تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

کنزیومر رائٹس یعنی صارف کے حقوق ۔۔۔ ریاض خٹک

by ویب ڈیسک 05/06/2017
written by ویب ڈیسک 05/06/2017
130

گذشتہ دنوں میں ہمارے ملک میں ایک نیا ٹرینڈ شروع ہوا، سوشل میڈیا سے صارفین نے پھلوں کی قیمتوں پر خریداری کا بائیکاٹ کرنے کا کہا، دیکھتے ہی دیکھتے اس سوچ نے مومینٹم پکڑا اور یہ سوشل میڈیا کی ورچوئل دنیا سے گلی محلے اور بازاروں میں ظاہر ہوا۔ مین سٹریم میڈیا نے بھی اس مومینٹم کو کوریج دی اور عالمی میڈیا کو بھی یہ متاثر کرگیا۔ اس مومینٹم کا بننا بذات خود ایک ایسی کامیابی ہے کہ یہ ثمر کے ثمرات سمیٹے نہ سمیٹے یہ ثمر آور ہی رہے گی۔

ہمارے معاشرے میں صارف اپنے حقوق پر آگاہ ہی نہیں ہے. وہ اپنی طاقت نہیں جانتا. نہ اس جنگ کو لڑنے کا انداز جانتا ہے. ہم بجلی کے صارفین ہیں، جب گرمی زیادہ ہو، لوڈ شیڈنگ ہو، تو زیادہ سے زیادہ صارفین یا سڑک بلاک کرتے ہیں یا تنگ آمد بجنگ آمد گرڈ اسٹیشن میں تھوڑ پھوڑ. ہمارے اب تک بطور صارفین یہی ایکٹیوٹی تھی۔

چلیں کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں:
مثال پر آپ واپڈا یا کے ای ایس سی کو لیں. وہ ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں لائن لاسز. یعنی کسی ہزار گھروں کی آبادی کے علاقے میں پندرہ ہزار یونٹ استعمال ہوئے لیکن بلوں کی ریکوری بارہ ہزار یونٹ کی ہوئی. تو تین ہزار یونٹ اس علاقے کا لائن لاس بنا کر اسے بلیک لسٹ کردیتے ہیں. وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ کرتے ہیں۔

اب ہزار گھروں میں بیس گھر بجلی چوری کررہے ہوں. تو نو سو اسی گھر کس قانون میں چور شمار ہوئے..؟ اگر یہ باقی گھر بجلی سپلائی کی کمپنی کو عدالت میں گھسیٹ لیں، کہ جناب ہم چوری نہیں کررہے.. ہمیں کیوں چور بنا کر نشانہ بنایا جارہا ہے. تو ہوگا کیا کہ محکمہ مجبور ہوگا کہ چوری کرنے والوں پر کریک ڈاون کرے. ہمارے چپ چاپ تسلیم کرنے سے ہو کیا رہا ہے۔

** چوری کرنے والے دلیر ہو رہے ہیں. اور بڑھتے جارہے ہیں۔
** محکمے اپنے فرائض ادا نہیں کرتے، بلکہ سارا بوجھ ایماندار لوگوں پر ڈال کر ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ تم بھی چور بنو.
** ان چوریوں کی قیمت بھی ہم ادا کرتے ہیں. اور اس نہج پر نظام ٹھیک ہونے کا امکان بھی نہیں۔

آپ بڑے ڈپارٹمنٹل. اسٹورز کی مثال لیں۔ ان سٹورز پر کم لوگ ہی جانتے ہیں. کہ انکا منافع خریداری میں زیادہ ہوتا ہے، بنسبت فروخت کے. فروخت میں تو یہ خریدار کو رعایت دیتے ہیں۔ کہ گاہک بنانے ہوتے ہیں. ہمارے ہاں کم لوگ ہی شیلف لائف دیکھنے کی زحمت کرتے ہیں. اگر دیکھا جائے تو زیادہ سیلز اور اچھی قیمت دینے والے سٹورز میں اشیاء کی شیلف لائف ایکسپائری کے قریب ہی ہوتی ہیں. کیونکہ یہ ایسی اشیاء پیچھے مینوفیکچرز سے اسپیشل پرایسز پر خریدتے ہیں۔ چلیں آپ نے کوئی شیمپو لیتے تاریخ چیک کرلی۔ جو اسی مہینے ختم ہورہی ہے۔ تو آپ کے پاس کیا آپشن ہے سوائے چھوڑ دینے کے؟

