں کو ما ن کر پشیما ن ہو کراس شجر سایہ دار کی خوشی کا ساما ن پید اکر دیں تو ڈوڈ کی طر ح اولا د کا تھو ڑا بہت حق تو ادا کر سکتے ہیں ۔۔۔

Facebook Comments Box
باپوالد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
میاں نواز شریف کی جے آئی ٹی میں حاضری
next post
انگریزی روزنامہ ڈان : کچھ حقائق — اکمل شہزاد گھمن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

30/10/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.