تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

زنجیریں توڑنا آسان نہیں – محمود فیاضؔ

by محمود فیاض 08/06/2017
written by محمود فیاض 08/06/2017
109

کبھی آپ نے کسی کے پالتو کتے کو آزاد کروانے کی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں تو کیجیے گا بھی نہیں۔

فرض کریں آپ اس نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ آپ اندھیری رات میں اسکے مالک کی نظروں سے بچ کر اس کتے تک پہنچیں گے۔ جیسے ہی اسکو آپکے قدموں کی اجنبی آہٹ آئے گی وہ غرانا شروع کر دے گا۔ آپ لاکھ پچکاریں اسکی غراہٹ بڑھتی جائیگی۔ اور وہ اپنی زنجیر سے بندھے بندھے اچھلنے لگے گا۔

بھونکتے ہوئے وہ آپ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ آپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اس کے دانتوں سے بچتے ہوئے اسکی زنجیر کے سرے تک پہنچیں اور اسکو کھول سکیں۔

مگر ایسا وہ آپ کو کرنے نہیں دے گا۔ وہ سمجھ ہی نہیں پائے گا کہ آپ اسکو آزاد کروانے آئے ہیں، بلکہ وہ آپ کو دشمن سمجھے گا۔ اور اب آپ کو دشمن بنے بنے ہی یہ سارا کام کرنا ہوگا۔

اب آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ کسی بھی طرح بھڑتے بھڑاتے اسکی زنجیر کو کھول ہی ڈالیں۔ اس دوران وہ آپ کو کاٹ بھی سکتا ہے۔ آپ شدید زخمی بھی ہو سکتےہیں اور اگر جانور زیادہ خونخوار ہے تو آپ کی جان بھی جا سکتی ہے۔

دوستو! ایسا ہی کچھ حال ذہنی زنجیروں کا بھی ہے۔ ذہنی زنجیروں میں بندھے آدمی کو رہا کروانا بھی کچھ ایسا ہی مشکل ہے۔ آپ کو زنجیر باندھنے والے کی طرف سے نہیں، زنجیر میں بندھے ہوئے غلام کی وفاداری سے لڑنا ہوتا ہے، اور اس میں آپکی جان تک جا سکتی ہے

پہلی بات تو یہ کہ ذہنی غلام صرف مذہب میں نہیں ہوتے۔ ذہنی غلامی کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے۔ مذہب میں آپ اکابر، اسلاف، تشریحات و روایات کے غلام ہو سکتے تو لا دینیت میں آپ فلاسفروں، مفکروں، اور بسا اوقات خود دلیل کے غلام ہو جاتے ہیں۔

جیسے میرے ایک بہت قابل دوست مجھ سے اس بات پر جھگڑ پڑے کہ ہومیوپیتھی علاج فراڈ ہے اور تم پھر بھی اسکو مانتے ہو۔ اس کے بڑے تگڑے دلائل انکے پاس تھے۔ میں نے انکو شواہد پیش کیے، اور وہ ناراض ہو گئے کہ میں سیدھا سا حساب نہیں مانتا اور دیکھی سنی باتوں پر فیصلہ کرتا ہوں۔ بات انکی ٹھیک تھی۔ وہ ناراض ہو گئے اور میں آج تک انکو نہ منا سکا (کئی بار معافی مانگی)۔ اب میرا خیال ہے وہ حساب کی ذہنی غلامی میں چلے گئے کیونکہ انکو آنکھوں دیکھی اور ہڈبیتی پر اعتبار نہیں آ رہا۔ چلیں آپ مانیں نہ، مگر اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کے فیصلے تو نہ کریں۔

بھنورہ جو اڑتا پھرتا ہے، اسکے بارے میں بھی سنا ہے کہ اس کے پر سائینسی حساب میں بہت چھوٹے ہیں اور جسم بہت بڑا، تو اسکا اڑنا ناممکن ہے۔ مگر چونکہ بھنورہ اس سائینسی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا تو وہ اڑتا پھرتا ہے، نہ صرف یہ بلکہ اپنی ساری بد ہییتی اور بدصورتی کے باوجود ہماری رومانٹک شاعری میں بھی در آیا ہے جو ایک اور منطق کی خلاف ورزی ہے۔