کنزیومر ایکٹیویزم کیا ہے؟
صارف اپنے حقوق پر کیسے بیدار ہو. تو سادہ طریقہ کار ہے. آج دنیا بھر میں زیادہ منافع یقینی بنانے کیلئے بڑی کمپنیاں مرج ہورہی ہیں۔ مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کیلئے نت نئے تجربے ہورہے ہیں۔ اسی طرح جدید کمیونیکیشن نے صارف کو بھی جوڑ دیا ہے۔ صارفین کا یہ جوڑ بڑا مزے کا ہے۔ کہ اس میں کسی لیڈر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کسی چیز کی مانگ، معیار قیمت یا گاہک سے برتاو یہ تحریک کا ایندھن بنتی ہیں. سوچ کی یکسانیت جدید کمیونیکیشن پر اسے جوڑ دیتی ہے۔ اور کسی دن وقت کا تعئین اسے عملی ضرب لگانے کی قوت دیتی ہے۔ دنیا کا کوئی قانون صارف کو استعمال پر مجبور نہیں کرسکتا۔ جتنا صارفین میں یکجہتی ہوگی اتنا ہی وہ مارکیٹ کو جھکا سکتی ہے۔ جتنا مارکیٹ نیچے جاسکتی ہے اتنا اسکو جانا پڑتا ہے۔ کہ ایک محسوس پوائنٹ کے بعد مارکیٹ بنا منافع کے تجارت ہی نہیں کرتی۔

کنزیومر یا صارف نہ خرید کر بیچنے والے کو ہرا سکتا ہے۔
نہ استعمال کر کے بنانے والے سے مطالبات منوا سکتا ہے۔
ویسے ہی کنزیومر پاور اسکے مترادف بھی چل سکتی ہے۔ نومبر 2016 سے امریکہ میں صارفین نے ایسی کمپنیوں کو ایسے برانڈز کو جو گلوبل وارمنگ پر اپنی ٹیکنالوجیز بدل دیں۔ گلوبل وارمنگ کم کرنے میں کردار ادا کریں ۔ اسکی اضافی اشیاء خرید کر اسکی خوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ نومبر سے اب تک ایسی کمپنیوں کو عوامی ریوارڈ دے کر انکی سیلز 31% فیصد بڑھا دیں ۔ اور ظاہر ہے ایسی کمپنیاں جو گلوبل وارمنگ میں ملوث ہیں انکے لئے یہ سزا ہوگی کہ یہی انکا نقصان ہوا۔
ہمارا کام بطور صارف محدود نہیں ۔ ہم خرچ کرنے والے ہیں۔ ہم استعمال کرنے والے ہیں ۔ ہم آپس میں جب منظم ہوتے ہیں تو اسکا فائدہ ہمیں بھی ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں چیک اینڈ بیلنس ترقی کرتا ہے۔ ہم منظم ہوں تو تجارت اپنے لالچ میں ہماری صحت، ہماری تعلیم، ہمارے انسانی حقوق اور ہماری دنیا کہ ساتھ جو کھلواڑ کر جاتی ہے۔ ہم اسے روک سکتے ہیں۔ ہم اپنے اتفاق سے انکے گھٹنے ٹیک سکتے ہیں۔

Facebook Comments Box
صارفصارف حقوقصارفینکنزیومر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
غریب کا احتجاج : صبا فہیم
next post
تہذیبی ارتقااور مذہب : خورشید ندیم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.