اب اگر بھنورے کے بارے میں یہ سچ ہے تو کوئی سائنسدان اگر بھنورے کو اڑتے دیکھ کر بھی یہ کہے کہ نہیں میں نہیں مانتا تو یہ میرے نزدیک ذہنی غلامی کی زنجیر ہی ہے۔

اب کچھ اس بارے میں کہ آپ کو کیسے پتہ کہ آپ ذہنی غلام ہو یا نہیں؟ تو سابقہ تحریر کے حوالے سے ہی آپ الٹ کر کے دیکھ لیں۔ اگر تو آپ (چلیے آپ نہیں میں) ، اگر تو میرے اندر کا کتا اجنبی خیالات و افکار کی بو سونگھتے ہی غرانے نہیں لگتا، اور اگر غراتا بھی ہے تو صاحب افکار یا خیال پیش کرنے والے پر جھپٹ نہیں پڑتا تو گمان غالب ہے کہ میں ایک سوچنے والا آزاد ذہن رکھتا ہوںگا۔

ذہنی آزادی کی بہت سے تعبیریں ہو سکتی ہیں، مگر مخالف کے دلائل کو سننا ، انکو اپنے ذہن میں جگہ دینا، اور انکا غیر جذباتی جواب دینا، اور اگر جواب نہ بھی بن پائے تو کسی بھی قسم کی ہتک محسوس نہ کرنا ذہنی آزادی کی نشانیوں میں ہیں۔

ایک اور نشانی یہ ہے کہ کسی مخالفانہ رائے کے سامنے آنے پر اگر اسکے جواب میں کسی دوسرے کی رائے آپ کے ذہن میں آتی ہے تو در حقیقت آپ یک درجہ ذہنی غلامی میں ہیں۔ البتہ کسی رائے کے جواب میں اگر آپ کا ذہن اس کے مندرجات پر سوچتا ہے اور اپنے حاصل کیے گئے علم و تجربہ سے اس کو قبول یا رد کرتا ہے تو آپ ایک درجہ آزادی کی طرف ہیں۔ سادہ الفاظ میں جس بات کا جواب فوراً آپ کی زبان پر آجائے اس میں آپکے ذہن نے کوئی دخل نہیں دیا۔

ضروری نہیں کہ ہر وہ رائے جو آپ کی موجودہ رائے کے خلاف ہو اور آپ کے پاس اس کا شافی جواب بھی نہ ہو، تو آپ اسکو ماننے پر مجبور ہیں۔ نہیں آپ صرف اسکو سننے اور اس کے بعد اپنے ذہن کو کسی قسم کے تعصب کے بغیر اس پر غور کرنے کے مکلف ہیں۔

آخری بات، کسی سیانے کی خیال میں ایک زہین دماغ وہ ہوتا ہے جو اپنے مخالف کی رائے نہ صرف سنے بلکہ اسکو نہ ماننے کے باوجود اپنے ذہن میں جگہ دے سکے اور اسکا لطف بھی اٹھا سکے۔ اگر آپ ایسا کر سکتے ہیں تو آپ یک درجہ آزاد ذہن کے مالک ہیں۔

کسی بھی قسم کی ذہنی غلامی آپ کو کتے سے بدتر بنا سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ اپنے آخری پیغام میں بار بار سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی عمل آپ کو ایسی ہر غلامی سے نجات دے سکتا ہے۔ اگر اللہ کو اپنے آزاد بندوں کی غلامی  پسند ہوتی تو وہ "اے میرے بندو” اور "اے میرے انسانو” کی بجائے "اے میرے غلامو” سے شروع کرتا۔ اس نے آپ کو آزاد بندے پیدا کیا، سوچنے کی آزاد صلاحیت دی، تاکہ وہ فخر سے ملائکہ کو بتا سکے کہ دیکھو یہ بندے اپنے ارادے سے میری طرف آئے ہیں۔ تو انسان کا فخر آزادی فکر ہے۔ جو اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے۔

 

Facebook Comments Box
آزادی فکرزہنی غلامیعقیدہمذہب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
روزہ اور امتحانات: سمجھو تو بہت کچھ ۔۔۔۔ لبنیٰ سعدیہ عتیق
next post
روزہ, علت اور مشقت: صفتین خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.